”ادب، زندگی اور سیاست“: ایک تعارف


ڈاکٹر خاور نوازش بہاءالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان میں اس وقت ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے میں انھوں نے محنت، ذہانت اور ترقی پسند نقطہ نظر کے باعث خاص پہچان حاصل کی ہے۔ تحقیق، تنقید، تنظیم اور تدریس ان کے خاص میدان عمل ہیں۔ ”ادب، زندگی اور سیاست“ ڈاکٹر خاور نوازش کی مرتبہ کتاب ہے جو مثال پبلشرز، فیصل آباد سے 2012 ء میں شایع ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے ان مضامین کا انتخاب کیا ہے جن میں ادب کا تعلق زندگی اور سیاست سے جوڑا گیا ہے۔

کتاب کا مطالعہ آشکار کرتا ہے کہ مرتب نے ناقدین کے اس گروہ کو علمی سطح پر جواب دینے کی کوشش کی ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ ادب محض فرصت کے لمحات میں لطف کشید کرنے کا نام ہے۔ ان کی تمام تر توانائیاں اس بات پر صرف ہوتی ہیں کہ اظہار میں حسن کیسے پیدا ہو جو لطافت کا باعث بنے۔ جمالیات کے حامیوں نے تو فن کا مقصد ہی صرف اور صرف حسن قرار دے دیا ہے اور حسن کے اپنے معیارات مقرر کیے ہیں جن کی تلاش میں وہ نہ صرف خود سرگرداں نظر آتے ہیں بلکہ دیگر تخلیق کاروں کو اس جانب راغب بھی کرتے ہیں۔

مذکورہ کتاب کے مرتب کا یہ خیال ہے کہ ”اپنے ماحول سے بے خبر ہو کر اور زندگی کے مقاصد سے ہٹ کر دنیا کا کوئی بھی ادب اپنی منزل تلاش کرنے سے قاصر ہو گا“ یہی وہ مرکزی نقطہ ہے جو اس کتاب کی ترتیب کا محرک بنا ہے۔ مذکورہ کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب ”ادب، تعریف، تعبیر اور صورت حال“ کے عنوان سے موجود ہے جس کی فصل اول میں نورالحسن ہاشمی کے مضمون ”ادب کیا ہے؟“ سے ادب کو شاعر، نقاد، طبیب، ماہر نفسیات، سائنس دان، صوفی، مومن اور چینی دیوتا کے نقطۂ نظر سے معرض تفہیم میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

انوار احمد نے ”ادب کی ماہیت اور حدود“ کے عنوان سے ادب کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اب کی تخلیق میں موضوعیت اور معروضیت، داخلیت و خارجیت اور انفرادیت و اجتماعیت کی جلوہ گری بیک وقت موجود ہوتی ہے۔ اس فصل کے آخر میں الیا اہرن برگ کے مضمون کی تلخیص فاخر حسین نے ”ادب: ایک ضروری تشریح“ کے عنوان سے پیش کی ہے۔ ان کا مذکورہ مضمون اینگلو سوویت جرنل لندن کے سپرنگ 1954ء کے شمارے میں شایع ہوا تھا۔

باب کی فصل دوم میں ”ادب کی غرض و غایت“ کے عنوان سے انجمن ترقی پسند مصنفین کے پہلے اجلاس میں پریم چند نے جو صدارتی خطبہ دیا تھا اس کو شامل کیا گیا ہے۔ ”ادب کی نئی اور پرانی قدریں“ کے عنوان سے فرمان فتح پوری کا مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ فرمان فتح پوری نے بحث کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ”دنیا کے فنون لطیفہ کے بڑے بڑے شہ پاروں کے غیر فانی ہونے کا راز یہی ہے کہ وہ اپنے مخصوص ماحول کی حقیقتوں کو ان کی اپنی سطح سے بلند کر کے نئی سطح پر از سر نو پیدا کرتے ہیں اور زندگی کی ارتقائی تخلیق میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

اگر ایسا نہ ہو تو آج صرف ہم اور آپ ہوتے۔ کالی داس، ہومر، فردوسی، سعدی، شیکسپیئر، ملٹن، گوئٹے، دانتے، ابو نواس اور غالب و اقبال کو کوئی نہ جانتا“ دیوندراسر اردو تنقید اور تخلیق کا اہم نام ہے ان کا مضمون ”ادب اور صحیح ادب“ کے عنوان سے کتاب کا حصہ بنا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ دور میں مابعد جدیدیت اور کلچرل مطالعات اور نو تاریخیت کی مقبولیت کے باعث ادبی متن سماجیاتی ریسرچ کا موضوع بن گیا ہے۔ اب ادبی اقدار کے پیمانے بدل گئے ہیں۔

تخلیقیت کے بجائے حقائق کی عکاسی پر تنقید کی عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے۔ ممتاز حسین کا مضمون ”ادب اور پروپیگنڈا“ کے نام سے شامل ہے جس میں انھوں نے تخلیقات میں خیال کے عنصر پر زور دیا ہے اور بحث و تمحیص سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ فرد کی داخلی کیفیات کا تعین بھی خارجی حالات کرتے ہیں، لہٰذا ماحول، تاریخ اور سماجی حالات سے کنارہ کشی ممکن نہیں۔ اس باب کی فصل سوم میں شمیم حنفی نے ”اردو ادب کی موجودہ صورت حال“ پر بحث کرتے ہوئے اردو ادب کو ہندوستان کی دیگر زبانوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جہاں فکشن، شاعری، تنقید اور دیگر اصناف میں پچھلی چار دہائیوں میں کئی قابل قدر تخلیق کار پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے انسانیت کی تعمیر اور ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

ظفر اقبال کی تحریر ”دیمک لگے معاشرے میں دیمک زدہ شعر و ادب“ کے نام سے شامل کی گئی ہے جو حلقہ ارباب ذوق کے 66 ویں اجلاس کے موقع پر دیا گیا صدارتی خطبہ ہے۔ اس باب کے آخر میں وجاہت مسعود کی تحریر ”پاکستان میں ادب اور ادیب: پیش منظر اور امکان“ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے۔ محمد حسن عسکری نے قیام پاکستان کے پانچ برس بعد ہی جو ادب کی موت کا اعلان کیا تھا، وجاہت مسعود نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کے خیال میں ہمارے ادب کی کیسی ہی بری صورت حال کیوں نہ ہو، ہمارے ادب کا امکان زندہ ہے کیوں کہ ادب کا منصب بنیادی انسانی تجربے کا بیان ہے اور اس کے ذریعے کے طور پر ادب کا جوہر ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔

کتاب کا باب دوم ”ادب، زندگی اور سماج“ کا عنوان لیے ہوئے ہے جس کی فصل اول کا پہلا مضمون اختر حسین رائے پوری کے قلم کا شاہکار ہے جو ”ادب اور زندگی“ کا عنوان لیے ہوئے ہے۔ اس مضمون میں اختر حسین رائے پوری نے ادب اور زندگی کا رشتہ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر انسان کے دل میں بنی نوع انسان کا درد موجود ہوتو ادیب کے جذبات و احساسات کا رباب سماج کے انسانوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ دوسرا مضمون ”ادب اور زندگی“ کے عنوان سے مجنوں گورکھ پوری نے قلم بند کیا ہے۔

جن کا خیال ہے کہ ”کامیاب ترین ادب وہ ہے جو حال کا آئینہ اور مستقبل کا اشاریہ ہو جس میں واقعیت اور تخیلیت افادیت اور جمالیت ایک آہنگ ہو کر ظاہر ہوں جس میں اجتماعیت اور انفرادیت دونوں مل کر ایک مزاج بن جائیں جو ہمارے ذوق حسن اور ذوق عمل دونوں کو ایک ساتھ آسودہ کر سکے۔ اب تک جو کچھ بھی رہا ہو لیکن اب اس کو یہی ہونا ہے۔“ مجنوں گرکھ پوری نے خوب صورتی سے ادب اور زندگی کے رشتے کو واضح کیا ہے۔ سجاد باقر رضوی اردو ادب کے معروف نقاد اور استاد ہیں ان کا مضمون ”ادب اور زندگی کا رشتہ“ کے عنوان سے کتاب کا حصہ بنا ہے۔

اے بی اشرف نے ”ادب اور زندگی کا باہمی رشتہ“ کے عنوان سے تحریر کیے گئے مضمون میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ”ادب اور زندگی کا رشتہ دائمی ہے۔ ادب کا سر چشمہ حیات ہے۔ حیات ہی سے اس کے سوتے پھوٹے۔ ادب پھول ہے تو زندگی اس کی مہکار۔ ادب جسم ہے تو زندگی اس کی روح۔ ادب دل ہے تو زندگی اس کی دھڑکن اور جس روز یہ دھڑکن بند ہو گئی، ادب کی موت واقع ہو جائے گی۔“ محمد صفدر میر نے بھی ادب اور زندگی کا رشتہ ”ادب اور زندگی“ کے عنوان سے قلم بند کیے گئے مضمون میں کئی مثالوں سے واضح کیا ہے۔

یہ مضمون حلقہ ارباب ذوق کا صدارتی خطبہ ہے جو جون 1991 ء کے اجلاس میں پیش کیا گیا۔ عبدالسلام کا مضمون ”ادب اور زندگی“ کے عنوان سے قلم بند کیا گیا ہے جو ان کی محنت، لگن اور جاں کاوی کی عمدہ مثال ہے۔ باب کی فصل دوم میں محمد حسن کا مضمون ”ادب، زندگی اور سماج“ کے عنوان سے شامل ہے۔ ”ادب اور سماجی زندگی“ کے عنوان سے ایم ڈی تاثیر کا مضمون شامل کتاب ہے جس میں ماحول کے اساسی پہلو کو گرفت میں لینے پرزور دیا گیا ہے۔ رضی عابدی نے ”ادب اور سماجی وابستگی“ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ کوئی اس وقت تک ادیب کہلانے کا مستحق نہیں ہے جب تک انسان کی فلاح اس کا کمٹمنٹ نہ ہو اور انسان کی فلاح اس کے سماجی ماحول کے حوالہ سے ہی کوئی معنویت رکھتی ہے۔

باب سوم ”ادب، نظریہ اور کمٹمنٹ“ کے عنوان سے ترتیب دیا گیا ہے جس میں فصل اول کا پہلا مضمون ”ادب اور نظریہ“ کے عنوان سے آل احمد سرور نے رقم کیا ہے۔ وہ ادب میں نظریے کو اتنا ہی ضروری خیال کرتے ہیں جتنا زندگی میں نظر کی ضرورت ہے۔ مجتبیٰ حسین نے ”ادب میں نظریے کا صرف“ میں کئی سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ زندگی کی معاشرتی نوعیت کیا ہے؟ اس معاشرے میں افراد کی اہمیت کیا ہے؟ ادب کی تخلیق معاشرتی ہے یا غیر معاشرتی؟

مضمون میں ادب کے متعدد پہلوؤں پر گفتگو کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسانی زندگی کا ایک ارفع مقصد ہے۔ اس کی محنت ایک سمت ہے، اس محنت نے ہمیں شعور عطا کیا ہے۔ یہ شعور تاریخ انسانی کے ارتقا کے پہلو بہ پہلو واضح اور تیز تر ہوتا جاتا ہے۔ اسی شعور سے ادب پیدا ہوتا ہے اور ادب اسی شعور کو دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ اسی کا دوسرا نام نظریہ ہے۔ ”اسی فصل میں اصغر علی انجینئر، عابد حسن منٹو، محمد صفدر میر، یوسف حسن، روش ندیم، حمیرا اشفاق اور قاسم یعقوب کے مضامین بھی شامل ہیں۔

ان تمام مضامین میں ادب کے زندگی، معاشرے اور نظریے سے تعلق پر بحثیں شامل ہیں۔ اسی باب کی فصل دوم میں احمد ندیم قاسمی اور ڈاکٹر سلیم اختر کی تحریریں ادب میں کو مٹ منٹ کو اپنا موضوع بناتی ہیں۔ آمرانہ دور میں آمر خود کو غیر محفوظ اور بے بنیاد خیال کرتا ہے۔ وہ احتساب سے زباں بندی اور مراعات سے خوشامدی پیدا کرتا ہے۔ ان حالات میں نظریاتی ادیبوں کے لیے کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ حالات کا چیلنج ہی ادیب کی تخلیقی صلاحیتوں کے لیے محرک ثابت ہوتا ہے۔

چوتھے باب کو “ ادب، سیاست اور جمہوریت ”کا نام دیا گیا ہے۔ اس باب میں شامل تمام مضامین ادب اور سیاست کے رشتے کو موضوع بناتے ہیں۔ اس حوالے سے اعجاز حسین، علی سردار جعفری، وارث علوی اور محمد علی صدیقی کے مضامین اہمیت کے حامل ہیں۔ اس فصل کے آخر میں انگریزی زبان کے ممتاز ڈراما نگار اور شاعر ہیرلڈ پنٹر کا خطبہ“ فن، سچ اور سیاست ”کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔ یہ وہی خطبہ ہے جو انھوں نے 2005 ء میں ادب کا نوبل انعام وصول کرتے ہوئے، دیا تھا۔

اسے اجمل کمال نے اردو کے روپ میں ڈھالا ہے۔ فصل دوم میں راجندر سنگھ بیدی کا 1948 ء میں احمد آباد میں انعقاد پذیر ہونے انجمن ترقی پسند مصنفین صدارتی خطبہ“ ادب اور سیاست ”کے عنوان سے کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ ممتاز شیریں، انوار احمد، مسعود اشعر اور شبنم مناروی کی تحریروں نے بھی ادب اور سیاست کے تعلق کو سمجھنے میں قاری کی مدد کی ہے۔ فصل سوم میں جمیل جالبی، انور سجاد اور اشفاق سلیم مرزا کی تحریریں خاصے کی چیز ہیں۔ اشفاق سلیم مرزا نے ریاستی استبداد میں علامتی ادب کی تخلیق پر پر مغز مقالہ قلم بند کیا ہے۔

باب پنجم کتاب کا آخری باب ہے جو ”دانشور/ادیب کا کردار، ذمہ داری اور وفاداری“ کا عنوان لیے ہوئے ہے۔ فصل اول میں تراجم شامل ہیں جن میں اقبال احمد، ایڈورڈ سعید اور نام چومسکی کی تحریروں کو حسن عابدی، صدیق الرحمان قدوائی، اسلم پرویز اور احسن محمود مخدوم نے ترجمہ کیا ہے۔ فصل دوم میں مجتبیٰ حسین، فتح محمد ملک، حسن طاہر اور انیس ناگی کے مضامین ادیب کی ذمہ داریوں پر بحث کی گئی ہے۔ اس فصل میں ژاں پال سارتر کے مضمون کا انتظار حسین نے ”ادیب کی ذمہ داری“ کے عنوان سے ترجمہ کیا ہے جس میں سارتر منفی قوتوں کے خلاف ادیبوں کو صف آرا ہونے کا مشورہ دیتا ہے تاکہ آنے والی نسلیں یہ نہ کہیں کہ گزشتہ نسلوں نے جھوٹ کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔

اس باب کی فصل سوم میں احتشام حسین، محمد حسن عسکری اور سلیم احمد کی تحریروں کو کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ تحریریں ادب، سیاست اور حب الوطنی کے نکات کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ تمام تحریریں ادب، سیاست اور سماج کے متنوع رشتوں کی مختلف جہات کھولتی دکھائی دیتی ہیں۔ وہ ادیب جو جمالیات، ہیئت اور اسلوبی سطح کو موضوع اور مواد کی نسبت زیادہ اہم سمجھتے ہیں اور سیاست اور سماجی مسائل سے پہلو تہی کرتے ہیں، ان کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ خاور نوازش نے مذکورہ کتاب کو مرتب کر کے رجعت پسندوں کے خیالات کو رد کرنے کی کوشش کی ہے اور روشن خیال طبقے کے موقف کو بڑھاوا دیا ہے جس پر وہ سراہے جانے کے قابل ہیں۔

Facebook Comments HS