عفاف ڈیم: پانی کو محفوظ کرنے کی قابل قدر کاوش


گزشتہ بدھ کو دیرینہ دوست قدسیہ مہتاب کی تحریک پہ وادی سون کے ایک ایسے علاقے میں جانے کا سنجوک بنا جہاں کی مٹی سے محبت کی سوندھی سوندھی خوشبو پھوٹتی ہے اور وہاں خشک پہاڑوں کے دامن میں رہنے والے خالصتاً دیسی باشندوں کا رہن سہن آج کے اس سرمایہ دارانہ دور میں بھی مقامی دیسی روایات کا امین ہے۔

صحافتی زندگی کے پرخار میں پتہ ہی نہیں چلا کہ کب ہم بھول گئے کہ پو پھٹنے کا پرنور نظارہ کس قدر دل آویز ہوتا ہے اور سوریا بادشاہ دنیا کے دوسرے کنارے سے سر نکالتا ہے تو اس کی سنہری کرنیں دھرتی کے ہر ذرے کو کس طرح اپنے نور سے نہلا دیتی ہیں۔ قدسیہ کا حکم تھا کہ صبح ساڑھے چھ بجے اسلام آباد سے نکلا جائے گا تو وقت پر وادی سون پہنچ پائیں گے اور واپسی بھی بروقت ممکن ہوگی۔ سو حکم کی تعمیل کے لئے پانچ بجے علی الصبح اٹھنا پڑا، مگر اٹھتے خیال آیا کہ عرصے سے صبح کی سیر بھی نہیں کی تو کیوں نہ ہو جائے۔ گھر سے نکلتے ہی محرومی کا احساس ہوا کہ یار کیوں اتنا عرصہ اس نعمت سے محروم رہا، واقعی صبح سویرے اٹھنے والوں کا مقدر بھی جلدی جاگتا ہے۔

ہمارا ڈرائیور وقت کا پابند نکلا اور کافی جلد باز بھی، اس نے انتہائی برق رفتاری سے موٹروے پر پہنچا دیا۔ راستے میں سینئر صحافی عامر شاہجہاں، ملک عتیق اور ابھرتا ہوا نوجوان صحافی عزیر اور اس کی کیمرہ مین ٹیم بھی رفیق سفر بن گئے۔ ناشتہ بلکسر میں تلہ گنگ روڈ کے کنارے ایک ریسٹورنٹ پر کیا گیا۔ پھر جو سفر شروع ہوا تو صحیح معنوں میں نانی یاد آ گئی۔ بلکسر سٹاپ سے لے کر خوشاب کی تحصیل نوشہرہ اور ہماری منزل مقصود گاؤں کفری (صدیق آباد) تک سڑک کی حالت یہ تھی کہ دس میٹر کا کوئی ایک ٹکڑا بھی صحیح سلامت نہیں تھا، اکثر جگہوں پر دو دو اور تین تین فٹ کے گہرے کھڈے پڑے ہوئے تھے جبکہ ہمارے ڈرائیور نے بھی کمال بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف بروقت منزل مقصود پر پہنچنے کو اپنا نصب العین بنائے رکھا۔ سفر کے ہر موڑ اور سڑک کے ہر کھڈے پر عثمان بزدار اور چوہدری پرویز الٰہی کے لئے دعائیں نکلتی رہیں۔

کفری، وادی سون کا ایک ایسا گاؤں ہے جہاں سڑک کے ایک جانب سرسبز وادی اور دوسری جانب خشک پہاڑ ہیں، اس سبزے اور گندم کی لہلہاتی فصل کی وجہ کفری سے دو اڑھائی کلومیٹر پہلے آنے والی ’کھبے کی جھیل‘ ہے جو انتہائی خوبصورت ہے۔ ہماری منزل مقصود کفری سے بائیں جانب دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع خشک پہاڑ تھے، جہاں پہنچنے کے لئے ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن نے چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کو کاٹ کر کچی سڑک بنائی ہے۔ جبکہ ان پہاڑوں کے درمیان میں دو اطراف کے خلا کو پر کر کے ’عفاف ڈیم‘ تعمیر کیا گیا ہے۔

وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ عفاف ڈیم کی تعمیر کے لئے کسی حکومت یا انٹرنیشنل ڈونر نے کوئی گرانٹ نہیں دی بلکہ یہ تو شکاگو (امریکہ) میں مقیم ڈاکٹر ناہید قیوم اور ڈاکٹر اعجاز قیوم کی جانب سے مٹی کا قرض ادا کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ جبکہ وہاں پہنچ کر ہی معلوم ہوا کہ پانی کی کیا اہمیت ہے اور کفری سمیت گردونواح سے اکٹھے ہونے والے لوگوں کے چہروں پر موجود خوشی اس کا برملا اظہار کر رہی تھی کہ اس چھوٹے سے ڈیم سے ان کی زندگیوں میں کتنا بڑا فرق آنے والا ہے۔

ڈاکٹر ناہید قیوم جن کا تعلق کفری گاؤں کی اعوان فیملی سے ہے وہ زمانہ طالب علمی میں ہی امریکہ چلی گئی تھیں جہاں انہوں نے ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر اعجاز قیوم سے شادی کر کے وہیں کی ہو گئی۔ دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ عفاف ان کی بیٹی کا نام ہے جو ایک سوشل ورکر تھی اور کسی مہلک بیماری کی وجہ سے نوجوانی ہی میں موت کے منہ میں چلی گئی۔ بقول ڈاکٹر ناہید، وہ اسی مٹی میں پلی بڑھی اور اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھیں، سو انہوں نے اپنی بیٹی کی یادگار کے طور پر کفری کے ان خشک پہاڑوں میں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ عفاف بھی امریکہ میں واٹر کنزرویشن پر کام کر رہی تھی۔

نتیجتاً قیوم فیملی نے پاکستان میں ایک ایسی سوشل آرگنائزیشن کا کھوج لگایا جو ان کی محنت کی کمائی کے پیسوں کا درست استعمال کر کے گاؤں والوں کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کام کرے، جبکہ اس کے لئے ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کا انتخاب کیا گیا۔ ایچ ڈی ایف کے سی ای او محبوب الحق نے بتایا ہے کہ کفری سے پہاڑوں تک دو کلو میٹر کچی سڑک اور ساڑھے چار ایکڑ رقبے پر ڈیم کی تعمیر پہ مجموعی طور پر اڑھائی کروڑ روپے کا خرچہ آیا ہے جبکہ مزید دس ایکڑ زمین پر قیوم فیملی کی مالی معاونت سے زیتون کا باغ لگایا جائے گا۔

اس کے علاوہ کفری کے قریب ہی مرکز بنیادی صحت بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ محبوب الحق مزید بھی کچھ بتا رہے تھے، تاہم میرا ذہن اس حساب کتاب میں الجھ گیا کہ اگر یہ منصوبہ کسی حکومتی ادارے یا روایتی این جی او نے تعمیر کیا ہوتا تو دو اڑھائی کروڑ کی رقم تو سائٹ سروے اور صاحب لوگوں کے دوروں پرہی کھپ جاتی جبکہ کئی سال لگنے کے بعد جب منصوبہ مکمل ہوتا تو پتہ چلتا کہ قومی خزانے سے دو تین ارب روپے لگ چکے ہیں۔ اس منصوبے میں ایچ ڈی ایف کی پیشہ وارانہ مہارت بھی لائق تحسین ہے، کیونکہ اگر کوئی نان پروفیشنل چاہے جتنی بھی دیانت داری کا مظاہرہ کرے، کفری سے دو کلومیٹر پہاڑوں میں کچی سڑک بنانے میں ہی سارا بجٹ خرچ ہوجاتا۔

ڈیم کا افتتاح ڈاکٹر ناہید قیوم اور ڈاکٹر اعجاز قیوم نے کیا جبکہ اس موقع پران کے دونوں نوجوان بیٹے بھی موجود تھے، جو انگریزی کے سوا کوئی زبان بول سمجھ نہیں سکتے۔ تاہم اس موقع پران کے چہروں کی خوشی دیدنی تھی۔ عفاف ڈیم کی افتتاحی تقریب میں اس علاقے کے سینیئر استاد ملک خیر محمد کی موجودگی بھی اہمیت کی حامل تھی جن کی عمر پچاسی سال سے زائد ہے، معلوم ہوا کہ علاقے کی آدھی آبادی (بچے، بوڑھے، جوان) ان کے شاگرد ہیں اور اپنے استاد کی کمال محبت سے عزت و تکریم کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں ڈیم کی تکمیل پہ کفری گاؤں کی سماجی تنظیم کے انچارج ملک آصف کی خوشی بھی دیدنی تھی کیونکہ انہوں نے دو سال تک موقع پہ کھڑے ہو کر ڈیم کا کام مکمل کروایا۔ افتتاحی تقریب میں ایچ ڈی ایف کے سی ای او محبوب الحق نے مزید بتایا کہ وادی سون میں زیر زمین پانی کی سطح گرتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں پانی فراہم کرنے والے کنویں خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ علاقے میں ماحولیات کے تحفظ اور زیر زمین پانی کی سطح کو بحال کرنے کے لیے یہ ڈیم مثبت کردار ادا کرے گا جبکہ مون سون کی بارشوں کے وقت زمین کے کٹاؤ کا عمل روکنے میں بھی مدد ملے گی۔

عفاف ڈیم قدرتی چشمے اور بارش کے پانی پر تعمیر کیا گیا ہے۔ ڈیم سے دو ہزار گھرانوں کے بارہ ہزار نفوس پر مشتمل آبادی کو پینے کا پانی بھی فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ ڈیم کے ساتھ منسلک دس ایکڑ رقبے پر زیتون کے پودوں کی شجر کاری شروع کر دی گئی ہے جو کہ ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عوام کے لئے آمدن کا ذریعہ بنے گی۔

تقریب کے اختتام پر کفری کے رہائشیوں کی جانب سے ضیافت کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جس کی خاص بات ضلع خوشاب کی سوغات مکھڈی کا حلوہ تھی، جس کا انوکھا شیریں ذائقہ کمال کا ہے۔ خوشاب سے شرکت کرنے والے جیو نیوز کے نمائندہ رانا توصیف نے بتایا کہ مکھڈی کے حلوے میوہ جات، کھویا اور سوجی کے علاوہ گندم کا ست (جوہر) استعمال ہوتا ہے جبکہ اس کی تیاری میں چھ سے سات گھنٹے لگتے ہیں۔

کفری سے اسلام آباد واپسی پر سارا راستہ یہی سوچتا رہا کہ مٹی کی تاثیر اور اپنی دھرتی کی کشش کتنی بڑی طاقت ہے کہ انسان سات سمندر پار چلا جائے یا کولمبس کی دھرتی امریکہ میں ہو اس کے لئے اپنا گاؤں (چاہے کفری ہو یا سونواہ) نیوکلئیس کی مانند ہوتا ہے۔ جیسا کہ جوہر (ایٹم) کے اندر الیکٹران اپنے نیوکلئیس کے گرد گھومتے رہتے ہیں، بعینہ انسان کی سوچ بھی زندگی بھر کسی الیکٹران کی مانند اپنے گاؤں کا طواف کرتی رہتی ہے۔

یہ الگ بات کہ جس طرح ظالم سائنس ایٹم سے ایک الیکٹران اٹھا کر دوسرے ایٹم میں پھینکتی ہے اور عمل اشقاق شروع ہوتا ہے جو انسانیت کی تباہی پہ بھی منتج ہو سکتا ہے۔ اسی طرح موجودہ سرمایہ دارانہ نظام بھی علم، گیان، ٹیکنالوجی اور روزگار انسانوں کی دہلیز تک پہنچانے کی بجائے الیکٹران کی مانند انسان کو اٹھا کر دوسرے خطے میں پھینک دیتا ہے۔ تاہم مشاہدے سے ثابت ہوا کہ گاؤں کی مٹی یورینیم یا پلاٹینیم کے نیوکلیس سے بھی زیادہ کشش رکھتی ہے جو راندہ درگاہ ہو جانے والے الیکٹرانوں کو ایک مرتبہ اپنی جانب ضرور کھینچتی ہے۔

Facebook Comments HS