سیاست سے انارکی کی طرف الٹی قلابازی

آخر ایسا کیا ہوا کہ سیاست اس خونی مقام تک آن پہنچی۔ کیا سبب ہے کہ پی ٹی آئی ذہن اپنے ہر حریف کو الیکشن میں ہرانے اور اقتدار سے باہر دیکھنے سے کہیں زیادہ اس کے خون کا پیاسا ہو چلا۔ یہ خون آشامی تو عدیم المثال ہے۔ اب یہاں سیاست نہیں ہو رہی باقاعدہ جنگ ہو رہی ہے۔
لمحہ موجود کی دیوار کی آڑ سے ایڑیاں اٹھا کر جہاں تک مستقبل میں جھانکا جا سکتا ہے وہاں تک پاکستان میں اب نہ سیاست ہوتی نظر آتی ہے اور نہ الیکشن۔ اب یہاں اقتدار کے لیے انتخاب نہیں جنگ ہوگی اور جس کے پاس بہتر وسائل کے ماخذ ہوں گے اور طاقت کا توازن جس کے حق میں ہو گا اقتدار اس کے ہاتھ رہے گا۔ نوبت واضح طور پر بلا کسی مبالغہ آرائی اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ اب راج پاٹ کے فیصلے بزور ”تلوار“ ہوں گے۔ با الفاظ دیگر ریاست اس منزل پر اس وقت پہنچتی ہے جب معاشرے کے ”غیر سیاسیانے“ کا عمل اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ لیکن جب انتہا ہے تو کوئی ابتدا بھی ہوگی اور کوئی درمیان۔
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ معاشرے کو غیر سیاسی کرنے کے عمل کا آغاز مرد مومن مرد حق ضیا الحق سے ہوا تھا۔ اس دور میں طلبہ، مزدوروں، کسانوں کی تنظیموں پر پابندی سے جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ آج اپنے منطقی انجام کو پہنچا رہا ہے۔ لہٰذا جو بھی کچھ ہے اسی ”محبت“ کا پھیلاؤ ہے۔
کسی بھی ریاست کا سیاسی نظام ہوا میں معلق نہیں ہوتا۔ اس کے پائے بھی ہوتے ہیں اور ستون اور بنیادیں بھی۔ دنیا بھر میں جہاں بھی سیاسی نظاموں کا خود رو ارتقا ہوا ہے وہ صناعوں، کسانوں، آڑھتیوں، لوہاروں، بڑھئیوں، بینکروں، دکانداروں، تاجروں، جہاز رانوں، ملاحوں، وکیلوں، کی اپنے پیشوں کے اعتبار سے منظم گلڈز اور تنظیموں سے ہوا ہے۔ ایوب کے آخری سال اور زیڈ اے بھٹو کے ابتدائی برسوں میں ہمارے ہاں بھی ایسی تنظیموں کا وجود رہا۔
ظاہر ہے کہ یہ وجود ہمیں غیر منقسم ہندوستان سے ورثے میں نصیب ہوا تھا۔ لیکن پھر بھٹو نے صنعت پر کلہاڑا چلا دیا۔ سائڈ ایفیکٹ یہ ہوا کہ صنعتیں قومیائے جانے اور بیشتر کے بند ہو جانے کے باعث مزدور یونینوں کے پسارنے کو وہ شاخ ہی نہ رہی جس پر آشیانہ تھا۔ پھر ضیا الحق نے آ کر جملہ ہائے تنظیم سازی پر ہی بلڈوزر پھیر دیا۔ اس طرح ملوں اور فیکٹریوں کے ساتھ سیاسی و جمہوری سوچ اور سیاسی رویوں کی فیکٹریاں بند ہو گئیں۔ سیاسی نظام کے ستون بھی ٹوٹ گئے اور پائے بھی بکھر گئے۔ بنیادوں کے کھنڈرات کے نشان بس باقی ہیں۔
جیسے ”جانے والے ترے قدموں کے نشان باقی ہیں۔“
دیکھا جائے تو اس عام یادداشت کے برعکس جو ضیا کو مورد الزام ٹھہراتی ہے سچ تو یہ ہے کہ جہاں ایک طرف بھٹو نے ریاست کو جمہوری آئین دیا وہاں سوسائٹی کو ڈی پولیٹیسائز کرنے کا عمل بھی بھٹو نے شروع کیا اور پھر رہی سہی کسر ضیا کے غیر سیاسی و غیر جماعتی اور برادری کی بنیاد پر انتخابات نے پوری کر دی۔ انیس سو پچاسی میں سیاسی عمل کا انجن بند ہو گیا تھا اور جیسا کہ آپ ٹرین کا انجن بند بھی کر دیں تو پچاس میل تک تو وہ اسی رفتار کے بہاؤ پر چلتی رہتی ہے اور پھر بتدریج آہستہ ہوتے ہوتے رک جاتی ہے بالکل اسی طرح سنہ پچاسی میں سیاسی عمل کا جو انجن بند ہوا تھا وہ بالآخر اب سنہ تئیس میں آ کر رک گیا ہے۔ اس غیر سیاسیانے کے صلے میں ایک ایسی قوم پیدا ہوئی جسے قوم یوتھ کہا جاتا ہے جس کا نہ دماغ ہے اور نہ سوچ۔ یہ زومبیز کی فوج ہے اور بس۔
بعد میں آنے والی پیپلز پارٹی کی دونوں حکومتوں نے اس سیاسی ڈیلیشن کے عمل کو نظر انداز کر کے اندر ہی اندر مرتے سیاست کے خلیوں کی بحالی پر توجہ نہ دی۔ نون لیگ اس دور میں تو کیا آج بھی اتنی میچور نہیں ہوئی کہ وہ سیاست کی سائنس کی ابجد کو بھی سمجھ سکے لہذا اس سے تو توقع کبھی تھی ہی نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ معاشرے کا عمومی ذہن ایک بار پھر اسی عہد میں پہنچ گیا جب سیاست معاشرے میں سانس نہیں لیا کرتی تھی بلکہ ریاست یا محلوں میں بستی تھی۔
سماج میں انارکی اور مارا ماری ہوتی ہے یا سیاست اور رولز۔ سماجی ارتقا میں ”انارکی سے سیاست تک“ کا سفر ”وحشی پن سے تہذیب تک“ کے سفر کا ہم معنی ہے۔ جتنا اور جس حد تک معاشرہ غیر سیاسی ہوتا جائے گا اتنا اور اس حد تک وحشی پن کے سمندر کا کھارا پن آگے بڑھ کر معاشرے کی زرخیز زمین کو بنجر کرتا جائے گا۔
ہمارے ہاں سیاست ختم کی گئی اسی لیے انارکی لوٹ آئی، عدم برداشت، وحشت، خون کی پیاس اور مخالف کو تہہ تیغ کرنے کی ذہنیت پلٹ آئی۔ اور اس کا بدترین مظاہرہ سب سے زیادہ ہم اس طبقے میں دیکھ رہے ہیں جو چار دہائیوں پر محیط عرصے میں سیاسی اقدار سے بے بہرہ رہا سوائے یہ دہراتے رہنے کے کہ سیاستدان چور ڈاکو لٹیرے ہیں۔ یہی طبقہ اب پی ٹی آئی کا ہمنوا ہے کیوں کہ اسے عمران نیازی کے مار دو لٹکا دو پھانسی دے دو گولی مار دو، بندوق کی ”شست“ پر رکھ لو کے بیانیے میں اپنے غیر سیاسی انارکسٹ بیانیے کا عکس دکھائی دیتا ہے۔
جو کچھ بھی ہو لیکن اب تو ہو چکا۔ اور حتمی فیصلہ شاید اب جمہوریت سے نہیں طاقت سے ہونا ہے تلوار سے ہونا ہے اور ایسے معرکوں میں ایک لشکر کے سردار کا سر تو جاتا ہی ہے سو وہ جائے گا۔

