کاری

سندھ کے بالائی علاقوں میں جولائی کا مہینہ یوں تو بہت گرم ہوتا ہے لیکن ستائیس جولائی کی شب اس بار کچھ زیادہ ہی گرم تھی، یوں لگ رہا تھا جیسے سورج زمین پر اتر آیا ہو۔ رات کے بارہ سوا بارہ بج رہے تھے لیکن گرمی تھی کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ ہر سو جھینگر کی آوازیں گونج رہی تھیں، گاؤں کے کتوں کے بھونکنے کی آواز دھیمی دھیمی سنائی دے رہی تھی۔ دور دراز سے وقتاً فوقتاً کسی گیدڑ کے ہوک اٹھتی اور موت جیسے سناٹے کو چیرتی ہوئی دور دور تک پھیل جاتی، چاول کے کھیتوں میں کھڑے پانی میں سے مینڈکوں کی ٹر ٹر بھی ماحول کو ڈراؤنا بنا رہی تھی۔ سندھ کے شمالی شہر ڈہرکی سے کچھ ہی میل دور، ایک چھوٹے سے گاؤں کے باہر شدید گرمی کی وجہ سے پسینے میں شرابور لوگوں کا مجمع تھا۔ وہ کسی کا انتظار کر رہے تھے۔
”خدو، ابھی تک کیوں نہیں پہنچا،“ بھیڑ میں سے کسی ادھیڑ عمر نے گرجدار بھاری آواز میں پوچھا۔
”بابا وہ بس ابھی آ ہی رہا ہو گا،“ خدو عرف خدا بخش کے چھوٹے بھائی علو نے جواب دیا۔
”کسی کو بھیجو، جلدی اس کو لے کرائے،“ ادھیڑ عمر نے تحکمانہ انداز میں کہا، وہ ادھیڑ عمر شخص برادری کا مقدم حضور بخش تھا۔
مجمع میں شامل لوگ ادھر ادھر ٹہل رہے تھے۔ کچھ کے کاندھوں پر کلاشنکوف اور اکثر کے کندھوں پر سنگل بیرل اور ڈبل بیرل بندوق لٹک رہی تھی۔
”کاری کو لائے ہو؟“ ادھیڑ عمر شخص نے ایک مرتبہ پھر دریافت کیا۔
”جی بابا، اس کو کاریوں والے کمرے میں بند کر کے آئے ہیں،“ بھیڑ میں سے کسی نے جواب دیا۔
”ہمیں اور بھی تو کام ہیں، ایک کاری کو مارنے میں اتنی دیر کس لئے؟ گندی انگلی جتنی جلدی کاٹی جائے اتنا اچھا ہے،“ ادھیڑ عمر شخص غراتے ہوئے بولا۔
”جی بابا سائیں، میں ابھی کسی کو بھیجتا ہوں،“ خدو کے بھائی اللہ بخش عرف الو نے بولا اور ساتھ کھڑے اپنی سالی کے بیٹے کے کان میں پھپھسا کر بھیج دیا۔ لڑکا مجمعے سے نکلا اور تیزی سے دوڑنے کی رفتار سے چلتے ہوئے گاؤں کی جانب چل دیا۔
گاؤں میں قبرستان کی سی خاموشی تھی، گلیوں میں اکیلے پن جیسی ویرانی تھی۔ گھر قبروں کا منظر پیش کر رہے تھے، بس کتے ہی بھونک رہے تھے۔
اندھیرا ایسا کہ بولے آج نہ چھایا تو کیا پایا۔ صرف کاری یعنی عجیباں عرف اچھی کے گھر کی عورتیں، ماں، دو چھوٹی بہنیں، ایک بھابی، جاگ رہی تھیں۔
اچھی کی ماں شہربانو بار بار آنگن میں ٹہلنے کے لئے آتی، پھر اندر کمرے میں جاتی، قرآن پاک اٹھا کر سینے سے لگاتی، ہونٹوں ہی ہونٹوں پر کچھ بھنبھناتی، ”یا قرآن میری بیٹی، یا رسول میری اچھی،“ اور پھر واپس آنگن میں آجاتی۔ شہربانو کی اس عجیب کیفیت کو اس کی بہو، اللہ بخش عرف الو کی بیوی جمیلہ اور دو چھوٹی بیٹیاں نازاں اور زرینہ بغور دیکھ رہی تھیں۔
”جنم جلی، تم بھی دعا مانگو اچھی کے لئے،“ شہربانو نازاں کو کوستے ہوئے بولی۔
”اماں، کیا وہ اچھی کو مار دیں گے، کیا ادی اب کبھی واپس نہیں آئے گی؟“ نازاں نے شہربانو سے پوچھ لیا۔
”اچھا اچھا بولو، نبھاگی بہن کے لئے دعا مانگو،“ شہربانو بولی، لیکن وہ کاریوں کی تاریخ سے اچھی طرح واقف تھی، جو بھی لڑکی یا عورت کاریوں کے قبرستان گئی وہ دوبارہ کسی کو نظر ہی نہیں آئی یوں لگتا تھا کہ دنیا میں اس جا کوئی وجود ہی نہیں تھا، لیکن شہربانو کو کسی معجزے کی امید تھی۔
دروازے پر دستک ہوئی تو سب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے، شہربانو نے بھاگتے ہوئے دروازہ کھولا، سامنے الو کی سالی کا بیٹا کھڑا تھا۔
”میری بیٹی کو مار دیا کیا ان لوگوں نے؟“ شہربانو نے تھوک نگلتے ہوئے بھری ہوئی تھرائی آواز میں لڑکے سے پوچھا۔
”نہیں ابھی۔“ لڑکے نے جواب دیا۔
”کیا وہ اس کو مار دیں گے؟“ شہربانو نے اضطراب بھری آواز اور نم آنکھوں سے لڑکے سے پوچھا۔
”خدو گھر پر ہے کیا، مقدم نے اس کو بلانے بھیجا ہے،“ لڑکے نے سوال کا جواب دینے کے بجائے اپنا سوال داغ دیا۔
”نہیں وہ تو شام سے گھر نہیں آیا۔“ شہربانو بولی۔
لڑکا وہیں سے ہی واپس روانہ ہو گیا، شہربانو دروازے پر کواڑ چڑھا کر دوبارہ کمرے میں آ گئی، قرآن پاک اٹھا کر اپنے سے لگایا، اور ہونٹوں پہ ہونٹوں میں دوبارہ کچھ بھنبھنانے لگی۔
عجیباں، جسے اس کے محلے کی عورتیں، اچھی کہہ کر بھی پکارتی تھیں، کو آج کاری کر کے قتل کیا جانا تھا۔ اس سے پہلے برادری کے کچھ مردوں کا اوطاق پر ایک جرگہ ہوا تھا، خدو نے جرگے میں ایک اور برادری کے نوجوان سلیم پر الزام عائد کیا تھا کہ سلیم کے اس کی بہن عجیباں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ خدو نے ملزم نوجوان کے گھرانے سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یا تو کارو یعنی سلیم کو قتل کرنے کے لئے ان کے حوالے کر دیں، یا پھر خدو کی پشتینی زمین کے ساتھ اپنی ڈیڑھ ایکڑ زمین سے دستبردار ہو جائیں۔ سلیم کے گھرانے نے دونوں مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
پچھلے دنوں، رات کو بارہ بجے سے لے کر ایک بجے کھیتوں کو پانی دینے کی باری خدو کی تھی، لیکن خدو کہیں گیا ہوا تھا اور وہ وقت پر نہیں پہنچا تھا۔
ایک بجے کے بعد خدو آیا، سلیم پر زور ڈالا کہ وہ آدھے گھنٹے لئے اپنی باری سے خدو کو پانی دینے کی اجازت دے۔ لیکن سلیم نے صاف انکار کر دیا۔
”پانی مانگا ہے تمہاری بہن کا رشتہ نہیں مانگا،“ خدو نے غصے میں بولا۔
”تیری ماں کو۔ گالی کیوں بک رہے ہو، جا میں نہیں دیتا، جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لینا،“ سلیم نے بھی غصے میں جواب دیا۔
خدو نے غضبناک آنکھوں سے سلیم کو گھورا اور داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ”میں تمہیں دیکھ لوں گا۔“
الو کی سالی کا بیٹا مجمعے تک پہنچا تو خدو پہلے سے ہی وہیں موجود تھا۔
”کیا کہتے ہو، کلہاڑی سے کاری کو مارو گے یا کارتوس زیاں کرو گے؟“ مقدم نے خدو سے پوچھا۔
”کارتوس سلیم کو مارنے میں کام آئے گا، اس کے لئے تو کلہاڑی ٹھیک رہے گی، ابھی ابھی سان گر سے تیز کروا کر آیا ہوں،“ خدو غرایا۔
”ٹھیک ہے تو پھر جاؤ کھیت والی کوٹھری پر، کاری کو الو نے وہاں بند کیا ہے،“ مقدم نے خدو کو بولا۔
خدو نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے رومال جھاڑ کر کندھے پر رکھا اور اس پر اپنی کلہاڑی سادھ کر کوٹھڑی کی جانب چل دیا۔ الو اور الو کی سالی کا بیٹا بھی اس طرف چل دیے۔
اندھیرے کمرے میں اچھی دروازے کے ساتھ مٹی کی دیوار، جو ہلکی سی نم تھی، کو ٹیک لگائے اپنی زندگی کا فیصلہ سننے کی منتظر بیٹھی تھی اور بار بار آیت الکرسی پڑھ کر اپنے اوپر دم کر رہی تھی، شام کا منظر بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا، وہ نازاں کے ساتھ بیٹھی گھر کے برآمدے میں کانچ کی ٹوپی ٹانک رہی تھی، خدو گھر آتے ہی چارپائی پر اکڑ کر بیٹھ گیا۔
ہمیشہ کی طرح اچھی اٹھی اور پانی کا کٹورا لے کر بھائی کے پاس آئی۔
”اماں تیری بیٹی اچھی کاری ہے، اس کو مرنا ہو گا۔“ خدو نے شہربانو کی طرف دیکھتے ہوئے غضبناک لہجے میں بولا۔
”کیا بول رہے ہو، نشے میں ہو کیا؟ یتیم اور نمازی بہن پر ایسا الزام لگاتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آئی؟“ شہربانو بولی۔
”میں نے بولا کاری ہے تو کاری ہے، اس کو مرنا ہو گا،“ خدو نے پانی کا کٹورا زمین پر پھینکتے ہوئے بولا اور باہر چلا گیا۔
آدھے گھنٹے بعد الو گھر آیا، اچھی برآمدے میں عصر کی نماز پڑھ کر جانماز لپیٹ ہی رہی تھی کہ الو نے آگے بڑھ کر دوپٹے کے اوپر سے اس کے بالوں کی چٹیا پکڑ لی، اور گھسیٹتا ہوا باہر لے گیا اور برادری کے مقدم کی کھیتوں میں کچی اینٹوں اور گارے سے بنے ہوئے بغیر کھڑکی والے کمرے میں لے جا کر بند کر دیا، جو کاریوں کی کوٹھی کے طور پر بھی جانی جاتی تھی۔
کوٹھڑی میں پہلے ہی گھپ اندھیرا تھا، مغرب کے بعد تو کوٹھڑی میں اتنا اندھیرا چھا گیا کہ ہاتھ نہ بوجھے ہاتھ کو، کمرے میں مٹی اور خون کی ملی جلی بدبو پھیلی ہوئی تھی۔
پچھلے چھ ساڑھے چھ گھنٹے اچھی ہر سیکنڈ وہ اندھیرے کمرے میں مرتی رہی، پسینہ رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا، بند کمرے میں گھٹن کی وجہ سے وہ دروازے کے ساتھ دیوار کو ٹیک لگا کر بیٹھی رہی، اس کو یقین تھا کہ اس کو کچھ نہیں ہو گا کیونکہ وہ پاک تھی، اس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا، نہ وہ بدکردار تھی۔ لیکن اچھی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کے بھائی خدو کے دل میں کیا کہانی چل رہی تھی۔
چھ گھنٹے بعد کمرے کا دروازہ اچانک کھلا تو اچھی ڈر کے مارے کھڑی ہو گئی۔
اندھیرے میں خدو نے جیب سے موبائل نکال کر اس کی ٹارچ جلائی۔
”ادا ہو؟“ اچھی نے دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے پوچھا تو خدو نے ٹارچ اس طرف گھما دی جہاں سے اچھی کی آواز آئی تھی۔
”کاری ہو، سلیم کو سبق سکھانے کے لئے تمہیں مرنا ہو گا،“ خدو چنگھاڑا اور ایک ہاتھ سے کلہاڑی ہوا میں لہراتے ہوئے بہن کے گردن پر دے ماری، کلہاڑی اچھی کی دائیں کان کے نیچے سے گزرتی ہوئی اس کے گردن میں پیوست ہو گئی، ایک چیخ کمرے کی کچی دیواروں سے ٹکرائی اور پھر خاموشی، تھوڑی توقف کے بعد کمرے میں پاؤں پٹخنے کی آوازیں سناٹے کا سینا چیرنے لگیں۔ خدو نے آگے بڑھ کر کلہاڑی ایک مرتبہ پھر ہوا میں لہرائی اور زمین پر بسمل پڑی اپنی بہن کے گردن پر پہلے سے زوردار وار کیا۔ تیز کلہاڑی کے وار سے اچھی کا سر جسم سے الگ ہوتا ہوا کمرے کے کونے میں جا گرا، اس کی ٹانگیں اور ہاتھ زمین پر پھڑپھڑا رہے تھے، شہ رگ سے بہتا ہوا خون کمرے کی مٹی میں جذب ہوتا جا رہا تھا۔
کمرے سے نکل کر خدو نے الو کو آواز لگائی ”آ جاؤ۔ کام ہو گیا۔“
الو اور اس کی سالی کا بیٹا کمرے کے دروازے پر پہنچے تو خدو نے دونوں کو لاش اٹھانے کا بولا۔
الو اور اس کی سالی کے بیٹے نے اچھی کی لاش پیروں سے پکڑی اور گھسیٹتے ہوئے کھیتوں کے بیچوں بیچ بنے ہوئے کاریوں کے قبرستان میں لے آئے۔
خدو بھی ان کے ساتھ آن پہنچا۔ اس کے ہاتھ میں اچھی کے دوپٹے کی گٹھڑی میں اچھی کا سر تھا۔
الو اور اس کی سالی کے بیٹے نے اچھی کا دھڑ اٹھا کر پہلے سے ہی کھدے ہوئے کھڈے میں پھینکا، خدو نے بھی گٹھڑی کھڈے میں پھینک دی۔ مجمعے سے چار پانچ لوگ آگے بڑھے اور کدال سے کھڈے میں مٹی ڈال کر بھرنے لگے۔ تھوڑی ہی دیر میں گڑھا بھر گیا، تو لوگوں نے سوکھی گھاس ڈال کر زمین برابر کر دی، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
کام سے فارغ ہو کر سب لوگ گھروں کی جانب روانہ ہوئے، لوگ آپس میں سس پس کرتے ہوئے آ رہے تھے
اتنے میں خدو کے موبائل کی گھنٹی بجی، خدو نے کال کاٹ دی۔ اور آہستہ آہستہ سرکتے ہوئے مجمعے سے پیچھے رہ گیا۔ اک بار پھر خدو کے موبائل کی گھنٹی بجی تو خدو نے کال ریسیو کی۔
”کہاں ہو، آج کا آجام دیا تھا ( آنے کا وعدہ کیا تھا) تم نے؟“ سامنے سے سلیم کی بہن درناز آواز تھی۔
”ہاں، تھوڑا کام تھا،“ خدو بولا۔
”ہماری زمین کے باقی پیسے مل گئے، اب ہم لوگ یہاں نہیں رہیں گے۔“ درناز بولی۔
”کون سی زمین؟“ خدو نے تعجب سے پوچھا۔
”وہی تمہارے ساتھ والی ڈیڑھ ایکڑ، دو سال پہلے ہی تو مقدم کو بیچی تھی، کچھ پیسے رہتے تھے وہ بھی آج مل گئے، ابا بول رہے تھے کہ ہم شہر چلے جائیں گے،“ درناز بولی۔
خدو پر سکتہ اور خاموشی طاری ہو گئی اور اس نے کال کاٹ دی، پیچھے مڑ کر خدو نے کاریوں کی قبرستان کی طرف دیکھا، جہاں ابھی ابھی وہ اچھی کو دفنا کر واپس آ رہا تھا۔ خدو کے کانوں میں اچھی کی آواز گونجنے لگی، ”ادا ہو؟“

