پطرس بخاری کا کیمبرج سے ایک خط (حصہ اول)


یہ مضمون در اصل پطرس بخاری کا ایک خط ہے جو انھوں نے اپنے زمانہ طالبعلمی میں، کیمبرج میں اعلی تعلیم (1925, 1926) کے حصول کے دوران اپنے دوست امتیاز علی تاج کو لکھا۔ یہ خط 1927ء میں نیرنگِ خیال میگزین کے سالنامہ میں شائع ہوا اور پھر تاریخ کے اوراق میں گم ہو گیا۔ راقم کی نظر اس میگزین کے ایک عکسی نسخے پر پڑی تو اس کی چھانٹی کے دوران یہ نگینہ ملا۔ سوچا کہ اسے "ہم سب” پر اشاعت کے لیے بھیج دیا جائے تا کہ دوبارہ عوام کے نظروں میں آ سکے اور پطرس کے چاہنے والے یا محقق حضرات ایک بار پھر ان کی شگفتہ تحریر اور بے بدل بذلہ سنجی سے لطف اندوز ہو سکیں اور پطرس کی شخصیت کو سمجھ سکیں۔ اس کے علاوہ یہ خط ہمارے سامنے اس زمانے کے کیمبرج اور اس کے تعلیمی، سماجی اور معاشرتی احوال کی ایک نایاب تصویر پیش کرتا ہے۔

٭٭٭               ٭٭٭

امتیاز بھائی، غالباً میں نے تمہیں آخری خط لندن سے لکھا تھا، بجز اس ایک کاروباری خط کے، جو کیمبرج سے اس کے بعد بھیجا۔ اس وقت دل کی کیفیت یہ تھی، کہ انگلستان میں نو وارد تھا، ہر ایک چیز کو بظاہر متانت سے دیکھتا تھا، لیکن اندر ہی اندر گنواروں کی مانند متحیر اور بدحواس سا ہوتا تھا۔ چھوٹی چھوٹی باتیں مرعوب کیے دیتی تھیں اور بسا اوقات انگریزوں کی اور خصوصاً کیمبرج کی روزمرہ سمجھ میں نہ آتی تھی۔ سیکھنے کا بے حد مشتاق تھا لیکن کوئی سکھانے والا نہ ملتا تھا سوائے ان چند ہندوستانیوں کے، جو پرانے واقف تھے اور جن کو انگلستان میں مقیم ہوئے کچھ عرصہ گزر چکا تھا۔ لیکن ان کے رویے میں ایک تصنع، ایک رعونت، ایک سطحی پن، ایک کھوکھلاہٹ پائی جاتی تھی جس سے میں کوسوں بھاگتا تھا۔

اب یہ حالت ہے کہ کیمبرج کے علمی، ادبی، معاشرتی مشاغل میں منہمک ہوں اور جس سہولت اور سلیقے سے میں نے یہاں کی زندگی اختیار کرلی ہے اس پر میں خود حیران ہوں۔ ہندوستانیوں سے رفتہ رفتہ قطع تعلق ہو رہا ہے، یہاں تک کہ آج کسی ہندوستانی سے بات کیے پندرہواں دن ہے۔ انگریز دوستوں کا حلقہ روزبروز وسیع ہو رہا ہے اور گزر اوقات کا ایک خاص ڈھنگ بنتا چلا جا رہا ہے، دل و دماغ نے اپنے لئے ایک معیار اختیار کر لیا ہے، اور ہر سرگرمی اس معیار پر پورا اترنے کے لیے وقف ہے۔

جب میں کیمبرج میں پہنچا تو تمام کالج بند تھے، بازار بے رونق، ہر طرف خاموشی سی چھائی تھی۔ اس عرصہ میں، میں نے چھوٹی چھوٹی ضروریات بہم پہنچا لیں اور کیمبرج کے گردونواح سے خوب اچھی طرح واقف ہو گیا۔ جب کالج کھلے تو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے دائیں بائیں ادھر ادھر ہر طرف یکلخت ہزاروں دروازے کھل گئے جن میں سے ہجوم کے ہجوم کالے کالے گاون پہنے تمام شہر پر چھا گئے۔ نو وارد، نئے نئے گاؤن، سہما ہوا چہرہ، پرانے گھاگھس گاؤن، کالے چیتھڑے، چال میں بے پروائی، چہرے پر ایک تیقن، اساتذہ دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنی دھن میں چلے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹی نے سانس کیا لیا، ایک چھینک ماری جس سے کیمبرج بھر میں ایک زلزلہ آ گیا جیسے کسی گھڑی ساز کی دکان میں سب گھڑیاں یکلخت چلنے لگ جائیں۔ اس بھونچال میں، میں بھی ایک طرف کو دھیمے دھیمے چلا جا رہا تھا۔ سینے میں ایک عجیب قسم کی دھڑکن تھی، اور دل پر ایک اداسی چھائی ہوئی تھی، یا الہی اب کیا ہو گا۔ یہ تو دنیا ہی نرالی ہے اور میں بے یار و مددگار، نہ ہم سخن، نہ ہم خیال، گھر سے کوسوں دور، بجز اپنے دل کی تقویت کے کوئی سہارا نہیں۔ ہفتے کے ہفتے گھر سے خط آتا تو اپنی تنہائی کو اور بھی زیادہ محسوس کرنے لگ جاتا۔ جب لیکچر شروع ہوئے تو اس مایوسی نے کشمکش کی صورت اختیار کر لی۔ وہ یوں کے بعض لکچروں میں تو قوا میں ایک حرکت اور خیالات میں پرواز محسوس ہونے لگی اور بعض لیکچروں میں یہ حالت تھی کہ نوٹ بک کھولے بیٹھا ہوں، پنسل ہاتھ میں ہے، آنکھیں لیکچرار کے چہرے پر جمی ہوئی ہیں، ماتھے پر تیوری ہے، ہمہ تن گوش ہوں، ایک ایک لفظ غور سے سن رہا ہوں، اور ہر فقرے کو دل میں دہراتا ہوں، لیکن وقت گزرتا جاتا ہے اور دماغ کسی چیز پر قابو نہیں پاتا، کچھ لکھنے لگتا ہوں لیکن نہیں لکھ سکتا، خیالات میں ایک گونج سی ہے جس میں کچھ معنی نہیں ڈال سکتا۔ ایسے لیکچر کے خاتمہ پر مجھ سا دل شکستہ، دل گیر انسان کیمبرج میں نا ہوتا ہو گا۔ اپنی کم مائیگی پر بے انتہا نادم، زندگی کے جو سال ہندوستان میں ضائع کیے ان کا بے حد افسوس، دل میں غضبناک، نئے ارادے، نخوت علم کو شدید صدمہ، غصہ اور رنج، ولولہ اور امنگ، سر جھکا ہوا ایک نیم مردہ، مایوس انسان آہستہ آہستہ قدم اٹھائے لائبریری کی طرف جا رہا ہے۔ یہ وہ انسان ہے جو ہندوستان جنت نشان میں انگریزی کا ماہر، ننھی عمر میں لامحدود قابلیتوں کا مالک سمجھا جاتا تھا۔ اے میرے بچپن کے رفیق، اے مایہ ناز ہمعصر، سب مایا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ایک تپسوی کی زندگی بسر کرنے کا ارادہ کر لیا اور اپنے آپ کو یونیورسٹی لائبریری کے ایک کونہ میں گم کر دیا۔ اس فقرے کے صحیح معنی جب تمہاری سمجھ آئیں گے جب تمہیں معلوم ہو گا کہ، لندن کے عجائب خانے کی لائبریری کی طرح، یہاں کی لائبریری بھی، ولایت میں جو کتاب چھپے، اس کی ایک کاپی کی حقدار ہے۔ اس کتب خانے میں یوں ہاتھ پاؤں مارے، جیسے مثلاً تم رود بار انگلستان کو تیر کر عبور کرنے کی کوشش کرو، غرض یہ کہ ایک بخار چڑھا ہوا تھا، ایک دیوانگی سی طاری تھی، چاہتا تھا کہ چاسر سے لے کر ٹامس ہارڈی تک شعر و سخن کی تمام دنیا پر ایک بجلی سی چمکے اور یہ روشن تصویر پوری کی پوری ایک لمحے کے اندر میرے دل پر نقش ہو جائے، لیکن یہ کیوں کر ممکن تھا۔ چنانچہ دیوانگی نے ایک خطرناک صورت اختیار کرلی، کیمبرج کے طوفان نے میرے قدم کہیں بھی نہ جمنے دیے اور علوم و فنون کے اس سمندر میں غوطے کھانے لگا۔ اس کے بعد مجھے کیا پیش آیا اس کے متعلق، یہاں کے طریقہؑ تعلیم کے متعلق ذرا تفصیل سے لکھنا پڑے گا۔

بعض کالجوں میں انگریزی کے دو تین لیکچرار ہیں اور بعض لیکچرار ایک سے زیادہ موضوع پر لیکچر دیتے ہیں، اس طرح انگریزی لٹریچر پر یونیورسٹی بھر میں ایک ہفتے کے اندر تیس پینتیس لکچر ہوتے ہیں۔ کالج میں ایک لیکچرر انگریزی کا انچارج ہوتا ہے جس کو ڈائریکٹر یا اوورسیر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

ٹرم کے شروع میں باری باری، ہر طالب علم اپنے کالج کے اوورسیر کے پاس جاتا ہے۔ ہماری باری بھی آئی، گاؤن پہنے ہوئے شام کے ساڑھے چھ بجے اوورسیر کے کمرے کے پاس سہمے ہوئے پہنچے، ڈرتے ڈرتے دروازے پر دستک دی۔ ایک نہایت نرم آواز نے (کم ان) کہا۔ اندر داخل ہوئے تو اپنے آپ کو کتابوں کی الماریوں میں گھرا ہوا پایا۔ ایک صوفے پر مسٹر بینیٹ دراز تھے۔ مسٹر بینیٹ، شیکسپیئر اور چاسر کے ماہر ہیں اور چاسر کے زمانہ پر ایک قابل قدر تصنیف کے مالک ہیں۔ معمولی اخلاق کے بعد انہوں نے نہایت ہمدردانہ سوالات پوچھنے شروع کیے، گفتگو نہایت ہلکی، تبسم آمیز قسم کی اور زیادہ تر ہندوستان، اردو لٹریچر، افغانستان، سوراجیہ پارٹی، عمر خیام، الف لیلہ، پنجاب یونیورسٹی، اقبال، ٹیگور، برنارڈ شا، کپلنگ اور حیدرآباد کے متعلق تھی، اور چونکہ ہم آخر بڑی بڑی مجلسوں سے نکالے گئے ہیں، اس لیے تمہیدی ہچکچاہٹ کے بعد ہم نے بھی دل کھول کر بکنا شروع کیا۔ گو بسا اوقات داستان کو زینت دینے کے لیے حقیقت سے ذرا ذرا انحراف بھی کیا، (محض حب وطن کی خاطر) لیکن عام لہجہ ایک راست گو، حق پرست انسان کا تھا، جو اپنی اور اپنی قوم کی کمزوریوں سے اچھی طرح واقف ہے، جو باوجود قوم انگلیس کے گوناگوں اوصاف سے باخبر ہونے کے۔ انھیں ایشیائی تہذیب کے لیے کچھ مضر ہی سمجھتا ہے، اور جو اب تحصیل علم کی خاطر یہاں کے مشاہیر کے قدموں میں بیٹھنے کو باعث صد فخر و ناز تصور کرتا ہے۔

جناب کچھ مسکرائے، ایشیائی تہذیب اور تاریخ اسلام سے بہت دلچسپی ظاہر کی، میرے انگریزی تلفظ کی بہت تعریف کی اور مجھ سے یوں باتیں کرنے لگے گویا میں الف لیلیٰ کا ایک کیرکٹر ہوں۔ لیکن افسوس، کہ تھوڑی ہی دیر کے بعد گفتگو نے انگریزی لٹریچر کی طرف رجوع کیا، ہم نے اپنے عجز اور کم مائیگی کا اعتراف کیا، اپنی نالائقی کو کوسا، اپنی جہالت کے متعلق ایک بلیغ تقریر کی اور جو کچھ کہا اس مطلب یہ تھا کہ ہمارا علاج کیا ہے؟

جو کچھ انہوں نے جواب میں کہا اس کا مطلب یہ تھا کہ تم بالکل چغد ہو، اگر تم یہ توقع کرتے ہو کہ تمہیں ہر لیکچر سمجھ میں آ جائے تو تم غلطی پر ہو۔ ڈاکٹر لیوس کے لیکچر جن کے متعلق تم شاکی ہو، وہ کیمبرج میں کسی کی سمجھ میں بھی نہیں آتے اور کوئی بھی اس قدر گدھا نہیں ہوتا کہ چاسر سے لے کر ہارڈی تک سب انگریزی لٹریچر کی ایک گولی بنا کر نگل جانا چاہے۔ جو مصنف تمہیں پسند ہیں، جن جن کی تصنیفات تمہارے دل و دماغ میں ایک خوشگوار ہیجان پیدا کرتی ہیں، صرف وہی پڑھو، صرف انہی کے متعلق لیکچروں میں جاؤ، باقی بالکل چھوڑ دو۔ چنانچہ یہ رہی لیکچروں کی فہرست۔ فلاں فلاں لیکچر میں جاؤ، ان کے متعلق اس ہفتے صرف یہ دو کتابیں پڑھو۔ اگلے ہفتے اور اس کے بعد ہر ہفتے مجھ سے اسی وقت ملو، جو دقت تمہیں پیش آئے بلا تامل دن اور رات میں، کسی وقت مجھ سے آ کر بیان کرو، یہ کتابیں مجھ سے مستعار لے جاؤ۔ پرسوں میرے ساتھ آ کر چائے پیو۔ میری بیوی تم سے مل کر بہت خوش ہوگی۔ رہتے کہاں ہو؟ میں کسی وقت تم سے آ کر ملوں گا۔ لندن میں جا کر پروفیسر جونز سے ملو تو بعد میں مجھے آ کر ملاقات کا مفصل حال سنانا۔ کوئی کھیل کھیلتے ہو نہیں؟ کوئی اور شغل؟ ڈرامہ؟ موسیقی؟ خوب، کبھی ہمیں آ کر گانا سنانا۔ تمہارے ڈنر کا وقت قریب آ رہا ہے، میں تم سے مل کر بہت خوش ہوا ہوں اور حیران ہوں کہ تم لوگ ہندوستان میں رہ کر اتنی انگریزی کیسے سیکھ لیتے ہو۔ تمہارے دستانے کہاں ہیں؟ رستہ تو نہیں بھول جاؤ گے؟ میں تمہارے ساتھ چلوں؟ نہیں؟ اچھا خدا حافظ، خوش رہا کرو، اور جب تمہیں کسی قسم کی تکلیف ہو، فوراً میرے پاس آ جایا کرو۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا اور واپسی میں تمام راستے مسکراتا آیا۔

پھر تو ہمارے حوصلے بڑھنے لگے اور جوں جوں دن گزرتے گئے زندگی خوشگوار ہوتی گئی۔ آج اس نے چائے پر بلایا، کل اس نے کافی کی دعوت دی، واقفیت سے دوستی، دوستی سے بے تکلفی کی نوبت آئی اور ایک آدھ حضرت سے محبت دھول دھپے کی حد تک بڑھ گئی۔ لیکن وہ ہندوستان کی صحبتیں کہاں، وہ خوش گفتاری، وہ شعر بازی، وہ پھبتیاں، وہ روٹھنا اور منانا، وقت اپنے گھر کا غلام، موقع اور محل خانہ زاد، وہ ہوٹل کی مجلسیں، وہ دارالاشاعت کے مجمعے، ہائے امتیاز، ایک ہوک سی دل میں اٹھتی ہے۔ پیارے جگل کی خوش فعلیاں، ننھے منشی کی چہلیں، میرے سالک کی مذہبی لن ترانیاں (اللہ دودھوں نہائے، پوتوں پھلے) وہ حفیظ کی ٹھمریاں (اللہ کی امان)۔

خیر ان باتوں کو دو سال کے لیے بھلانا پڑے گا۔ اب تو زندگی کا یہ ڈھنگ ہے کہ کالج کے ہاسٹل میں دو کمرے ملے ہوئے ہیں۔ ایک بیٹھنے کو، ایک سونے کو، باقی جگہوں میں صرف رات کا کھانا اکٹھے کھایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاسٹل میں یہ دستور ہے کہ ہاسٹل کے رہنے والے، جن کی تعداد تیس کے قریب ہے، ناشتہ اور لنچ کامن روم میں اکٹھے کھاتے ہیں اور شام کا کھانا سب کالج کے طلبا اور اساتذہ کے ساتھ کالج کے حال میں ہوتا ہے۔ چائے کا اکثر یہ حال ہے کہ یا میں کہیں مدعو ہوں یا کوئی میرے ہاں آیا ہوا ہے۔

صبح کے وقت ڈریسنگ گاون، پاجامہ، سلیپر اور تولیے غسل خانے سے آتے جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ غسل خانے کے اندر، سب ننگے ہو کر بغیر کسی شرم و حیا کے، ایک دوسرے کے سامنے نہاتے ہیں۔ پھر کامن روم میں حاضری، نو بجے کے بعد سب گاون پہنے ہوئے پیدل اور بائیسکلوں پر بھاگتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ہر بائیسکل کے ہینڈل کے ساتھ ایک ٹوکری لگی ہوتی ہے جس میں کتابیں وغیرہ ڈال لیتے ہیں۔ نو بجے سے ایک بجے تک لیکچروں کے اوقات ہوتے ہیں اس دوران میں کیمبرج کا تمام نظارہ تین عناصر سے مرکب ہوتا ہے۔ ایک گاون، دوسرا، نوٹ بک اور تیسرا جلدی۔ دس بجے ایک لیکچر اس کالج میں ختم ہوا اور دس بجے ہی دوسرا لیکچر دوسرے کالج میں شروع ہونے والا ہے۔ چنانچہ، بسا اوقات بازاروں میں سے بے تحاشا بھاگتے ہوئے جانا پڑتا ہے۔ لیکچرار قسم قسم کے ہیں ایک مسٹر بینیٹ ہیں۔ ادھیڑ عمر، جوانی میں بہت ہی خوبصورت ہوں گے، شیکسپیئر اور زمانۂ وسطی کی لٹریچر پر لیکچر دیتے ہیں۔ اس انہماک، اس جوش، اس فصاحت، اس بلاغت کے ساتھ کہ اکثر کلاس دو دو منٹ تک داد دیتی ہے (جس کا طریقہ یہ ہے کہ فرش پر زور زور سے پاؤں مارتے ہیں)۔

A woman behind the counter of a general store. Cambridge, Cambridgeshire. Circa 1920.

ایک مسٹر ٹل یارڈ ہیں ملٹن فرماتے ہیں اور اس کے علاوہ تاریخ تنقید پر بھی لیکچر دیتے ہیں۔ لیکن جس موضوع پر بولتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے عمر اسی میں صرف کردی۔ ایک مسٹر لوکس ہیں۔ لچھے دار فقرے، اعلی درجے کا تفنن، غضب کی تشبیہیں، لطیفہ گوئی اور بذلہ سنجی ان پر ختم ہے۔ مطلب کی بات بہت کم کہتے ہیں اس لیے گو وہ ٹینیسن پر لیکچر دیتے ہیں لیکن میں نے ان کے مضمون کا ذکر نہیں کیا۔ ایک ڈاکٹر لوئیس ہیں نوجوان لیکن ایک ڈگری کے مالک، دور جدید ان کا خاص مضمون ہے، تمام تنقید کی بنیاد دقیق نفسیات پر رکھتے ہیں۔ بڑے بڑے موجودہ مصنفوں کے بخیے ادھیڑتے ہیں (ان میں بچاری ولکاکس بھی شامل ہے) لیکن اپنے موضوع میں اس قدر ڈوبے ہوتے ہیں کہ ہنسی مذاق کی بات ان کے ہونٹوں پر آتی ہی نہیں۔ جو شخص ان کے لیکچر میں دو فقرے بھی اچھی طرح سمجھ لے، یقینی امر ہے وہ دو تین سال کے بعد انگلستان کے بہترین نقادوں میں شمار ہو گا۔ لیکن ہائے وہ دو فقرے!

میں ان کے پاس بھی ہفتے میں دو دفعہ اپنا جواب مضمون دکھانے جاتا ہوں۔ بچارے میرے ساتھ بہت محبت کرتے ہیں۔ لیکن جس بلندی پر وہ اڑتے ہیں، اور جس زمین پر میں رینگتا ہوں، ان میں فاصلہ اس قدر ہے، کہ میرا ان کے برابر اڑنا شاید کبھی ممکن، لیکن ان کا مجھ تک اترنا قطعی ناممکن۔ لہذا، گو ان سے بہت کچھ سیکھتا ہوں، بہت کچھ، لیکن ہر دفعہ اپنے بے بضاعتی کا از حد تیز احساس اپنے ساتھ لاتا ہوں، جو بہت دیر تک برہم کیے رہتا ہے۔

اور ان سب سے بڑھ کر پروفیسر سر آرتھر کوئلر کوچ۔ ان کے نام سے تو قطعی واقف ہو گے، اگر نہیں تو تمہاری جہالت کی نشانی ہے۔ کیمبرج میں ہر کہ و مہ ان کو ”کیو“ کے نام سے پکارتا ہے۔ نظر کی خرابی کی وجہ سے باہر کم نکلتے ہیں۔ اور باقاعدہ لیکچر بھی نہیں دیتے۔ صرف ہفتے میں ایک بار کلاس لیتے ہیں، بدھ کے دن شام کے ساڑھے آٹھ بجے ان کی کلاس ہوتی ہے، جس میں ہم پچاس ساٹھ آدمیوں کو ارسطو کی پولیٹیکو پڑھاتے ہیں۔ کلاس کا حال سن لو۔ ایک اوسط درجے کا بڑا کمرہ ہے، فرش نہایت عمدہ، بیس پچیس کرسیاں، انگیٹھی میں آگ خوب جل رہی ہے، بیچ میں ایک بڑی میز ہے جس پر پچاس ساٹھ پرچ پیالے پڑے ہیں، سوا آٹھ بجے سے لوگ جمع ہونا شروع ہوتے ہیں۔ جو پہلے آتے ہیں وہ کرسیوں پر بیٹھ جاتے ہیں باقی فرش پر آلتی پالتی مار کے یا نیم دراز۔

ساڑھے آٹھ بجے دروازہ کھلتا ہے اور آپ داخل ہوتے ہیں۔ سر اور مختصر سی مونچھوں کے بال سفید، خمیدہ قامت، ہاتھ میں سگار لیے ہوئے، چہرہ پر مسکراہٹ، مسکراہٹ بھی شرابیوں کی سی، اور فی الواقع پیتے بھی بہت ہیں۔ سب لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں (ان کے علاوہ باقی لیکچروں میں کھڑے ہونے کا دستور نہیں)۔ کیو کے پیچھے پیچھے ایک ملازم طشت میں کافی لئے داخل ہوتا ہے، سب لوگ میز کے گرد جمع ہو جاتے ہیں، ہر ایک کافی کا پیالہ اٹھا کر اپنی نشست پر جا بیٹھتا ہے اور سگریٹ یا پائپ سلگا لیتا ہے۔ پروفیسر صاحب کسی طالب علم کو پڑھنے کے لئے اشارہ کرتے ہیں، وہ ایک آدھ پیراگراف پڑتا ہے اور پھر کیو صاحب اس پر بحث کرتے ہیں، جس میں دنیا جہان کی باتیں بیان کر جاتے ہیں۔ بعض دفعہ خوب زوروں کی بحث بھی ہوتی ہے۔ کلاس کیا ہے، مذاق اور متانت، علم اور دل لگی کی ایک ضیافت ہے جس سے دل کبھی سیر نہیں ہوتا۔ پروفیسر کیو کی شخصیت کا میں تمہیں اس سے بہتر اندازہ نہیں دے سکتا ان کی ترکیب طبیعت کا نسخہ ان الفاظ میں لکھوں کہ شبلی، غالب، حالی، آزاد، اور اودھ پنج کو ملا کر اس مجموعہ کو انگریزی بنا دو اور سو سے ضرب دے دو۔ انگریزی پڑھانے والوں میں سے لٹریچر کے شعبے میں صرف یہی ایک بزرگ ہیں جو پروفیسر کے لقب سے ملقب ہیں لہذا تم ان کے تبحر کا اندازہ خود ہی لگا لو۔

دوپہر کے ایک بجے لیکچر ختم ہوتے ہیں، اس کے بعد دو بجے تک لنچ اور دو بجے سے چار بجے تک تمام طلبا ایک نہ ایک کھیل کھیلنے جاتے ہیں۔ چار بجے شام ہو جاتی ہے، اندھیرا چھا جاتا ہے، چراغ روشن کر دیے جاتے ہیں، آگ جلائی جاتی ہے اور اس پر چائے کے لئے پانی رکھ دیا جاتا ہے۔ چائے کے بعد ہال (یہاں کی اصطلاح میں ہال شام کے کھانے کو کہتے ہیں) میں چاہو تو ایک آدھ گھنٹہ مطالعہ کر لو، چاہو تو کسی کا وقت ضائع کراؤ۔ ہال کے بعد کافی کے لئے آگ پر پانی رکھ دو اور جب تک دل چاہے پڑھتے رہو، جو آئے اسے بے شک کان سے پکڑ کے باہر نکال دو اور اگر بہت ہی بد تمیز دوستوں سے واسطہ پڑا ہو تو دروازہ کو اندر سے تالا لگا کر بیٹھو۔ (یہ فعل گوناگوں شبہات کا باعث بھی ہو سکتا ہے لہذا اپنے دوستوں کو اس کے صحیح معنی سمجھنے کی عادت ڈالو) ۔

(جاری ہے )

Facebook Comments HS