پچوانہ کی جنت۔ ایک خوبصورت سفر کا آغاز


کچھ عرصہ قبل ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں شرکت کے دوران امتیاز حسین ایڈوکیٹ سے ملاقات ہوئی جو میرپور بار کے صدر کی حیثیت سے تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ ان کی گفتگو انتہائی سلجھی ہوئی اور تاریخی و علمی حوالوں سے بھرپور تھی۔ مزید تعارف پر پتہ چلا کہ ان کا تعلق پچوانہ ڈڈیال سے ہے۔ چند ماہ پہلے اس گاؤں کو مثالی معاشرہ بنانے اور آزاد کشمیر پولیس کے سربراہ کے پچوانہ کے دورہ کی خبریں اخبار کی زینت بنی تھیں۔ اس محفل میں پچوانہ کے بارے میں ان کے ساتھ تھوڑی سی گفتگو ہوئی۔ پھر بشیر مراد کی لکھی ہوئی مختصر کتاب ”پچوانہ کی جنت“ خوبصورت سرورق اور دیدہ زیب لکھائی میں چھپی ہوئی ملی جو خود بھی ایک علمی و ادبی شخصیت اور منفرد طرز تحریر کے حامل مصنف، شاعر اور مزاح نگار ہیں۔

بشیر مراد کی یہ کتاب پچوانہ کا مثالی معاشرہ دیکھنے کے لیے ان کے اس گاؤں کے سفر کی روداد ہے۔ اس سفر میں انہوں نے پچوانہ گاؤں کے راستے میں آنے والے مقامات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ وہ جس مقام سے گزرے ہیں، اس کے متعلق ضروری معلومات قاری کو بتاتے ہوئے وہ اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ بشیر مراد نے اس سفر کی منظر نگاری اتنے خوبصورت انداز میں کی ہے کہ قاری محسوس کرتا ہے، جیسے وہ خود ان کے ساتھ سفر میں شریک ہے اور سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔

علاقہ اندر ہل کے نام کی وجہ تسمیہ انہوں نے بڑے دلچسپ انداز میں بیان کی ہے۔ اندر ہل کا علاقہ دریاء پونچھ اور پیر پنجال کی پہاڑیوں کے آخری سلسلہ کے درمیان ایک خوبصورت خطہ ہے، جس میں ڈڈیال مرکزی شہر ہے، جو تحصیل کا صدر مقام بھی ہے۔ یہ خطہ بڑی بڑی نابغہ روزگار شخصیات کی جنم بھومی ہے۔ خصوصاً قانون اور تعلیم کے شعبے کی اعلی ترین شخصیات کا تعلق اسی خطہ سے ہے، جن کا تعارف اس کتاب میں ملتا ہے۔ بشیر مراد نے پچوانہ پہنچ کر کیا دیکھا، وہ جنت کیسی ہے، ایسا کیا ہے جس وجہ سے انہوں نے پچوانہ کو جنت سے تشبیہ دی ہے۔ ایسی کون سی خاص بات ہے، جس کی وجہ سے اس گاؤں کو مثالی معاشرہ کہا جا رہا ہے۔ ان سب سوالوں کا جواب آپ کو اس کتاب میں ملتا ہے۔

اس کتاب کو پڑھ کر میرے دل میں بھی پچوانہ دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ قبل ازیں اس گاؤں کے مرد حضرات کی طرف سے گاؤں کی عورتوں کو کھانا کھلانے کی دعوت کا ذکر میں سن چکا تھا، جس میں مردوں نے کھانے کی تیاری سے لے کر کھانا کھلانے، دعوت کے بعد برتن دھونے تک کا سارا کام خود سرانجام دیا تھا، جو کہ ایک بڑی انوکھی بات تھی۔ اس کی مثال پہلے کہیں سنی نہیں تھی سوائے شوکت تھانوی کے ناول ”خدانخواستہ“ میں پڑھنے کے۔

میری بینک کی ملازمت کے چھ بہترین سال علاقہ اندرہل میں گزرے، جس وجہ سے میں اس خطہ کے چپہ چپہ سے واقف ہوں۔ کٹھاڑ اور اس سے ملحقہ آبادی میں جانے کا درجنوں بار اتفاق ہوا۔ کبھی یہ پسماندہ علاقہ ہوا کرتا تھا، لیکن اب یہ خوبصورت اور نت نئے ڈیزائن کی بڑی بڑی کوٹھیوں کا علاقہ ہے جہاں سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے اور زندگی ہر سہولت یہاں میسر ہے۔ ”پچوانہ کی جنت“ دیکھنے کے لیے میں نے اپنے دوست عبدالغفور چغتائی کے ہمراہ اس گاؤں کا سفر کیا۔ جوں ہی ہم کٹھاڑ کے بازار سے گاؤں جانے والی سڑک کی طرف مڑے، ہمیں اترائی نظر آئی۔ اترائی اتر کر، ہمیں پچوانہ 2 کلو میٹر کا بورڈ نظر آیا۔ اسی سڑک پر چلتے ہوئے دو تین موڑ مڑ کر ہم پچوانہ گاؤں کے باہر پہنچ گئے۔

سہ پہر کا وقت تھا۔ کیمرے کی آنکھ سے ہم نے گاؤں کا جائزہ لیا۔ گاؤں کے باہر برگد کا ایک بڑا درخت ہے جس کے نیچے ایک چبوترہ بنا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک مزار ہے۔ مزار سے مشرق کی جانب مسجد ہے اور اس سے ملحقہ چند گھر ہیں۔ اس چبوترے پر 7 مئی 2020 کی تاریخ درج ہے جس دن گاؤں کے افراد کی پہلی بیٹھک ہوئی تھی جس میں اس گاؤں کو ایک مثالی معاشرہ بنائے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ہم مسجد میں گئے۔ امام صاحب بچوں کو پڑھا رہے تھے۔

ہمیں دیکھ کر وہ ہمارے پاس آئے۔ ان سے تھوڑی سی بات چیت ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ سنا ہے اس گاؤں میں بہت لڑائیاں ہوتی ہیں۔ اس پر انہوں نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے تو دو تین سال سے ایسا کوئی واقعہ نہیں دیکھا۔ چبوترے کے سامنے محمد آزاد خان کی چھوٹی سی پرچون کی دکان ہے جس کے برآمدے میں مجھے الماریوں میں ان گنت کتابیں نظر آئیں، جو بڑے قرینے سے رکھی ہوئی تھیں۔ محمد آزاد خان کی زبانی پتہ چلا کہ یہ گاؤں کی لائبریری ہے۔

بیان القرآن کا پورا سیٹ، راج ترنگنی، مشہور شخصیات کی خود نوشت، ناول اور دوسری اسلامی اور تاریخی کتب دیکھ کر حیرت کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ہوئی۔ الماریاں اور ریک تالوں کی پابندیوں سے آزاد ہیں۔ پڑھنے والے خود کتابیں لے جاتے ہیں اور پڑھ کر چھوڑ جاتے ہیں۔ اتنے دور دراز علاقے میں کتابیں سب کی دسترس میں ہونے کے باوجود چوری نہیں ہوتیں، جو کمال کی بات ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس لائبریری کی شہرت سن کر سٹیشن کمانڈر منگلا نے لائبریری میں مزید کتابیں خریدنے کے لیے حال ہی میں ایک خطیر رقم کا عطیہ دیا ہے جس سے درجنوں نئی کتابیں خرید کر انھیں لائبریری کی زینت بنا دیا گیا ہے۔

گاؤں کے رہائشی چند خواتین و حضرات سے ملاقات ہوئی۔ تو پتہ چلا کہ جب سے انہوں نے گاؤں کو ایک مثالی معاشرے میں تبدیل کرنے کا عزم کیا ہے، گاؤں میں کوئی لڑائی جھگڑا یا دنگا فساد نہیں ہوا۔ سب لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ خواتین کی صحیح معنوں میں عزت کرتے اور بچوں سے شفقت سے پیش آتے ہیں۔ آپس کے اختلافات کو مل بیٹھ کر باہمی رضامندی سے حل کر لیتے ہیں۔ ہر ماہ کی پہلی اتوار کو گاؤں کے افراد کی مشترکہ میٹنگ گاؤں سے باہر بنے ہوئے چبوترے پر ہوتی ہے۔ پورے مہینے کا جائزہ لیتے ہیں اور اختلافی باتوں پر بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں۔ گاؤں کی خواتین کی دعوت کا ذکر پہلے میں چکا ہوں۔

عموماً مثالی گاؤں کا تصور، جو فوری ذہن میں آتا ہے، وہ یہ ہے کہ گاؤں کی رابطہ سڑکیں پختہ ہوں، گلیاں پکی ہوں، گھر گھر صاف پانی کی فراہمی کا انتظام ہو، سب گھروں کے لیے سیوریج کا بندوبست ہو، بجلی کی بلا تعطل فراہمی ہو، گاؤں کی صفائی ہو۔ لیکن پچوانہ نام کے اس مثالی گاؤں میں ان باتوں پر سردست بہت کم دھیان دیا گیا ہے۔ ان کا گاؤں کو مثالی بنانے کا مقصد اس سے کہیں مختلف اور اعلی ہے۔ وہ ایک ایسا مثالی معاشرہ قائم کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

جہاں سب لوگ ہم آہنگی سے رنگ، نسل اور برادری کو بالائے طاق رکھ کر، مل جل کر رہیں، ایک دوسرے کی عزت کریں اور خیال رکھیں۔ عورتوں کو حقیر نہ سمجھیں، ان کے حقوق پورے کریں اور ان کی دل سے عزت کریں۔ بیٹیوں کو جائیداد میں سے ان کا حصہ دیں۔ اپنے اختلافات مل بیٹھ کر باہمی رضامندی سے طے کر لیں۔ فضول رسم و رواج کو ترک کر دیں۔ بچوں پر شفقت کریں۔ ان کے لیے اسلامی اور دنیاوی تعلیم کا بندوبست کرنے کے علاوہ ان کو اچھائی کی طرف مائل کریں، انسانیت کا ادب و احترام کرنے کی تربیت دیں اور اس کے لئے خود ان کے سامنے رول ماڈل بنیں۔ بنیادی سوچ کو مثبت انداز میں تبدیل کرنا ایک انتہائی مشکل اور محنت طلب کام ہے جس میں بہت عرصہ لگتا ہے۔ پچوانہ گاؤں کو جنت بنانے کا پہلا قدم اٹھا لیا گیا ہے اور وہ اس راستے پر چل نکلے ہیں۔

ان کا یہ سفر انتہائی کٹھن اور مشکل ہے اور سست رفتار بھی۔ اس سفر میں جلدی کرنے سے وہ بھٹک بھی سکتے ہیں۔ اس سفر میں انھیں روایتی برادری سسٹم اور پرانی فرسودہ رسومات کو ختم کرنے میں بہت سی دشواریاں اور مشکلات پیش آئیں گی۔ جنہوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے ہم ان کے لئے دعاگو ہیں کہ وہ اس مشکل کام کو لے کر اپنا سفر جاری رکھیں۔ اس گاؤں کے مثالی معاشرے کو دیکھ اہل پچوانہ کی تقلید میں علاقہ کے دوسرے لوگ بھی، مثبت تبدیلی کے لئے آگے آئیں گے۔ ظاہری طور پر گاؤں کو مثالی بنانا تو بہت آسان ہے لیکن ایک مثالی معاشرہ قائم کرنے کے لیے اندرونی اور نظریاتی تبدیلی لانا بہت ہی مشکل کام ہے۔ ہم اس کام کے لئے اہل پچوانہ کے عزم، حوصلے اور ہمت کو داد دیتے ہیں اور ان کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔

یہ کتاب انجمن ترقی اردو برطانیہ نے شائع کی ہے۔ چونکہ اس کا موضوع عالمی امن ہے اس لئے اس کا ترجمہ دیگر زبانوں میں بالعموم اور انگریزی میں ہونا بالخصوص ضروری ہے۔ حکومت اور ریاست کے لیے ایسے معاشرے کا قیام ایک بڑا پیغام ہے وہ اس میں اپنا حصے کا کردار ادا کر کے ریاست بھر میں امن کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS