بلاول کے منتظر پنجاب اور پنجابیوں کی نئی نسل


محترم فرخ سہیل گوئندی کی کتاب ”میں ہوں جہاں گرد“ پڑھتے ہوئے معلوم ہوا کہ ترکی نے اپنے ملک میں موجود کرد ریجن میں کرد آبادی پر کردش زبان پڑھنے اور لکھنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے اور درمیان میں کچھ عرصہ تو پبلک مقامات پر بھی انہیں اپنی زبان بولنے کی اجازت نہیں تھی حالانکہ کرد وہاں کی سب سے بڑی اقلیتی آبادی ہے اور ترکی کی کل آبادی کے بیس فیصد کے لگ بھگ ہیں۔ یقیناً ایسا پہلے بھی دیگر ممالک اور دنیا کے حصوں میں ہوتا رہا ہو گا اور شاید اب بھی کہیں کہیں ہوتا ہو کہ کسی کمیونٹی کو اس کی زبان لکھنے پڑھنے ہی نا دی جاتی ہو

لیکن پاکستان میں اس سلسلے کی سب سے منفرد، بھیانک اور تشویشناک مثال ہے کہ یہاں پر اکثریتی آبادی یعنی پنجابیوں کو ان کی مادری زبان پڑھنے اور لکھنے کی سہولت ہی حاصل نہیں ہے، پنجاب بھر کے اسکولوں میں پنجابی پڑھانے لکھانے سکھانے کا سرے سے کوئی انتظام ہی نہیں ہے اور ایک غیر تحریری سی پابندی کی سی کیفیت ہے، ایسا تو دنیا بھر میں نا کہیں اور دیکھا نا ہی سنا

حتیٰ کہ میں نے کچھ عرصہ پہلے پنجاب اسمبلی کا ایک وڈیو کلپ دیکھا کہ پیپلز پارٹی کے معروف رکن صوبائی اسمبلی جناب حسن مرتضٰی نے اسمبلی میں اپنی بات پنجابی زبان میں کرنی چاہی تو اسپیکر صاحب نے منع کر دیا جس پر انہوں نے انتہائی لجاجت اور التجائیہ لہجے سے عرض کیا کہ سر ماں بولی ہے اس میں کچھ بولنے کی اجازت دی جائے تب بڑی مشکل سے اسپیکر صاحب نے انہیں چند منٹ بولنے کی اجازت دی

یعنی کہ پنجاب ہی کی اسمبلی میں وہیں کی زبان پنجابی ہی نا بولے دیے جانا، یہ کس قسم کا غیر متوقع اور ششدر کر دینے والا اقدام ہو سکتا ہے اس کی گمبھیرتا کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں

جبکہ میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ سندھ میں سندھی، اردو۔ بلوچستان میں بلوچی، پشتو، سندھی اور سرائیکی اور خیبر پختونخوا میں پشتو، ہندکو، سرائیکی بھی قومی زبان اردو کے ساتھ ساتھ پڑھائی جا رہیں ہیں اور یہ انتہائی قابل قدر اور قابل تقلید ہے

اب مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ کون لوگ پاکستان میں پنجابی زبان سے خوف محسوس کر رہے ہیں اور اگر کر رہے ہیں تو کیوں؟ یا یہ ریاستی یا غیر ریاستی جبر کی کون سی شکل ہے یا وہ کون عناصر ہیں جو دنیا بھر کی نویں نمبر پر بولی جانے والی بڑی زبان، دس بارہ کروڑ پر مبنی ایک قدیم قوم کی قدیم زبان کو بتدریج ختم کرنے کے درپے ہیں اور ان کا ایجنڈا کیا ہے لیکن مجھے یہ ضرور معلوم ہے مادری یا جغرافیائی زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لئے اقوام متحدہ کی کتنی ہی قراردادیں، ہدایات اور اس حوالے سے دنیا بھر کا اتفاق رائے ضرور موجود ہے نیز دنیا بھر کے تعلیمی ماہرین کے مطابق بھی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کو بہتر IQ لیول کے حصول اور تخلیقی ذہن کو پروان چڑھانے کی درست ترین راہ قرار دیا گیا ہے

میں پاکستان کے صوبہ سندھ میں رہتا ہوں اور مجھے فخر ہے کہ میرے شہر کراچی میں واقع سندھ اسمبلی میں سندھی بھی بولی جاتی ہے اردو بھی اور انگریزی بھی

مجھے یقین ہے کہ پنجاب میں موجود یہ انتہائی توجہ طلب، دیرینہ مسئلہ بھی طرح پاکستان میں مقامیت اور اقوام کے وجود کا ادراک و اعتراف رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی روشن خیال اور ترقی پسند قیادت ہی حل کرے گی اور پنجاب کے اسکولوں میں کم از کم ابتدائی کلاسوں میں وہاں کے عوام کی زبان پنجابی کو ذریعہ تعلیم یا لازمی مضمون کے طور شامل کرنے کے مدعے کو اپنے انتخابی منشور میں بطور وعدہ شامل کرتے ہوئے اسے نافذ کروانے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح پورے ملک سمیت پنجاب بھر کے عوام کے حقوق کی پاسداری، خدمت، رہنمائی اور قیادت کرنے میں پیش پیش رہے گی

یقیناً بلاول بھٹو زرداری بھی اس سمت میں اولین پیش قدمی کرتے ہوئے اپنی شہید والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ”چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر“ کے نعرے کو حقیقت میں بدلنا چاہیں گے

Facebook Comments HS