وہ ظلم کرے میں ظلم سہوں! یہ رسم ابھی تک باقی ہے

غزہ جل رہا تھا۔ اس کی تپتی ہوئی زمین، وہ شعلہ بار فلک، دشمنوں کے ہزار گھات۔ باپ اور بڑے بھائی کی ایک ساتھ شہادت کے غم میں نڈھال وہ آٹھ سالہ محمود اپنی ماں کا ہاتھ تھامے، بھوک، پیاس اور بے سروسامانی سے بھرے ہوئے اس جہان میں جیسے خون کے ایک سمندر میں کھڑا تھا۔ گھر کا گلستان اجڑ کر ایک کھنڈر بن چکا تھا۔ والدہ تھی کہ شہید شوہر اور بیٹے کی یاد رلاتی تو خدا کا

Read more

چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

میری آنکھ نے جب اس دنیا کے تصور کو محسوس کیا تو میں نے اپنے آپ کو اس سرسبز و شاداب اور مضبوط شجر کی بانہوں میں پایا۔ وقت کے ساتھ میرا قد جتنا بھی بڑا ہوتا گیا، اوپر دیکھنے میں میرا سایہ وہی ایک شجر تھا۔ جب آسمان میں اپنے پروں کو پھیلا کر اڑنے کا وقت آیا تو کئی سالوں میں حاصل کی گئی اپنی بلند چوٹی کو اس شجر نے ایک ہی لمحے میں میرے قدموں کے

Read more

میرے درد کو جو زباں ملے

اللہ تعالی کے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کو تبلیغ اسلام کی پاداش میں مشکلات، تکالیف اور آزمائشوں سے یوں دوچار ہونا پڑا کہ مکہ میں جان لیوا مظالم، جانثاروں کی مظلومانہ بے بسی، شعب ابی طالب کا تین سالہ محاصرہ، قریشیوں کے ظلم و ستم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ سے تھک کر آپ نے مکہ سے باہر کو نظر دوڑائی اور طائف کی طرف سفر کرنے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت زید بن حارثہ کو ہمراہ لیا اور

Read more

میری بوتل میری مرضی

اس تاریک رات کے غضبناک سمندری طوفان میں وہ پرانی کشتی ہم سب مسافروں کی زندگی کا واحد سہارا تھی جس کا پیندا پانی اور ریت سے بھر چکا تھا۔ ساحل قریب تھا مگر ٹھاٹھیں مارتی لہروں کے سامنے زندگی کی امید بہت دور دکھائی دے رہی تھی۔ نئی سحر کے منتظر ملاح اور مسافروں کو جب ہر امید کجلاتی ہوئی محسوس ہوئی تو مرکز نگاہ وہ چند مذہبی اور باشعور رہنما ہی رہ گئے جو اللہ کی بارگاہ میں

Read more

دولے شاہ کا چوہا

آج دفتر سے واپسی پر گھر پہنچا تو سیدھا اپنے کمرے میں داخل ہو کر بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گیا۔ دل بہت اداس تھا اور وجہ میری سمجھ سے بالاتر تھی۔ شاید میں تھک گیا تھا ایک مکمل انسان بننے کی ہر ہر کوشش سے، فکر اور غموں کی نوکری کرتے کرتے، اپنی پلکوں پر جلتے خوابوں کی راکھ سنبھالتے، ایک کے بعد دوسری امید پر آس لگاتے یا شاید پھر اپنے آپ میں سے گرز کر زندگی کو ایک انجانے مدار میں گھومتے دیکھ کر۔ آج مجھے اپنے اندر کئی صدیوں کا سناٹا سنائی دے رہا تھا اور اس خاموشی کی گود میں سر رکھ کر نجانے کب میری آنکھ لگ گئی۔

Read more

کہانی دینِ محمد کی

عرب کے لق و دق صحرا میں جب میری آنکھ کھلی تو ایک نایاب سفید گھوڑے کے طور پر میرا تذکرہ دور دور تک پھیل گیا۔ میرا ظاہری حسن و جمال اور طاقتور متن مجھے ہر نسل کے دیگر گھوڑوں سے الگ اور ممتاز کر رہا تھا۔ وہاں کے باسی مجھے رشک اور حسد کی نگاہ سے چھپ چھپ کر تاکتے رہے۔ کسی نے میرے سفید رنگ کو سادگی، وقار، پاکیزگی اور امن کہا تو کسی نے میرے چوڑے ماتھے

Read more

ریل کا انجن

وہ بڑی شان سے فراٹے بھرتا، سیٹیاں بجاتا، پلیٹ فارم کی جانب رواں دواں تھا۔ کیوں نا ہوتا، اس پر افشائے راز جو کیا گیا تھا کہ وہ کنبے کا سربراہ ہے۔ ریل گاڑی اور اس میں موجود مسافروں کی تمام تر حرکت تمھاری بدولت ہے۔ تمھارے زور بازو ہی پر تو منزلوں کا حصول ہے۔ جب تمھاری بدولت ریل گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی، سرسبز کھیتوں میں سے گزرتی ہے تو فاصلوں کی شان بڑھ جاتی ہے اور یہ قضیہ کئی مسافروں کی محبتوں، ناتوں اور ان سے جڑی امیدوں کی امین ہیں۔

دیکھو تمھاری رفتار اور کارکردگی میں فرق آیا تو مسافروں کی اس نا امیدی کے اپرادھی صرف تم ہو گے۔ وقت کے پروں پر گداز، تند و تیز موسموں اور اس کی سختیوں میں اپنی تمنائے سروری کی چاہ نہیں رکھنی، بلکہ خودی کی موت اس لیے مناسب ہو گی کہ ریل کی پٹری کے قرب و جوار میں موجود بچوں کی مسکراہٹ کا باعث صرف تم ہو۔ بس ان کو دیکھ کے سیٹی ضرور بجانا۔ ارے بولنا مت! یہ ریل کی پٹری صراط مستقیم ہے۔ اس سے مت تجنا ورنہ کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہو گا اور کئی نسلیں اس غفلت کو بھگتیں گیں۔

Read more