روس یوکرائن جنگ کے عالمی معاشی و سیاسی اثرات
24 فروری، 2023 ء کو روس اور یوکرائن کے مابین شروع ہونے والی جنگ کا ایک سال مکمل ہو چکا۔ دونوں اطراف سے فوجیوں اور عام شہریوں سمیت ایک لاکھ افراد کی ہلاکت کے علاوہ املاک یا مالی تباہی کی مد میں ابھی تک کوئی اعداد و شمار سامنے نہیں آ سکے۔ جنگ پر دونوں متحارب فریقین کا اپنا اپنا موقف یا بیانیہ موجود ہے جس کا میڈیا پر بار ہا اعادہ ہو چکا۔ دونوں ممالک کے جنگی موقف کی درستگی پر علمائے سیاسیات کے درمیان بحث زوروشور سے تا حال جاری ہے مگر کوئی خاص یا فیصلہ کن رائے سامنے نہیں آ سکی۔
جنگ کے ممکنہ عالمی اثرات پر بھی بہت کچھ لکھا جا چکا اور لکھا جا رہا ہے۔ سیاست کے طالب علم کے طور پر اس ضمن میں ہماری سٹڈی کچھ اس طرح سے ہے۔ جنگ چھڑنے سے ہفتہ دس دن پہلے کی خبروں میں یہ خبر واضح تھی کہ روسی قیادت ایک محدود پیمانے پر اور محدود وقت کے لیے جنگ کے ذریعہ یوکرائن کو ”سبق“ سکھا کر واپسی کی راہ لے گی۔ روسی قیادت کے تعیں یہ دس ایک دن کا کھیل تھا یعنی روسی افواج کے حملے سے یوکرائنی فوج دباؤ میں آ کر اپنی سول حکومت کا تختہ الٹ دے گی اور معاملہ ختم۔
یاد رہے کہ روسی قیادت کے نزدیک جنگ کا مقصد ولادیمیر زلنسکی کو حکومت کو ختم کر کے اپنی من پسند حکومت کو لانا تھا۔ مگر روسی قیادت اپنے اندازوں میں نا کام رہی اور محدود پیمانے کی سرحدی جنگ اب تقریباً پورے یوکرائن میں پھیل چکی پھر کچھ جان لیوا بم دھماکوں کی گونج روس کے اندر سے بھی سنائی دی گئی جس میں مسٹر پیوٹن کے اہم ساتھیوں کی ہلاکت کی خبریں شامل ہیں۔ ہفتہ دس دن کی محدود جنگ اب 13 ماہ گزر جانے کے باوجود بھی شدت سے جاری ہے۔
دنیا پر اس جنگ کے معاشی و سیاسی اثرات کا بہت حد تک تعلق اس کے جغرافیائی پھیلاؤ اور وقتی دورانیہ یا طوالت سے ہے۔ مثال کے طور پر کچھ یورپین ماہرین کے نزدیک یہ جنگ کم از کم پانچ سال تک جاری رہ سکتی ہے۔
جنگ کے اس پہلے سال میں خوراک کی عالمی قیمتوں میں 7.50 فیصد اور پیٹرولیم مصنوعات میں 133 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو نتیجہ میں تگڑے ممالک مزید امیر اور غریب ممالک مزید غریب ہو جائیں گے۔ پاکستان میں معاشی صورتحال عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط اور جنگ کے اثرات کی وجہ سے زیادہ گمبھیر نظر آتی ہے۔
ابھی دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھی کہ روس یوکرائن جنگ شروع ہو گئی اور اس کے پہلے مرحلے میں ہی خوراک اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنگ اور اشیائے خوردنی اور پیٹرولیم کی مہنگائی کے درمیان ارتباط یا باہمی تعلق کیا ہے۔
جنگوں کے لیے فوج، جنگی مشینری کے علاوہ بے پناہ سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ فوج اور مشینری کئی سالوں میں دھیرے دھیرے تیار ہوتی رہتی ہے۔ جب جنگ شروع ہو جائے تو ایک اندازے کے مطابق افواج اور دیگر کے اخراجات میں سو گنا تک کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کے فریقین اپنی اپنی برآمدات کو مہنگا کر دیتے ہیں۔ اس کو ایک طرح کا جنگی ٹیکس بھی کہا جا سکتا ہے جسے پوری دنیا کے لوگ اداء کرتے ہے۔
اس وقت دنیا میں خوراک (گندم، چاول، مکئی، خوردنی تیل وغیرہ) کے بڑے برآمد کنندگان کی لسٹ میں امریکہ، جرمنی، برطانیہ، چین، جاپان، فرانس، ہالینڈ، کینیڈا، بیلجیم، اٹلی اور روس شامل ہیں۔ جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے برآمد کنندان میں سعودی عرب، روس، امریکہ، کینیڈا، عراق، عرب امارات، نائجیریا، کویت، قازقستان اور ناروے شامل ہیں۔
روس یوکرائن جنگ کے پس منظر میں انہیں مذکورہ ممالک کی اکثریت ہی متحرک نظر آئے گی۔ جنگ کے ایک سال میں منظم پروپیگنڈا کیا گیا چونکہ یوکرائن دنیا کی فوڈ باسکٹ تھا اس لیے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یوکرائن گندم برآمد کرنے والا 5 واں بڑا ملک ہے لیکن خوراک کی برآمد کے لحاظ سے وہ دنیا کا 38 واں ملک ہے۔ یوکرائن کی گندم دنیا تک شاید پہنچی یا نہ پہنچی مگر گندم کے دوسرے برآمد کنندگان ممالک خوب مال کما رہے ہیں۔
جنگ کی شروعات سے ہی عالمی میڈیا میں کچھ اس طرح کی خبریں شائع ہوئیں کہ پوری دنیا کو پیٹرولیم شاید روس ہی برآمد کر رہا تھا اور جنگ کی وجہ سے پیٹرول مہنگا ہو گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی کل پیٹرولیم برآمدات میں روسی حصہ صرف 13 % ہے باقی ماندہ برآمد ماسوائے ایک آدھ ملک کے امریکہ اینڈ کمپنی کے ہاتھ میں ہے۔ روس یوکرائن جنگ کی آڑ میں تیل کی تجارت سے کمایا جانے وال منافع ہمارے اندازوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
خوراک اور ایندھن دو ایسی چیزیں ہیں جن کی مہنگائی سے دنیا کی ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے اس طرح سامراج کے ہاتھ دنیا کے ہر امیر و غریب کی جیبوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں سامراج سے ہماری مراد صرف امریکہ ہی نہیں۔ سامراج ایک ایسی ذہنیت کا نام ہے جو دوسروں کے وسائل پر ناصرف نظر رکھتا ہے بلکہ موقع پا کر اور بسا اوقات موقع پیدا کر کے وسائل کو لوٹ لیتا ہے یا ان پر قبضہ کر لیتا ہے۔ اس وقت سامراجی ذہنیت پوری دنیا میں موجود ہے اور ہر جنگ اور بحران میں سے اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کر رہی ہے۔
چند دن پہلے مسٹر بائیڈن کے یوکرائن کا اچانک اور تقریباً خفیہ مگر دلیرانہ دورہ کیا اور اس موقع پر انہوں نے نہایت فراخدلی سے اربوں ڈالر کی مالی مدد کے علاوہ میزائل، ٹینک اور دوسری فوجی امداد کا بڑا اعلان کیا۔ گزشتہ سال کے دوران بھی امریکہ اینڈ کمپنی یوکرائن کی متواتر مالی اور فوجی مدد کرتے رہے ہیں۔ یہاں ہمارا سوال ہے کیا یہ اپنی جیب سے یہ خرچ کرتے ہیں۔ نہیں ایسا بالکل نہیں ہم نے اوپری سطور میں خوراک اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کی دو فہرستیں بتائی ہیں۔
اکثریت ممالک امریکہ اینڈ کمپنی یا نیٹو سے تعلق رکھتے ہیں۔ خوراک اور تیل کی طلب میں بہت ہی کم لچک ہوتی ہے اس لیے ان دو اشیاء کی قیمتوں کو بڑھا پوری دنیا سے سرمایہ یا منافع اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اور پھر اس سرمائے میں سے تھوڑا سا یا حسب ضرورت فنڈ ہمارے پیارے صدر مسٹر ولادیمیر زلنسکی کو بھی دے دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی جنگ کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اتحادیوں کی جنگ بھی لڑ سکیں۔
امریکہ اور مغربی یورپ سوویت یونین سے ایک طویل سرد جنگ کرنے اور سوویت انہدام کے بعد روس کو عالمی مالیاتی اداروں کی امداد، قرضوں کی فراہمی اور تجارتی معاہدوں کے بعد روس کی طرف سے بے فکر تھے اور روس کو اپنے ”جیسا“ ہی تصور کر رہے تھے۔ روس کی حالیہ جنگ سرد جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے بڑا وقوعہ ہے۔ سرد جنگ کے دوران دنیا دو بلاکوں میں تقسیم تھی اس وقت بھی یہی لگ رہا ہے کہ دنیا ایک دفعہ پھر بلاکوں میں تقسیم ہونے جا رہی ہے۔
اب تک روس کو البتہ ایک ملک بیلارس کی مکمل حمایت ہو چکی ہے۔ جنگ سے پہلے پانامہ لیکس کو وجہ بنا کر دنیا میں کرپٹ حکومتوں اور افراد کو سیاسی طاقت سے باہر کرنے کی مہم جاری تھی ایسے لگتا تھا کہ امریکہ اینڈ کمپنی کرپٹ عناصر سے جان چھڑانا چاہتی ہے۔ حالیہ جنگ کے بعد امریکہ بہادر کو دوبارہ سے کرپٹ حکومتوں کی یاد ستانے لگی۔ برازیل، اسرائیل اور پاکستان میں کرپشن کے الزام کے تحت ختم کی جانے حکومتیں دوبارہ سے پرانی تنخواہوں پر براجمان ہو چکیں۔ امریکہ ہمیشہ کرپٹ افراد کی وفاداری پر ہی یقین رکھتا ہے۔ یہاں امریکہ کو خطرہ محسوس ہو رہا تھا کہ صادق اور امین قیادتیں کہیں روس سے کوئی معاملہ ہی نہ کر لیں۔ جنگ کی طوالت کرپٹ عناصر کے لیے باعث برکت و تقویت اور اطمینان ہوتی جائے گی۔
اس وقت دنیا میں یہی تصور عام ہے کہ یہ جنگ ان دو ملکوں کے مابین ہے لہذاٰ باقی دنیا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ خیال انتہائی غلط ہے۔ دنیا کا ہر شہری اس جنگ سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ دنیا کے باشعور اور انسان دوست عوام کا فرض ہے کہ وہ جنگ کی مخالفت اور امن کی کوششیں تیز کریں۔ ترقی پذیر ریاستوں کی بقا بھی عالمی امن میں ہی ممکن ہے۔ اگر یہ جنگ پانچ سال تک جاری رہتی ہے اور اس کے دائرہ کار میں بتدریج توسیع ہوتی ہے تو معاشی و سیاسی بحرانوں کی شدت سے دنیا اتھل پتھل ہو جائے اور مزید کسی ایٹمی تباہی کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔


