شکایت مجھے ان جوانوں سے ہے پہاڑوں پر جو ڈالتے ہیں کمند


آپ نے اکثر ایسی خبریں سنی ہوں گی کہ کسی کوہ پیما کی ماؤنٹ ایورسٹ، کے ٹو وغیرہ پر چڑھائی یا اترائی کرتے ہوئے برف کے گرنے یا کسی دوسری وجہ سے موت ہو گئی ہو۔ اور زیادہ تر کی تو لاش بھی نہیں ملتی یا کئی ماہ یا کئی سالوں بعد ملتی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کامیابی سے چوٹیاں سر کرنے کے مقابلے میں کوہ پیماؤں کی موت کی خبریں زیادہ آتی ہیں۔ ہم اسے خود کشی کی قانونی کوشش کا نام دیتے ہیں۔

کیوں؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ اگر تو کسی چوٹی کو سب سے پہلے سر کر کے تاریخ میں اپنا نام درج کروانے کی بات ہے تو تمام اہم اور خطرناک چوٹیاں پہلے ہی سر کی جا چکی ہیں۔ اب تو محض ابتدائی کوہ پیماؤں کی نقالی کرتے ہوئے نام بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ ہماری نگاہ میں ایسی کوشش سراسر موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

عام طور پر کسی بھی کھیل کو کھیلتے وقت، کھلاڑیوں کے ساتھ ڈاکٹر اور معاون طبی عملہ بھی موجود ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود کسی بھی وقت کھلاڑی موت کے منہ میں پہنچ جاتے ہیں جیسے فلپ ہیوز کی گیند لگنے سے موت ہو، عمر اکمل کا ویسٹ انڈیز میں مقابلے کے دوران بے ہوش ہونا ہو یا کچھ مہینے پہلے امریکی فٹ بال کھیلتے ہوئے ایک کھلاڑی کی سانس رک گئی اور موقع پر موجود طبی عملے کی بروقت امداد دینے سے اس کی جان بچ گئی لیکن کوہ پیماؤں کے ساتھ کوئی خاص طبی عملہ نہیں ہوتا۔

کہا یہ جاتا ہے کہ انسان پرندوں کی طرح اونچی جگہوں پر جانا چاہتا ہے، اس لیے بعض لوگ اونچی اور خطرناک پہاڑیوں پر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن پرندے تو بغیر سوچے سمجھے، بغیر کسی منصوبہ بندی کے پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ جاتے ہیں جبکہ انسان مہینوں کی منصوبہ بندی، تیاری، خواری کے بعد ایسا کر پاتے ہیں۔ چنانچہ انسان ان کا اڑنے میں کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں؟

ابھی کوہ پیما پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کی کوشش میں نیچے ہوتے ہیں اور کوئی پرندہ بڑے آرام سے ان کا منہ چڑاتا ہوا چوٹی تک پہنچ جاتا ہے۔

اگر پہاڑوں کی چوٹی تک جانے کے لیے کوئی سیڑھیاں یا اس طرح کی دیگر کوئی سہولت ہوتی تو پھر بھی کوئی تک بن جاتی۔ لیکن یہاں تو انتہائی خطرناک ترین جگہوں اور زاویوں سے چوٹی سر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ رائٹ بھائیوں کی پہلی تجرباتی اڑان سے زیادہ بے وقوفی کی بات ہے کہ چلو ابتداء میں یہ خطرناک ہوتا تھا، لیکن اب فضائی سفر محفوظ ہو چکا ہے۔

جبکہ کوہ پیمائی کرنے والے اپنی جان سخت خطرے میں ڈالتے ہیں، اور بعض ایسے خطرات ہیں کہ جن کے تدارک کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا جیسے کہ برفانی طوفان کا آجانا یا برف کا اچانک سرک جانا یا کسی بڑے پتھر کا گرنا۔

ان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ کیا ان کے والدین انہیں اس لیے سختیاں جھیل کر پالتے پوستے ہیں کہ وہ کسی ایسی چوٹی کو سر کرنے کی کوشش میں اپنی جان گنوا دیں جہاں زیادہ تر حالات میں لاش تک نہیں ملتی۔ ہم سنتے ہیں کہ فلاں کوہ پیما برف میں دبنے سے منجمند ہو کر ہلاک ہو گیا تو کبھی غور کریں کہ یہ کتنی دردناک موت ہوتی ہے۔ ہمارا اگر کوئی چیز کھاتے ہوئے کھانا سانس کی طرف چلا جائے یا ذرا دیر کے لیے ناک منہ میں پانی بھر جائے تو ہم بے حال ہو جاتے ہیں، تو کبھی غور کریں کہ اس وقت ان کوہ پیماؤں پر کیا گزرتی ہوگی۔

جان کنی کے وہ چند لمحے ان پر کتنے اذیت ناک گزرتے ہوں گے؟ سوچیں ایسی خبر ملنے پران کے والدین، بچوں، بہن بھائی اور دیگر احباب پر کیا گزرتی ہو گی؟ وہ جب اپنے پیارے کی ایسی اذیت ناک و دردناک موت کا تصور کرتے ہوں گے تو یہ روگ ان کی بقیہ ساری زندگی پر اثر انداز ہوتا رہتا ہو گا۔ وہ کتنا سوچتے ہوں گے کہ کاش ہم اپنے پیارے کو دامے درمے سخنے کسی بھی طرح سے روک لیتے۔

اس کی ایک مثال شہزادہ ولیم اور ہیری کی ہے جو بظاہر تو بہت کامیاب ہیں لیکن آج بھی ان کے انداز سے، ان کے عمل، بیانیات سے ماں کی جدائی کا صدمہ انتہائی گہرا جھلکتا ہے۔ ایک ایسا صدمہ کہ جس سے دونوں بھائی آج تک نہیں سنبھل سکے ہیں۔ ان کی سوچوں، روحوں میں ایسا بال آ چکا ہے کہ جس کو دنیا کی کوئی ایلفی نہیں جوڑ سکتی۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ سارے بچوں کو اپنے والدین کی جدائی کا اتنا صدمہ لاحق ہو جتنا ولیم اور ہیری کو ہوا ہے۔ لیکن کچھ کو تو ضرور لاحق ہوتا ہے۔ پھر وہ اپنی یہ محرومی اپنی اولاد کو منتقل کر دیتے ہیں۔ مثلاً بظاہر میگھن کے ساتھ برطانوی ذرائع ابلاغ نے جو برا سلوک کیا، تو یہ وہاں کے صحافیوں کی سرشت میں شامل ہے۔ انگلستان کی صحافت میں سنسنی خیزی کا عنصر زیادہ شامل ہوتا ہے۔ لیکن ہیری کو اپنی والدہ ڈیانا کی موت کا اتنا صدمہ تھا کہ اسے لگا کہ اس کی بیوی کے ساتھ بھی وہی سلوک ہو رہا ہے جو اس کی والدہ کے ساتھ ہوا۔ تو اس نے اپنا ملک ہی چھوڑ دیا۔ یوں اب اس کے بچے اپنے دادا، چچا، اور دیگر اہم رشتہ داروں سے ذہنی اور جسمانی سطح پر بہت دور چلے گئے ہیں۔

چنانچہ انسانوں کو چاہیے کہ اپنی صلاحیتیں کسی ایسے مقصد کے لیے صرف کریں جس سے اپنوں اور دوسروں کی فلاح ہو۔ اپنی بہادری اور صلاحیت دنیا کو دکھانے کے اور بھی کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ اگر اپنی زندگی اتنی ہی فالتو لگتی ہے تو کسی فلاحی کام کے لیے وقف کر دیں۔ مثلاً خون عطیہ کریں۔ اگر کسی کے اپنے والدین یا بال بچے نہیں ہیں تو ان پر معاشرے کی ذمہ داری بھی تو عائد ہوتی ہے۔ وہ پہلے معاشرے کی فلاح کے لیے کوئی کام کریں۔

جیسے مدر ٹریسیا کی مہم جوئی کی خواہش تھی تو انہوں نے ہندوستان آ کر فلاحی کام شروع کیے۔ جبکہ ڈاکٹر روتھ فاؤ نے پاکستان آ کر جزام کے مریضوں کی دیکھ بھال جیسے خطرناک کام کی مہم جوئی شروع کی۔ یہ خطرناک کام تھا لیکن انہوں نے نہ صرف لاکھوں افراد کی زندگیوں کو راحت و سکون پہنچایا اور ساتھ ہی ناموری و عزت بھی کمائی۔

اگر لوگ ایسی ہی خودکشی کرنا چاہتے ہیں تو حکومت کو چاہیے کہ پابندی عائد کرے کہ کوہ پیمائی صرف وہی کریں جن کے نہ تو والدین ہوں اور نہ بال بچے ہوں تاکہ وہ اپنے پیاروں کو جیتے جی نہ مار دیں۔

Facebook Comments HS