سیاسی بحران اور بنیادی تغیرات

بالآخر اس سول سوسائٹی نے بھی الیکشن کرانے کے لئے عمران خان کے موقف کی تائید کر دی، جو ملک میں سویلین بالادستی اور آئین کی حکمرانی کی علمبردار سمجھی جاتی ہے، کیا خان کی جدوجہد بھی جنرل مشرف کے خلاف وکلاء تحریک کی طرح چند بنیادی تغیرات کی نقیب بننے والی ہے؟ امتیاز عالم اور حسین نقی کی قیادت میں عمران خان سے ملنے والے وفد نے سیاسی بحران کے حل کی خاطر جہاں قومی قیادت کے مل بیٹھنے کی خاطر آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز دی وہاں انہوں نے عمران خان کے لئے وہ تمام سیاسی حقوق اور جمہوری آزادیاں بھی مانگ لیں، جنہیں خان اور ان کے ساتھیوں نے اپنے سیاسی مخالفین سے چھین لینے میں کسر باقی نہ چھوڑی۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جنوبی ایشیا کی بدلتی ہیئت اور تیزی سے تبدیل ہوتے عالمی حالات کے تناظر میں ہماری مملکت قومی سلامتی، معاشی اور سیاسی طور پہ مشکل مراحل سے گزر رہی ہے تاہم موجودہ صورت حال کا نازک پہلو یہ ہے کہ کوارڈینیشن کے فقدان کے باعث پی ڈی ایم گورنمنٹ کی قوت فیصلہ بتدریج گھٹ رہی ہے، اسی لئے اقتصادی بحران کو سنبھالنے اور سیاسی مسائل کو کنٹرول کرنے کی کوئی تدبیر کار گر نہیں ہوتی۔ واقفان حال کہتے ہیں، ملکی اور عالمی تعلقات کے حوالے سے چند بڑے فیصلے لینے کی راہ میں پیپلز پارٹی حائل ہے، ابھی حال ہی میں ایوان وزیراعظم کے ایسے اعلی سطح اجلاس میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی عدم شرکت اسی تفریق کی غماز تھی جس میں سیاسی بحران کے علاوہ سعودیہ، ایران معاہدہ کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لینے، افغانستان میں مسلح گروپوں میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے قومی سلامتی پہ اثرات اور اسرائیل سے تعلقات کے سوال پہ بحث کی گئی، اسی اجلاس میں شریک پیپلز پارٹی کے وزراء نے عمران خان کی گرفتاری اور پی ٹی آئی پہ پابندی لگانے کی مخالفت کے ذریعے حکمراں اتحاد کے اندر پائی جانے والی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا۔
پیپلز پارٹی کا بیس کیمپ سندھ چونکہ پرسکون اور شہری سندھ کی سیاسی قوت ایم کیو ایم مضمحل ہے، چنانچہ سیاسی جدلیات سے باہر ہونے کی وجہ سے ان کا سوچنے کا انداز مختلف اور سیاسی ترجیحات کے پیمانے الگ ہیں۔ اگر ہم موجودہ سیاسی منظرنامہ کو دیکھیں تو پی ٹی آئی کی جدوجہد کا محور پنجاب اور خیبر پختون خوا ہیں، جہاں عمران خان نواز لیگ اور جے یو آئی سے الجھے ہوئے ہیں، چنانچہ بظاہر پیپلز پارٹی ایک قسم کے ذہنی سکون سے لطف اندوز ہوتی نظر آئے گی، اس لئے وہ کسی بھی قسم کے ردعمل کی بجائے جمہوری اقدار کی کیفیت کو انجوائے کرنے میں محو ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جس طرح پیپلز پارٹی نے اپنے پچھلے دور حکومت میں تحریک انصاف کی پنجاب میں نواز لیگ اور خیبر پختون خوا میں جمعیت کے ساتھ کشمکش سے خود کو الگ کرنے میں سہولت تلاش کی اور اس کے نتیجہ میں تحریک انصاف نے پنجاب میں انٹی نواز لیگ اور خیبر پختون خوا میں جے یو آئی کے مخالف ووٹ کو جذب کر کے دونوں صوبوں سے پیپلز پارٹی کا صفایا کیا تھا، بالکل اسی طرح آج بھی پیپلز پارٹی نے لاہور میں جاری رسہ کشی سے خود کو دور رکھ کے میدان نواز لیگ اور پی ٹی آئی کے حوالے کر دیا، جس کے نتائج انہیں متوقع عام انتخابات میں مل جائیں گے۔
بلاول بھٹو وزارت خارجہ کے سحر میں کچھ ایسے گرفتار ہوئے کہ اپنی پارٹی پالیٹکس کے تقاضوں کو فراموش کر کے مغربی دنیا کے ہو رہے، جنوبی پنجاب جہاں پی ٹی آئی کے منحرف جہانگیر ترین گروپ کو انگیج کر کے پیپلز پارٹی کو قدم جمانے کے وسیع امکانات میسر آئے، وہاں مسٹر زرداری نے سنہرے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں تاخیر کر دی۔ اسی طرح لاہور میں علیم خان جیسے با اثر سیاسی رہنما کو پارٹی میں لانے کی کوشش کو بھی تنازعات میں الجھایا گیا۔
پی پی پی نے پنجاب میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچہ کو جنوبی اور وسطی پنجاب میں تقسیم کر کے دونوں دھڑوں کو کمزور کیا، اس پیش دستی سے پنجاب کے صدر قمرزمان کائرہ نالاں اور جنوبی پنجاب کی نمائندگی کرنے والے ڈاکٹر اشولعل فقیر مایوس ہو کر گوشہ نشین ہو گئے۔ جنوبی پنجاب میں صرف یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسی گیلانی اپنے حلقہ نیابت کے عوام سے جڑے رہنے کے باعث قومی اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں نکال لیں گے، سرگودھا کے ندیم افضل چن ایک تو ذہنی ہجرت کی وجہ سے التباسات کا شکار ہیں، دوسرے ابہام سے لبریز پارٹی پالیسی سے خوش نظر نہیں آتے، البتہ راجہ پرویز اشرف کو گوجر خان سے قومی اسمبلی کی نشست مل سکتی ہے۔
دو، تین گھرانوں کے علاوہ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں پیپلز پارٹی کا دم بھرنے والا کوئی نمایاں گروہ دکھائی نہیں دیتا، اسی کنفیوژ پالیسی کی بدولت لاہور جیسے بڑے شہر میں اسرار بٹ جیسے نمایاں لیڈر پس منظر میں چلے گئے۔ آصف علی زرداری کے برعکس عمران خان نے جمشید دستی، اعجاز الحق اور پرویز الہی سمیت ہر اس شخص کو پارٹی میں شامل کیا جس کا ادارہ جاتی ڈھانچہ میں تھوڑا بہت اثر رسوخ تھا۔ بہرحال، ہماری قومی سیاست کی روایت یہی رہی کہ جو سیاستدان مقتدرہ کے عتاب کا شکار بنا، سیاست سے باہر ہو گیا، حسین شہید سہروردی اور ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے اسی جبر کو قبول کیا اور مزاحمت ترک کر کے مروجہ اصولوں کے تحت مفاہمت میں بقاء تلاش کی۔
پہلی بار نواز شریف نے مقتدرہ کے عتاب کا مقابلہ کرنے کے لئے بیٹی سمیت جیل جانے کا انتخاب کرنے کے علاوہ فوجی قیادت کو براہ راست للکارا۔ بعد ازاں عمران خان نے بھی انتخابات کے مطالبہ کو لے کر وہی مزاحمتی حربہ استعمال کرنے کی راہ اپنائی جسے نواز شریف نے متعارف کرایا تاہم خان کی جماعت نے ایک قدم آگے بڑھ کر لاہور میں ان کی رہائش گاہ کے گرد کئی مہینوں سے انہیں گرفتاری سے بچانے کے لئے ڈیرے ڈال لئے۔ پولیس وہاں پہنچی تو پی ٹی آئی کے حامیوں نے پٹرول بموں اور اینٹوں سے حملہ کیا، ردعمل میں پولیس کو آنسو گیس اور لاٹھیاں استعمال کرنا پڑیں۔
عمران خان کی سیاسی مزاحمت اگرچہ ملک میں سویلین بالادستی کے لئے نہیں لیکن وہ ملکی اسٹبلشمنٹ پہ دباؤ ڈال کر ایک بار پھر انہیں اپنی حمایت پہ آمادہ کرنے کی کوشش میں متعین حدود سے کچھ آگے نکل گئے کیونکہ ماضی میں کوئی مزاحمتی سیاسی جماعت ایسا نہیں کر سکی، جیسا سیاسی کشمکش کے دوران ان کے حامی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پہ تشدد اور عدالتی ڈیکورم کو منہدم کر دیتے ہیں لیکن ہمارا ریاستی ڈھانچہ تاحال خان کے حامیوں کو مینیج کرنے میں کامیاب ہوا نہ حکومت عمران کے جھوٹے سچے بیانیہ کا توڑ کر سکی، وہ ہر روز پوزیشن بدل کر اپنی حکومت کے خاتمہ کے محرکات تبدیل کر دیتے ہیں انہوں نے فروری میں کارکنوں اور دوسرے درجے کی قیادت کے لئے ”جیل بھرو تحریک“ کا اعلان کیا، چند رہنما جیل گئے بھی، جبکہ خان کو متعدد مقدمات میں پیشگی ضمانتیں مل گئیں یوں جیل بھرو تحریک ازخود ختم ہو گئی لیکن زمان پارک کے جھڑپوں کے ذریعے خان نے یہی پیغام دیا کہ اب افراتفری سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں بچا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کی پیشکش کی، خان نے آمادگی کا عندیہ دیا مگر ہر دو پہلا قدم اٹھانے کے منتظر رہے، ہمارے روایتی ثالث جیسے اسٹبلشمنٹ اور عدلیہ متنازعہ ہو چکی ہیں، چنانچہ اس مخمصہ سے نکلنے کی خاطر سول سوسائٹی کا سہارا لینا پڑا تاکہ گزشتہ چند سالوں میں پنپنے والے سیاسی اختلافات کو گہری دشمنیوں میں تبدیل ہونے سے بچایا جائے۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں، پاکستان تاریخ کے ایسے موڑ پر ہے جہاں انارکی، پاپولزم اور آمریت کے مابین التباسات کی دھند بڑھ رہی ہے۔
غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں خان نے ہچکچاتے ہوئے تسلیم کیا، ملک میں فیصلے کرنے والا ”ایک آدمی“ آرمی چیف ہے لیکن ان کی ہچکچاہٹ ایسی حکمت عملی کی نشاندہی تھی جہاں وہ بند دروازوں کے پیچھے اسٹبلشمنٹ کی حمایت کا متقاضی رہا، یہ دوغلا پن 2018 میں وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کے دوران فوج سے ملنے والی حمایت اور اس بات کا اعتراف تھا کہ ملک میں اصل طاقت کہاں ہے۔ مثال کے طور پر، خان گزشتہ سال قبل از وقت انتخابات کے عوض سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت ملازمت میں دوسری توسیع دینے کو تیار تھا، باجوہ کے انکار کے بعد خان نے الزام لگایا، انہوں نے امریکہ سے مل کر میری حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش رچائی، جب وہ وزیر اعظم تھے تو باجوہ کو ”سب سے زیادہ جمہوری آرمی چیف“ کہا لیکن اب وہ ان کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کرتے ہیں۔
تجزیہ کار، خان کی ان متضاد چالوں کی توضیح سے قاصر ہیں، جس میں وہ عوامی مذہبیت کی نمائش، روایتی سیاسی اشرافیہ سے نفرت اور کرپشن کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ وہ زبردست پروپیگنڈا کے حربے استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کے حق رائے دہی سے محروم ہونے کے احساس کو استعمال کرتے ہیں، خان نے طاقت کے مراکز کا جواب ڈھونڈ لیا، جیسا کہ ان کے حامیوں نے ان کی گرفتاری کے خلاف شدید مزاحمت کی لیکن آنے والے انتخابات میں کیا یہ جادوئی علاج ثابت ہو گا؟ 2023 میں جیربولسونا اور 2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں سے سیکھے گئے اسباق کو دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ وہ الیکشن جیت جائیں گے، شاید زمان پارک کی مزاحمت ایک وارننگ ضرور ہو کہ اپنی کمزور معیشت اور منقسم سیاست کے باوجود پاکستان اقتدار کی متنازعہ منتقلی کا متحمل ہو سکتا ہے؟

