کیا پاکستانی سیاست حق و باطل کا معرکہ ہے؟

سیاست کا مطلب دوسری دنیا میں کچھ بھی ہو لیکن پاکستان میں اس کی مختصر تعریف مجسم منافقت کے طور پر کی جا سکتی ہے۔ جی سیاست مطلب چالاکی ہوشیاری، سازش، پروپیگنڈا، داؤ پیچ اور چالیں وغیرہ۔ پاکستان کی سیاست منافقت کے اعلی درجے پر فائز ہے۔ اس سیاست میں جھوٹ، پروپیگنڈا، سازش اور وہ سب کچھ شامل ہے برائی کے زمرے میں آتے ہیں۔
پاکستانی سیاسی کارکنان بھی شخصیت پرستی کے معاملے میں بہت بلندیوں پر ہے ان کے سیاسی عقیدے میں ان کا لیڈر پارسا اور فرشتہ ہے اور دوسرا لیڈا چور، کرپٹ اور ڈکیت ہے۔ ان کا لیڈر اگر یوٹرن لے تو وہ سیاسی حکمت عملی اور اگر کوئی مخالف لیڈر یہ کام کریں تو وہ بزدل اور ڈرپوک۔ یعنی پاکستانی سیاست صرف جذبات اور جہالت کی آمیزش بن گئی ہے جہاں سوال نہیں کیے جاتے بلکہ شخصیت پرستی کی جاتی ہے اس پرستش میں جو بھی آڑے آتا ہے وہ باطل کا نمائندہ قرار دیا جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں بھی ایک سیاسی پارٹی کی خواتین نے اپنے لیڈر کو عالم اسلام کی پاک شخصیت سے ملانے کی کوشش کی اور وہ شخصیت پرستی میں اتنی اندھی ہو گئی کہ بہت کچھ اول فول کہہ ڈالا۔ گویا پاکستان میں اسلام پر عمل ہو یا نہ ہو اس کا استعمال جگہ جگہ کیا جاتا ہے۔ پاکستانی سیاست میں اتنی کچھ ملاوٹ ہے سمجھ ہی نہیں آتا کہ خالص کیا ہے؟ ان ملاوٹ میں ایک اسلامی ٹچ بھی ہوتا ہے۔ پاکستانی سیاست میں اسلامی ٹچ دینے کا رواج بہت پرانا ہے اور اس کا استعمال آج بھی بھرپور انداز میں کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام کو شیشے میں اتارا جائے۔
ملکی سیاست میں تقریباً سب گندے ہیں کیونکہ نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ صاف ستھرا شخص بھی اوپر آتے آتے اپنے اوپر غلاظت مل ہی لیتا ہے۔ تقریباً سب ہی کسی نہ کسی سہارے اوپر آئے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ وہ عوام کی طاقت سے اوپر آئے ہیں۔ ہر دور میں کس نہ کسی کو باقاعدہ لانچ کیا گیا ہے اور پھر ایک حد تک اس کا استعمال ہوا ہے اور پھر وہ کسی رخ پر سیاست کرنے لگا۔ لیکن عام انسان اپنی لیڈر کی محبت میں اس قدر گرفتار ہوا کہ وہ اس سیاسی شعبدہ بازی کو حق و باطل کا معرکہ سمجھ بیٹھتے ہیں اور اپنے قائد کا ہر عمل حق اور مخالف کا ہر عمل باطل لگنے لگتا ہے۔
یہ خیال کرنا کہ میرے قائد کا ہر جملہ سچ ہے اور ہر عمل پاک یہ صرف جھوٹ ہے۔ کوئی بھی قائد ہو یا ان کی پارٹی کے معاملات وہ بہت مختلف ہوتے ہیں اور وہ عام پبلک سے ڈھکے چھپے رہتے ہیں اور عوام صرف استعمال کرنے کے لئے ہوتی ہے کیونکہ لیڈران عوام کا پریشر گروپ بنوا کر اپنے ناجائز مطالبات بھی منواتے ہیں تاکہ کسی طرح اقتدار میں آیا جاسکیں یا پھر نظام کو بلیک میل کر کے اپنے مطلوبہ مطالبات منوائے جائیں۔
مختصر یہ کہ پاکستانی سیاست کو سیاست کی طرح ہی لیا جائے۔ سیاست دان اس میں مختلف طرح کے ٹچ دیتے ہیں البتہ آپ اسے زیادہ سیریس نہ لے۔ بالخصوص اس کو حق و باطل کی جنگ ہرگز نہ سمجھے، اس شخصیت پرستی کو ایمان کا حصہ نہ سمجھیں۔ محبت کریں ضرور کریں لیکن بڑوں بڑوں کی جنگ میں اپنے آپ کو ایندھن نہ بنائے اور ہاں جن کو ووٹ دے صرف محبت کی وجہ سے نہ دے، بلکہ اس وجہ سے دیجئے کہ انھوں نے ملک کے لئے کیا کیا ہے اور آپ کے لئے کیا کرنے کا ارادہ ہے؟

