ہمارے بچپن کا رمضان


رمضان سے پہلے نامور صحافی اسلم ملک کی ایک پوسٹ نے توجہ کھینچی۔ لکھا تھا کہ میرے گھر کے سامنے والی بڑی شاہراہ پر پھلوں کی ریڑھیوں پر دو تین دن سے میں مسلسل پپیتا اور خربوزوں کے سوا باقی پھل غائب دیکھ رہا تھا۔ پوچھنے پر ریڑھی بانوں نے بتایا جناب سیب، کیلا، امرود سب سٹوروں میں منتقل ہو گیا ہے۔ خیر سے رمضان شریف کی آمد پر ان کی نقاب کشائی منہ مانگے داموں پر ہوگی۔

حقیقتاً ایسا ہی تھا کہ جب یکم رمضان کی افطاری کے لیے پھل لینے گئی۔ چپہ چپہ پھر کچی پکی کیلیاں ساڑھے تین، چار سو روپے درجن کے حساب سے بک رہی تھیں۔ اچھا سیب کہہ رہا تھا کہ مجھے ہاتھ نہ لگاؤ۔ کچھ ایسا ہی حال باقی پھلوں کا تھا۔ میں تو خالی تھیلا لے کر گھر آ گئی اور بہوؤں کو سناتے ہوئے بولی۔

”روزہ تزکیہ نفس کا نام ہے۔ سادگی کو شعار بناؤ اور کھانا پینا سادہ رکھو۔“

اللہ جھوٹ نہ بلوائے وہ غل غپاڑہ مچا کہ یہ سادگی کا درس بس افطاری کے لیے ہی ہے۔ ہمارے چھوٹے بچوں نے شوق سے روزہ رکھا ہے۔ لو بھلا فروٹ چاٹ اور پکوڑوں سموسوں کے بغیر افطاری کیسی؟ نتیجتاً مجھے تو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکا اور پھل فروٹ، دہی بھلے سبھی کچھ آیا اور خیر سے دسترخوان کو سجا دیا گیا۔

اب میں دیکھتی ہوں کہ کھانا پینا تو بس تھوڑا تھوڑا ہی تھا۔ بس ضیاع زیادہ تھا۔ ایسے میں ذہن بھٹکتا بھٹکتا کہیں دور نکل گیا۔ وقت کی اس ٹنل میں جا گھسا جس میں میرا بچپن اور اس کا پیارا رمضان قید تھا۔

سچ تو ہے کہ ہمارا بچپن پیسے کے اعتبار سے بڑا غریبڑا سا تھا مگر دیگر حوالوں سے بڑا رجا پسا اور امیرانہ ٹھاٹ بھاٹ والا تھا۔ بچے آزاد پنچھیوں جیسے تھے۔ شام کو گھر سے کھیلنے کے لیے نکلتے اور رات گئے واپسی ہوتی۔ کسی کو ذرہ برابر چنتا نہ ہوتی۔ گلیوں، گھروں کے آگے میدانوں میں لڑکے لڑکیاں اکٹھے ہی کھیلتے۔

پاکستان رمضان المبارک میں وجود میں آیا تھا۔ اس لیے میرے بچپن کے رمضان گرمیوں میں آتے تھے۔ ابھی دنیا گلوبل ویلج نہیں بنی تھی۔ ابھی موسموں پر نئے رنگوں کی چڑیاں نہیں ہوئی تھیں۔ اپریل گرم اور مئی گرم ترین مہینے جس کے بارے میں شاعروں کی نظمیں بڑی مشہور ہوئی تھیں۔

مئی کا آن پہنچا ہے مہینہ
بہا چوٹی سے ایڑی تک پسینہ

تو آتے ہیں اب رمضان کی طرف ہمارا رمضان تو بھئی بڑا پروقار سا سادگی میں لپٹا ہوا اپنی اصلی روح کے ساتھ جگمگاتا ہوا نظر آتا۔ جالندھر سے ہجرت کے بعد میرا خاندان صدر بازار لاہور کے علاقے میں پناہ گزین ہوا۔ بجلی اس علاقہ میں 1954 کے بعد آئی تھی۔

آج بھی یاد ہے اس کی آمد کی تیاریاں اماں کس محبت سے کرتی تھیں۔ آج ہنستی ہوں کہ معصوم سی اماں کی تیاری بھی کیسی تھی؟ دھنیا مرچ مصالحے صاف کرنے، لہسن پیاز، آٹا دالوں کی فراہمی۔ دیسی گھی روٹیاں چپڑنے کے لیے تھوڑا سا ضروری ہوتا۔ اکلوتے کمرے کی صفائی ستھرائی، قرآن شریف کے جزدان اور جائے نماز کی دھلائی۔ ہم بچوں کو بھی ان سیدھی سادھی تیاریوں میں بڑا لطف آتا۔ چلو ہنگامے اور گہما گہمی تو پیدا ہوتی تھی۔

دو بجے سے ڈھول گلی گلی بجتا۔ گویا یہ آغاز تھا۔ ایک آواز تھی کہ روزہ رکھنے والوں اٹھو۔ پھر گیت گانے والوں کی ٹولیاں آتیں۔ ماہ صیام آیا ہے۔ رمضان آیا ہے۔ برکتوں والا مہینہ آیا ہے۔

خاموش فضاؤں میں ہواؤں کے دوش پر یہ جوانوں کی مترنم آوازیں اکثر چھت پر سوتے ہم بچوں کو وقت سے پہلے ہی اٹھا کر بٹھا دیتی تھیں۔ اماں نیچے سے دہی لانے کے لیے آواز دیتیں۔ رات کو دہی نہیں جمایا تو فکر کی کوئی بات نہ ہوتی۔ بازار کا خالص دہی آ جاتا۔ بہت اچھے وقت تھے۔ بندے خالص تھے تو چیزیں بھی خالص تھیں۔ ملاوٹ کا کوئی تصور تک نہ تھا۔ پاؤ بھر دہی سے پانچ بندوں کی روٹی اور لسی سب کا گزارہ ہوجاتا۔

روزے کا احترام اس حد تک کیا جاتا کہ روزے کی چھوٹ والی لڑکیوں اور عورتوں بارے کسی کو کانوں کان بھنک نہ پڑتی۔ کھانے پینے کی صورت میں باورچی خانے کی باقاعدہ کنڈی لگا کر کچھ کھایا پیا جاتا۔

مجھے یاد نہیں میرے بچپن کے رمضان میں پکوڑوں اور سموسوں کا بھی کوئی چلن تھا۔ سحری اور افطاری بہت سادہ ہوتی۔ سالن اور روٹی بنتی۔ گرمیوں اور بجلی نہ ہونے سے چھتوں پر خوب رونقیں ہوتیں۔ تمام لوگ افطاری سے کوئی آدھ گھنٹہ پہلے اوپر چلے جاتے۔ سارا سامان بھی ساتھ ہوتا روزے کی کشادگی عام طور پر کھجور یا پھر نمک سے ہوتی۔ ساتھ شکنجبین کا گلاس کبھی سادہ پانی اور تنخواہ کے ابتدائی دنوں میں ہمارے اصرار پر دودھ سوڈا مل جاتا۔ گولی والی بوتل کا کھلنا اور فضا میں ٹھاہ کی آواز کا پیدا ہونا بہت لطف دیتا۔

شام کے وقت چھتوں کے منظروں کی دلفریبی کا کیا بیان ہو۔ آج جیسا زمانہ تھوڑی تھا کہ ہمسایوں کی خبر نہ ہو۔ دراصل چھتیں جڑی ہوئی نہ ہوں تو دل بھی نہیں جڑتے۔ گرمیوں کی شام دو منزلہ گھروں کے ساتھ، یک منزلہ گھروں میں جھانکنا اور گپیں مارنے کے بھی اپنے چسکے تھے۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ سارے منظر مجسم ہو گئے ہیں جو میرے بچپن کے رمضان کے گواہ ہیں۔

نکھرا ہوا آسمان، ڈوبتا ہوا سورج، پھولتی شفق اور آنکھوں میں سماتا ملحقہ یک منزلہ گھروں کی چھتوں کے نظارے جہاں پر ہر چھت پر ہر فیملی اپنے اپنے افراد خانہ کے ساتھ چارپائیوں پر بیٹھی کوگو (سائرن) کے بولنے کی منتظر ہوتی۔

اچھا سالن کوئی خاص چیز گھر میں بنتی تو ہمسایوں کے گھر بھیجنی ضروری ہوتی۔ دکھ سکھ سانجھے ہوتے۔ سالن کے لیے کٹوریوں کا تبادلہ معمول کی بات تھی۔

دکان داروں کو بھی رمضان میں چیزیں زیادہ دینے کا خیال ہوتا۔ لوگوں میں دید، لحاظ اور مروت تھی۔ پیسے کی ہوس نے آنکھوں پر پٹیاں نہیں باندھی تھیں۔ آج کی طرح نہیں کہ رمضان سے ہفتہ پہلے پھل سٹور کر دیے جائیں، گروسری کی چیزوں کی قیمتیں بڑھا دی جائیں۔ رمضان کو منافع کمانے کا بہترین مہینہ سمجھا جائے۔

Facebook Comments HS