جمہوریت ایک فرسودہ نظام؟

آج سے کوئی ڈھائی ہزار سال پہلے ایتھنز کے بڑوں نے جب جمہوریت کی داغ بیل ڈالی تب ان کے وہم اور گمان میں بھی یہ خیال نہ ہو گا کہ آگے چل کر یہ نظام بھی شخصی آمریت کو دوام بخشنے کا ایک متبادل ذریعہ ہی ثابت ہو گا۔ انسانوں کی معلوم تاریخ کے ایک تہائی حصے تک بتدریج پروان چڑھنے والی جمہوریت تب سے بہت سی قوموں کی اساس رہی ہے۔ یہاں تک کہ اپنے اقدار سے جنون کی حد تک پیار کرنے والے ترقی یافتہ ممالک برطانیہ، نیدرلینڈز، بیلجیم، ناروے، ڈنمارک اور سویڈن جیسی کئی ریاستوں میں ایک ہائبرڈ قانونی بادشاہی اور جمہوری نظام بنا کر بھی اسے مثالی سیاسی نظام کے طور پر رائج رکھا گیا۔ اس ساری تگ وہ دو کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ شاہی خاندان سے وفاداری اور اعتماد رکھنے کے باوجود وہاں کے عوام ہمیشہ صرف جمہوریت کو ہی اپنے تابناک مستقبل کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ایک ایسا نظام جس کے ذریعے وہ فرد واحد ہونے کے باوجود اپنی امنگوں پر مبنی پالیسیوں کو تشکیل دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔
تاہم، آج ہم جب دنیا بھر میں دیکھتے ہیں، تو ہمیں ایک ایسا نظام نظر آتا ہے جو اکثر بدعنوانی، شخصیت پرستی اور سماجی پولرائزیشن سے دوچار ہے۔ جمہوریت کی صرف پچھلے صد سالہ دور کا ہی جائزہ لیا جائے تو پہلی اور دوسری عالمی جنگیں ایسے دانا شاہوں کا شاخسانہ نظر آتی ہیں جن کے ہاتھ نہ صرف جمہوریت نے طاقت دی بلکہ ان کے سامنے بے بس بھی نظر آئی۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ جن جمہوریت کے چیمپئن ہیروز نے ان آمروں سے دنیا کی جان چھڑوائی وہی آگے چل کر ان سے زیادہ انارکی اور تباہی پھیلانے کا باعث بنے۔
پھر چاہے وہ برطانوی عوام کے حق میں چرچل کا چالیس لاکھ قحط زدہ بنگالیوں کو بھوکا مارنا ہو ’متحدہ سوویت یونین کے نام پر اسٹالن کا ستر لاکھ یوکرینس کا قتل عام ہو یا امریکن صدر اور عالمی جنگ کے ہیرو جانسن کا ویتنام عوام کی مدد کے بہانے بیس لاکھ ویتنامیوں کو صفہ ہستی سے مٹا دینا۔ جمہوریت نے نا صرف ان کو یہ سب کرنے کا جواز دیا بلکہ یہ سب جرائم کرنے کے باوجود عوامی مواخذہ سے بچنے کا باعزت قانونی راستہ بھی فراہم کیا۔ کئی جمہوری ممالک میں اکثر کے نزدیک یہ آج بھی مثالی شخصیتیں ہیں۔
نا صرف یہ بلکہ حالیہ دور میں بدعنوانی جمہوریت کا ایک لازم جز سی بنتی جا رہی ہے۔ امریکا سمیت کئی ممالک میں لابنگ ’عوامی رائے ہموار کرنے سمیت کئی ایسے معاملات کو قانونی شکل دے کر الیکشن سسٹم کا حصہ بنایا گیا ہے‘ جو آج بھی ہمارے قوانین کے مطابق کرپشن ہی گردانی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکا کی حالیہ الیکشن میں 14
بلین ڈالرز عوامی رائے ہموار کرنے پر خرچ ہوئے (ہم صرف 1.4 بلین ڈالرز کی وجہ سے ڈیفالٹ کے دہانے کھڑے ہیں ) ۔ شاید الیکشن کے دنوں میں انہی مالی خدمات کا ثمر ہے کہ دنیا بھر کی نامور کمپنیاں کوئی ٹیکس نہیں بھرتیں۔ اس سب قانونی تحفظ کے باوجود کینیڈا کے صدر جسٹن ٹروڈو سے لے کر برطانیہ جیسے مثالی جمہوری ملک کے وزیراعظم ٹونی بلیئر تک کو بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی لسٹ میں حالیہ دنوں میں تازہ اضافہ امریکن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہے (ہمارے ایسے ملکوں کا تو کیا ہی تذکرہ کرنا) ۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہر وہ طریقہ جس میں کسی کو اقتدار سونپنے سے پہلے عوام کی رائے کو ملحوظ خاطر رکھا جائے وہ جمہوری طریقہ ہی ہے۔ آپ اپنی علاقائی ’سماجی یا دینی سہولت کے حساب سے معمولی رد و بدل کر کے اسے پارلیمنٹری‘ صدارتی یا خلافت کے نظام کا نام دے سکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو جمہوریت ہے ہی عوام کی حکومت میں شراکت داری کا نام جہاں حکمران اقتدار کو عوام کی امانت سمجھے۔ بدقسمتی سے حالیہ دور میں دنیا کے کسی خطے میں ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
جن ممالک میں بادشاہی نظام ہے وہاں پھر بھی کچھ چیک اینڈ بیلنس ہے۔ جہاں ایسا کوئی نظام موجود نہی وہاں یاں تو جمہوریتوں نے روس اور چائنا کی طرح نئی دانا شاہیاں تشکیل دی ہیں ’یا چیک اینڈ بیلنس کی یہ ذمے داری قانون سے ماورا ہو کر اپنے تئیں کچھ اداروں نے سنبھالی ہوئی ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ انارکی ہی رہا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ اس حقیقت کا سامنا کیا جائے کہ اب تک کے آزمائے گئے نظاموں میں بہترین نظام جمہوریت ہی سہی لیکن جمہوریت کبھی تمام سیاسی مسائل کا حل نکالنے اور آمروں کو روکنے کے قبل نہیں رہی۔ انسان ذات کی سب سے بڑی خوبی ارتقا ہے ’جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم انسانوں کے پاس اب یہ سہولت موجود ہے کہ کوئی ایسا نظام اپنایا جائے جس میں عوام بالواسطہ نہیں ڈائریکٹ اپنی رائے کا اظہار کر سکے۔ کوئی ایسا نظام جس میں اداروں کی بریفنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کی شمولیت کی بنیاد پر ان ہی اداروں کے لیے پالیسیاں اور قوانین بنیں۔ اور ضرورت پڑے تو انسانوں پے انسانوں کی حکومت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے۔ آخر جمہوریت کا بنیادی مقصد بھی تو یہی تھا کہ حکمرانی عوام کی ہی ہو افراد یا اداروں کی نہیں۔

