قلم بولتا ہے


ایک لکھاری جب کچھ دیکھتا ہے تو غور و فکر کرتا ہے، مسائل کی نشاندہی کرتا ہے، حل تلاش کرتا ہے اور اظہار کے لئے تحریر کو ذریعہ بناتا ہے، اس کا قلم مستقل بولتا ہے۔ ضروری یہ ہے کہ قلم سچ لکھے، ایسا سچ جو معاشرے میں بہتری لائے، فساد برپا نہ کرے اور الفاظ کا استعمال بھی تعمیری ہونا چاہیے۔

یہ ذمہ داری بہت بڑی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کچھ قلمکار ایسے بھی ہیں جو اس کے ساتھ مکمل انصاف نہیں کر پاتے۔ سچ لکھنا، پڑھنا اور برداشت کرنا خاصہ مشکل کام ہوتا ہے۔

جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے
اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا

سچ لکھنے اور چھاپنے والے دونوں کا امتحان کڑا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک حقیقت شناس لکھاری اکثر اوقات کافی کچھ اشاروں میں کہہ کر عقل والوں تک بات پہنچا دیتا ہے۔

میری تحریریں خواہ کالمز ہوں، بلاگز، شاعری یا پھر کہانیاں ہمیشہ کوشش یہی ہوتی ہے کہ ان کے ذریعے معاشرتی مسائل اجاگر ہوں، کوئی اچھا پیغام ملے، اور ملک و معاشرے کی بہتری کے لئے کردار رہے۔

کافی عرصہ پہلے میں نے انسانیت اور ہمدردی سے عاری پیسوں کے پجاری، میڈیکل کی فیلڈ کے کاروباری طبقے کے حوالے سے ایک مضمون لکھا تھا کہ رحمان ملک جیسے سیاست دان کی میت اسلام آباد کے بہت بڑے ایک انٹرنیشنل ہسپتال نے اس وقت تک روک رکھی تھی جب تک اولاد نے پیسے دے کر کلیرنس نہیں کروائی تھی۔ مضمون لکھنے کا مقصد یہ سوچنے کی دعوت دینا تھا کہ جب مشہور اور پیسوں والی شخصیت کے ساتھ ایسا سلوک ہو سکتا ہے تو ایک عام پاکستانی کی جان کتنی سستی اور لاش کتنی مہنگی ہو سکتی ہے۔

یہ واقعہ دوبارہ یاد آ گیا جب میں نے ایک صحافی کی تحریر پڑھی کہ مشہور ٹی وی چینل کے سینئر کیمرہ مین دل اور برین ہیمرج کی شدید بیماری کی وجہ سے اسی انٹرنیشنل ہسپتال میں وینٹیلیٹر پر گئے اور ذاتی پیسے نہ ہونے اور ان کے محکمے کی طرف سے اخراجات برداشت نہ کرنے کی وجہ سے انہیں ایک چھوٹے ہسپتال میں بھیج دیا گیا تھا جہاں وہ چل بسے، یوں وہ ایک بے حس کاروباری طبقے کی لالچ کی بھینٹ چڑھ گئے۔

کمزور یا طاقتور وقت آئے تو چلا جاتا ہے
اسیر ہوس بشر کیوں شر سے ملا جاتا ہے
مقصد سے ہوا گر دور بھٹک گیا وہ انسان
قبر کی یکساں پیمائش بھی بھولا جاتا ہے

حال ہی کی بات ہے ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں خریداری کے بعد کاؤنٹر پر ادائیگی کے لئے ڈیبیٹ کارڈ دیا، پن کوڈ لکھتے وقت مجھ سے زیادہ وہ صاحب گھور گھور کر دیکھ رہے تھے، میں نے کہہ ڈالا کہ اگر آپ نے دیکھنا ہی ہے تو پھر پن کوڈ ہونے کا کیا فائدہ۔ یہ اخلاقی تربیت کی معمولی سی کوشش تھی۔ آج نصیحت کا موڈ ہے، سو بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔

جب کوئی کھانا کھا رہا ہو تو اس کی طرف دیکھنا نہیں چاہیے۔ اکثر اوقات مانگنے والے بھی اس وقت آپ کے قریب آتے ہیں جب آپ تفریح کے لئے باہر جائیں، کسی ریسٹورنٹ سے آؤٹ ڈور یا کار میں کچھ منگوائیں اور کھانا سامنے آ جائے، ان کو امید ہوتی ہے کہ جان چھڑانے کے لئے اب آپ ضرور کچھ دیں گے، اس لئے وہ آپ کے کھانے کے دوران آپ کے ساتھ موجود رہتے ہیں جب تک مقصد حاصل نہیں کر لیں یا زبردستی ہٹا نہ دیے جائیں۔

کبھی معذور سامنے آئے تو نظر ہٹا لینی چاہیے، اسے اس کی بے بسی کا احساس نہ ہونے دیں۔ خواتین کو ایسے نہ دیکھا کریں جیسے پہلی دفعہ کسی عورت کو دیکھ رہے ہیں۔

اخلاقی اقدار کو سیکھنے اور اپنانے میں کبھی دیر نہ کریں۔ اصلاح کے لئے کوئی عمر نہیں ہوتی، جب موقع ملے، ضائع نہ کریں۔

آج کل اسلام آباد میں آوارہ کتوں کی بہتات ہے، عورتیں اور بچے گھر سے نکلتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں، کسی بھی سیکٹر میں چلے جائیں یا کسی چھوٹی بڑی روڈ پر، آوارہ کتے سوتے جاگتے یا عوام کا پیچھا کرتے نظر آئیں گے، جی ہاں، میں اصل کتوں کی بات کر رہا ہوں۔ میرے ٹویٹر اکاؤنٹ سے بے شمار ٹویٹ متعلقہ محکمے کو جا چکے ہیں اور ابھی بھی یہ سلسلہ جاری ہے کہ شاید مستقل حل ہو جائے۔

دنیا کے معاشی حالات کی خرابی نے ہر فرد پر برا اثر ڈالا ہے، تنخواہ یا آمدنی میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے اور مہنگائی آسمان کی ساتویں منزل کو کراس کر چکی ہے۔ ایک دوست نے اس پریشانی کو ان الفاظ میں بتایا، کہنے لگا مہنگائی سے اتنا پریشان ہوں کہ جب تھک ہار کر دفتر سے چھٹی کر کے نکلتا ہوں تو راستے میں ایک دیوار پر اشتہار میں لکھا میرج سینٹر بھی اب مساج سینٹر نظر آتا ہے۔

جو جتنا کم آمدنی والا ہے مہنگائی کا اثر اتنا ہی گہرا ہے۔ جب آپ کسی ریسٹورنٹ میں جائیں تو کھانے سے پہلے بھی اللہ کا شکر ادا کریں اور کھانے کے بعد ویٹر کا خیال ضرور رکھیں، سوچ اور عمل کے بخیل کبھی نہ بنیں، کوئی کسی کو ٹپ دے تو بھی فکرمند نہ ہوں، کیوں دی، کتنی دی، فلاں کو کیوں دی یا پھر فلاں کو دے دیتے، کیونکہ رب سب کا ایک ہی ہے، ہمارے رزق میں بہت سوں کا رزق شامل ہے صرف من پسند کا نہیں۔

گرتی ہوئی عالمی اور ملکی معاشی صورتحال کے باوجود ایک غریب ملک میں سیاست کی لڑائیوں میں سڑکیں بند کرنے، عوام کو منتشر کرنے، رکاوٹیں کھڑی کر کے عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے، عدالتوں کی پیشی کے لئے اپنے حفاظتی انتظامات کرنے، اور توڑ پھوڑ پر حکومتی اور مخالف جماعتوں کی طرف سے کروڑوں روپے لگائے اور اڑائے جا رہے ہیں، اس کے باوجود ہم الیکشن کروانا مشکل سمجھتے ہیں کیونکہ مختلف وجوہات کے ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملک کے پاس الیکشن پر لگانے کے لیے پیسے نہیں ہیں، صرف برباد کرنے کے لئے ہیں۔ افسوس کے سوا کیا کہوں جو ہم نے تماشا دنیا کے سامنے لگا رکھا ہے۔ مسائل کا حل دونوں طرف سے قدم بڑھانے اور ضد کو چھوڑنے میں ہے۔

ایک جاننے والے ہیں، انہیں حلال اور محنت کی کمائی سے خریدے ہوئے گھر کی اطلاع دیں تو مکان کا سائز پہلے پوچھیں گے اور یہ بھی سوال کریں گے کہ گھر کے نزدیک کوئی غریب بستی تو نہیں ہے۔ سائز جو بھی ہو، ”انسان کی حقیقت“ سے بہت بڑا ہوتا ہے۔

میرے ایک دوست کی عادت ہے جب کسی کی نئی نوکری کی خبر ملے تو مبارک باد سے پہلے تنخواہ پوچھ لیتا ہے اور ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر سفر کرتا دیکھے تو پچھلی سیٹ پر نہ بیٹھنے کی تفتیش کرتا ہے۔

کچھ لوگ سرکاری ملازم سے گریڈ ضرور پوچھتے ہیں۔ چھوٹا سا نسخہ دیتا چلوں، کم ہو لیکن حلال ہو، دل اور ظرف بڑا کریں، سب کچھ بڑا اور اعلی نظر آنے لگ جائے گا۔ کسی بھی چیز کو جانچنے کا پیمانہ اس کا سائز یا مقدار نہیں بلکہ ضرورت، اطمینان قلب اور قناعت ہے، بس یہ یقین رکھیں کہ حلال میں ہی دنیا اور آخرت دونوں کا سکون ہے اور حرام میں کبھی نہ ختم ہونے والی سزا اور عذاب ہے۔ توکل، ایمانداری، قناعت اور شکر گزاری بڑی نعمتیں ہیں۔
راضی بہ رضا ہو کر دیکھا تو مصیبت بھی
گلہائے شگفتہ کی زنجیر نظر آئی

Facebook Comments HS