صحت کا عالمی دن۔ 7 اپریل، 2023


صحت کا حق ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ ہر ایک کو۔ وہ کوئی بھی ہو۔ جہاں بھی ہو، اسے معاشی مسائل کے بغیر ان صحت کی سہولیات تک رسائی ہونی چاہیے جن کی اسے ضرورت ہے۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کی 30 فیصد آبادی کو صحت کی ضروری خدمات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ 2022 کے مطابق تقریباً 99 فیصد دنیا کی آبادی آلودہ فضا میں سانس لے رہی ہے۔ دو ارب انسان صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولت سے محروم ہیں۔ 22 فیصد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ 30 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیاں پوری دنیا میں لاکھوں لوگوں کی صحت کو متاثر کر رہی ہے۔ اور یہ معلوم ہے کہ رواں صدی میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے صورت حال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ وبائی امراض، تشدد، جنسی استحصال، دہشت گردی اور جنگوں کی وجہ سے گزشتہ تین دہائیوں سے ذہنی مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

صحت میں عدم مساوات کی بنیادی وجہ غربت ہے۔ کم آمدنی والے ممالک اس صورت حال میں انتہائی بھیانک نتائج کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں اوسط عمر زیادہ آمدنی والے ممالک سے 34 سال کم ہے۔ اسی طرح سے پانچ سال سے کم عمر بچوں کی وفات کی شرح 100 گنا زیادہ ہے۔ تشدد اور خودکشی کی وجہ سے ہونے والی اموات 30 گنا زیادہ ہیں۔

ہمارا ملک پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے جس کا شمار دنیا کی بڑی آبادی والے ممالک میں ہوتا ہے مگر صحت کے حوالے سے ہمارا شمار نچلے درجے میں ہوتا ہے۔

تقریباً دو کروڑ لوگ بنیادی صحت اور نکاسی آب کی سہولت سے محروم ہیں۔ سات کروڑ لوگ غیر معیاری پانی پینے پر مجبور ہیں۔ دس فیصد آبادی ہیپاٹائیٹس بی اور سی کے مرض کا شکار ہے۔ دنیا میں پولیو کا مرض تقریباً ختم ہو چکا ہے مگر وطن عزیز کا شمار ابھی بھی ان تین ممالک میں ہوتا جہاں پولیو موجود ہے۔ ہمارے لوگوں میں حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے ابھی تک تحفظات موجود ہیں جس کی وجہ سے ہم سو فیصد کوریج نہیں کر پاتے۔

دل کے امراض، شوگر، ہائپر ٹینشن، کینسر اور دماغی امراض کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ پینتالیس فیصد سے زیادہ ہمارے بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔ ایک چوتھائی بالغ افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے۔ ہر سال پاکستان میں چار ہزار لوگ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اسی طرح سے ہر چوتھے آدمی کو کوئی نہ کوئی ذہنی مرض لاحق ہے۔

ماحولیات کے حوالے سے جائزہ لیں تو کراچی اور لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سے ہیں۔ جنگلات ہمارے ہاں 2 فیصد سے بھی کم ہیں۔ دنیا کے بعض ممالک میں تو یہ 70 فیصد تک ہے۔ انڈیا میں یہ 20 فیصد ہے۔ ملائشیا میں 63 فیصد ہے۔ ہمارا دریا سندھ دنیا کا دوسرا بڑا آلودہ دریا ہے۔ ہمارے ہاں تقریباً 20 ہزار سے اینٹوں کے بھٹے ہیں جو ہمارے ماحول کو زہر آلودہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح سے دوسری صنعتوں سے خارج ہونے والا زہریلا پانی اور دوسرے اخراج کو ٹریٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ قوانین موجود ہیں مگر ان پر عمل درآمد ایک چیلنج ہے۔

ان تمام مسائل کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہم معاشی بدحالی اور غلط ترجیحات کی وجہ سے صحت کے شعبے میں جی ڈی پی کا دو فیصد سے زیادہ بجٹ مختص نہیں کر پائے جب کہ عالمی ادارہ صحت کم از کم 5 فیصد بجٹ صحت کی سہولیات پر خرچ کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسی ساز یونیورسل ہیلتھ کوریج کے لیے مطلوبہ بجٹ مختص کریں کیونکہ ایک خوشحال معاشرے کے لیے مضبوط صحت کے نظام میں سرمایہ کاری بہت ضروری ہے۔ صحت کے لیے عوامی مالی اعانت میں اضافہ اور دوسرے اخراجات کو کم کرنا، انسانی زندگیوں کو بچانے کے لیے اہم ہے۔

شواہد بتاتے ہیں کہ ہمارے ہاں پرائمری ہیلتھ کیئر کا سسٹم لوگوں کو صحت کی خدمات بہم پہنچانے اور ان کی بہبود کے لیے سب سے زیادہ موثر اور کم لاگت طریقہ کار ہے۔ اس لیے پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو استعمال میں لاتے ہوئے مربوط قومی صحت کے نظام کو استوار کیا جا سکتا ہے۔ یہ صحت کا نظام تمام عمر کے افراد کے لیے اور صنفی ضروریات سے ہم آہنگ ہو اور اپنی خدمات کو ان لوگوں کی رسائی تک یقینی بنائے جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں۔ اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے ہمیں جہاں تربیت یافتہ صحت اہلکاروں کی ضرورت ہے وہیں اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ لوگ خود اپنی صحت کی دیکھ بھال اور بیماری سے بچنے کے لیے متحرک ہوں اور اپنے معالج کے ساتھ قریبی رابطہ استوار رکھیں۔

عالمی ادارہ صحت کی بنیاد 1948 کو رکھی گئی تھی۔ اس کے بنانے کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کے تمام انسانوں خاص طور پر کمزوروں کو صحت کی بنیادی سہولیات تک رسائی کے لیے یہ ادارہ اپنا کردار ادا کرے۔ آج یہ ادارہ اپنی 75 ویں سالگرہ جس مقصد کے تحت منا رہا ہے وہ ہے ”صحت سب کے لیے“ ۔

کووڈ۔ 19 اور دیگر صحت کی ہنگامی صورت حال، انسانی اور موسمیاتی بحرانوں، معاشی مسائل اور جنگوں کے حالات نے۔ ”صحت سب کے لیے“ کو اب ازبس ضروری بنا دیا ہے۔ یاد رکھیں یونیورسل ہیلتھ کوریج دراصل ایک سیاسی اور معاشرتی انتخاب ہے۔ اس کے لیے مضبوط قیادت اور عوامی مطالبے کی ضرورت ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی اور مقامی رہنما یونیورسل ہیلتھ کوریج کے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں اور خود کو سول سوسائٹی کے سامنے جوابدہ ٹھہرائیں۔

Facebook Comments HS