جمہوریت سے پیار، الیکشن سے انکار

پاکستان اس وقت کئی بحرانوں کی زد میں ہے۔ معاشی بحران جو بڑھتا جا رہا ہے۔ سیاسی بحران جو تھمنے کو نہیں آ رہا اور اب ایک آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ چیف جسٹس جو آئین کے مطابق الیکشن کروانے کے متعلق اپنے ہی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں ان کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے اپنے ادارے کے اندر سے ان کے لئے کچھ ایسے حالات بنائے جا رہے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر عملدرآمد کروانے کی بجائے خاموشی اختیار کر لیں اور سب کچھ سیاستدانوں پر چھوڑ دیں اور اپنا آئینی اختیار استعمال کرنے سے باز رہیں۔
حکومت اس وقت الیکشن میں جانے سے انکاری ہے اس کو خطرہ ہے کہ اس کی مخالف جماعت تحریک انصاف الیکشن جیت لے گی مگر اس وقت دقت یہ ہے کہ ملک میں جمہوری حکومت ہے۔ یہ انیس سو اسی والی جنرل ضیا کی مارشل لا کی حکومت نہیں جو وعدے کے باوجود نوے دن کے اندر الیکشن کرانے پر راضی نہیں تھی اور اس کو التوا میں ڈالتی رہی۔ انیس سو پچاسی میں جب غیر جماعتی الیکشن کروائے گئے تو بھی اس شرط پر کہ پارلیمنٹ آمر کے تمام غیر آئینی اقدامات کو تحفظ دے گی۔
اس وقت کی سپریم کورٹ بھی خاموش تھی مگر اب دو ہزار تئیس ہے اور مارشل لا بھی نہیں ہے بلکہ ایک جمہوری حکومت بر سر اقتدار ہے۔ سپریم کورٹ اپنا فریضہ پورا کرنا چاہتی ہے۔ مگر جمہوری حکومت نہیں چاہتی کہ سپریم کورٹ آئین میں دیے گئے وقت کے مطابق الیکشن کروانے کا حکم دے اور پھر اس پر عملدرآمد کروائے۔ اس جمہوری حکومت کے پاس اب کون سا آپشن باقی رہ گیا ہے کہ وہ بظاہر اپنے فیصلے پر عملدرآمد پر بضد چیف جسٹس کو اس کام سے باز رکھ سکے۔
حال ہی میں کی گئی قانون سازی کے ذریعے چیف جسٹس کے بعض اختیارات پر قدغن لگائی گئی ہے مگر مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہو پا رہا ہے۔ اب چیف جسٹس اور ان کے ہم خیال ججز کے خلاف ریفرینس لانے کا بھی عندیہ دیا جا رہا ہے اور ان کے فیصلے کو نہ ماننے کا ببانگ دہل اعلان کیا جا رہا ہے۔ مگر کیا ان کو اپنا حکم سنانے سے روکا جا سکتا ہے؟ اور اس حکم پر عملدرآمد نہ کرنے کی پاداش میں اس حکومت کو کوئی نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
چیف جسٹس نے واضح کر دیا ہے کہ الیکشن کا التوا صرف ایمرجنسی کی صورت میں کیا جا سکتا ہے۔ اب کیا حکومت ایمرجنسی لگانے کا ارادہ رکھتی ہے یا ایمرجنسی لگانے کا کوئی جواز بھی موجود ہے؟ اور کیا تحریک انصاف کے وفادار صدر عارف علوی کی موجودگی میں ایمرجنسی کا نوٹیفیکیشن بھی ممکن ہے۔ بظاہر حکومت کے پاس بھی محدود قسم کے آپشنز ہیں۔ چونکہ ملک میں مارشل لا نہیں بلکہ جمہوریت ہے تو حکومت ایک حد تک ہی آگے جا سکتی ہے اور یہی مخمصہ ہے جس کی وجہ سے حکومت میں شامل سیاستدان اپنے غصے کا تو اظہار کر رہے ہیں مگر وہ اس مسئلہ کو حل کرنے سے قاصر ہیں۔
ادھر تحریک انصاف اور وکلا بھی عدلیہ کی حمایت میں سڑکوں پر آنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ ملک میں آئینی اور سیاسی بحران مزید گمبھیر ہونے جا رہا ہے اور اس کے ساتھ معاشی حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ کیا اب سیاستدان ہوش کا ناخن لیں گے۔ اقتدار کے لئے برپا کی گئی اس جنگ میں عوام، آئین اور ادارے کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں۔ کیا حکومت نے سوچا ہے کہ اگر چیف جسٹس اپنے حکم پر عملدرآمد کے لئے ڈٹے رہتے ہیں تو ان کے پاس اس حکم کو نہ ماننے کے لئے کوئی قانونی جواز ہو گا اور اگر وکلاء اور تحریک انصاف کے کارکن سڑکوں پر آ جاتے ہیں تو وہ امن و امان برقرار رکھ پائے گی اور سب سے بڑا سوالیہ نشان کہ ان حالات میں مہنگائی کے ہاتھوں پریشان غریب عوام کے لئے ریلیف دے پائے گی یا معاشی حالات مزید خراب ہوں گے۔
اور اس کی عوامی مقبولیت اور بھی کم ہو جائے گی اور اس کے سیاسی مخالفین اور زیادہ پاپولر ہوتے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے تجربہ کار لیڈر سید خورشید شاہ نے درست طور پر خبردار کیا ہے کہ موجودہ سیاسی و آئینی بحران کو حل نہ کیا گیا تو حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ انھوں نے تو عدلیہ سے اس بحران کے حل کے لئے کوئی راستہ نکالنے کی اپیل کی ہے۔ مگر چیف جسٹس پہلے ہی سیاسی جماعتوں سے اپیل کر چکے ہیں کہ وہ گفت و شنید کے ذریعے الیکشن کا مسئلہ طے کریں۔ اس سے پہلے کہ پانی سر سے اونچا ہو چکا ہو سیاستدانوں اور تمام مقتدر اداروں کا فرض ہے کہ وہ آگے آئیں اور اس بحران کے حل کے لئے چارہ جوئی کریں۔

