"سارے جہاں کا درد” (حصہ سوم)

جب ہمارے مزاج اس کربناک صورتحال میں بھنے رہتے تھے، امجد صابری کے چہرے پہ ایک دھیمی سی مسکراہٹ سجی رہتی تھی۔ کبھی کبھی مجھے اس پہ کسی صوفی و سالک کا گمان ہوتا تھا کہ وہ تند و ترش جملوں کو بڑی سہولت کے ساتھ سہ جاتا تھا بلکہ کبھی کبھی تو ردعمل کے طور پر ہلکا پھلکا قہقہہ بھی لگا دیا کرتا تھا۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب مظفرآباد آزاد کشمیر کے ایک سر سبز باغیچے میں بیٹھ کر میں نے اس سے ڈھیر ساری شاعری سنی۔
وہ اپنے حافظے کو کھنگال کر پرانی نظمیں اور غزلیں نکال رہا تھا اور لہک لہک کر مجھے سنا رہا تھا۔ جب تھوڑا بھوک نے ستایا تو ہم کھانا کھانے کے لیے قریبی ریستوران میں چلے گئے۔ کھانے میں امجد نے مشہور کشمیری ڈش ”گوشتابے“ جو ہم دونوں نے اس سے پہلے کبھی چکھی تک نہیں تھی، آرڈر کردی۔ جب کھانا ہمارے سامنے آیا تو ہم دونوں ہی اس کے تھوڑے مختلف ذائقے اور خوشبو کی وجہ سے ”گوشتابے“ نہ کھا سکے اور بعد میں چنے منگوا کر کھانا کھا لیا۔ امجد نے ”گوشتابے کا بھاری بل ادا کیا مگر مجال ہے کھانے میں کوئی نقص نکالا ہو یا ناپسندیدگی کا معمولی سا بھی اظہار کیا ہو۔
ٹریننگ ختم ہونے کے کچھ ہی عرصے کے بعد میری شادی طے ہو گئی تو اس میں ”سارے جہاں کا درد“ لکھنے والے سارے شعراء نے یوں شرکت کی کہ ہم نے شادی کی تقریب میں ایک چھوٹے سے مشاعرے کا اہتمام کر لیا۔ یہ تقریب نہایت شاندار اور یادگار رہی کہ بیسیوں شعراء نے اپنا نمائندہ کلام پیش کرنے کے ساتھ میرے شادی کی تقریب کی مناسبت سے بھی شاعری سنائی۔ لیکن اہم بات یہ کہ امجد صابری میرے لیے خاص طور پر شادی کا سہرا لکھ کر لایا جسے اس نے ناصرف مشاعرے میں پڑھ کر سنایا بلکہ پرنٹنگ کے بعد فریم کروا کر تحفتاً مجھے عطا بھی کیا۔ امجد صابری کا یہ تحفہ آج تک میرے کمرے کی زینت بنا ہوا ہے۔
امجد صابری فطرتاً بہت معاملہ فہم اور صلح جو انسان تھا۔ وہ جب PPSC کا مقابلے کا امتحان پاس کر کے تھانیدار سیلیکٹ ہوا تو میرٹ لسٹ میں اس کا پہلا نمبر تھا، شاعری میں وہ اپنی مثال آپ تھا، راست گوئی اور خود داری اس کی گھٹی میں شامل تھی۔ اس کی باتوں سے ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی تواضع و انکسار چھلکتا تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ طبیعت میں کمال درجے کی لچک رکھنے کے باوجود وہ محمکہ پولیس کے روایتی کلچر میں ٹھیک طرح سے ایڈجسٹ نہ ہو سکا۔
وہ روایتی تھانہ کلچر سے اکثر شاکی رہتا تھا۔ کرپشن اور جھوٹ میں لتھڑے اس نظام میں خود کو مس فٹ تصور کرتا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس نے اپنا تبادلہ تھانہ پولیس سے پنجاب ہائی وے پولیس میں کروا لیا تھا۔ تھانہ پولیس سے جان چھڑانے کے بعد وہ کسی حد تک مطمئن تھا کہ اب وہ اپنی پوری تنخواہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کر سکتا تھا۔ کیونکہ تھانہ میں تعینات پولیس افسر خاص طور پر تفتیشی افسر کے لیے تفتیشی امور کی انجام دہی کے ساتھ اپنی تنخواہ میں گزر بسر کرنا نہایت مشکل کام ہوتا ہے۔
پھر اس کے سامنے چند راستوں میں سے ایک یہ ہوتا ہے کہ تھوڑی سی تگ و دو کر کے پولیس کے کسی دیگر یونٹ میں چلا جائے یا پھر کرپشن کی دلدل میں قدم رکھے اور پھر اس میں دھنستا چلا جائے۔ مگر امجد صابری جیسے صاحب دل کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا چنداں آسان نہیں تھا لہذا اس نے خاموشی سے اپنا تبادلہ ہائی وے پولیس میں کروا لیا۔
یہ غالباً جولائی کا ایک گرم دن تھا، سورج صبح سویرے ہی شعلہ بار ہو چکا تھا۔ امجد تیار ہو کر ڈیوٹی کے لیے نکلنے لگا تو بڑی بیٹی نے یاد دلایا کہ آج اس کی سالگرہ ہے۔ امجد نے لاڈلی بیٹی سے کہا کہ وہ لوگ باقی تیاری کر لیں، وہ آج ڈیوٹی سے واپسی پر کیک لائے گا اور شام کو سالگرہ منائی جائے گی۔ امجد ڈیوٹی کے لیے روانہ ہوا اور گھر والے تیاری میں لگ گئے۔ مگر معصوم کلی کو کیا خبر تھی کہ اس کا باپ کبھی نہ آنے کے لئے گھر سے جا رہا ہے اور اس کی سالگرہ کا دن اس کی زندگی کا سب سے کربناک دن بن جائے گا۔
دن گیارہ بجے کے قریب امجد کو دوران ڈیوٹی دل کی تکلیف شروع ہوئی تو اس کے ساتھی اسے قریبی ہسپتال میں لے گئے جہاں سے ڈاکٹرز نے اس کی حالت کو تشویشناک قرار دے کر نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیا۔ شعبہ دل میں ابتدائی چیک اپ کے بعد معلوم ہوا کہ امجد کو دل کا شدید دورہ پڑا ہے۔ گھر والوں تک جب یہ خبر پہنچی تو وہ بھی دیوانہ وار ہسپتال کی طرف بھاگے۔ ڈاکٹرز نے علاج معالجہ شروع کر دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ مریض کے لیے اگلے چند گھنٹے بہت اہم ہیں۔ اگر چند گھنٹوں میں دوبارہ دورہ نہ پڑا تو حالت خطرے سے باہر آ جائے گی۔ مگر امجد کو کچھ دیر کے بعد دوسری بار دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا، امجد صابری نے اپنے گھر والوں کی موجودگی میں جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔
امجد صابری اپنی بیٹی سے سالگرہ کا کیک لانے کا وعدہ کر کے گھر سے نکلا تھا مگر دست اجل نے اسے اپنا وعدہ پورا نہ کرنے دیا۔ امجد صابری دنیا سے رخصت ہو گیا مگر اپنے پیچھے یادوں کا بیش بہا سرمایہ چھوڑ گیا۔ امجد کے اس طرح اچانک رخصت ہو جانے نے ہر آنکھ کو اشکوں سے بھر دیا۔ وہ اپنے پانچ بچوں اور بیوی کو چھوڑ کر ملک عدم کو روانہ ہو گیا۔ مگر کیا کریں کہ قدرت کے فیصلوں میں کسی کا کوئی اختیار نہیں اور دست اجل سے کسی کو فرار نہیں۔
امجد صابری کے ارتحال کے بعد پہلی بار اس کے گھر جانے کا اتفاق ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ وہ عجب خوددار انسان تھا جس نے کبھی کسی کے سامنے اپنی تنگی و بے چارگی کا رونا رویا نہ اپنی خودداری پہ آنچ آنے دی۔ دوستوں کی محفل میں ہمیشہ ایسے بات کی جیسے وہ دنیا کا سب سے امیر آدمی ہو، سب سے امیر آدمی۔ وہ واقعی بہت امیر آدمی تھا کہ اس کا دامن اخلاص، محبت، مروت، خودداری، انکسار اور پاکیزگی سے بھرا ہوا تھا۔

