پطرس بخاری کا کیمبرج سے خط (حصہ دوم)


حصہ اول پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے

https://www.humsub.com.pk/503660/adnan-abbasi/

      ***            ***

یہ تو تمہیں معلوم ہو گا کہ ابتدا میں سب کالج راہب خانے تھے، چنانچہ یہاں کی زندگی میں مذہبی رنگ بہت نمایاں ہے۔ ہر کالج کے متعلق ایک گرجا ہے اور اس کے علاوہ، شہر میں اور بھی بہت سے گرجے ہیں، جن کے گھنٹے یہاں کی فضا کو ہر وقت مسیحیت میں بسائے رکھتے ہیں۔ ہر ہفتے یونیورسٹی کے کسی نہ کسی گرجے میں ایک نہ ایک مشہور پادری یا مذہبی واعظ یا مبلغ کا لیکچر ہوتا ہے۔ کیمبرج کا شہر بہت چھوٹا سا ہے اور یہاں کی آبادی صاف طور پر دو حصوں میں منقسم ہوتی ہے۔

ایک تو وہ لوگ جو یونیورسٹی سے متعلق ہیں، اور جو تعطیلات کے شروع ہوتے ہی یک لخت غائب ہو جاتے ہیں۔ ان کو گاؤن مین کہا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ جس قدر شہر کے اصلی باشندے ہیں وہ سب کے سب دکاندار پیشہ یا مزدور پیشہ ہیں، ان کو ٹاؤن مین اور طلبہ کی اصطلاح میں ٹاؤنی کہا جاتا ہے، یہ لوگ سب نچلے طبقے کے ہوتے ہیں۔ کیمبرج میں کالجوں کی حدود سے باہر شرفا مفقود ہیں۔

انڈر گریڈ لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر چھاجوں پانی برس رہا ہو تو خیر، ورنہ ٹوپی پہننا گناہ سمجھتے ہیں۔ پٹی کا کوٹ اور فلالین کی پتلون، یہ ان کا لباس ہے۔ پتلون پر یہ بڑے بڑے سیاہی کے داغ، گاؤن کی بے عزتی کرنا فخر سمجھتے ہیں۔ چنانچہ جان بوجھ کر اس میں جا بجا سوراخ کرتے ہیں۔ اس سے یہ بھی مقصود ہوتا ہے کہ نووارد معلوم نا ہوں۔ ان کے مشاغل کی کثرت کا کچھ نہ پوچھو، قسم قسم کے جنون ہیں، پڑھتے ہیں، کھیلتے ہیں، سفر و سیاحت کی ایک کلب بنا لیتے ہیں جس میں جنوبی امریکہ تک ہو آتے ہیں، مچھلیاں پکڑتے، گولف کھیلتے ہیں، کشتیاں چلاتے ہیں، طرح طرح کے ساز بجاتے ہیں، ناچتے ہیں، گرجاؤں میں جاتے ہیں، تبلیغ کا کام سیکھتے ہیں، تصویر کشی کرتے ہیں، بعض رؤسا بہت اعلی درجہ کی پوشاک پہنتے ہیں، بعض کسی سیاسی کلب کے ممبر ہیں، جہاں ہمیشہ کسی نہ کسی سیاسی لیڈر کے لیکچر ہوتے رہتے ہیں۔

بعض ایک پیانو کرائے پر لے آئے ہیں، بعض نے دو موٹر کاریں رکھی ہوئی ہیں اور کسی موٹر کار کلب کے ممبر ہیں، جس کے نمائندے دنیا کی ہر بڑی سڑک پر مل جاتے ہیں۔ بعض کی زندگی گھڑ دوڑ کے لیے وقف ہے، بعض صبح سے شام تک لیبارٹری میں بھاڑ جھونکتے ہیں۔ ڈرامیٹک کلبیں بے شمار ہیں، بعض صرف اوپرا اور میوزیکل کامیڈی کرتے ہیں، بعض صرف یونانی کھیل، بعض سیدھی سادی کامیڈی۔ سینری، ڈریس وغیرہ سب خود بناتے ہیں یا کم ازکم وضع کرتے ہیں۔

غرض یہ کہ ایک تعلیمی میلہ ہے جس میں جو کام ہوتا ہے آئین کے ساتھ۔ انہماک اور انضباط، یہ یہاں کے دو بڑے اصول ہیں، اور ان سب کی تہہ میں وہ حیرت انگیز طاقت کام کرتی ہے جس کو ٹریڈیشن کہتے ہیں۔ ہفتہ بھر پسینے چھڑا دینے والی مصروفیت میں گزرتا ہے، دن کو بھاگتی ہوئی ٹانگیں، رات کو بند کمرے میں روشن چراغ اور کھلی ہوئی کتابیں۔

امتیاز، یہاں کی اتوار ایک معجزہ ہے، دن کے گیارہ بجے میلوں گھوم جاؤ، ایک درجن سے زیادہ آدمی نہ پاؤ گے۔ وہ بھی سیاہ پوش، سست رفتار، سوائے گرجاؤں کے گھنٹوں کے اور زندگی کوئی آثار نظر نہیں آتے، بازاروں کو دیکھو، تو ہو کا عالم، آہیں بھرنے کو دل چاہنے لگتا ہے۔ شام کے وقت دن کی کسر پوری کر دی جاتی ہے اور مرد و زن کے جوڑے ہزاروں کی تعداد میں چہل قدمی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اکثر قبل ازدواج کے مراحل طے کرنے میں مصروف ہوتے ہیں اور یہ وہ شغل ہے جو انگلستان میں شادی سے پہلے بھی جائز ہے، اور شادی کے بعد بھی، شادی کا ارادہ نہ ہو جب بھی، حق تو یہ ہے کہ اسے شادی سے کچھ چنداں تعلق نہیں اور چوں کہ کیمبرج کے لوگ تمام تر نچلے طبقے سے ہیں اس لئے ان کے قبیح ترین پہلو دیکھنے میں آتے ہیں۔

کیمبرج آکسفورڈ کی بہ نسبت بہت زیادہ قدامت پرست ہے، چنانچہ گو یہاں لڑکیوں کے دو کالج ہیں، لیکن وہاں کی ”طلبانیاں“ نہ تو یونیورسٹی کی ممبر شمار ہوتی ہیں، نہ کسی ڈگری کی حقدار، البتہ لیکچروں میں آتی ہیں اور امتحانوں میں بیٹھ سکتی ہیں، لیکن امتحان پاس کرنے کے بعد ان کو ڈگری نہیں ملتی۔ باوجود اس کے انگریزی کی کلاس میں پچاس ساٹھ کے قریب لڑکیاں پڑھتی ہیں۔ اگر اتفاق سے لیکچر میں کوئی ساتھ بیٹھ جائے تو شامت آ جاتی ہے۔

ہم لوگ تو ایک نوٹ بک کھول کر نوٹ لینا شروع کر دیتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ میز کا ایک مربع فٹ استعمال کرتے ہیں۔ وہ پہلے تو گلے سے لومڑی کی دم کھول کر میز پر رکھتی ہیں، پھر دستانے اتار کر رکھتی ہیں، پھر کوٹ اتار کر بنچ کی پشت پر پھیلاتی ہیں، دستانوں کے پاس ٹوپی اتار کر رکھ دیتی ہیں، پھر ہینڈ بیگ کھول کر اس سے پینسل اور رومال نکالتی ہیں، رومال سے ناک پونچھتی ہیں، ہینڈ بیگ کے چھوٹے سے آئینے میں اپنے چہرے کا جائزہ لیتی ہیں، کنپٹی پر سے زلفوں کے گھنگھر سنوارتی ہیں پھر میز پر جھک کر، کہنی کو پڑوسی کی ناک میں دے کر بہت خوبصورتی اور سلیقہ سے نوٹ لینا شروع کرتی ہیں، دو منٹ کے بعد ان کے قلم میں سیاہی ختم ہو جاتی ہے، طوعاً و کرہاً آپ اپنا قلم یا پینسل پیش کیجئے اور خود گھنٹہ بھر مکھیاں مارتے رہیے۔ ایک ایسے تلخ تجربے کے بعد اب میں جیب میں ایک فالتو پنسل ضرور رکھتا ہوں۔

۔ ۔ ۔

یہ حضرت کیمرج یونیورسٹی ہے، یہاں کا ہر فرسودہ پتھر تاریخ انگلیس کی ایک خاموش فصل ہے، یہ وہ دارالعلوم ہے جہاں ہم سے کہیں پہلے جان ہارورڈ ( جس نے امریکا میں ہارورڈ یونیورسٹی کی بنیاد ڈالی) آلیور کرامویل، سٹرن، کولرج، سیموئل بٹلر، بیکن، ٹینی سن، تھیکرے، میکالے، نیوٹن، بل ورلبٹن، سیلے، لارڈ چیسٹر فیلڈ، مارلو، ولیم پٹگرے اور ملٹن کسب فیض کر چکے ہیں اور جہاں اس وقت انگلستان کی آئندہ نسل کے کئی مشاہیر تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس بہارستان میں ہندوستان کا ایک مرجھایا ہوا بے رنگ و بو پھول کیا حقیقت رکھتا ہے۔

غریب ماں باپ کا بیٹا، ایک غلام قوم کا فرد، نسیم اور مرزا شوق کی مثنویوں کا پڑھنے والا، ”فسانہ آزاد“ کا دلدادہ، طبلے اور سارنگی کا شوقین، ”زمیندار“ اور ”گرو گھنٹال“ کا خریدار، ایشیا کے عشقیہ افسانوں میں رچا ہوا، مغلیہ عیش و عشرت کا خواہش مند، اتحاد اسلامی کے خواب دیکھنے والا، میں بھلا کیا حقیقت رکھتا ہوں، خدا آبرو سے رکھے اور آبرو سے وطن کو واپس لے جائے، آپ میرے لئے یہی دعا کیجئے،

دو سال کے بعد میرے مولا بلا لے مدینے مجھے ( گا کر)
۔ ۔ ۔

اس دوران میں ایک دو دفعہ لندن بھی گیا، گلیڈس کوپر اور جیرلڈ مور کو ایکٹ کرتے دیکھا لیکن تھیٹروں کے متعلق پھر کسی خط میں لکھوں گا۔ ایک دن پورا فرتھ کے ساتھ گزارا اور ان کی معیت میں پروفیسر جونز اور یونیورسٹی کالج کے اساتذہ سے دن بھر اردو، پشتو اور پنجابی کی اصوات کے متعلق نہایت تپاک سے ملا، انھوں نے میرے حروف تہجی کو سراہا، میں نے ان کی قرات کو مرحبا کہا۔ بعض اصوات کے متعلق کچھ تیز بحث ہوئی، کہ حلق کے کون سے کونے میں سے نکلتی ہیں۔ ہوتے ہوتے ہاتھا پائی کی نوبت آنے لگی لیکن بعد میں صلح صفائی ہو گئی۔

۔ ۔ ۔

ایک دن لندن سے ہاشمی کا خط آیا، ”ارے تم؟“ ۔ ”ارے ہیں“ ۔ ”افوہ“ ۔ اس قسم کے جذبات کے اظہار کے بعد خط میں جناب نے فرما رکھا تھا کہ کسی دن شام کے سات بجے کے بعد فلاں پتے پر ہم سے آ کر ملو، حضرت یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ میں لندن میں ہوں، (خط میرے بینکروں کی معرفت بھیجا تھا) انہیں جواب میں لکھا، بے خبطی ہوا ہے، ہم جیسے شرفاء کو لندن سے کیا واسطہ، ارے ہم کیمبرج میں ہیں، کیمبرج میں، یہاں آ کے ہم سے ملو، چنانچہ ایک دن شام کے تین بجے کے قریب آپ وارد ہوئے، ”ارے یار بخاری“ ، ”ارے یار ہاشمی“ ، قصہ چہار درویش کے ڈھنگ پر بغلگیر ہوئے اور شام تک بغیر ایک دوسرے کی بات سننے کے، دونوں ایک ساتھ بکتے چلے گئے، کبھی بیچ میں گانے لگ جاتے، کبھی شعر پڑھنے لگ جاتے، غرض کہ عجب ہنگامہ رہا، عجب عجب قصے دہرائے گئے، ہندوستان کی حالت زار پر بہت افسوس کیا گیا اور آپ سب لوگوں پر جو انگلستان آنے سے محروم ہیں، لعنت اور نفرین کے ووٹ پاس کیے گئے، شام کی گاڑی سے وہ لندن چلے گئے اور دوبارہ آنے کا وعدہ کرتے گئے، تم پوچھو گے ہاشمی کا حال کیا ہے، بس بالکل وہی چیز ہے، بالکل وہی۔

۔ ۔ ۔

اس ہفتے کی ڈاک میں تمہارا خط، ہریش کا خط، زبیدہ کا خط، بچوں کی تصویریں سب ایک ساتھ ملیں، یعنی ہندوستان میں مجھے جو کچھ محبوب ترین اور عزیز ترین ہے وہ یک لخت چھت پھاڑ کر میرے سر پر آ گرا۔ جگل کے خط کا بہت بہت شکریہ، ان کی غزل نے مجھے گھنٹوں مست رکھا۔ جگل میرے بھائی، اور حفیظ میرے بھائی، اور امتیاز میرے بھائی، اور سالک میرے بھائی، خط ضرور لکھتے رہا کرو۔ تم سب لوگ باری باری بھی خط لکھو تو ہر ہفتے مجھے اپنے احباب کی ایک جیتی جاگتی تصویر مل جایا کرے اور تم میں سے ہر ایک کو مہینے میں ایک دفعہ خط لکھنا پڑے، اور میرے بھائیو تم خود ہی سوچو، کہ مجھے ہر ہفتے ایک خط والد کو، ایک ڈپٹی صاحب کو، ایک خط اپنی رفیق حیات کو، ایک رفعت صاحب کو لکھنا ہوتا ہے، اے میرے بھائیو میں تم میں سے ہر ایک کو ہر ہفتے کیسے خط لکھ سکتا ہوں ( میری آواز اس وقت بھرائی ہوئی ہے ) لہذا اے میرے بھائیو، اسلامی اخوت کا ثبوت دو اور خط لکھو۔

میں نے اس اپیل کو بہت رقت انگیز بنانے کی کوشش کی ہے لیکن مجھے کچھ شبہ سا ہے کہ دارالاشاعت میں اس کی ہنسی اڑائی جائے گی، اور میرے جذبات کو غائبانہ مجروح کرنے کی از حد سعی کی جائے گی، فلک حقہ باز کو کیا کہوں؟

سالک صاحب، استاذی و محبی، خدا کے لئے خط لکھو، جگل کے خط نے تڑپا تڑپا دیا، خدا اسے خوش رکھے۔
خاکسار بخاری
عمانوئل کالج کیمبرج
25 نومبر 1926

Facebook Comments HS