بنی نوع انسان میں کیا خاص بات ہے؟


” ہم سب“ فیملی کی خدمت میں اردو کتاب : ’مذہب سائنس اور نفسیات‘ کی پانچویں قسط حاضر خدمت ہے۔ یہ کتاب دو سائنسدانوں کے درمیان مذہب، سائنس اور نفسیات جیسے موضوعات پر ایک مر مغز اور دلچسپ مکالمے پر مبنی ہے۔ انگریزی کتاب گزشتہ برس شمالی امریکہ میں چھپی تھی اور ایمازان پر موجود ہے۔ راقم نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ گزشتہ برس کیا جو کینیڈا میں چھپ چکا ہے۔ دوسرا (اردو ) ایڈیشن پاکستان میں اس ماہ شائع ہوا ہے۔ پانچویں قسط کا موضوع جہاں نازک ہے وہاں کسی قدر سنجیدہ بھی ہے جو انسانی سوچ کو ایک نیا زاویہ دیتا ہے۔

خالد سہیل : میرے گزشتہ سوال کے جواب میں آپ نے انسان کی جسمانی و ذہنی معذوریوں اور حدود کا ذکر بہت فصاحت سے کیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر انسان کائنات کی تخلیق اور مقصد تخلیق کا محور و مرکز کیسے ہے؟

سہیل زبیری : زمانہ قدیم بلکہ زمانہ قبل از تاریخ سے ہی انسان اپنے آپ کو اعلٰی درجے کی مخلوق سمجھتا آیا ہے۔ انسانوں نے اس دنیا بلکہ اس پوری کائنات میں ہمیشہ سے نہ صرف اپنے آپ کو بر تر سمجھا بلکہ ایک اعلیٰ درجے پر فائز رکھا ہے۔ حتٰی کہ انسان اس زعم میں بھی گرفتار ہے کہ یہ کائنات اس کے کھیل تماشے کے لئے بنائی گئی ہے۔ باوجودیکہ انسان کا ٹھکانہ ایک معمولی سے سیارے پر ہے جو نظام شمسی کے اندر ایک عام سے ستارے، سورج کے گرد گھوم رہا ہے۔

سورج اپنی کہکشاں میں غیر اہم فاصلے پر موجود ہے۔ ہماری یہ کہکشاں کھربوں نوری سال طویل ہے۔ (کہکشاں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جانے کے لئے ایک کھرب نوری سال درکار ہوں گے ) ۔ اگر ایک بڑے صحرا میں موجود ذروں کو اجسام شمسی تصور کر لیا جائے تو ہمارے نظام شمسی کی حیثیت کسی دور دراز جزیرے پر موجود کسی ریت کے ذرے سے بھی کم ہے۔

پھر یہ بھی سچ ہے کہ زندگی متفرق انداز میں اس کرہ ارض پر موجود ہے۔ اس کی لاکھوں اقسام ہیں۔ چرند پرند، جنگلی جانور، ممالیہ و غیر ممالیہ، لاکھوں اقسام میں موجود ہیں۔ جن کی ضروریات انسانوں والی ہیں۔ مثلاً کھانا، پینا، سونا، بچے پیدا کرنا۔ محبت، خوف اور کیف و سرور جیسے لطیف جذبات رکھنا۔ اور سب سے بڑھ کر اپنی بقاء کا جبلی جذبہ اپنے اندر رکھنا۔ پھر یہ بات تعجب انگیز ہے کہ انسان اس ساری اسکیم میں اتنا حقیر مقام ہونے کے باوجود اپنے آپ کو اشرف المخلوقات سمجھے ہوئے ہے۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ انسان زمین پر سیدھا کھڑا ہو سکتا ہے اور اس کے دونوں ہاتھ کام کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایک سوچنے والا دماغ رکھتا ہے۔ باشعور ہونے کی وجہ سے انسانوں نے زبانوں کو فروغ دیا۔ جس سے ابلاغ بڑھا، باہم روابط کو فروغ ملا اور مختلف علوم کے حصول میں مدد ملی۔ با شعور ہونے کی وجہ سے ہی انسان نے اپنے رہنے سہنے کے ماحول میں جدت پیدا کی۔ یہ کام دیگر مخلوق کے لئے ممکن نہیں ہے۔

علاوہ ازیں، انسان نے اپنے کھڑے آسن، آزاد ہاتھوں اور سوچنے سمجھنے کی اہلیت کی وجہ سے لکھنا، تعمیر کرنا اور کھانا پکانا سیکھا یہ صلاحیت بھی باقی جانداروں میں موجود نہیں ہے۔ مگر وہ ’سوال‘ اپنی جگہ اسی طرح قائم ہے : کیا انسان باقی جانداروں سے بنیادی طور پر معتبر ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا کائنات میں بھی اس کا کوئی منفرد مقام ہے؟

اگر اس سوال کا جواب دیانتداری سے دیا جائے تو اس مفروضے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں کہ بنی نوع انسان کا مقام یا رتبہ زمین پر یا کائنات میں کسی طور بھی افضل ہے۔

میری اس بات سے میرے بہت سے قارئین کو صدمہ پہنچے گا کہ میرے پاس اس دعویٰ کے حق میں کافی ثبوت موجود ہیں۔ اور پہلا ثبوت تاریخ قدیم ہے۔ انسانی تہذیب کی تاریخ صرف دس ہزار سال پرانی ہے جبکہ زمین کی عمر ساڑھے چار ارب سال ہے۔ اب ذرا سوچیے ہمارے وہ آبا و اجداد جو آج سے ایک لاکھ سال پہلے پیدا ہوئے تھے۔ کیا ان میں اور باقی (تھن دار جانور یا ) ممالیہ جانوروں میں کوئی فرق تھا؟ وہ کسی زبان، زرعی ٹیکنالوجی، مذہب یا سماجی ڈھانچے سے واقف نہ تھے۔ وہ لوگ صرف اپنی جبلت کے تحت زندگی گزارتے تھے۔ وہ اگر کسی چیز سے واقف تھے تو وہ صرف جذبہ بقاء تھا۔ یہ تصور محال ہے کہ ہمارے ایک لاکھ سال پرانے اجداد اپنے آپ کو ساتھی جانداروں سے بہتر گردانتے ہوں گے ۔

ایسا لگتا ہے کہ انسانی عظمت کا خناس آج سے سات سے دس ہزار سال قبل کہیں پیدا ہوا۔ سب سے بڑی تبدیلی زبانوں کا فروغ تھا جس سے ایک دوسرے سے روابط بڑھے۔ شاید یہ وہی وقت ہو گا جب انسان نے مل جل کر اور گروہ بندی سے ایسے ایسے کار ہائے نمایاں انجام دیے جو انفرادی طور پر ناممکن تھے۔ معلومات کے تبادلے کی مہارت، وہ وصف تھا جس نے انسان کو باقی جانداروں کے مقابلے میں زیادہ سود مند بنا دیا۔

اپنے فطری شعور کی وجہ سے انسان نے دیگر جانداروں کو اپنے قابو میں لا کر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ وہ گھوڑے کو سفر کے لئے، مرغی اور گائے جیسے جانداروں کو غذا کے لئے، جبکہ بھیڑ کی کھال کو اپنے آرام کے لئے استعمال کرنے لگا۔ دوسرے انسانوں سے روابط بڑھے تو انسان ایک دوسرے سے زراعت کے طریقے، تعمیرات کے ہنر اور شکار کے اوزار کے بارے میں معلومات لینے لگے۔

یہ بات سمجھنے میں شاید انسانوں کو ہزاروں سال لگ گئے ہوں گے کہ بچہ مرد اور عورت کے درمیان مباشرت کے عمل کے نو ماہ بعد پیدا ہوتا ہے۔ یہ شعور بیدار ہونے کے بعد مردوں میں یہ احساس ذمہ داری پیدا ہوا ہو گا کہ بچے کی پرورش میں اس کو بھی ہاتھ بٹانا چاہیے۔ ایک سماجی ذمہ داری کے طور پر نہیں بلکہ بچے کو دنیا میں لانے میں ساتھی کے طور پر۔ اسی بات سے مردوں کو ایک خاندانی ڈھانچہ بنانے کا خیال آیا ہو گا۔ جہاں مرد کا کام کوئی ٹھکانہ بنانا اور باہر جا کر رزق کا بندوبست کرنا جبکہ عورت کا کام گھر میں بچوں کی دیکھ بھال کرنا ٹھہرا ہو گا۔ ایک اور وجہ جس نے انسانوں کو مل جل کر خاندانی نظام بنانے کی ترغیب دی یہ تھی کہ باقی جانداروں کے مقابلے میں انسانی نومولود قدرے کمزور اور نازک ہوتا ہے۔ اور کم ازکم چار، پانچ سال کی عمر تک اپنی پرورش خود نہیں کر سکتا۔ لہٰذا مل کر بچہ پالنے کی جد و جہد بھی خاندان میں رہنے کا باعث بنی ہوگی۔

خاندان تو بنتے گئے مگر اس طرح جو معاشرہ وجود میں آیا وہ ایک قبائلی معاشرہ تھا۔ یوں لگتا ہے کہ خاندان کا سب سے طاقتور شخص اس کا سربراہ بنا ہو گا اور بہت سے خاندانوں نے مل کر ایک قبیلہ تشکیل دیا ہو گا اور پھر قبیلے نے سب سے بڑے اور طاقتور شخص کو اپنا سربراہ مقرر کر دیا ہو گا۔ جس کی کوشش ہوگی کہ اس کا قبیلہ طاقتور بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ ذرائع رزق بھی اس کے قبضے میں ہوں۔ تبادلہ خیالات کی وجہ سے انسانوں نے ضابطہ اخلاق اور نظام عدل پر مبنی معاشرے کے قیام کا ضرور سوچا ہو گا جو کہ پر امن بقائے باہمی کے لئے نا گزیر تھا۔

عین ممکن ہے یہیں سے انسان نے ایک عظیم اور طاقتور ہستی کی ضرورت محسوس کی ہو جو ان کے دنیا میں آنے کا مقصد بیان کر سکے۔ یہ وہ وقت ہو گا جب انسان نے باقی جانداروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو بر تر تصور کیا ہو گا۔ کیونکہ انسان کے نزدیک وہ خدا کی منشا پوری کرنے کے لئے پیدا ہوا ہے۔ جب کہ دیگر جاندار اپنی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے زندہ تھے۔

ان مباحث کا سلسلہ دراز ہے کیونکہ یہ انسانی ارتقاء کی کہانی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ارتقائی مراحل طے کرتے کرتے ہم آج کے دور میں نہایت جدید و نفیس مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ ہم اقوام کی صورت میں منظم ہو چکے ہیں۔ ہمارے مذاہب کا بھی ارتقاء ہوا ہے۔ ہم نے فطرت پر کمندیں ڈالنی شروع کر دی ہیں اور وہ قوانین فطرت جو کائنات کا نظام چلا رہے ہیں، ہم ان کو بھی سمجھنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ مگر کیا یہ سب کچھ ہمارے اس دعوٰے کو برقرار رکھنے کے لئے کافی ہے کہ ہم لامتناہی کائنات کا محور و مرکز اور سب سے اہم مخلوق ہیں؟ وہ کائنات جس کے بارے میں ہم زیادہ جانتے بھی نہیں؟

ایک جدید سوچ یہ بھی ہے کہ ایک حوالے سے انسان اشرف المخلوقات کہلوا سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم سوچ سکتے ہیں اور فیصلہ کر سکتے ہیں اور اپنے مقدر کے خود سکندر ہیں۔ مگر انسانی عظمت کا دعویٰ کرنے کے لئے کیا یہ ہی کافی ہے؟ یہ تو ارتقائی عمل کا حصہ ہے۔ آج سے ایک لاکھ سال قبل، ہمارے اجداد بھی سوچ سکتے تھے فیصلے کر سکتے تھے اور فیصلہ بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ اور یہ صلاحیت کسی حد تک باقی جانداروں میں بھی ہے۔

بالفرض ہمیں کبھی چیونٹیوں کا کوئی ایسا قبیلہ نظر آ جائے، جنھوں نے اپنی زبان کی ترویج کر لی ہو اور جو آپس میں بہتر طریقے سے معلومات کا تبادلہ کر سکتے ہوں تو کیا ہم ان کو انسانوں کا ہم پلہ تصور کر لیں گے؟ اس بات کو اس طرح بھی واضح کیا جا سکتا ہے : اگر انسانی بچہ پیدا ہوتے ہی جانوروں کے بیچ چھوڑ دیا جائے تو کیا وہ اپنی اندر مہذب انسانی صفات پیدا کر لے گا؟

انسانی عظمت کے نظریے کے کچھ اور مسائل بھی ہیں۔ کیونکہ یہ انسانوں کے اندر تفریق کا باعث بھی ہے۔ بہت سے افراد، عام لوگوں کے مقابلے میں بہتر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اور زیادہ آزاد فیصلے کر سکتے ہیں۔ میرے نزدیک حقیقت یہی ہے کہ انسان کا احساس برتری ایک خوش فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہمارا مقام۔ کیا ہمارا زمین کے دیگر جانداروں میں کوئی مقام ہے؟ اس سے آگے، کائنات میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟

ہم تو ابھی تک عالم کائنات کو نہیں سمجھ سکے۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ کیا ہماری یہی ایک ہی کائنات ہے یا اس کے علاوہ اور کائناتیں بھی ہیں؟ ہم ان دیکھے اور غیر محسوس مادے کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتے جو ساری کائنات کے نوے فی صد حصے پر مشتمل ہے۔ پھر جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے ہم ابھی تک اس قابل نہیں ہوئے کہ اپنے نظام شمسی سے پرے کے بارے میں کچھ جان سکیں۔ اور ہمارا نظام شمسی اس وسیع کائنات میں ایک ننھا سا ذرہ ہی تو ہے۔

یہ جانتے ہوئے بھی انسان کا اپنے آپ کو برتر اور کائنات کا مرکز سمجھنا مضحکہ خیز ہے۔ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ کیا زندگی صرف کرہ ارض پر ہی ہے؟ ہم زندگی کو اپنے آپ اور اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق ہی سمجھتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ کائنات میں کچھ الگ قسم کی زندگی بھی ہو جن کی ضروریات ہم سے یکسر مختلف ہوں؟

اپنے لئے مرکزی اور عظیم مقام کا دعویٰ کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ قدیم یونانی کرتے تھے۔ کہ زمین کائنات کا مرکز ہے اور ہر شے اس کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔ ہم انسان اس وقت بھی کتنے غلط تھے اور ممکن ہے کہ آج بھی اتنے ہی غلط ہوں۔

( ”مذہب سائنس اور نفسیات“ منگوانے کے لئے آواز بپلیکیشنز مری روڈ۔ راولپنڈی سے اس نمبر ( 0300 5211201 ) پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ )

A man stood watching the starry sky.
Facebook Comments HS