کیا بھوک صرف رمضان میں لگتی ہے؟


انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ اللہ کا دیا ہوا ہے۔ وہ جسے چاہے، جو چاہے عنایت کرے، یہ اس کی تقسیم ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطاء کرنے کے بعد اگر اس میں سے کچھ طلب کرتے ہیں، تو یہ بھی ان کا کرم ہوتا ہے کہ وہ ہمیں کسی کار خیر کی توفیق دے رہے ہیں۔ پھر اس کار خیر کے بدلے ہمیں دونوں جہانوں میں اجر بھی دیتا ہے، جیسا کہ مال میں سے کچھ حصہ غربا، مساکین اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بدلے میں اللہ تعالیٰ انسان سے برکت اور اخروی ثواب کا وعدہ کرتا ہے۔ گویا ایک چیز لے کر دو چیزیں عنایت کرتا ہے۔ غربا، مساکین کے علاوہ اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا بھی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ بشرطیکہ مال کا ضیاع نہ ہو۔

بخاری شریف کی روایت ہے کہ جب کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رضا کی خاطر اپنے زیر کفالت بیوی بچوں اور اہل و عیال پر مال خرچ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے صدقہ کا ثواب عطا کرتا ہے۔ حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے : جب کوئی مسلمان اپنے اہل و عیال پر خدا کا حکم سمجھ کر خرچ کرتا ہے، تو اس عمل کے سبب اسے صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔

لیکن اگر یہی صدقہ و خیرات رمضان کی مبارک ساعتوں میں ہو تو اس کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ سنن بیقہی میں ہے کہ ”جو اس مہینے میں کسی نفل (عبادت) کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرے تو اس کو اس نفل (عبادت) کا اتنا ثواب ملتا ہے جتنا دوسرے مہینوں میں فرض کے ادا کرنے کا ثواب ملتا ہے اور جس نے اس مہینے فرض کو ادا کیا تو ایک فرض کے ادا کرنے کا اتنا ثواب ملتا ہے، جتنا کہ دوسرے مہینوں میں ستر فرضوں کے ادا کرنے سے ملتا ہے۔ اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کی روزی بڑھا دی جاتی ہے“ ۔

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے رمضان المبارک میں صدقہ کرنے کو افضل صدقہ کہا ہے۔ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ ”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : رمضان میں صدقہ کرنا افضل ہے“ ۔ اسی طرح بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے۔ رمضان میں جب حضرت جبریل امین علیہ السلام کی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ملاقات ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بہت زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے۔ حضرت جبریل علیہ السلام کی ملاقات کے وقت تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سخاوت تیز ہوا کے جھونکے سے بھی بڑھ جاتی“ ۔

اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کسی حکمت سے خالی نہیں ہوتے، اس میں دنیاوی اور اخروی اعتبار کئی فائدے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ صدقہ و خیرات سے اللہ تعالیٰ بہت سے تنگ دستوں کی مدد کرتا ہے، خوشحال معاشرے کو تشکیل دیتا ہے، بہت سی پریشانیوں سے بچاتا ہے، مال کی محبت کو کم کرتا ہے۔ اخروی اعتبار سے سب سے بڑا انعام یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔

مگر ہمارے معاشرے کچھ غلط فہمی عام ہو گئی ہے کہ رمضان المبارک میں ہی صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔ حالاں کہ اس کی ضرورت تو سارا سال رہتی ہے۔ چند دن قبل ایک واقعہ نظر سے گزرا کہ ایک خاتون کو بے ہوشی کی حالت میں کوئی ہسپتال چھوڑ کر چلا گیا، ڈاکٹر صاحب نے کچھ ٹریٹمنٹ کی، ہوش میں لائے اور اس سے وجہ دریافت کرنے لگے۔ اس بوڑھی اماں نے بتایا کہ ایک بیٹا ہے جو نشہ کرتا ہے، بیٹی بیاہی تھی، جس کے تین بچے ہیں، اس کی انگوٹھی گم ہوئی تو سسرال والوں نے بچوں سمیت گھر سے نکال دیا۔

اب میرے پاس بھی کچھ نہیں تھا تو آٹا لینے کے لیے صبح سے لائن میں لگی ہوئی تھی۔ شام کو کہیں جا کر باری آئی تو آٹا نہیں ملا، اب خالی ہاتھ کس منہ سے گھر جاتی، اسی پریشانی میں بے ہوش گئی۔ کہنے لگی کہ امداد کے لیے کئی لوگوں کے پاس گئی تھی، انہوں نے رمضان میں آنے کو کہہ دیا۔ کیا ہمیں رمضان کے علاوہ بھوک نہیں لگتی؟

یہ سوچنے کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو مانگ نہیں سکتے، یا جنہیں رمضان میں آنے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ اتنی مہنگائی کے دور میں وہ کس طرح اپنے گھر کا نظام چلا رہے ہوں گے، اگر رمضان میں دے بھی دیا تو کیا وہ پورے سال کے لیے کافی ہو جائے گا؟ کیا اللہ تعالیٰ بھی ہمیں صرف رمضان میں ہی دیتے ہیں؟ اگر وہ ہمیں سارا سال عنایت کرتا ہے تو ہم کیوں اس کے راستے میں صرف رمضان میں ہی دیتے ہیں۔

دینے والے بھی سارا سارا دن اپنے دروازوں پر لوگوں کی بھیڑ لگائے رکھتے ہیں، انہیں دھکے دیے جاتے ہیں، تذلیل کی جاتی ہے۔ ایسے میں کوئی سفید پوش یا عزت دار کیسے ہمارے دروازے پر آ سکتا ہے۔ پھر شہروں میں افطار پارٹیوں کا اہتمام بڑے ذوق شوق سے کیا جاتا ہے۔ کبھی اس میں شریک لوگوں پر نظر دوڑائیے اور مشاہدہ کیجیے کہ کتنے مستحق لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

خدارا! اس مہنگائی کے دور میں اپنے ارد گرد غربا پر نظر رکھیے۔ رمضان کے علاوہ بھی ان کے چولہے بجھنے نہ دیجیے، ان کے ساتھ سخاوت کا معاملہ کیجیے۔ افطار پارٹی کے نام پر کھاتے پیتے لوگوں کو اکٹھا کرنے کی بجائے غریبوں کو کھلائیے، اپنے دروازوں پر انہیں ذلیل کرنے کی بجائے، عزت سے ان کے گھروں میں جا کر دیجیے۔ ان کی سفید پوشی کا خیال کیجیے۔ آپ سارا سال اللہ کی مخلوق پر اپنے دروازے کھولیں، اللہ اپنے خزانوں کا منہ سارا سال آپ پر کھولے رکھے گا۔

Facebook Comments HS