محسن نقوی کا جشن بہاراں اور جنوبی پنجاب کے فنکار
سیاسی موسم کی سختی اور مارا ماری میں پنجاب کے نگران وزیراعلی سید محسن رضا نقوی نے بہار کی آمد پر پنجاب کے روایتی کلچر کو زندہ رکھتے ہوئے جشن بہاراں منانے کا اعلان کیا، جشن بہاراں 5 سے 12 مارچ تک جاری رہا، نگران وزیراعلی کی ہدایت پر مختلف محکموں نے جشن بہاراں کے پروگرام تربیت دیے اور کامیابی سے مکمل بھی کرائے، جشن بہاراں میں پنجاب کی ثقافت خوبصورت انداز میں پیش کی گئی جس پر تمام محکمے مبارکباد کے مستحق ہیں، الحمراء آرٹس کونسل کی کارکردگی نے سخت مایوس کیا کیونکہ وہ ادارہ ہی آرٹ ہے اس لئے اس سے زیادہ بہتر پرفارمنس کی توقع تھی
نئی نسل جو اب صرف سوشل میڈیا کی ہو چکی ہے ان کو پاکستان تو کیا پنجاب کی ثقافت اور تہذیب سے کوئی آشنائی نہیں ہے، اپنی بیٹیوں کو جشن بہاراں کے چند پروگراموں میں لے گیا تاکہ وہ پاپ اور موم کے الفاظ سے نجات پاکر بابا اور ماں جی کہا کریں، میری بیٹیاں تو مجھے بابا کہہ کر بلاتی ہیں مگر ماں کو مما ہی پکارتی ہیں، میں نے ان سے کہا کہ ماں کے لفظ میں جتنی اپنائیت اور سکون ہے اتنا مما میں نہیں، میری بیٹیاں جواب دیتی ہیں کہ بابا ماں جی پینڈو سا لگتا ہے
بہرحال سوشل میڈیا کے دور میں جشن بہاراں جیسا پروگرام ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہی لگتا ہے، بیٹیوں نے ریس کورس پارک میں خواتین کو مکئی کی روٹی بناتے دیکھا تو حیران ہوئیں، میں نے ان کو بتایا کہ یہ روٹی گیس پر پک رہی ہے، اس کی اصل لذت وہ ہے جو لکڑ کی آگ پر پکتی ہے، مکئی کی روٹی، سرسوں کا ساگ اور مکھن کا پیڑا، شہر میں تو یہ چیزیں نصیب سے ہی ملتی ہیں، بس ان میلوں ٹھیلوں میں مل جاتی ہیں مگر ان کا ذائقہ ویسا نہیں ہوتا جو گاؤں کے سرسوں کے ساگ کا ہوتا ہے، اللہ کا کرم ہے بیگم دیسی کھانوں سے بہت لگاؤ رکھتی ہے، موسم سرما میں جب بھی وہ دل سے ساگ اور مکئی کی روٹیاں بناتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ آج عید کا دن ہے، ساگ اور مکئی کی روٹی کے ساتھ گھر کا بنا ہوا مکھن یا دیسی گھی ضرور ہوتا ہے جس سے بچپن میں ماں کے ہاتھ کا پکا ہوا ساگ اور مکئی کی روٹی یاد آجاتی ہے، بڑھاپے کے باوجود ماں جی سردیوں میں ساگ اور سوہانجناں اپنے ہاتھ سے ضرور بناتی ہیں
بچیاں انگلش میڈیم سکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہی ہیں، گھر میں کبھی پنجابی کا کوئی لفظ بولتا ہوں تو پوچھتی ہیں اس کا مطلب کیا ہے، بچوں کو جدید زمانے کا مقابلہ کرانے کے لئے ان کو ایسا بنا دیا ہے کہ وہ اپنی ثقافت ہی بھول چکی ہیں، جشن بہاراں میں میلے ٹھیلے پنجاب کی ثقافت کو زندہ رکھنے کی معمول سی کوشش ہے مگر اس میں بھی افسران ثقافت کے فروغ پر کم اور اپنے شوق پورے کرتے زیادہ نظر آتے ہیں، جشن بہاراں کے سلسلہ میں پنجاب بنک کے تعاون سے نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں میوزک شوز کا اہتمام کیا گیا، پنجاب بنک نے بہت شاندار انداز میں اس کو منعقد کیا، موسیقی روح کی غذا ہے، سات روزہ میوزک شوز میں روح کی غذا کو تازہ دم رکھنے کے لئے پاکستان کے معروف و نامور گلوکاروں نے اپنے فن کے جوہر دکھائے
بلاشبہ یہ ایک یادگار ایونٹ رہا، اس کی وجہ یہ بھی تھی صدر پنجاب بنک ظفر مسعود بھی ایک عظیم فنکار منور سعید کے بیٹے ہیں، منور سعید فن کی دنیا کا بڑا نام ہے جن کا کام فنکاروں کے لئے ایک اکیڈمی کی حیثیت رکھتا ہے، جشن بہاراں میوزک شوز میں رضوان معظم، اسرار احمد، بلال سعید، راحت فتح علی خان، تحسین سکینہ، ساحر علی بگا، حمیرا ارشد، عارف لوہار، شازیہ منظور اور سوچ بینڈ نے پرفارم کیا
یہ فنکار پاکستان کی پہچان ہیں مگر ان میوز شوز کو مزید بہتر بنایا جاسکتا تھا، حمیرا ارشد اتنا بڑا نام نہیں ہے، اوپر سے ظلم یہ کیا کہ تحسین سکینہ کے ساتھ حمیرا ارشد کی چھوٹی بہن فرحانہ ارشد کو بھی پرفارم کرایا گیا جن کی آواز میں کرنٹ نہیں تھا، بس شور تھا، بے ہنگم شور، ۔ ہاتھ اوپر۔ پاپ سنگر جیسی حرکتوں سے کام چلایا، اتنے بڑے فنکاروں میں نوآموز اور غیر معروف فنکارہ کو پرفارم کرانا زیادتی ہے، اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ ایونٹ آرگنائز کرنے والوں میں ان کا بھائی شامل تھا جس نے بہنوں کا خاص خیال رکھا، فرحانہ ارشد نے کمال یہ کیا کہ میڈم نورجہاں کے گانے گانا شروع کر دیے، میڈم نورجہاں نے اکثر گانے ہائی نوٹ پر گائے جو کہ فرحانہ جیسی فنکارہ کے بس کی بات ہی نہیں تھی
پنجاب پانچ دریاؤں کی دھرتی ہے، بہتر تھا کہ اس میں جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب کے فنکاروں کو بھی موقع دیا جاتا، جمعہ کو دیرینہ دوست سجاد جہانیہ نے فیس بک پر پاکستان کی عظیم گلوکارہ ثریا ملتانیکر کی لائیو ویڈیو شیئر کی جو جنوبی پنجاب ثقافتی فیسٹیول میں بیٹی راحت ملتانیکر کے ساتھ پرفارم کر رہی تھیں، سجاد کی لائیو پر کمنٹ کیا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ میڈم ثریا ملتانیکر کو لائیو سن رہے ہیں
میں سوچنے لگا کہ میڈم ثریا ملتانیکر کے گائے نغمے دنیا بھر میں مشہور ہیں، پیلو پکیاں نے۔ آں چنوں رل یار، بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے۔ ، ڈاچی والیا موڑ۔ لنگ آجا پتن چناں دا۔ جیسے شاہکار گانے گائے ہیں، بہتر ہوتا ان کو جشن بہاراں میوزک شوز میں پرفارم کرایا جاتا تو ان میوزک شوز کی شان میں مزید اضافہ ہوتا، جشن بہاراں کی وجہ سے نئی نسل بھی ماضی کے ان فنکاروں سے آشنا ہوجاتی جن کی وجہ سے پاکستان کا نام دنیا میں روشن ہوا،
اللہ تعالی میڈم ثریا ملتانیکر کو صحت و سلامتی عطاء کرے، وہ ہماری ثقافت کا اثاثہ ہیں، ملتان اور لاہور میں ان کو بہت بار سنا مگر ’ترے‘ مک دی نئی، جشن بہاراں میوزک شوز کے پنجاب بنک نے انتظامات تو اعلی پیمانے پر اچھے کیے مگر افسوس ہوا کہ یہ بھی سب اشرافیہ کے لئے تھا، عام شہری کو قریب ہی آنے نہیں دیا گیا، اب محسن نقوی سے یہ بھی مطالبہ نہیں کر سکتے کہ وہ اگلے جشن بہاراں میں جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب کے فنکاروں کو بھی لاہور میں پرفارم کرائیں تاکہ پنجاب کی ثقافت کا رنگ مکمل ہو کیونکہ شاہ جی تو خود چند ماہ کے مہمان ہیں، اب یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ چند ماہ کے مہمان ہیں یا اونٹ کا والا کام کریں گے اور پورے خیمے میں ہی گھس جائیں گے۔


