بت پرستوں کی نئی نسلیں (7)


نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو اسے پاش پاش کر دیتے۔ مگر پرانے بت کے ٹکڑوں کو پاؤں تلے روندنے اور نیا بت تراشنے کے درمیان بس ایک مختصر سا وقفہ ہوتا تھا۔

—————————————————-
ساتواں باب : فضل داد کی شادی اور ثمینہ کا بچہ

شادی نہایت شاندار طریقے سے انجام پائی اور عروسہ علوی اس کی بیوی بن کر اس کے گھر آ گئی۔ فضل داد چونکہ جانتا تھا کہ عروسہ کے گھرانے میں چھوٹے بڑے سب ایک دوسرے کو ”آپ“ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، لہٰذا اس نے بھی عروسہ کے ساتھ یہی انداز تخاطب اپنا لیا۔ ملکوں کے لیے یہ ایک اور نئی تبدیلی تھی۔ لیکن فضل دادتو اب اس امر کا قائل ہو چکا تھا کہ اچھی بات جب بھی اور جہاں سے بھی ملے اپنا لینی چاہیے۔

اس نئے گھر میں گوہر جان نے بھی عروسہ کے ساتھ بیٹیوں سے بڑھ کر سلوک کرتے ہوئے، دوسرے دن ہی گھر کی چابیاں اس کے سپرد کر دیں۔ حالانکہ عروسہ ابھی ایسا بالکل نہیں چاہتی تھی۔ مگر گوہر جان نے یہ کہہ کر اسے حوصلہ دیا کہ جہاں ضرورت ہو وہ اسے ساس کی بجائے ماں سمجھتے ہوئے مدد طلب کر سکتی ہے۔ لیکن گھر کی مالکن اب وہی ہے اس لیے یہ انتظامات اب اسی کو سنبھالنے ہوں گے۔ سو اس نے سنبھال لیے۔

فضل داد کو تو عروسہ نے پہلی ملاقات میں ہی بتا دیا تھا کہ وہ مقابلے کا امتحان پاس کر کے سول سروس میں جانا چاہتی ہے اور فضل داد بھی اپنی بہنوں کے تجربے کے بعد تسلیم کر چکا تھا کہ گھر کی پڑھی لکھی افرادی قوت کو ، گھر کے انتظامات تک محدود کر دینا، آج کے زمانے میں بے وقوفی کے سوال کچھ بھی نہیں اس نے صرف اس کا نام عروسہ علوی سے عروسہ فضل کروا یا اور باقی ہر کام عروسہ کو اپنی مرضی

سے کرنے کا عندیہ دے دیا۔ دو تین دن دیگر رسومات میں گزر گئے اور پھر ابھی ہنی مون کے پروگرام پر بحث جاری تھی کہ کب اور کہاں کا رخ کیا جائے کہ فضل داد نے اسے پہلے ایک بار اس کے ساتھ جا کر روشن آباد اور ملک پور دیکھنے کی درخواست کی۔ عروسہ تو جیسے ایسی کسی دعوت کے انتظار میں ہی تھی، فوراً راضی ہو گئی۔ اور ویک اینڈ پر ملک پور جانے کا پروگرام طے پا گیا۔ عروسہ نے گوہر جان کو بھی ساتھ چلنے کے لیے کہا لیکن وہ پھر کبھی کا کہہ کر ٹال گئی۔

فضل داد نے شہر میں بیٹھ کر ملک پور اور روشن آباد میں اپنے لوگوں سے رابطہ کر کے پروگرام ترتیب دینا شروع کر دیا۔ وہ دونوں جگہوں پر ، شادی کے بعد پہلی بار جا رہا تھا اور وہ بھی بیوی کے ساتھ۔ تو وہاں کے سب لوگ بہت خوش تھے۔ نیا گھر اور مہمانوں کی لگا تار آمد و رفت میں عروسہ کو اندازہ ہی نہ ہو سکا کہ فضل داد گاؤں اور روشن آباد میں اس کے استقبال کے لیے کیا کیا انتظامات کر رہا ہے۔

فضل داد ہفتہ والے دن عروسہ کو لے کر پہلے ملک پور پہنچا۔ گھر سے بھی وہ کچھ دیر سے چلے تھے، حویلی پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی۔ عروسہ کے لیے یہ بالکل نیا ماحول تھا۔ ویسے تو گاؤں کے باہر بھی کچھ لوگ ان کے استقبال کے لیے موجود تھے، مگر انہوں نے فضل داد کی ہدایت کی وجہ سے کوئی گرمجوشی نہ دکھائی۔ ویسے تو گاؤں کی اکا دکا بتیاں جل رہی تھیں لیکن عروسہ کو شہر کی نسبت کافی اندھیرا محسوس ہوا۔ مگر جونہی گاڑی سے اتر کر اس نے حویلی کی دہلیز پر قدم رکھا، حویلی اور گاؤں کی تمام لائٹیں روشن ہو گئیں۔

حویلی کو تو خیر باقاعدہ دلہن کی طرح سجایا گیا تھا لیکن جب ساتھ ہی پورا گاؤں روشن ہوا تو دن جیسا سماں ہو گیا۔ ساتھ ہی ڈھول بھی بجنے لگے اور ہر طرف سے مبارک سلامت کی صدائیں آنے لگیں۔ فضل داد حویلی کے اندر جا کر اسے ذرا اونچی جگہ پر لے گیا، جہاں سے پورا گاؤں نظر آ رہا تھا۔ اتنے بے شمار لوگوں کو اپنے استقبال کے لیے دیکھ کر عروسہ تو جیسے خوشی سے بے خود ہو گئی۔ لیکن چونکہ عروسہ نے کافی دیر کے بعد اتنا لمبا سفر کیا تھا اور پھر کئی راتوں سے وہ ٹھیک سے سو بھی نہ سکی تھی، اس لیے اس کے کہنے پر ڈھول بند کروا دیا گیا اور لوگوں سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ ابھی اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ صبح ملاقات ہو گی۔

جب وہ دونوں اپنے کمرے میں پہنچے، جسے باقاعدہ حجلہ عروسی کی طرح سجایا گیا تھا تو عروسہ نے فضل داد سے پوچھا ”کیا آج پھر ہماری شادی ہوئی ہے؟“

فضل داد نے سمجھانے والے انداز میں بتایا ”یہ گاؤں والوں کی محبت ہے، میں انہیں منع نہیں کر سکا۔ اور میرے بار بار کہنے کے باوجود کسی نے اس تمام سامان کے پیسے بھی نہیں لیے“ ۔

تھوڑا ایزی ہونے کے بعد فضل داد نے عروسہ کو حویلی کا کچھ حصہ دکھایا تو وہ حیران ہوئے بنا نہ رہ سکی کہ وہاں شہر والی تمام سہولتیں موجود تھیں۔

دوسرے دن تڑکے ہی، کھڑکی کے باہر شیشم کے پیڑ سے، چڑیوں کی مدھم سی چہچہاہٹ پر فضل داد کی آنکھ کھل گئی۔ اس کی نظر عروسہ پر پڑی اور خیال فوراً ثمینہ کی بہن زرینہ تک جا پہنچا۔ زرینہ اس کی زندگی کی پہلی کنواری لڑکی تھی جو اس کے کمرے تک لائی گئی۔ ثمینہ کی دی ہوئی تمام معلومات کے باوجود ڈری اور سہمی ہوئی۔ حکم کی غلام۔ وہ کہتا بیٹھ جاؤ تو بیٹھ جاتی۔ وہ کہتا کھڑی ہو جاؤ تو کھڑی ہو جاتی اور جب تک وہ اسے پھر سے بیٹھنے کے لیے نہ کہتا وہ کھڑی رہتی۔

پھر فضل داد نے اس کے کپڑے اتارنے شروع کیے۔ وہ اس کے پنڈے کے جس حصے سے کپڑے کھینچتا، وہ وہاں ہاتھ سے ڈھانپنے کی کوشش کرتی۔ لیکن دو ہاتھوں سے وہ کہاں کہاں ڈھانپ سکتی تھی؟ سب کپڑے اتر گئے اور اندر سے نکلا وہ جسم، اکساتا، للکارتا اور گناہ کے لیے پکارتا ہوا جسم۔ جیسے کوئی یونانی دیو مالائی مجسمہ، فضل داد حیران رہ گیا۔ کیا اس کے گاؤں کے کچے گھروں میں جسمانی حسن کے ایسے شاہکار بھی موجود ہیں؟ فضل داد کو لگا جیسے اس بدن کے زاویے، اسے مقابلے کے لیے مشتعل کر رہے ہوں۔

”ہے ہمت تو دکھاؤ اپنے جوہر، اور سر کرلو ان چوٹیوں کو “ ۔

جب زرینہ کو اپنا ننگا جسم چھپانے کا کوئی راستہ نظر نہ آیا تو وہ بستر پر بیٹھ گئی۔ وہ کپکپا رہی تھی اور سخت دہشت زدہ لہجے میں جو پہلی بات اس نے کی ”رب کے واسطے بتی تو بجھا دیجیے۔ ورنہ میں مر جاؤں گی۔“

فضل داد کا دماغ جیسے رک گیا تھا۔ اس نے اس لرزتے ہوئے گوشت پوست کے کھلونے کو چند لمحے دیکھا اور جیسے بغیر سوچے سمجھے بتی بجھا دی اور اس پر حملہ آور ہو گیا۔ لڑکی بے چاری جب تکلیف کی پہلی شدت سے گزری تو اس نے اپنے ہاتھ سے اپنا منہ زور سے بند کر لیا۔ مبادا اس کی کوئی سسکی کوئی چیخ کمرے کا سکوت نہ توڑ دے۔

کچھ دیر کے بعد جب فضل داد نے اس کی جان چھوڑی تو وہ کتنی دیر چادر میں منہ چھپا کر روتی رہی۔ فضل داد کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ وہ اسے کیا کہے۔ وہ واش روم سے ہو کر آیا اور سو گیا۔ رات کو جب کبھی اس کی آنکھ کھلی اور اس نے زرینہ کو دیکھا تو وہ جاگ رہی تھی۔ اندھیرے میں اس کی آنکھیں ایسے چمک رہی تھیں۔ جیسے اس کمرے کی تاریکی کے اس پار وہ اپنے مستقبل کی روشنی دیکھ رہی ہو۔

اب بھی کمرہ وہی تھا، بے شک بیڈ سمیت وہاں کی ہر چیز بدل دی گئی تھی۔ یہاں تک کہ دروازوں، کھڑکیوں اور دیواروں تک کو نیا روغن کر دیا گیا تھا۔ پردے اور فرش کا قالین بھی تبدیل کر دیے گئے تھے۔ ہر پرانی چیز وہاں سے ہٹا لی گئی تھی۔ مگر وہ زرینہ سمیت ان کنواری لڑکیوں کی یادوں کو وہاں سے نہ ہٹا سکا۔ کئی بار نیند میں اسے ان لڑکیوں میں سے کسی نہ کسی کے ننگے پیروں کی آہٹ سنائی دیتی

تھی۔ اور اس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا، جن سے وہ ان یادوں کو قتل کر سکے۔

فضل داد، عروسہ کو سوتا چھوڑ کر واش روم میں جا گھسا۔ اس واش روم کو بھی اس نے ہزاروں گیلن پانی اور بیسیوں کلو صابن سے صاف کروایا تھا، مگر ان لڑکیوں کے ہیولے پھر بھی یہیں تھے۔ وہ نکلتے ہی نہ تھے۔ نور بانو کے انکار نے اس پر ایک پر اسرار سی وحشت طاری کر دی تھی۔ رات کے وقت وہ ان لڑکیوں کو بستر میں روندتا، رگیدتا اور صبح کے وقت اس واش روم میں بلوا لیتا۔ جنہوں نے اس سے پہلے شاید خود بھی اپنا جسم نہیں دیکھا تھا انہیں سر سے پاؤں تک اپنا مردانہ بدن دکھاتا۔

انہیں حکم دیتا کہ وہ اسے نہلائیں، صابن لگائیں اور وہیں واش روم میں ہی اس کے جسم کی مالش کریں۔ پھر خود بھی ان کے ساتھ ایسا ہی کرتا۔ صابن کے ساتھ ان کے بدنوں کی اونچ نیچ او ر گولائیوں پر سفر کرتا۔ وہ کا نپی، تھرتھراتی اور لرزہ خیز آواز میں اس سے التجائیں کرتیں مگر اسے تو ان معصوم بےچاریوں پر جبر کرنے میں مزہ آتا تھا۔ وہ ان کے جسم کے نازک حصوں پر اذیت دینے والے ہاتھ پھیرتا اور لطف اندوز ہوتا۔ یوں ہی پھر جوش میں آ کر انہیں دوبارہ سے بستر میں گھسیٹ لاتا۔ وہ کتنے ہی مہینے اس وحشت کا شکار رہا تھا۔ پھر کہیں اچانک اسے اس وحشت سے بھی وحشت ہونے لگی تھی اور تنگ آ کر اس نے ذہنی اور جسمانی تشدد کا یہ کھیل بند کر دیا تھا۔

ان خیالات سے جان چھڑواتے ہوئے اس نے تولیے سے اپنا بدن خشک کیا، کپڑے پہنے اور بیڈ روم میں واپس آ گیا۔ اس دوران میں چڑیوں کی چہچہاہٹ کے عروج پر پہنچنے سے، عروسہ بھی بیدار ہو چکی تھی۔ وہ ابھی بستر پر دراز تھی مگر ایک مسرت بخش لطف سے اس کا چہرہ دمک رہا تھا۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ سے ایک عجیب طمانیت خیز لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ رہی تھی۔

فضل داد کو دیکھتے ہی وہ مسکرائی۔

”یہ میری زندگی کی سب سے مسرور صبح ہے۔ کوئی جادو سا ہے اس ماحول میں۔ آپ یقیناً یہاں بہت اچھا وقت گزارتے ہوں گے؟“

”ہاں! یہاں ایک آسودگی کا احساس ہوتا ہے“ فضل داد بولا۔
عروسہ :تو کتنے سال اور مہینے دیے ہیں آپ نے اس کمرے کو ؟

فضل داد:کالج کے زمانے سے شروع ہو کر اب تک بہت سے۔ نصاب کے علاوہ بھی اچھی اچھی کتابیں، میں نے یہیں بیٹھ کر پڑھی ہیں۔ جنہوں نے مجھے اس محبت سے آشنا کیا، جو ایک عورت اور مرد کی محبت سے کہیں عظیم ہے۔ لیکن اس کمرے اور حویلی سے زیادہ میرا ساتھ یہاں کے کھیتوں کھلیانوں اور کسانوں سے رہا ہے۔

عروسہ :تبھی تو شہر میں بیٹھی ہوئی میرے جیسی لڑکی بھی آپ کی شہرت کے حصار میں گرفتار ہو گئی۔
فضل داد:اچھا! مجھے تو اس کی خبر ہی نہ ہوئی۔
عروسہ:میں آپ کی بیوی بن گئی ہوں۔ اس سے بڑا کیا اخبار چاہیے آپ کو اس خبر کے لیے؟

فضل داد: آپ کی بڑی مہربانی! لیکن ملکہ عالیہ! اب ذرا بستر سے نکلیے کہ گاؤں کے لوگ کب کے آپ کی ملاقات کے لئے نکل چکے ہوں گے۔

عروسہ : بڑا اچھا طریقہ ڈھونڈا ہے آپ نے بادشاہ بننے کا ۔ بیوی کو ملکہ عالیہ بنا کر ؟
فضل داد: تو آپ کو کوئی اعتراض ہے کیا، اگر آپ کی بدولت میں بھی کسی اعزاز کا مستحق ٹھہروں؟
عروسہ : نہیں، میرے لیے تو یہ باعث صد افتخار ہو گا۔
فضل داد: تو چلیے، پھر گاؤں کے لوگوں کو بھی فخر کا موقع دیجیے۔ اور اب واش روم کا رخ کیجیے۔
عروسہ : تو کیا میں ابھی ان معصوم چڑیوں کے دلنواز گیت کچھ دیر اور نہیں سن سکتی؟

فضل داد : مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن ابھی کچھ دیر بعد ڈھول بجنا شروع ہو گیا تو آپ کو نہانے کی بجائے ناچنا پڑے گا۔

عروسہ : ارے نہیں، وہ تو بالکل نہیں۔
اور وہ فوراً بستر سے نکلی اور واش روم میں گھس گئی۔

ناشتے کے بعد عروسہ اور فضل داد نہایت پروقار اور دلآویز انداز میں حویلی کے برآمدے میں نمودار ہوئے۔ دونوں میں سے کسی نے بھی ایسے کپڑے نہیں پہنے تھے جو انہیں نوبیاہتا ظاہر کریں، نہ ہی ان کے لباس کسی اور چمک دمک سے مزین تھے۔ لیکن ان کی سادگی بھی ایک پر توقیر شان و شوکت کی غمازی کر رہی تھی۔ ان کی پہلی جھلک پر ہی ڈھول کا جوش و خروش بڑھ گیا۔ بھنگڑا ڈالتے ہوئے لوگوں پر بے خودی سی طاری ہو گئی۔ وفور جذبات سے ان کے چہرے تمتما اٹھے۔

برآمدے میں ایک طرف دونوں کے بیٹھنے کے لیے ایک مسند نما نشست بنائی گئی تھی۔ اسے بھی ان کے حجلہ عروسی کی طرح بہت محنت سے سجایا گیا تھا۔ برآمدے میں ہونے کی وجہ سے وہ صحن سے ذرا سی بلند تھی۔ دونوں کو لے جا کر اس نشست پر بٹھا دیا گیا۔

کافی دیر ڈھول اور بھنگڑے کا دور چلتا رہا، جس میں کچھ لمحے عروسہ اور فضل داد نے بھی حصہ لیا۔ پھر ڈھول اور بھنگڑے کے اس جلال و جمال میں ایک چھوٹے وقفے کا اعلان ہوا۔ منشی چراغ دین نے اس وقفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک پور سمیت اس علاقے کے بارہ دیہاتوں اور روشن آباد کی طرف سے انہیں شادی کی مبارکباد دی اور شادی کے بعد پہلی بار یہاں آنے پر خوش آمدید کہا۔ پھر سڑکوں، سکولوں اور ہنر کی

تربیت گاہوں سمیت فضل داد کے بہت سے کاموں پر اس کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد ، ان بارہ دیہاتوں اور روشن آباد سے آئے ہوئے لوگوں کو اپنے نذرانے پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔ (فضل داد نے وہاں آنے سے پہلے ہی سب کو ہدایت کر دی تھی کہ کوئی بھی اپنے ہاتھوں کی بنی ہوئی چیزوں کے علاوہ انہیں شادی کے تحفے کے طور پر کچھ نہیں دے گا۔ لیکن تحفہ کی جگہ لفظ ”نذرانہ“ خود ان لوگوں کا اختیار کردہ تھا) جب لوگ باری باری عروسہ اور فضل داد کو نذرانے پیش کر رہے تھے تو نور بانو ایک کونے میں اپنے باپ منشی چراغ دین کے پاس کھڑی تھی۔

وہ اپنے باپ سے بولی
”اچھا ہی ہوا ابا! میں نے ملک صاحب سے شادی نہیں کی“ ۔
”کیوں؟ اچھا کیسے ہوا؟“ منشی نے پوچھا۔
نور بانو : میں نے ان کے ساتھ جچنا نہیں تھا۔
منشی : جچتی! تو بھی ان کے ساتھ خوب جچتی بیٹی! پر اب ان باتوں کا کیا فائدہ؟ چھوڑ پرے۔

نور بانو، جس کی آنکھوں میں اس وقت ہلکی ہلکی نمی بھی تیر رہی تھی، رندھے ہوئے لہجے میں بولی ”آپ سب لوگ چھوٹے ملک صاحب کی اتنی تعریفیں کرتے ہیں، تو کوئی خاص بات تو ہو گی ان میں، جو میں نہ دیکھ سکی۔ ورنہ شاید میں انہیں معاف بھی کر دیتی“ ۔

منشی : ملک فضل داد صاحب میں بہت خوبیاں ہیں بیٹی۔ وہ بہادر ہیں، ذہین ہیں، باعلم ہیں، سخی ہیں، محنتی ہیں، حوصلہ مند ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ہم سب سے، اس گاؤں سے، اور اس علاقے کے رہنے والوں سے بہت پیار کرتے ہیں۔

نور بانو : اور تو سب ٹھیک ہے، لیکن یہ بہادری والی بات ماننے میں نہیں آتی۔

منشی : تم اپنی بات کو لے کر بیٹھی ہو بیٹی۔ وہ جو بھی تھا، لیکن وہ وقت اب گزر چکا ہے۔ زندگی اس سے کتنے سال آگے نکل گئی ہے۔

نور بانو : آپ کے لئے آگے نکل گئی ہے نا! میں تو ابھی تک اس وقت کے، اسی موڑ پر اسی مقام پر کھڑی ہوں۔
منشی : تم بھی چل پڑو بیٹی۔ حادثہ کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو، زندگی کو نہیں روک سکتا۔

نور بانو : بڑی استانی صاحبہ کے ساتھ کام کرتی ہوں۔ جب انہیں موقع ملتا ہے ان سے پڑھتی بھی ہوں۔ بیٹے کو سکول داخل کروا دیا ہے۔ اور کیا کروں میں زندگی کے ساتھ چلنے کے لیے؟ چلیے آپ ہی بتائیے۔

منشی : تم بھی اب شادی کر لو بیٹی۔
نور بانو : شاید آپ ٹھیک کہتے ہیں، مجھے بھی اب شادی کر لینی چاہیے۔

منشی : تین چار رشتے آئے ہوئے ہیں بیٹی۔ مل بیٹھ کر ان پر غور کرتے ہیں۔ جو تمہیں مناسب لگے وہاں تمہاری شادی کر دیں گے۔

نور بانو : لیکن پہلے مجھے یہ بتائیں کہ جب میری باری تھی تو آپ کے یہ ملک فضل داد صاحب کی بہادری کو کیا ہو گیا تھا؟

منشی :یہ کوئی بہادری یا بزدلی کی بات نہیں ہے بیٹی۔ میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں۔ اگر اس وقت فضل داد ایسی کوئی کوشش کرتا تو بڑی تباہی ہونی تھی۔ ہماری تو ہر صورت میں اور شاید فضل داد کی بھی۔ تم بڑے ملک صاحب کے بارے میں کچھ نہیں جانتیں۔ ان کے ماننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ وہ بالکل اور طرح سوچتے تھے۔

نور بانو : مطلب میرے سوا ہر کسی نے اپنا فائدہ سوچا؟

منشی : ہاں! یہ سچ ہے۔ ہم سب نے اپنا فائدہ سوچا۔ یا یہ کہہ لو ہم میں اس نقصان کو اٹھانے کی ہمت نہیں تھی جو دوسری صورت میں ہونا تھا۔ انسان ایک دفعہ جس آرام کا ، آسائشوں کا ، جن سہولتوں کا عادی ہو جاتا ہے پھر ان کو چھوڑنے کی توفیق نہیں رہ جاتی ہے اس میں۔ اب تم ان باتوں کو بھول جاؤ اور دوبارہ سے جینا شروع کرو۔ میرے ضمیر پر بہت بوجھ رہتا ہے ایسے۔ مہربانی کر کے اسے ختم کرنے میں میری مدد کرو۔

نور بانو : ٹھیک ہے ابا! میں آپ کی مدد کرنے کی کوشش کروں گی۔

پھر باپ بیٹی کچھ دیر وہاں کھڑے لوگوں کو عروسہ اور فضل داد کی خدمت میں نذرانے پیش کرتے ہوئے دیکھتے رہے۔

جب نذرانوں کا مرحلہ انجام پذیر ہوا تو فضل داد کی خواہش تھی کہ وہ ان نذرانوں کے لئے سب کا شکریہ ادا کرے۔ لیکن عروسہ نے اسے روک دیا۔ کیونکہ ممنونیت کا یہ اظہار وہ خود کرنا چاہتی تھی۔ اس نے فضل داد سے اجازت لی اور کھڑی ہو گئی۔ سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور تالیاں بجا کر خیرمقدم کا اظہار کیا۔

اس نے سلام دعا سے لے کر آخر تک اپنی ساری بات خالص پنجابی زبان اور مقامی لہجے میں کی۔ سب حیران ہو گئے۔ مٹھاس سے بھرے الفاظ اور ایک ایک لفظ سیدھا دل میں اترتا ہوا۔ مردوں کو لگا کہ یہ خوبصورت، نوجوان ”ملکانی“ نہیں، بلکہ ان کی ماں بول رہی ہے۔ الفاظ، لہجے اور جذبے کی اس شیرینی پر تو صدیوں سے ”ماں“ کی اجارہ داری چلی آ رہی ہے۔ یہ پیار، یہ نرمی، یہ گداز کسی اور تعلق، کسی اور رشتے میں کیسے ہو سکتے ہیں؟ عورتوں کو وہ اپنی سگی سہیلی محسوس ہوئی۔

ملک فضل داد کی نوبیاہتا بیوی کی باتوں میں تو ایسا لگاؤ ہو ہی نہیں سکتا۔ علاقے کے امیر ترین زمیندار کی بیوی اور اپنائیت کی ایسی بارش! سب عورتیں جذبات میں بھیگ گئیں۔ آنکھوں سے خوشی کے آنسو رواں ہو گئے۔ اپنے پن کا بھرپور اظہار کر چکنے کے بعد عروسہ نے کہا ”آپ لوگ یہاں اپنے زمیندار ملک فضل داد کی بیوی کو خوش آمدید کہنے آئے ہیں۔ لیکن میں آپ سے مل کر اس لئے بھی خوش ہوں کہ میرا اور آپ کا ایک اور بھی رشتہ ہے۔ اور وہ ہے اس زمین اور ماں بولی کا ۔ آپ نے بے شک یہ سب مجھے نذرانوں

کے طور پر دیا ہے لیکن میں انہیں اپنی شادی اور آپ کی محبت کے تحفے سمجھ کر وصول کر رہی ہوں۔ اور انہیں اپنی جان سے لگا کر رکھوں گی۔ کیونکہ یہ بازار سے خریدا ہوا نمائشی سامان نہیں ہے۔ ان میں آپ کے ہاتھوں کا ہنر، آپ کی سانسوں کی مہک اور دل کی لطافت شامل ہے۔ ایسے تحفے مجھے آپ کے سوا کوئی نہیں دے سکتا کہ کسی اور کو مجھ سے اتنا پیار ہو ہی نہیں سکتا۔ اور میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ میری طرف سے بھی آپ کو ایسی ہی محبت ملتی رہے گی ”۔

وہ اپنی بات مکمل کر کے بیٹھی تو ساری فضا ”بی بی صاحب زندہ باد، بی بی صاحب زندہ باد“ کے نعروں سے گونج اٹھی۔

اس دوران میں فضل داد حیران و پریشان اسے دیکھتا رہا۔ بے شک اس کی حیرت میں خوشی کا عنصر غالب تھا کہ عروسہ چند منٹوں میں اس کے لوگوں سے ایک خاص محبت کا رشتہ قائم کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔ لیکن اس کا پنجابی زبان پر یہ عبور اسے تجسس میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔ وہ عروسہ سے پوچھے بنا نہ رہ سکا۔

”اتنی زبردست پنجابی کہاں سے سیکھی آپ نے؟“
عروسہ : کیوں؟ پنجابی میری مادری زبان ہے۔
فضل داد : لیکن میرے ساتھ تو آپ سب اردو میں بات کرتے ہیں۔

عروسہ : آپ نے ابو سے، یا ان کی موجودگی میں بھائیوں سے بات کی ہو گی۔ ابو کے ساتھ ہم سب بھی اردو بولتے ہیں۔ امی سب کے ساتھ پنجابی میں بات کرتی ہیں۔ سکول سے انگریزی شروع ہوئی تو سکول والی سہیلیوں سے اب بھی انگریزی ہی چلتی ہے۔ میرے لئے تینوں زبانیں اپنی ہیں۔ یہ امی ابو کی منصوبہ بندی تھی کہ بچے تینوں زبانیں سیکھیں۔

فضل داد :اور پنجابی کا یہ لہجہ، یہ کہاں سے آیا ہے؟
عروسہ : سول سروس میں جانے کے لیے سیکھے ہیں یہ سب لہجے۔ پڑھے ہیں اور لکھ بھی لیتی ہوں۔
فضل داد :مگر سول سروس میں تو سب انگلش بولتے ہیں۔

عروسہ :آپس میں وہ انگلش بولتے اور خط و کتابت بھی انگلش میں ہی کرتے ہیں۔ مگر سیاستدانوں کے ساتھ تو وہ زیادہ تر اردو میں ہی بات کرتے ہیں۔

فضل داد : وہ کیوں؟

عروسہ : وہ اس لیے کہ زیادہ تر سیاستدانوں کی انگلش اتنی اچھی نہیں ہوتی۔ اور سول سروس کا کوئی افسر نہیں چاہتا کہ وہ کسی سیاستدان کو اس

وجہ سے شرمندہ ہونے کا موقع دے۔
فضل داد : مگر اس میں پنجابی کہاں سے آ گئی؟

عروسہ : سول سروس کے عقلمند افسران جس علاقے میں تعینات ہوتے ہیں وہاں کے مقامی لوگوں کی مادری زبان تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے معاملات کو سنبھالنے میں آسانی رہتی ہے۔ ویسے بھی ماموں بتاتے ہیں کہ اگر آپ ستلج کے اس پار یا میانوالی کے لوگوں کے ساتھ ان کی زبان اور لہجے میں بات کریں تو آپ کو علم ہو گا کہ وہ کتنے باخبر اور دوراندیش لوگ ہیں۔ حالانکہ عام طور پر انہیں اجڈ اور جانگلی کہا جاتا ہے۔ یہی حال پوٹھوہاری اور دوسری علاقائی زبانوں کا ہے۔ وسطی پنجاب کی پنجابی میں تو شاید وہ آہنگ اور فرہنگ ہی موجود نہیں ہیں، جو ان مقامی زبانوں میں پائی جاتی ہیں۔ یا شاید اردو اور انگلش کے زیادہ استعمال نے انہیں پس پشت ڈال دیا ہے۔

فضل داد :اور آپ کے ماموں کہاں ہیں آج کل؟
عروسہ : وہ کیبنٹ ڈویژن میں ڈپٹی سیکرٹری ہیں۔
اس دوران ڈھول بجتا رہا اور بھنگڑا چلتا رہا۔
پھر بچے آ گئے، جنہوں نے فصلوں کی بوائی اور کٹائی پر گائے جانے والے گیت گائے اور ایک
Tableau
جیسا بھی کچھ پیش کیا۔
تب تک کھانا لگ چکا تھا، سو سب کھانے کی طرف بڑھے۔
عروسہ اور فضل داد نے بھی ان کے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔

کھانے کے دوران مختلف لوگ ان دونوں کے قریب آ کر مبارکباد دیتے اور اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے رہے۔ ان کے انداز میں محبت سے زیادہ عقیدت کی جھلک نمایاں تھی۔ کھانا کھانے کے بعد عروسہ اور فضل داد کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے اندر چلے گئے۔ اس دوران میں ڈھول بجتا رہا اور بھنگڑے بھی جاری رہے۔

جب دونوں آرام کرنے کے بعد واپس پنڈال میں پہنچے تو بھی ڈھول کی تھاپ جاری تھی اور بھنگڑوں میں بھی کوئی وقفہ نہیں آیا تھا۔ ایک گروپ ذرا تھک جاتا تو دوسرا گروپ اس کی جگہ لے لیتا۔ یہی حال ڈھول والوں کا تھا۔

منشی چراغ دین، اس کے بیٹے احمد دین اور فضل داد کے دوسرے آدمیوں نے خود فضل داد کے مشوروں سے جو پروگرام ترتیب دیا تھا، اس کے مطابق روشن آباد اور سب دیہاتوں سے چیدہ چیدہ لوگ، ڈھول اور بھنگڑے کے ساتھ ساتھ، انہیں سلام کرنے آتے رہے۔

پھر جیسا کہ فضل داد نے پورا ڈرامہ ترتیب دیا ہوا تھا۔ ڈھول اور بھنگڑا بند کروا دیا گیا اور وہاں موجود کچھ لوگوں نے فضل داد کو درخواست کی

کہ وہ آئندہ انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست کے لئے الیکشن لڑے۔ جبکہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہو چکا تھا اور کاغذات نامزدگی بھی جمع ہونا شروع ہو چکے تھے۔

فضل داد کھڑا ہوا، اس نے ان حضرات کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اسے الیکشن لڑنے کے لئے کہا تھا۔ لیکن اس نے یہ کہہ کر الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا کہ الیکشن پر بہت سا روپیہ خرچ ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ یہ پیسہ علاقے کی ترقی اور لوگوں کی بھلائی کے کاموں پر خرچ ہو، بجائے الیکشن کی دھوم دھام کے۔

تب انہی لوگوں نے فضل داد کو یقین دلایا کہ وہ الیکشن پر اس کا کوئی پیسہ خرچ ہونے نہیں دیں گے۔ جہاں ضرورت ہو گی وہاں یہ اخراجات وہ خود کریں گے۔ یہاں تک کہ آس پاس کے علاقوں میں وہ اپنے ملنے جلنے والوں تک خود پہنچیں گے۔ اور پھر الیکشن کی مہم کے دوران بھی وہ سب ان کے ساتھ جائیں گے۔ فضل داد نے تھوڑی دیر اپنا مصنوعی انکار جاری رکھا۔ مگر پھر ان کی ضد مانتے ہوئے ہامی بھر لی۔

عروسہ نے سرگوشی میں فضل داد کو اتنی اچھی الیکشن مہم کے آغاز کی مبارکباد دی۔
فضل داد جواب میں مسکرایا اور کوئی جواب نہ دیا۔
اس کے بعد باری تھی عروسہ اور فضل داد کی طرف سے ان لوگوں کو تحفے دینے کی۔

چونکہ وہاں کے لوگوں کو پہلے سے خبر دے دی گئی تھی، اس لئے حویلی سے باہر بھی بہت سے مرد، عورتیں، بچیاں اور بچے، جو اس انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے، اب قطار میں لگ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ بیسیوں لوگ ان تحائف کی تقسیم کے انتظامات میں حصہ لے رہے تھے۔ عورتوں، مردوں، بچیوں اور بچوں کے لئے علیحدہ علیحدہ پیکٹ بنائے گئے تھے۔ یہ تحفے اعلیٰ کوالٹی کے کھلے کپڑے اور نقدی پر مشتمل تھے۔ ہر پیکٹ کم از کم دو کلو وزن رکھتا تھا۔

پروگرام کے مطابق یہ تقسیم عروسہ کے ہاتھوں سے ہونا طے تھی۔ فضل داد کے لوگ بنڈلوں کے بنڈل لا کر عروسہ کے پاس ڈھیر لگا رہے تھے۔ قطار میں سامنے آنے والے مرد، عورت، بچی یا بچے کے حساب سے ایک پیکٹ عروسہ کو دیا جاتا، جو وہ آگے دے دیتی۔ قطار میں سامنے والا فرد تحفہ وصول کرتا، جھک کر عروسہ کا شکریہ ادا کرتا اور آگے بڑھ جاتا۔ سو سے کچھ زیادہ تحفے تقسیم ہو چکے تھے، جب فضل داد نے محسوس کیا کہ عروسہ کافی تھک چکی ہے، تو انداز تقسیم بدلنا پڑا۔

عروسہ کو ایک کرسی پر بٹھا دیا گیا۔ ایک آدمی پیکٹ کو عروسہ کی طرف بڑھاتا، عروسہ اس کو ہاتھ لگا دیتی اور دوسرا آدمی وہ پیکٹ قطار میں آگے والے فرد کو دے دیتا۔ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اس کام میں ایک ہزار سے زائد تحائف بانٹے گئے۔ اب چونکہ رات کافی ہو گئی تھی، اس لئے باقی کا پروگرام دوسرے دن تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

عروسہ، فضل داد اور اس کے لوگوں نے طے کیا کہ باقی تحفے منشی چراغ دین دوسرے دن یہ کہہ کر تقسیم کروا دے گا کہ انہیں عروسہ بی بی کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔ عروسہ کے اندازے کے مطابق ان تحائف اور حویلی والے تمام فنکشن پر جو پیسہ خرچ ہوا تھا، وہ ان اخراجات سے کہیں زیادہ تھا جو فضل داد نے شہر میں شادی پر اپنی طرف سے ادا کیے تھے۔ ایک ہزار سے زیادہ پیکٹ تو خود اس کے ہاتھ سے بانٹے گئے تھے اور ابھی کئی ہزار مزید دوسرے دن کی تقسیم کے لئے تیار پڑے تھے۔ مگر اس نے یہ کہہ کر خود کو مطمئن کر لیا کہ یقیناً فضل داد زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اسے کہاں، کتنا خرچ کرنا ہے۔

عروسہ اور فضل داد اپنے کمرے میں پہنچے تو ڈھول ابھی بھی بج رہا تھا اور بھنگڑے بھی جاری تھے۔ عروسہ نے فضل داد سے سوال کیا۔

”یہ لوگ صبح سے ڈھول اور بھنگڑے میں مصروف ہیں۔ کیا یہ تھکتے نہیں؟“

فضل داد : فصلوں یا موسموں کے تہوار ہوں یا ایسا کوئی موقع، یہ دن رات ناچتے رہتے ہیں۔ جو تھک جاتے ہیں، وہ تھوڑی دیر سانس لینے کو بیٹھ جاتے ہیں اور دوسرے ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ تھکاوٹ کم ہونے کے بعد پہلا گروپ پھر ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔ لیکن ابھی میں نے انہیں کہہ دیا ہے۔ وہ تھوڑی دیر میں چلے جائیں گے۔

مگر ان کے سونے تک بھی ابھی ہلکا ہلکا سلسلہ چل رہا تھا۔

دوسرے دن فضل داد نے عروسہ کو کھیت، باغات اور ہنر کی تربیت گاہوں کی سیر کروائی۔ عروسہ یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ خاص طور پر باغات اور زراعت کے سائنسی انداز نے اسے بہت متاثر کیا۔

دوپہر کے کھانے کے بعد وہ روشن آباد آ گئے۔

وہاں بھی ان کا پرجوش استقبال کیا گیا، لیکن یہاں کے لوگوں میں وہ دم خم نظر نہیں آیا جو اس نے ملک پور میں دیکھا تھا۔

فضل داد نے وہاں جو آٹھ کنال میں، اپنے لوگوں کے قیام کے لیے دو منزلہ عمارت بنوائی تھی، اسے دیکھ کر بھی عروسہ کو مسرت ہوئی۔ خوبصورت ہوا دار کمرے، برآمدے، وسیع صحن اور لان میں رنگ برنگ پھول۔ ٹینس کورٹ بھی۔ اس نے اسی وقت سوچا، یہاں تووہ اپنی امیر ترین سہیلیوں کی بھی دعوت کر سکتی ہے۔

شام تک انہوں نے روشن آباد کے مختلف پراجیکٹس دیکھے۔ اس سے عروسہ کو مزید طمانیت کا احساس ہوا۔ رات انہوں نے وہاں گزاری اور دوسرے دن شہر لوٹ آئے۔

شہر واپس آنے کے بعد فضل داد نے الیکشن کے لیے اپنی منصوبہ بندی شروع کر دی۔

عروسہ اپنی ساس کے ساتھ مل کر گھر کے کاموں میں مصروف ہو گئی کہ گھر کو سنبھالنے کے بعد ، اسے مقابلے کے امتحان کے لیے تیاری بھی شروع کرنا تھی۔ لیکن اسے اپنا یہ کام کچھ دیر کے لیے ملتوی کرنا پڑا، کیونکہ فضل داد اپنے الیکشن کے ضمن میں اس سے مشورے طلب کرتا تھا۔ مشورے دینے کے ساتھ وہ اس کے لیے معلومات بھی اکٹھا کرتی اور کمپیوٹر کے کام میں بھی اس کی مدد کرتی۔

انتخابات کی گہماگہمی کے دوران ہی نور بانو کی شادی، فضل داد کے ایک مزارعے کے بیٹے محمد بشیر سے کر دی گئی۔ فضل داد نے وعدہ کے مطابق 40 کنال زرعی اراضی نور بانو کے نام کر دی۔ منشی چراغ دین نے اسے بہت سا جہیز دیا اور ساتھ میں ایک مناسب سا مکان بھی، جو گاؤں میں لڑکیوں کے سکول کے بالکل قریب تھا۔

فضل داد کی بہنیں اور بہنوئی بھی اب زیادہ وقت روشن آباد میں گزارنے لگے تھے تاکہ الیکشن میں اسے ہر ممکنہ مدد فراہم کر سکیں۔

الیکشن مہم اپنے عروج پر تھی۔

فضل داد ایک ایک دیہات اور قصبے میں، محلے محلے جا کر لوگوں سے مل رہا تھا۔ وہ نہ تو بڑے بڑے نعرے لگواتا اور نہ ہی بلند بانگ دعوے کرتا۔ وعدوں کا تو ذکر ہی نہیں تھا۔ اس کی زیادہ تر گفتگو کچھ یوں تھی۔ ”اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں دوسرے لوگوں کی نسبت، اسمبلی میں آپ کی بہتر نمائندگی کر سکتا ہوں تو ووٹ مجھے دیجیے، ورنہ آپ کا ووٹ اسے جانا چاہیے، جو آپ کے خیال میں مجھ سے زیادہ آپ کے حقوق کی حفاظت کر سکتا ہے“ ۔ لیکن اس سے زیادہ ان کے حقوق کی حفاظت کون کر سکتا تھا؟ پہلے تو اس کے مدمقابل کوئی ٹھوس امیدوار تھا ہی نہیں اور جو دو تین لوگوں کو پیر برادران نے شرارت کے طور پر کھڑا کروایا تھا، ان کی تو ضمانتیں بچنے کی بھی کوئی امید نہیں تھی۔

ایک شام وہ کئی دیہاتوں سے ہو کر ، اور تھکا ہوا ملک پور اپنی حویلی میں پہنچا۔ وہ کچھ دیر آرام کرنا چاہتا تھا کہ ثمینہ بی بی آ گئی۔ اس نے فضل داد کی ٹانگیں دبائیں اور سر کی ہلکی ہلکی مالش کی۔ جب اس کی تسلی ہوئی کہ اب فضل داد ذرا آرام سے ہے تو مقصد کی بات پر آ گئی۔

”صاحب جی! آپ کو یاد ہے؟ آپ نے مجھ سے ایک وعدہ کیا تھا“ ۔
فضل داد : ہاں! مجھے اچھی طرح یاد ہے، تم بتاؤ کیا چاہیے تمہیں؟
ثمینہ : کچھ مانگنے سے پہلے، میں آپ کو کچھ بتانا چاہتی ہوں۔
فضل داد : اچھا؟ وہ کیوں؟ چلو خیر بتاؤ!
ثمینہ : میری شادی کو چھ سال ہو چکے ہیں اور میں ابھی تک ماں نہیں بن سکی۔
فضل داد : تو پھر کسی ڈاکٹر کو دکھاؤ۔
ثمینہ پراعتماد لہجے میں بولی ”دکھایا تھا جی“ ۔
فضل داد : کہاں دکھایا تھا تم نے؟ یہاں تو کوئی ڈاکٹر ہی نہیں ہے۔

ثمینہ : آپ کے شہر گئی تھی میں پچھلے سال۔ میری ایک دور کی رشتہ دار رہتی ہیں وہاں رضیہ۔ اس کی ماں کے مرنے پر گئی تھی میں وہاں۔ رضیہ وہاں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے۔ وہ وہاں ایک ڈاکٹرنی کے ہاں بھی کام کرتی ہے جی۔ میں نے اسے اپنا دکھ بتایا تو وہ مجھے اپنی ڈاکٹرنی کے پاس لے گئی۔ اس ڈاکٹرنی نے گھر میں ہی چھوٹا سا ہسپتال بنایا ہوا ہے جی۔ بڑی بڑی مشینیں لگی ہیں اس میں۔ اس ڈاکٹرنی نے مجھے دیکھا تھا جی اچھی طرح۔ مشینیں مشونیں لگا کر بھی۔ وہ کہتی تھی کہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ نقص میرے خاوند میں ہے۔

فضل داد : تو پھر، تم نے بتایا اپنے خاوند کو ؟

ثمینہ : کیسے بتاتی صاحب جی؟ اس کی تو آکڑ ہی کم نہیں ہوتی۔ یہ مردوں میں اتنی آکڑ کیوں ہوتی ہے صاحب جی؟

فضل داد : مجھے نہیں پتہ، تم کیا کہنا چاہتی ہو، لیکن اگر اس میں کوئی مسئلہ ہے تو اسے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے۔ اگر پیسے ویسے کی ضرورت ہو تو مجھے بتاؤ۔

ثمینہ : اگر وہ مانے تب ہی ہے نا جی! میں نے اسے کئی بار اشاروں میں بتایا ہے۔ مگر وہ کہتا ہے کہ وہ ٹھیک ٹھاک ہے۔ اور دیکھنے میں ہے بھی ٹھیک ٹھاک۔ کام شام تو سارے پورے پورے کرتا ہے مگر بچہ نہیں ہوتا صاحب جی۔

فضل داد :ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں جانا چاہتا؟

ثمینہ : وہی مردوں والی آکڑ صاحب جی۔ اسے لگتا ہے کہ اگر وہ ڈاکٹر کے پاس جائے گا تو سارے لوگ کہیں گے، اس میں ہی کوئی کمی ہے۔ بس یہی بات اسے قبول نہیں ہے جی۔ اور میں بھی کیا کروں؟ اس کی بے عزتی کروا کے تو میں بھی راضی نہیں۔ وہ کہتا ہے جب رب کی مرضی ہو گی تو ہو جائے گا بچہ بھی۔

فضل داد : تو کسی سے لے کر پال لو، یا کسی یتیم خانے وغیرہ سے لے دیتا ہوں بچہ تمہیں۔
ثمینہ : بات تو وہیں رہے گی نا ایسے۔ میرے بندے کی تو بے عزتی پھر بھی ہو جائے گی۔
فضل داد : تو پھر اب تم کیا چاہتی ہو؟
ثمینہ : میں چاہتی ہوں کہ اب آپ اپنا وعدہ پورا کریں۔
فضل داد : لیکن میرے وعدے کا تمہارے بچے سے کیا تعلق؟
ثمینہ : ہے صاحب جی۔ کیوں نہیں ہے؟ آپ اپنا وعدہ پورا کریں اور مجھے ایک بچہ دے دیں۔
فضل داد : میں تمہیں بچہ دے دوں؟ مگر کیسے؟
ثمینہ : جیسے سارے مرد، عورتوں کو دیتے ہیں جی۔
(فضل داد، جو کہ اب تک آرام سے لیٹا ہوا تھا، ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا)
فضل داد : تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا؟ تم چاہتی ہو، تم میرا بچہ پیدا کرو؟

ثمینہ : جی صاحب جی۔ اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔ لوگ پیروں فقیروں سے بھی تو لے لیتے ہیں۔ میرے لیے تو پیر بھی آپ ہی ہیں اور ان داتا بھی!

فضل داد : یہ پیروں فقیروں والی کیا بات کر رہی ہو تم؟
ثمینہ : آپ کو نہیں پتہ صاحب جی؟
فضل داد : نہیں، میں نہیں جانتا تمہارا کیا مطلب ہے۔

ثمینہ : یہ جو ہمارے دیہاتوں کے بہت سے لوگ جاتے ہیں اپنے پیروں کے پاس۔ بچوں کے لیے دعا مانگنے۔ اور پیر صاحب کی دعا سے بچہ ہو جاتا ہے۔ یہ ایسے ہی نہیں ہو جاتا۔

فضل داد : تو پھر کیسے ہوتا ہے؟

ثمینہ : آپ کو تو لگتا ہے کچھ پتہ ہی نہیں۔ ایسے معاملات میں، پیر صاحب عورت سے کہتے ہیں کہ وہ پہلے ان کی خدمت کرے، پھر دعا دوں گا۔ تو وہ عورت کچھ دن ان کی سیوا کرتی ہے۔ دن رات وہاں رہتی ہے۔ اسی دوران میں جب پیر صاحب کا جی چاہتا ہے تو عورت کو اپنے بستر تک لے جاتے ہیں۔ عورت کو بچہ مل جاتا ہے۔ لوگوں میں پیر صاحب کی بلے بلے ہو جاتی ہے کہ ان کی دعا سے اولاد نصیب ہو گئی۔ مگر یہ دعا بھی صرف انہی عورتوں کو ملتی ہے جو پیر صاحب کو پسند آ جائیں۔

فضل داد : یہ تم بہت بڑا الزام لگا رہی ہو پیروں فقیروں پر ۔ جبکہ میں نے تو کئی بڑے بڑے لوگوں کے بارے میں پڑھا ہے کہ فلاں آدمی فلاں فقیر کے پاس گیا اور اسے اولاد نصیب ہوئی۔ وہاں اس کی عورت تو گئی ہی نہیں۔

ثمینہ : ہوتے ہوں گے، بالکل ہوتے ہوں گے ایسے پیر فقیر بھی۔ لیکن صاحب جی ہزاروں میں ایک یا دو ۔ باقی سب ایسے ہی ہوتے ہیں، جیسا میں نے آپ کو بتایا۔

فضل داد : یہ تو پھر بہت بری بات ہے۔
ثمینہ : اچھی بری کو چھوڑیں صاحب جی۔ آپ اپنے وعدے کی بات کریں۔

فضل داد : میں نے تم سے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ کچھ بھی مانگنے سے میرا مطلب تھا روپیہ پیسہ یا اگر تم چاہو تو زمین کا کوئی ٹکڑا۔ لیکن تم میرے بچے کی ماں بن سکتی ہو، ایسا کوئی وعدہ میں نے کبھی نہیں کیا تھا۔

ثمینہ : بچے کا باپ تو خیر میرا خاوند ہی ہو گا۔ آپ تو کسی پیر صاحب کی طرح مجھے دعا ہی دیں گے۔

فضل داد : نہیں نہیں ثمینہ، میں ایسا کچھ نہیں کر سکتا۔ ابھی کچھ دیر پہلے میری شادی ہوئی ہے۔ پھر میں الیکشن لڑنے جا رہا ہوں۔ اور مانگو جو بھی، مگر یہ نہیں۔

ثمینہ : صاحب جی! دیکھیں! ویسے تو آپ پیدا ہی بڑے آدمی ہوئے تھے۔ پھر آپ قد کاٹھ میں بھی بڑے ہو گئے۔ پھر آپ نے اچھے اچھے کام کیے اور لوگوں کی نظروں میں بڑے ہو گئے۔ اب آپ الیکشن لڑنے جا رہے ہیں جو آپ رب نے چاہا تو ضرور جیت جائیں گے۔ پھر آپ اور بڑے بن جائیں گے۔ جا کے اسمبلی میں تقریریں کیا کریں گے۔ ذرا سوچیں صاحب جی! جب آپ اتنے بڑے آدمی بن جائیں گے، اور پھر کسی وقت آپ کو خیال آئے گا کہ آپ میرے جیسی کتی کمینی زنانی سے کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کر سکے تو آپ کو کتنی شرمندگی ہو گی؟ آپ اپنا وعدہ پورا کر کے اس شرمندگی سے بچ سکتے ہیں صاحب جی!

فضل داد : تم میرے ساتھ بہت بڑا ڈرامہ کر رہی ہو۔
ثمینہ : میرے لیے تو میری اور میرے خاوند کی زندگی کا سوال ہے صاحب جی! آپ اسے بے شک ڈرامہ کہہ لیں۔
فضل داد : اگر ایسا ہو جائے، جو کہ ہو گا نہیں۔ تو پھر تمہارے خاوند کی اکڑ کہاں جائے گی؟
ثمینہ : اس کی آکڑ وہیں رہے گی صاحب جی۔ اسی آکڑ کی وجہ سے ہی تو وہ اسے اپنا ہی بچہ سمجھے گا۔
فضل داد : اور اگر کبھی اسے پتہ چل گیا تو ؟

ثمینہ : پہلے تو اسے پتہ ہی نہیں چلے گا اور چل بھی گیا تو وہ کسی کو بتائے گا نہیں۔ کیونکہ ایسے تو اس کی مردانگی پر وٹہ لگ جائے گا۔ اور مردوں کو اپنی مردانگی بہت پیاری ہوتی ہے صاحب جی؟

فضل داد : میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ تم میرے وعدے کا کوئی اس طرح کا مطلب نکالو گی۔ مجھے کوئی ایسا کام کرنے کے لیے کہو گی۔ یہ میرے لیے، میرے پورے خاندان کے لیے بہت خطرے والی بات ہے۔

ثمینہ : خطرہ تو پتہ لگنے پر ہو گا صاحب جی! اور پتہ کسی کو لگ نہیں سکتا۔ میں ابھی سے اس ہونے والے بچے کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ کوئی میری چمڑی بھی ادھیڑ دے گا تو یہ بات میری زبان سے نہیں کہلوا سکے گا۔

فضل داد : مجھے کچھ سوچنے کا موقع دو ثمینہ۔ یہ بہت بڑا قدم ہے۔

ثمینہ : آپ سوچ لیجیے صاحب جی، جتنا بھی آپ نے سوچنا ہے۔ لیکن فیصلہ میرے حق میں کیجیے گا۔ اب آپ لیٹ جائیں۔ میں آپ کا سر دباتی ہوں۔ تھوڑا آرام کر لیں۔ پھر فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا۔

(اور وہ فضل داد کا سر دبانے لگی)
۔

Facebook Comments HS