حالات غیر حاضرہ
وطن عزیز دنیا کا وہ اچھوتا خطہ ہے جہاں حالات حاضرہ پر بنے پروگرام سب سے زیادہ دلچسپی سے سنے اور دیکھے جاتے ہیں۔ وہ غریب عوام جن پر آنے روز حکومت کی جانب سے نت نئی اقسام کی بمباری کی جاتی ہے، بے حد اشتیاق سے پھینکے جانے والے نئے بموں کی خبریں حاصل کرنے کے لیے ٹی وی، اخبار، سوشل اور غیر سوشل میڈیا سے دن رات جڑے بیٹھے رہتے ہیں۔ عوام کا جوش و خروش دیکھتے ہوئے اب تو فلمیں، ڈرامے اور ناول بھی حالات حاضرہ پر بننے شروع ہو چکے ہیں اور مقبولیت کے نئے رکارڈ بنا رہے ہیں۔ ایسے میں کچھ دانشور ایسے بھی ہیں جنہوں نے حالات غیر حاضرہ پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ گو کہ ان کی تعداد بس نا ہونے کے برابر ہے لیکن ان کی اہمیت گاہے گاہے ظاہر ہوتی رہتی ہے۔
گزشتہ دنوں اخبار میں شائع ہوئی ایک خبر نے چونکا دیا۔ خبر کے مطابق فیصل آباد میں منعقدہ ایک ڈاگ شو (اردو کے محبتی اسے کتا شو پڑھیں ) میں پاکستانی نسل کے آوارہ کتے نے پہلی پوزیشن حاصل کر کے بڑے بڑے جغادری کتوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ کتے کے مالک نے فخر سے اعلان کیا کہ آوارہ پاکستانی کتا ایسی بہت سی خصوصیات کا حامل ہے جو آج تک مغرب سے متاثر اس عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں جو مغرب کو مغرب سے زیادہ جانتے ہیں اور اسی لئے مغربی کتوں سے بہت متاثر ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان مغربی کتوں کو خریدنے کے لئے خطیر رقم خرچ کرتے ہیں۔ بظاہر یہ غیر اہم خبر دراصل پاکستان کے معاشی، سماجی اور ثقافتی حالات کو عیاں کرتی نظر آتی ہے۔ اس کی اہمیت صرف وہ دانشور جان سکتے ہیں جو حالات غیر حاضرہ پر نظر رکھ کر بیٹھے رہتے ہیں۔
خدا شاہد ہے کہ ہماری لغت میں کتے ہمیشہ ایف اے ٹی ایف کی سیاہ فہرست میں رہے ہیں اور کبھی ان کے فوائد سمجھ میں نا آ سکے اب کتوں کے چاہنے والے اسے ہماری جاہلیت سمجھیں یا نا اہلی، حقیقت میں صبح کی سیر اسی لئے چھوٹ گئی کہ سڑک کے ہر کونے پر آوارہ کتوں کی مجلس، سیاسی میٹنگ یا مشاعرہ ہو رہا ہوتا ہے اور ہمیں دیکھتے ہی وہ ہمیں اپنی پارٹی میں شامل کرنے کو ہماری جانب پیش قدمی کرتے ہیں۔ ایسے میں ہمیں ایک عام کتا بھی بقول پطرس ”بہت ہی کتا دکھتا ہے“ اور اپنی امان اسی میں نظر آتی ہے کہ شرافت سے راہ فرار اختیار کی جائے۔
شو میں آوارہ کتے کی کامیابی کی وجہ سے یہ امید پیدا ہو چلی کہ پاکستان کے یہ آوارگان بھی اب مرغیوں اور کٹوں کی اس فہرست میں شامل ہو جائیں گے جن کی برآمد سے پاکستان کثیر زرمبادلہ کما سکتا ہے اور اپنی اقتصادیات کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یقینی طور پر یہ ایک اچھوتا خیال ہے۔ ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ اس پر ایک اعلٰی سطح کی کتا کمیٹی بنائی جانے تاکہ ملک ترقی کی نئی منزلیں طے کرے۔
کتوں کی بے شمار نسلیں ہیں اور انہیں مختلف مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ میرے پاکستانیوں نے کتوں کے لئے کچھ انوکھے کام بھی ڈھونڈ رکھے ہیں۔ کتوں کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کچھ حساس ادارے انہیں خصوصیت سے پالتے ہیں اور جاسوسی کی تربیت دیتے ہیں۔ شوقین کتا اپنے ولایتی کتوں کے نام انسانوں کے ناموں پر یا پھر کسی اور جانور کے نام پر رکھتے ہیں۔ ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ دیسی ہو یا ولایتی، آوارہ ہو یا نسلی، کتے کو کتا کہنے میں کیا امر مانع ہے۔
لگتا ہے اس کے پیچھے بھی اصل بات کچھ اور ہے۔ مہنگے زرمبادلہ کے عوض خریدے گئے یہ کتے خفیہ اداروں کے لئے جاسوسی کا کام کرتے ہیں جو اب زیادہ خفیہ نہیں رہے۔ اس ڈاگ شو کے نتائج کے بعد اب شاید آوارہ پاکستانی کتوں پر بھی ان اداروں کی نظر کرم ہو اور انہیں سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے کی بجائے اعلی اداروں میں روزگار مل جائے اور بعد از ریٹائرمنٹ بھی ان کی صلاحیتوں سے پاکستان کے عوام فائدہ اٹھا سکیں۔
فاتح کتے کے مالک نے بتایا کہ یہ آوارہ کتے کچھ بھی کھا سکتے ہیں لہٰذا ان کی درآمدی خوراک کی مد میں قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔ اس طرح مقامی طور پر تیار کردہ کتوں والی خوراک کے ذریعے پاکستان میں اس صنعت کو فروغ حاصل ہو گا۔ ویسے ارض وطن میں ملنے والی عوام کے لئے دستیاب اشیاء خور و نوش پہلے ہی سے اپنے ملاوٹی معیار کی وجہ سے کتوں والی خوراک ہی ہے لہٰذا اس بابت سرکار کو کچھ زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ ان کتوں میں بھونکنے اور بھاگنے کی صلاحیت مغربی نسلوں سے زیادہ ہے اور ذرا سی محنت سے یہ سوشل میڈیا اور ٹویٹر کے میدانوں میں کامیابیوں کے نئے ریکارڈ قائم کر سکتے ہیں۔
پطرس بخاری اور شفیق الرحمٰن نے کتوں، با الخصوص ولایتی کتوں پر سیر حاصل مضامین لکھے ہیں۔ لیکن پاکستانی نسل کے آوارہ کتوں کا موضوع ابھی تک کسی دانشور اور ادیب کی نظر کرم کا منتظر ہے۔ سیاسیات کی رو سے ولایتی اور مغربی نسل کے کتوں سے لگاؤ دراصل برصغیر کے لوگوں کی محکوم ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے جو ہر اس چیز سے مرعوب ہو جاتے ہیں جس کے ساتھ امپورٹڈ کا لاحقہ لگا ہو۔ غور کیا جائے تو دیسی ہوں یا ولایتی، سب کتوں کی چار ٹانگیں، دو کان اور ایک دم ہوتی ہے جو ماہرین کتا کے مطابق کئی برس بعد بھی سیدھی نہیں ہوتی۔
انسانوں کی کتوں سے محبت کی وجہ سے ڈارون کے بندر والے نظریے میں کچھ صداقت لگتی ہے (بس بندر کی جگہ کتا پڑھا جائے) لیکن مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ حضرت انسان کے کتوں سے لگاؤ کی وجہ سے دونوں کی خصلتیں کچھ گڈ مڈ سی ہو گئی ہیں خاص طور سے پاکستانی نسل کے آوارہ کتوں کی۔ اس ڈاگ شو کے نتائج نے بلا شبہ حالات غیر حاضرہ کے دانشوروں کے لئے بحث کے نئے دروازے کھولے ہیں۔


