وہ بڑی شان سے فراٹے بھرتا، سیٹیاں بجاتا، پلیٹ فارم کی جانب رواں دواں تھا۔ کیوں نا ہوتا، اس پر افشائے راز جو کیا گیا تھا کہ وہ کنبے کا سربراہ ہے۔ ریل گاڑی اور اس میں موجود مسافروں کی تمام تر حرکت تمھاری بدولت ہے۔ تمھارے زور بازو ہی پر تو منزلوں کا حصول ہے۔ جب تمھاری بدولت ریل گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی، سرسبز کھیتوں میں سے گزرتی ہے تو فاصلوں کی شان بڑھ جاتی ہے اور یہ قضیہ کئی مسافروں کی محبتوں، ناتوں اور ان سے جڑی امیدوں کی امین ہیں۔
دیکھو تمھاری رفتار اور کارکردگی میں فرق آیا تو مسافروں کی اس نا امیدی کے اپرادھی صرف تم ہو گے۔ وقت کے پروں پر گداز، تند و تیز موسموں اور اس کی سختیوں میں اپنی تمنائے سروری کی چاہ نہیں رکھنی، بلکہ خودی کی موت اس لیے مناسب ہو گی کہ ریل کی پٹری کے قرب و جوار میں موجود بچوں کی مسکراہٹ کا باعث صرف تم ہو۔ بس ان کو دیکھ کے سیٹی ضرور بجانا۔ ارے بولنا مت! یہ ریل کی پٹری صراط مستقیم ہے۔ اس سے مت تجنا ورنہ کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہو گا اور کئی نسلیں اس غفلت کو بھگتیں گیں۔
Read more