ناول: محبت پرست تبصرہ
مصنف: ڈاکٹر عتیق (آسٹریلیا)
اوراق پبلی کیشنز اسلام آباد
تبصرہ نگار: ناہید گل
آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی نژاد ناول نگار ڈاکٹر عتیق صاحب پیشہ کے لحاظ سے ایک سائنس دان ہیں۔ آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہونے کے باوجود مصنف نے جو کہانی تخلیق کی ہے اس میں پاکستانی معاشرے کی بہترین منظر کشی کی گئی ہے۔ وہ ”محبت پرست“ کا ہیرو ”حرمین منور“ ہو یا اس ناول کی ہیروئن ”رباب“ لنگوٹیا یار رؤف ہو یا چائے والا ”چھوٹا استاد“ ”پروفیسر جواد“ ہوں یا گاؤں کا ”ظالم چوہدری اور اس کا بیٹا“ ہر کردار ہمارے معاشرے کا جیتا جاگتا کردار ہے۔
ناول پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ مصنف کے پاس معلومات کا وسیع ذخیرہ ہے۔ علم و دانش کی فراوانی ہے۔
مصنف نے اپنے قلم کے ذریعے ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت بیان کی ہے جہاں ایک غیر شادی شدہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اچھے عہدے پر فائز عاقل بالغ مرد کا کسی طلاق یافتہ عورت سے شادی کرنا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔ اسے اپنے ہی ماں باپ بہن بھائی کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ اس پر نا صرف فرد جرم عائد کر دی جاتی بلکہ اپنی مرضی کی شادی کی صورت میں سزا بھی سنائی جاتی ہے۔ دوسری طرف ایک طلاق یافتہ عورت کی زندگی کا وہ تاریک پہلو بھی بیان کیا گیا ہے کہ طلاق یافتہ عورت سے شادی معاشرے کا بوجھ نکمے اور عیب دار مرد ہی کر سکتے ہیں۔
مصنف کبھی ہمیں نوے کی دہائی کے اسکول میں لے جاتا ہے جہاں درختوں کے نیچے پھٹے پرانے ٹاٹ پر بچے تعلیم حاصل کرتے نظر آتے ہیں۔ تختی، قلم دوات، سلیٹ اور سلیٹی کی باتیں مجھے بھی اپنے بچپن میں لے گئیں۔
کبھی لاہور شہر کا حسین چہرہ نظر آتا ہے وہیں سموگ کی سیاہی کا غم بھی دل کو اداس کر دیتا ہے۔
کبھی چائے والے چھوٹے استاد کے ذریعے برصغیر میں جلیبیوں کی تاریخ اور اقسام پر معلومات میں اضافہ کیا جاتا ہے تو کبھی مولوی صاحب کے ذریعے انسان کو اللہ تعالٰی سے تعلق مضبوط بنانے کے گر سکھائے جاتے ہیں۔ کہیں مصنف نو مسلم ”ابراہم“ کے ذریعے اللہ تعالٰی سے محبت کرنا سکھاتا ہے۔
مصنف نے اس ناول میں انسان کی فطرت پر کھل کر لکھا ہے۔ مرد اور خواتین کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں۔ کہانی کے مختلف واقعات میں ایسی روانی ہے کہ پڑھنے والا کہیں بھی بوریت محسوس نہیں کرتا۔ لا حاصل محبت، عشق مجازی، محبوب سے جدائی عشق حقیقی تک پہنچا دیتا ہے۔
ماں کی الماری سے ملنے والے خطوط اور بشری سے تعلق کا تجسس ناول میں سسپینس کی فضا پیدا کر دیتا ہے حرمین کے ساتھ ساتھ قاری بھی جلد از جلد اس معمے کو حل کرنے کی کوشش میں جت جاتا ہے۔
مصنف خود دیار غیر میں مقیم ہے شاید اس لیے غریب الوطنی کا دکھ خوب سمجھتے ہیں۔ اس ناول میں وہ انسان کو روپے پیسے کی لالچ میں آ کر دیار غیر میں رہنے کی بجائے اپنوں کے ساتھ اپنے وطن میں رہنے کو ترجیح دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اس ناول کا مرکزی خیال خدمت خلق ہے۔ مصنف نے نہایت خوبصورت انداز میں اپنے قاری کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر انسان حقیقی خوشی اور قلبی سکون کا متلاشی ہے تو وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے چکر سے نکل کر اپنے اردگرد موجود لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا شروع کر دے۔
ناول ”محبت پرست“ کی کہانی نشیب و فراز سے گزرتی ہوئی اپنے منطقی انجام تک پہنچتی ہے۔ اس دوران مصنف کامیابی سے اپنے قاری کے دل و دماغ میں اپنے دل کی بات ڈال دیتا ہے۔
بلاشبہ ناول ”محبت پرست“ معاشرے کی حقیقتوں پر مشتمل ایک بہترین ناول ہے۔


