کہانی کار کیسے لکھتے ہیں


پڑھنے والوں کی دلچسپی کا ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کا کوِئی پسندیدہ مصنف کیسے لکھتا ہے۔ ان کے تصور میں ایک کتابوں سے بھری سٹڈی ہوتی ہے اور ایک رائٹنگ ٹیبل۔ اور اس پر بیٹھا بڑے بڑے بالوں اور عینک والا مصنف۔ میں نے ایک بار لکھا کہ میں تو کھانے کی میز پر بیٹھ کر لکھتا ہوں اور کہیں بھی بیٹھ کے لکھ سکتا ہوں، بندر روڈ کے فٹ پاتھ پر بیٹھ کے بھی لکھ سکتا ہوں تو کسی کو یقین نہیں آیا اور اسے جھوٹ سمجھا گیا لیکن یہ حقیقت تھی۔ لکھتے وقت میں صرف اپنے ساتھ رہ جاتا ہوں۔ گرد و پیش اور سب آوازیں۔ غیر موجود ہو جاتی ہیں۔

ایک اور موقعہ پر سوال ہوا ”دن میں آپ کتنی سگرٹیں پیتے ہیں اور چائے کے کتنے کپ۔ شراب سے تو شغل کرتے ہوں گے“

میں نے کہا ”سگرٹ میں نے 1964 کے بعد ایک بھی نہیں پی۔ صبح ناشتے میں چائے اور شام کو ایک مگ کافی ضرور پیتا ہوں۔ اور کچھ نہیں۔ نہ شراب نہ چرس نہ ہیروئین“

پتا نہیں ادیب شاعر کے بارے میں یہ تصور کب قائم ہوا۔ شاید غالب اور جوش سے منٹو تک کے قصے دماغوں میں بسے ہوئے تھے۔ میں جب گلشن میں تھا تو میری ایک تین چار سال کی بیٹی میز پر کھیلتی رہتی تھی۔ گلشن معمار میں تھا تو ایک پوتی نے اس کی جگہ لے لی تھی۔ مجھے فرق نہیں پڑتا تھا۔ بیوی کہتی تھی کہ کھانا لگ گیا ہے تب بھی میرا قلم چلتا رہتا تھا۔ میں کہتا تھا کہ نیک بخت میرا کندھا ہلا کے بتایا کرو۔ میں سنتا کچھ نہیں۔ انہماک کی یہ کیفیت آج بھی برقرار ہے

ایک دوست دانشور مدیر نے کہا ”یار یہ کہانی تمہارے دماغ میں آتی کیسے ہے“
میں نے ہنس کے کہا ”میرے چاروں طرف کہانیاں ہیں۔ کہانیاں میرے ساتھ چلتی ہیں۔ ہر وقت ہر جگہ ساتھ ہوتی ہیں“

انہوں نے کہا ”مثلاً یہ بجلی کا کھمبا ہے“

اگلے دن میں نے انہیں کہانی پیش کی۔ ”ایک فقیر سردی گرمی برسات یہاں بیٹھتا تھا، چیتھڑوں اور پلاسٹک سے سر پر چھت بنالی۔ آتے جاتے لوگ کچھ سکے پھینک جاتے۔ کبھی کسی گھر سے دو روٹیاں آ جاتیں، پہلے ایک کتے کا پلا آیا۔ پھر کوئی بلی کا بچہ پہنچ گیا۔ سب ایک دوسرے کے دشمن مل جل کے رہتے۔ قصہ مختصر ایک رات فقیر مر گیا۔ صبح وہاں بلی اور کتا سوگوار بیٹھے تھے جو اب بڑے ہو چکے تھے“

مدیر صاحب کو یقین آ گیا کہ میں انسان نہیں کہانیوں کی چلتی پھرتی آٹومیٹک مشین ہوں

ایسا ہی منفرد اور دلچسپ ہر مصنف کا قصہ ہے لیکن پہلے اپنی کہہ لوں تو آگے چلوں۔ میں فل سکیپ سائز کے بہترین کوالٹی والے کاغذ پر لکھتا تھا لیکن یوں کہ لمبائی کے رخ کاغذ کو موڑ لیتا تھا۔ چوڑائی نصف رہ جاتی تھی، اس نصف پر نیچے تک 33 سطریں ہوتی تھیں اور ہر سطر میں نو یا دس حروف۔ یہ تقریباً ڈائجسٹ کا ایک صفحہ بنتا تھا لیکن حروف اتنے چھوٹے ہو جاتے تھے کہ عام آدمی ان کو پڑھ نہیں پاتا تھا۔ جب میں پوری قسط اشاعت کے لیے دینے سے قبل فوٹو اسٹیٹ کرانے جاتا تھا تو دکان کا مالک حیران ہو کے اکثر پوچھ لیتا تھا کہ اتنا باریک آپ نے کیسے لکھا اور کیوں لکھا۔ دونو سوالوں کا میں کیا جواب دیتا؟ ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ اس نے دوسرے لوگوں کو بلا لیا کہ یار یہ عجوبہ دیکھو۔ پڑھ سکتے ہو؟

دوسرے میں قلم میں سب سے مہنگی سیاہ ”پارکر کوینک“ سیاہی استعمال کرتا تھا بعد میں اس سے اچھی جرمنی کی شیفر لگی تو وہ اپنا لی۔ ظاہر ہے میں عام قلم بھی نہیں رکھتا تھا اور ایک کہانی میں دو قلم استعمال کرتا تھا کہ ایک کی نب گرنے سے خراب ہو تو دوسرا کام آ جائے۔ اس سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اچھی قلم دوات سے اچھی کہانی لکھی جا سکتی ہے جو نہیں لکھ سکتا وہ سونے کے قلم سے بھی لید ہی کرے گا۔

اس سے نرالا معاملہ تصحیح کا تھا۔ جہاں مجھے کاٹ کر دوسری سطر لکھنی ہوتی تھی وہاں میں قینچی سے کاٹ کر پتلی سی کاغذ کی کترن چپکا دیتا تھا اور اس پر ترمیم لکھتا تھا۔ میں ڈاک خانے سے گوند لگے کاغذ کی وہ پٹیاں اٹھا لاتا تھا جو ٹکٹوں کی شیٹ کے چاروں طرف ہوتی ہے۔ اس طرح میرا مسودہ بالکل صاف رہتا تھا۔ کوئی کٹنگ نہیں۔ لیکن یہ پاگل پن کے سوا کچھ نہ تھا۔ کتابت کے بعد یہ مسودہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا تھا لیکن میرے لیے یہ پاگل پن نہیں تھا۔

مجھ سے زیادہ باریک الیاس سیتا پوری لکھتے تھے۔ ان کا ایک صفحہ ڈائجسٹ کے ساڑھے تین مطبوعہ صفحات کے برابر ہوتا تھا۔ اس تحریر کو کمپوزر بھی نہیں پڑھ پاتے تھے چنانچہ اس کو فوٹو شاپ سے انلارج کرایا جاتا تھا۔ ایک اور مقبول مصنف قیوم شاد تھے۔ وہ بہت صفائی پسند اور قرینے قاعدے کے آدمی تھے۔ وہ بازار سے ہول سیل سادہ کاغذ لیتے۔ پھر اس پر لائنیں ڈلواتے۔ پھر اسے ڈائری سائز کے برابر کٹواتے اور بال پین سے لکھتے تو موتی پروتے۔ کہانی ختم کر کے وہ اس پر ایک مہر ثبت کرتے جس کے چار حصے تھے۔ کب شروع ہوئی۔ کب ختم کی۔ کب اشاعت کے لیے دی۔ کب اور کتنی رقم موصول ہوئی۔ یہ سارے اندراج وہ خود کرتے اور مسودے کو فائل میں لگا کے الماری میں رکھ دیتے

سب سے مقبول قسط نگار مرحوم محی الدین نواب اپنی آواز میں کیسٹ پر ریکارڈنگ دیتے تھے جن کو کاپی کر کے کتابت میں دیا جاتا تھا۔ پھر انہوں نے سیکرٹری رکھی۔ وہ بولتے تھے اور سیکرٹری لکھتی جاتی تھی۔ سنا ہے اس سے شادی کرلی تھی۔ یکے بعد دیگرے ان کی تین سیکرٹری رہیں۔ ان کی تین بیویاں بھی تھیں۔ وہ بنگالی تھے جن کو ہم بہاری کہتے ہیں چنانچہ انہوں نے بنگالی ادب سے بہت استفادہ کیا۔ میری ان سے بس سلام دعا ہی رہی۔ وہ دوست کسی کے بھی نہیں تھے اپنی اپنی فطرت ہوتی ہے

ایک قسط اور ناول نگار ایم اے راحت تھے۔ وہ بھی سیکرٹری کو لکھواتے تھے۔ ایک سے انہوں نے بھی شادی کر لی تھی۔ وہ بیک وقت چار چار اقساط لکھنے پر قادر تھے۔ آخر میں وہ لاہور منتقل ہو گئے تھے۔ ان کے لکھے 850 ناول بتائے جاتے ہیں۔ دروغ بر گردن راوی۔ ایک پبلشر نے کہا کہ وہ ناول کا 50 فیصد مواد اپنے کسی پرانے ناول سے لیتے تھے اور نیا ناول تیار ہوجاتا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ وہ میرے ذاتی دوست نہیں تھے تو میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا تاہم زبان خلق کو نقارہ خدا ماننا پڑتا ہے میرے بارے میں یا کسی کے بارے میں کچھ بھی بے بنیاد مشہور نہیں ہوتا

ایک بار شکاری کی کامیابی کے بعد معراج صاحب نے مجھ سے دوسری قسط وار کہانی سسپنس ڈائجسٹ میں شروع کرنے کے لیے کہا تو میں نے معذرت کرلی ”میں ایک وقت میں ایک ہی دنیا میں رہ سکتا ہوں“

”لیکن راحت صاحب تو چار اقساط ایک ساتھ چلا رہے ہیں“

”وہ بڑے قسط نگار ہیں۔ میں ان کی برابری نہیں کر سکتا۔ میری قسط ایک دنیا ہے جس میں سارے کردار ہمہ وقت میرے ساتھ زندہ ہیں۔ میں اس دنیا کو ٹی وی کی طرح سوئچ آف کر کے دوسری دنیا میں نہیں جاسکتا“ ۔ شکر ہے وہ میری بات سمجھ گئے

میرے دوست اور شاعر مرحوم ضیا شہزاد ”ست رنگ“ نکالتے تھے۔ اور انہوں نے بھی جو سیکرٹری رکھی اس سے شادی کر لی۔ چنانچہ جب مجھے احباب نے ’آسانی‘ کے لیے لیڈی سیکرٹری رکھنے کا مشورہ دیا اور یہ بھی کہا کہ اس سے شان بڑھتی ہے تو میں نے ہاتھ جوڑے کہ مجھے ایک بیوی کا ساتھ کافی ہے۔ میں اپنی اچھی بھلی زندگی کو اپنا عذاب نہیں بنانا چاہتا

1977 میں جب میرا قیام گلشن میں تھا تو میں نے ایک نوجوان کو سیکرٹری رکھنے کا تجربہ کیا۔ سوچا یہ تھا کہ میں کرسی پر بیٹھے رہنے کی اور قلم چلانے کی زحمت سے بچوں۔ میں صرف کہانی سوچ کے بولوں اور وہ لکھے۔ یہ تجربہ کامیاب رہا۔ میں کمرے میں ٹہلتا جاتا اور دماغ میں آنے والے جملے بولتا۔ اس طرح میری ساری توجہ ایک طرف رہتی۔ اور کچھ پیدل چلنا بھی ہو جاتا۔ پہلے مہینے میں ایک بھی قاری نے کسی فرق کی نشاندہی نہیں کی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اس طرح میری توجہ ایک طرف رہتی ہے۔ میں سوچ کے لکھتا بھی تھا تو وقفہ آ جاتا تھا جو اب نہیں آتا۔ میں اسے 700 روپے ماہانہ دیتا تھا لیکن دو سال بعد ”اخبار جہاں“ میں پروف ریڈر کی اسامی نکلی تو میں نے اسے وہاں بھیج دیا جہاں وہ ریٹائرمنٹ تک رہا۔ وہ ”کیفے سٹوڈنٹ“ کے مالک کا کچھ بھانجا بھتیجا تھا۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں۔

Facebook Comments HS

احمد اقبال

احمد اقبال 45 سال سے کہانیاں لکھ رہے ہیں موروثی طور شاعر بھی ہیں مزاحیہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو کے قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا ہے سرگزشت زیر ترتیب ہے. معاشیات میں ایم اے کیا مگر سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ملکی تاریخ کے چشم دید گواہ بھی ہیں.

ahmad-iqbal has 32 posts and counting.See all posts by ahmad-iqbal