غزوہ بدر: عجز اور تکبر کا پہلا معرکہ

17 رمضان غزوہ بدر کی مناسبت سے اہمیت کا حامل ہے۔ جہاں عجز اور تکبر آپس میں آمنے سامنے ہوئے اور تکبر کی ناک خاک آلود ہوئی۔ یہ جنگ محض تاریخ کے اوراق میں ہی محفوظ نہیں بلکہ خالق کائنات نے اسے آخری منبع رشد و ہدایت میں بھی ایک سے زائد جگہوں پہ بیان کیا ہے۔
قرآن کریم کی سورت آل عمران کی آیات 12 13 اور 123 سے 127 میں، سورت نساء کی آیات 77 اور 78 میں اور سورت انفال کی آیات 1 سے 19 تک اور 36 سے 51 تک نیز آیات 67 سے 71 تک، میں غزوہ بدر کی طرف اشارہ ہوا ہے اور اس کو یوم الفرقان کا نام دیا گیا ہے۔ ان آیات کریمہ میں مشرکین کے لاحاصل اقدامات کو سابقہ اقوام بالخصوص آل فرعون سے تشبیہ دی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ اس جنگ میں کفار و مشرکین کی شرکت شیطان کے مکر و فریب کا نتیجہ تھی۔
جب نبی کریم ﷺ کو اندازہ ہوا کہ اب جنگ ناگزیر ہے تو آپ (ص) نے لشکر میں موجود انصار اور مہاجرین سے مشورہ طلب کیا۔ مہاجرین میں سے حضرت مقداد نے عرض کیا:
”ہم موسیٰ کی امت کی طرح نہیں ہیں جس نے موسیٰ سے کہا کہ تم اور تمہارا رب دونوں لڑو۔ ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں، آگے پیچھے آپ کے ساتھ لڑیں گے“
یہ سن کر آپ نے دوبارہ مشورہ طلب کیا تو انصار میں سے سعد بن عبادہ نے عرض کیا کہ غالباً آپ مہاجرین کی بجائے انصار سے رائے جاننا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا کہ:
” یا رسول اللہ! ہم آپ پر ایمان لائے ہیں۔ ہم نے آپ کی تصدیق کی ہے اور گواہی دی ہے کہ جو کتاب آپ لائے ہیں وہ حق ہے اور ہم نے آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کیا ہے۔ یا رسول اللہ جس طرف مرضی ہو تشریف لے چلیے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو معبوث کیا اگر آپ ہم کو سمندر میں گرنے کا حکم دیں گے تو ہم ضرور اس میں گر پڑیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی باقی نہ رہے گا۔“
بدر کے مقام پہ پہنچ کر جس جگہ کو پڑاؤ کے لیے منتخب کیا اس کی بابت جنگ کی حکمت عملی کے ماہر صحابی حضرت حباب بن المنذر نے دریافت کیا یا رسول اللہ کیا اس جگہ کو آپ نے وحی الٰہی کے تحت منتخب کیا ہے یا اپنی رائے سے؟ نبی کریم (ص) نے فرمایا اپنی رائے سے۔ جناب حباب (رض) نے کہا یہ جگہ مناسب نہیں۔ اگر ہم قریش کے لشکر کے قریب والے کنویں پہ پڑاؤ ڈالیں اور باقی کنویں بند کر دیں تو جنگ شروع ہونے سے قبل ہمیں مخالف لشکر پہ برتری حاصل ہو جائے گی کیونکہ مخالف لشکر پانی کی رسد میں تنگی محسوس کرے گا۔ نبی کریم (ص) نے مشورہ قبول کر لیا۔ اس سے یہ نقطہ ثابت ہوتا ہے کہ ٹیکنیکل مشاورت پہ تقدیس کو ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔
جنگ سے قبل رات بھر نبی کریم (ص) اپنے خیمے میں سجدہ ریز رہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہے۔ جو دعا تاریخ میں نقل ہوئی ہے اسے پڑھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ نبی کریم (ص) کس قدر اپنے مشن کو لے کر متفکر تھے آپ نے اللہ سے دعا کی:
”اے خدا! یہ قریش ہیں اپنے سامان غرور کے ساتھ آئے ہیں تاکہ تیرے رسول کو جھوٹا ثابت کریں۔ اے اللہ اب تیری وہ مدد آ جائے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا۔ اے اللہ! اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہو گئی تو پھر روئے زمین پر تیری عبادت کہیں نہیں ہوگی۔“
جنگ شروع ہوئی تو عرب رواج کے مطابق اہل قریش کے تین معزز سرداروں عتبہ، شیبہ اور ولید نے میدان جنگ میں اپنے مخالف مبازرت طلب کی۔ نبی کریم (ص) نے انصار میں سے تین صحابہ اکرام کو جنگ کے لیے بھیجا لیکن قریشی جنگجووں نے تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اپنی تحقیر محسوس کیا کہ وہ خود سے کمتر کسی قبیلے کے شخص کے مقابلے میں لڑنا قبول کر لیں۔ انہوں نے نبی کریم (ص) سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے لیے ان کے رشتہ دار قریشی افراد کو بھیجیں تو آپ ﷺ نے یہ بھی قبول کر لیا اور ان کے مقابلے پہ اپنے سب سے عزیر چچا زاد بھائی حضرت علی المرتضیٰ، اپنے دوسرے چچا زاد عبیدہ بن حارث اور اپنے پیارے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب کو بھیجتے ہوئے کمال کا اصول بیان فرما دیا کہ تحریک اس وقت کامیاب ہوتی جب مشکل ترین وقت میں اپنے سمیت اپنے پیاروں کو سب سے آگے کیا جائے ناکہ کامیاب ہونے کے بعد ۔ جو لیڈرز خود کو اور اپنے بچوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں رکھ کر پیروکاروں سے قربانی کا تقاضا کریں ان کے مقاصد اخلاص سے خالی ہوتے ہیں۔
جنگ نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔ 14 مسلمانوں کے مقابلے میں 70 کفار واصل جہنم ہوئے جن میں سے 38 کو صرف حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہ الکریم نے قتل کیا۔ قریب قریب سبھی بڑے بڑے سردار جن میں عتبہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، ابو الخبتری، حنظلہ بن ابی سفیان، حارث بن عامر بن نوفل، طعیمہ بن عدی، زمعہ بن الا سود، نوفل بن خویلد، امیہ بن خلف، منبہ بن حجاج، معبدبن وہب اور ابوجہل جیسے نبی کریم (ص) نے اپنی امت کا فرعون قرار دیا اور اس جنگ کا اصل محرک وہ ہی تھا اسی پہلی جنگ میں مارے گئے۔ یہ جنگ نئے دینی رشتوں کے قیام اور پرانے خونی رشتوں کو منہدم کرنے پہ مہر ثبت کرتی ہے کیونکہ اس جنگ میں بھائی اپنے اپنے بھائی سے برسر پیکار تھا۔
اس میدان میں دونوں طرف جو افراد ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں ان کا وطن ایک ہے، نسل ایک ہے، زبان ایک ہے حتیٰ کہ حسب و نسب کے لحاظ سے بھی وہ ایک ہیں، لیکن اس اشتراک کے باوجود وہ ایسے گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں، جن میں کسی قسم کا اشتراک نہیں۔ اس تفریق و تقسیم کی بنیاد کیا ہے؟ کفر اور اسلام۔ یہی وہ معیار تفریق تھا جس کی بناء پر ایک طرف حضرت ابوبکرؓ تھے تو دوسری طرف مقابلے میں ان کا بیٹا، ادھر حضرت حذیفہؓ تھے تو صف مخالف میں ان کا باپ عتبہ، ادھر حضرت عمر ؓ ادھر آپ کا ماموں اور ادھر حضرت علی ؓ تھے تو دوسری طرف ان کے بھائی عقیل۔
یہی نہیں ذرا آگے بڑھئے دیکھئے! ادھر خود سرور عالمﷺ تھے تو سامنے کی صف میں آپ کے چچا عباس اور داماد ابو العاص۔ یہی تھی وہ تقسیم و تفریق جس کی بناء پر حبش کا رہنے والا اپنوں میں سے تھا، لیکن حقیقی چچا غیروں میں سے، روم کا صہیب یگانہ تھا لیکن حقیقی بیٹا بیگانہ۔ گویاغزوۂ بدردو قومی نظریے کاعملی مظاہرہ تھا اور اسی سے وہ دو قومی نظریہ جس کا آغاز سلسلہ نزول وحی کی ابتداء، عہد حضرت نوح ؑسے ہو چکا تھا، ایک زندہ حقیقت بن کر سامنے آ رہا تھا۔
70 قیدیوں کو مدینہ لایا گیا۔ ان کے مستقبل پہ ایک مرتبہ پھر مشاورت کے لیے صحابہ کا اجلاس طلب کیا گیا۔ حضرت سعد بن عبادہ نے مشرکین مکہ کو جلا دینے کی تجویز دی اسی طرح حضرت عمر نے کہا کہ ہر مہاجر اپنے مشرک عزیز کو قتل کردے تاکہ اہل مکہ واضح پیغام موصول کر سکیں۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس کے برعکس نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ اپنے مشورے کی دلیل یہ بیان کی کہ ایک تو اس سے مسلمانوں کی موجودہ مالی مشکلات میں کمی واقع ہوگی دوسرا غالب امکان ہے کہ ان میں سے کچھ ایمان لے آئیں اور اسلام کی طاقت کا باعث بنیں۔ آخر میں نبی کریم ﷺ نے اپنے رائے حضرت ابوبکر کے حق میں ڈال دی۔
رسول اللہ ﷺ نے قیدی صحابہؓ میں تقسیم کر دیے اور ہدایت فرمائی کہ ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا جائے۔ مسلمانوں کا ان کے ساتھ حسن سلوک کا یہ عالم تھا کہ جب کھانا کھانے بیٹھتے تو دسترخوان کا سب سے اچھا کھانا قیدی کو پیش کرتے۔ مسجد نبوی ﷺ میں جو قیدی رکھے گئے تھے ان کے ہاتھوں کی رسی سخت تھی جس کی بناء پر انہیں تکلیف ہوتی تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ کے کانوں میں ان کے کراہنے کی آواز آئی تو آپ ﷺ نے فوری طور پر رسی ڈھیلی کروا دی۔
مکے کے لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے جب کہ مدینے میں تعلیم کا رواج عام نہ تھا۔ سو آپ ﷺ نے فرمایا ”جس قیدی کے پاس فدیے کی رقم نہ ہو، وہ مدینے کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے، تو یہی اس کا فدیہ ہو گا۔“ حضورﷺ کے چچا، عباس بھی قیدیوں میں شامل تھے۔ صحابہؓ کی رائے تھی کہ انھیں بغیر فدیہ چھوڑ دیا جائے لیکن حضور ﷺ نے اسے پسند نہیں فرمایا اور ان کی مالی حیثیت کے مطابق ان سے زیادہ فدیہ لیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کی بڑی صاحب زادی، حضرت زینبؓ کے شوہر، ابوالعاص بھی قیدیوں میں شامل تھے۔ حضرت زینبؓ مکے میں تھیں انہیں فدیہ جمع کروانے کا پیغام ملا تو اس وقت گھر میں کچھ نہ تھا۔
عزیز رشتے دار بھی مدد کو تیار نہ تھے۔ اچانک انہیں اس قیمتی ہار کا خیال آیا جو ان کی والدہ نے رخصتی کے وقت انہیں پہنایا تھا۔ چناں چہ اس ہار کو شوہر کے فدیے کے عوض مدینہ بھجوادیا۔ ابوالعاص کے چھوٹے بھائی عمر بن ربیع یہ ہار لے کر مسجد نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ”اے اللہ کے رسول ﷺ ! میری بھابھی زینبؓ نے اپنے شوہر کی رہائی کے لئے زر فدیہ بھیجا ہے قبول فرمایئے۔“ حضور ﷺ کی نظر ہار پر پڑی، تو بے اختیار اپنی جانثار زوجہ، حضرت خدیجہ ؓیاد آ گئیں۔
آنحضرت ﷺ سے نکاح کے وقت وہ ہار ان کے گلے میں تھا۔ ان یادوں نے آپ ﷺ پر رقت طاری کردی۔ صحابہؓ سے فرمایا ”اگر مناسب سمجھو تو بیٹی کو ماں کی یادگار واپس کردو۔“ صحابہؓ نے اشک بار آنکھوں سے نہ صرف ہار واپس کیا، بلکہ ابو العاص کو بھی رہا کر دیا۔ ابو العاص جب مکہ جانے لگے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”اے ابو العاص! ہماری بیٹی کو ہمارے پاس بھیج دینا۔“ ابو العاص نے مکہ پہنچتے ہی حضرت زینبؓ اور ان کے دونوں بچوں، علی اور امامہ کو مدینہ روانہ کر دیا۔
غزوہ بدر کو اللہ نے یوم فرقان کے طور پہ ہماری یاداشت کا دائمی حصہ بنا دیا ہے۔ غرور تکبر کی ناک ہمیشہ خاک آلود رہے گی۔ عاجزی انکساری ہی ہمیشہ کامیابی سے ہم کنار ہوں گی۔
ہتھیار ہیں اوزار ہیں افواج ہیں لیکن
وہ تین سو تیرہ کا لشکر نہیں ملتا

