ذکیہ مشہدی کا ناول: بلیا کیہہ جاناں میں کون


جب انسان اس زمین پر آیا ہو گا تو کتنا اکیلا ہو گا۔ آدم اور حوا تنہائی کے خوف سے مبہوت ہو کر رہ گئے ہوں گے۔ یا بالفرض بات ڈارون کے بن مانس ہی کی ہے تو مان لیتے ہیں جب پہلے انسان نے ارتقاء کی اس سیڑھی پر قدم رکھا ہو گا جہاں اس نے مکمل انسان کا روپ دھارا ہو گا تو اس کے شعور نے اسے اتنی بڑی دنیا میں تنہائی کا احساس دلوایا ہو گا۔ اس تنہائی سے خوف کھا کر انسان نے چیخ لگائی ہو گی اور پھر اس کے بعد جس خیال نے اس کے دل میں جنم لیا ہو گا اسی کے زیر اثر انسان نے اپنا خدا تخلیق کیا ہو گا۔

خدا آیا تو مذہب آیا۔ انسان نے اس دنیا پر فتنہ فساد، جنگ و جدل اور بدی کے خوف سے مذہب کو تخلیق دیا مگر جب خوف کی فضا کم ہوئی تو دیگر انسانی حسیات نے انسان کو اس کے فطری رنگ میں ڈھال دیا۔ انسان نے لالچ، حرص اور طمع میں آ کر مذہب میں نئی تاویلیں گھڑیں۔ ان تاویلوں سے بات عقیدوں تک چلی گئی اور عقائد کے چکر میں وہ گھمسان کا رن پڑا کہ انسانیت بہت پیچھے رہ گئی۔

لوگوں نے اپنے خدا کی برتری کے لیے اور دوسرے کے خدا کو نیچا دکھانے کے لیے گلے کاٹنے شروع کر دیے۔ پوری تاریخ انسانی دو چیزوں کی گرد گھومتی آئی ہے۔ ایک عقیدے کے پرچار کے لیے ہونے والی جنگوں کے گرد اور دوسرا قبائلی و علاقائی پہچان کے تحفظ کے لیے۔ دوسرے کا ذکر مقصود نہیں صرف پہلے تک ہی رہتے ہیں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ مذہب بری شے نہیں، عقیدہ ضرور ہے۔ اور عقیدہ ثانوی جبکہ مذہب پہلی شے ہے۔ مذہب ضرورت تھا جبکہ عقیدہ ضرورت سے بڑھ کر عشرت کا سامان۔

دنیا کے تمام مذاہب کا اگر پرتو نکالا جائے تو وہ صرف اتنا نکلے گا کہ انسانیت کو دکھی کرنا برائی اور دوسروں کے لیے سکھ بننا نیکی ہے۔ اس سے آگے کوئی مذہب نہیں ہے۔ ہندو کا بھگوان بھی یہی کہتا، یسوع نے بھی اسی کی تعلیم دی اور اسلام بھی یہی سکھاتا ہے۔ جب عقیدہ مذہب پر حاوی ہوا تو پھر ہم نے مسلمان اور عیسائی کی جنگ میں یہودی کو مرتے دیکھا اور یہودی کے انتقام میں مسلمان مرا۔ مسلمان مجوسیوں سے لڑا ہندو کچلے گئے اور اور ہندو عیسائی سے ٹکرایا تو مسلمان زد میں آئے۔

زیر بحث ناول میں بھی اسی موضوع کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس ناول میں خارجی طور پر موضوع مذہبی ہم آہنگی ہے جبکہ داخلی طور پر ہر کردار عقیدے کی تبلیغ سے جنم لینے والے بحران سے پیدا ہونے والے طربیہ کا شکار ہے۔ ناول ہندوستان کے ایسے گھرانے سے شروع ہوتا ہے جہاں ہندو گھر میں مسلمان لڑکی بیاہ کر لائی گئی تھی مگر رنجش سے بن نہ پائی اور اولاد ہندو مسلم دھرم کے بیچ لڑھکتی رہی۔ ناول کا مرکزی کردار ہرش سارہ نامی یہودی لڑکی کے پیار میں مبتلا ہوتا ہے جو ثقافتی و تہذیبی مطالعے پر مبنی ایک تعلیمی سرگرمی کے لیے اسرائیل سے ہندوستان آئی ہوتی ہے۔

اس ناول میں کرداروں کے مکالمے متنوع موضوعات کے گرد گھومتے ہیں جن میں سب سے نمایاں مذہب اور عقیدہ ہیں۔ دوسری سطح پر یہ ناول مشرقی معاشرے کا ٹیبو توڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے جہاں پر بین المذاہب شادی سے جڑے مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ہندو سماج میں طلاق کا مسئلہ بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ تیسرا زاویہ اس ناول کو پرکھنے کا تانیثیت سے جڑا ہے۔ یہ ناول ایک عورت کی آواز ہے۔ ہمارے مشرقی معاشرے میں مرد کے طلاق دے دینا تو بہت آسان ہے مگر ایک عورت کے لیے طلاق لینا مصیبتوں کو دعوت دینے جیسا ہے۔ اس سہولت نے عورت کو خوف زدہ کیا اور مرد کو فوقیت دے دی ہے۔

ناول کی ایک اور دلچسپ بات انداز بیان ہے۔ ناولٹ میں کردار کہیں بھی ایک دوسرے سے براہ راست نہیں الجھتے بلکہ سارا طنزیہ انداز ہے۔ کومک اسلوب سے البتہ اس ناول سے وہ رنگ نہیں چھپ سکا جو چھپنا چاہیے تھا وہ اس ناول کے لکھنے والے کی جنس کا ہے۔ آپ کو ناول پڑھتے چوتھے صفحے پر ہی یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اسے خاتون نے لکھا ہے۔

بہرحال اردو فکشن میں یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد ناول ہے جس سے قارئین کی ایک بڑی تعداد محروم ہے۔
ناول ”بلیا کیہہ جاناں میں کون“ کی مصنفہ ذکیہ مشہدی ہیں۔

Facebook Comments HS