بچپن اور ملائے مکتب کی جنت


(اپنے بچوں کا پھول سا بچپن دوزخ بنا کر اپنی جنت کمانے والے والدین کے نام )

اس کا نام بچپن تھا۔ بچپن کی آنکھوں میں بچپنے کے خواب سجے تو زندگی اسے جنت لگنے لگی۔

گھر کا ماحول مذہبی تھا۔ سو جنت کے بارے میں اس کے ننھے ننھے کانوں میں باتیں پڑتی ہی رہتیں۔ اس نے سنا تھا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ وہ غیر محسوس سے انداز میں بڑی معصومیت سے ماں کے پیروں سے لپٹتا رہتا۔ اسے بڑا تجسس ہوتا تھا کہ جنت ماں کے پیروں تلے ہے کہاں۔ وہ غور سے دیکھتا رہتا اسے وہاں گرد کے ساتھ جھریاں اور آبلے سے دکھائی دیتے تو اسے ان پر پیار آتا کہ یہی جنت ہے۔ وہ انہیں چوم لیتا۔ بچپن کب جانتا تھا کہ اس بات کا مطلب کیا ہے۔ یہی بچپنا تو بچپن کا حسن ہوتا ہے جس پر حسن جنت بھی رشک کرتا ہو گا۔

اس نے یہ بھی سن رکھا تھا کہ خدا کی رضا جنت ہوتی ہے اور باپ کی رضا میں خدا کی رضا ہوتی ہے یعنی جنت باپ کی رضا سے ملتی ہے وہ اپنے بابا کی ہر بات مانتا تھا۔ اس بات کے ڈر سے کہ کہیں ان کی رضا نہ چھن جائے جو خدا کی رضا یعنی جنت ہے وہ اپنے بابا سے کوئی ضد کرتا نہ فرمائش۔

ایک دن سکول سے آیا تو چہک کر بتانے لگا کہ آج اس نے انگریزی تقریر میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے اور اب سکول والے اسے ضلعی مقابلے میں لے کر جائیں گے تو ماں کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے روشنی ابھری مگر اس نے بچپن کے بابا کی طرف دیکھ کر یہ چراغ بجھا دیا۔ اور پھر اندھیرا ہو گیا۔

بچپن کو اس کے بابا نے جو بتایا اسے کچھ سمجھ نہ آیا بس یہ پتا چلا کہ انگریزی تعلیم اور اسکولنگ دنیاداری ہے جبکہ وہ مسلمان ہے اور مسلمان کا مقصد جنت کا حصول ہے۔ اس لیے اسے حافظ قرآن بننا ہے۔ کیونکہ ایک حافظ اپنے ساتھ چھے اور لوگوں کو بھی جنت میں لے جائے گا۔ اس کے ذہن میں بہت سے سوال آئے کہ اس کے خیال میں تو جنت میں ہر کوئی اپنے عمل سے جائے گا یہی ہمارے نبی ص نے خود اپنی بیٹی سے کہا لیکن وہ ماں کے کانپتے پیروں کی طرف بیٹھا تھا۔ اس کا رخ باپ کی رضا کی جانب تھا۔ اسے ابلیس کے سجدے سے انکار اور جنت سے نکالے جانے کا واقعہ یاد آیا اور وہ تمام سوالوں سے رک گیا بس۔ سجدے میں جھک گیا۔

بچپن نے سجدے سے سر ایک کرخت آواز کو سن کر اٹھایا اس کے سجدے پر کسی نے اعتراض کیا تھا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ سر اٹھایا تو ایک شخص اس کی جانب خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر بے طرح بال اگے ہوئے سر پر ایک میلی سی ٹوپی رکھی تھی بد ہیئت سا پیکر اور ہاتھ میں ایک ڈنڈا پکڑا ہوا تھا۔ یہ ”مسکراہٹ بھی صدقہ ہے“ کے دین کے عالم کا اس سے پہلا تعارف تھا۔ بچپن سہم گیا۔ اسے سہما ہوا دیکھ کر قاری صاحب کے چہرے پر جو فاتحانہ مسکراہٹ آئی اس وقت اسے اس سے مکروہ چیز دنیا میں دکھائی نہ دی۔

بچپن کو اس رات جتنی ماں کی آغوش کی ضرورت تھی اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔ وہ اپنے ہاتھوں سے آنسوؤں کو پونچھنے کے لیے آنکھوں پر ملتا تو اسے اپنے ہاتھ ماں کے پیروں کے تلووں جیسے محسوس ہوتے۔ مگر ان میں جنت محسوس نہ ہوتی کہ وہ تو اب اسے اپنی ماں کو دلانی تھی۔ عجیب ادھیڑ بن تھی۔ بچپن کی جنت کے سارے نقشے اسے ازسر نو تعمیر کرنے تھے۔ آنسوؤں کی نمی نے بالآخر معصوم پلکوں کو جوڑ دیا اور نیند آنکھوں میں داخل ہو گئی۔

اگلے دن اس کے سامنے جو ایک بچے کو قاری نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا تو مارے خوف کے وہ تھر تھر کانپنے لگا۔ اس کے ذہن میں آیا کہ رب العالمین تو پوری کائنات کا رب ہے۔ دلوں کی دھڑکنوں کی صدائیں سننے والا اور نیتوں کی بولیاں جاننے والا کسی ایک زبان کا ایسا رب تھوڑی ہے کہ غیر عرب ہم بچوں کے حروف قلقلہ کی تعلیم ہمیں یوں ملے کہ عربی زبان کے اعراب ہماری زبان نہیں ننھے جسموں کے مساموں اور خلیوں پر دردناک طریقے سے ثبت کیے جائیں۔ کہ عربی تو آ جائے انسانیت جاتی رہے۔

رات میں وہ بچہ درد سے کراہ رہا تھا تو بچپن اس کے پاس گیا۔ اسے کہا میں تمہیں دبا دوں تو وہ کہنے لگا نہیں یار یہ تو روز کی بات ہے۔ بچپن نے پوچھا تو نے اپنی امی ابو کو نہیں بتایا تو اس کے جواب نے بچپن کو گویا توڑ کر رکھ دیا کہنے لگا میرے باپ نے قاری صاحب کا رٹوایا ہوا سبق مجھے سنا کر کہا ”یہ مار خدا کے رستے میں جہاد کے دوران لگنے والے زخموں اور چوٹوں جیسی ہے، جہاں جہاں نشان پڑے گا وہاں وہاں دوزخ کی آگ حرام۔ تو بھیا ہمارے ننھے جسموں سے ماں باپ اپنے گناہ بخشواتے ہیں۔ چل سو جا یار۔ تیری باری بھی آ جائے گی۔

یہ کہہ کر وہ بچہ تو سو گیا بچپن کو بہت حیرت ہوئی۔ اس بچے کا روح اور جسم دونوں اس تشدد کے سامنے سر بسجود ہو چکے تھے جو ذہن کے متشدد ہو جانے کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔ لیکن بچپن کی نیند اڑ گئی۔ اسے سکول کا سارا دور اپنے ساتھی اپنی انگریزی کی تقریر یاد آنے لگے۔ ایک بار پھر ماں کی یاد۔ اس کے پیر۔ جنت۔ مگر دل میں اب کے ایک شکوہ سا ابھرا۔ ماں نے باپ سے کہا کیوں نہیں کہ اس کی جنت میں ہوں اسے مجھ سے جدا مت کریں۔

جنت میں نے اسے دینی ہے اس نے مجھے نہیں۔ یہ میرے پیروں میں کسی آبلے پر مرہم رکھ دے گا تو رحیم خدا اس پر جنت کا دروازہ کھول دے گا۔ میری ممتا اپنی جنت کے لیے اس کا جیون دوزخ بنانا گوارا نہیں کر سکتی۔ اور اس کے آنسو تھم سے گئے۔ یاد کی کسک جیسے جفا کی تیز ہوا کے سامنے بجھ ہی چکنے والا چراغ ہو۔ تیرگی پھیلنے لگی۔

دن بیتنے لگے بچپن محسوس کرتا کہ اب ماں کی یاد کا وہ عالم نہیں۔ جنت ان تلووں سے نکل کر اس کے چاہنے کے باوجود خدا کو رب العربیہ کی بازگشت میں نہ آ سکی۔ نہ جانے کدھر گئی۔ اب وہ جنت کی سوچ سے بیزار سا ہونے لگا۔ جنت کا ازلی حسین تصور اب اس عقوبت خانے کے منظر نامے سے یوں ٹکرایا کہ پاش پاش ہوا اس کی کرچیاں پیروں میں کیا روح کے تلووں میں پیوست ہوتی تھیں۔

اور پھر وہ دن آ گیا۔ بچپن کے گلے میں ٹانسلز کی وجہ سے خراش تھی اور وہ حرف ”ع“ کو گلے سے قاری کے بتلائے ہوئے مقام سے نہیں نکال پا رہا تھا۔ قاری نے ایک زناٹے دار تھپڑ جو اس کے بائیں گال پر مارا تو اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے۔ اس کا پیشاب نکل گیا۔ جس پر قاری نے جو جملے بولے تو سارے لڑکے ہنسنے لگے وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ شرم و حیا کے دین کے علمبردار عالم اس طرح کی باتیں کر سکتے ہیں۔ اسے یاد آیا کہ سکول میں جب کوئی لڑکا گالی دیتا یا کوئی گندی بات کرتا تو وہ اس سے فاصلہ رکھنے لگتا۔ مگر یہاں کیا کرتا۔

ایک دن تو انتہا ہی ہو گئی اس نے جب قاری صاحب سے آخر یہ بات کر ہی دی کہ رحیم و رحمان خدا کی رحمت للعالمین پر اتاری گئی ہدایت کی کتاب کو پڑھتے اس قدر تشدد کیوں؟ اس جسارت پر اسے الٹا لٹکا کر مارا گیا۔ اس کے جسم کا کوئی ایسا حصہ نہیں تھا جہاں سرخ و نیلے عربی کے اعراب نہ ثبت کیے گئے ہوں۔ وہ بے ہوش ہوا تو اسے اتارا گیا۔ ہوش آیا تو درد سے نڈھال برا حال۔ ہڈیاں تو نہیں ٹوٹیں مگر بچپن اندر سے ٹوٹ پھوٹ گیا۔

چھٹی پر گیا تو ماں کو بتایا جسم دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے بچپن سمجھا ممتا کے ہیں بغاوت کے ہیں مگر وہ ترس کے تھے بے بسی کے تھے ایک خاوند کی نام نہاد اسلامی فرمانبرداری کے تھے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے اس کے باپ سے کہا قاری صاحب سے کہیں اسے ماریں مت۔ چھٹی سے واپسی پر بچپن کے والد نے قاری صاحب سے آ کر کہا تو اس نے خشمگیں نگاہوں سے بچپن کی جانب دیکھا اور پھر وہی رٹا رٹایا سبق اس کے باپ کو پڑھاتے ہوئے کہا اسے کہیں مذہب و قرآن کی توہین کی باتیں نہ کیا کرے۔ یہ تو شکر کریں میں چپ رہا لوگوں کو پتا چلتا کہ اس نے توہین آمیز باتیں کیں ہیں تو آگے آپ کو پتا ہی ہے لوگ کیا کرتے ہیں۔ بچپن ہکا بکا و ششدر رہ گیا۔

بچپن کے اندر سے رہا سہا بچپنا اس وقت جاتا رہا جب اس کے اس دوست نے اسے بتایا کہ یہاں قاری صاحب کی ”خاص فرمائشیں“ پوری کر دینے پر مار پیٹ میں کمی ہی نہیں ہوتی نوازشات بھی ہوتیں ہیں۔ اس کے ذہن میں مشکوک مناظر دیکھ کر جو سوالات اٹھا کرتے ان کے جوابات اسے مل گئے۔ اور اس کے اندر کا بچہ سسکیاں بھرتے ہوئے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔

لمحے گھنٹوں میں بدلے، گھنٹے دنوں میں اور دن مہینوں اور سالوں میں۔ بچپن اسی جسمانی ذہنی روحانی حتی کہ جنسی تشدد سے لبریز عقوبت خانے میں پروان چڑھ کر ایک عالم دین بن چکا تھا۔ اب اس کا نام مولانا صاحب تھا۔

مولانا صاحب کو ایک دن ایک بچے نے بتایا کہ وہ بڑی اچھی انگریزی تقریر کر لیتا ہے ایک لمحے کے لیے بجلی کی سرعت سے بچپن نامی اس بچے نے واپس آنے کی جست لی لیکن اگلے ہی لمحے وہ ڈنڈا اٹھا کر کہنے لگے یہ یہود و نصاری کی تقلید کر کے کون سا تیر مار لیا عربی سیکھو عربی جس میں قبر میں سوال ہو گا۔ تم سب اپنے ماں باپ کی جنت کمانے آئے ہو جنت۔

اب اس مدرسے میں اگلی نسل کے بچوں کی سسکیاں اور آہیں گونجتی تو وہاں دو روحیں سینہ کوبی کرتیں چیختیں چلاتیں۔ یہ بچپن کے ماں باپ تھے۔ وہ بچپن سے کہنا چاہتے تھے کہ اس انگریزی تقریر والے بچے کو سکول واپس بھیج دے۔ اپنی ماں کے پاس اپنی جنت کے پاس۔ کہ اولاد کا معصوم بچپن دوزخ بنا کر ماں باپ کو جنت نہیں ملتی۔

Facebook Comments HS