عورتیں دوسری عورتوں کا راستہ کیوں روکتی ہیں؟


میری نوجوانی اور زمانہ طالب علمی کا ایک وہ دور بھی تھا جب میں اپنی سادہ لوحی اور کم علمی کی وجہ سے یہ سمجھا کرتا تھا کہ سب عورتیں ایک ہی کنبے ’ایک ہی گروہ‘ ایک ہی قبیلے اور ایک ہی کمیونٹی کا حصہ ہیں۔ چونکہ ان کے دکھ سکھ سانجھے ہیں اس لیے جب وہ کسی بھی عورت کو زندگی کے مسائل سے نبرد آزما ہوتا دیکھتی ہوں گی تو اس کی غیر مشروط مدد کرتی ہوں گی ۔

جوں جوں میں زندگی کے سماجی حقائق سے روشناس ہوتا گیا مجھے یہ احساس ہوا کہ کچھ ایسے سماجی مسائل اور تضادات بھی ہیں جو عورتوں کو ایک دوسرے سے نہ صرف جدا کر دیتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے مقابل بھی کھڑا کر دیتے ہیں۔

کیا عورتیں ایک دوسرے کی رقیب اور دشمن بھی بن سکتی ہیں؟
کیا چند عورتوں دیگر عورتیں کی راہ کی دیوار بھی بن سکتی ہیں؟
ایک وہ زمانہ تھا جب یہ خیالات و تصورات میرے لیے غیر مانوس ہی کیا ناقابل یقین بھی ہوا کرتے تھے۔
بھلا عورتیں دوسری عورتوں کا راستہ کیوں روکیں گی؟

اس سماجی حقیقت سے میرا پہلا تعارف اردو ادب کی مایہ ناز شاعر اور دانشور فہمیدہ ریاض نے کروایا۔ ٹورانٹو کی گفتگو کے دوران انہوں نے فرمایا کہ جب چند سوشلسٹ عورتیں عورتوں کے معاشی اور سماجی حقوق اور ان کی آزادی و خودمختاری کی بات کرتی ہیں اور صدیوں کی روایت سے بغاوت کرتی ہیں تو پدرسری نظام میں پلے بڑھے مرد ہی نہیں دوسری عورتیں بھی ان کی مخالفت کرتی ہیں۔

اس سماجی حقیقت سے دوسری بار میرا تعارف فرانس کی سوشلسٹ فیمینسٹ سیماں دی بوا اور امریکہ کی کیپیلسٹ فیمنسٹ بے ٹی فریڈین کے مکالمے نے کروایا۔

سیمون دی بوا کا کہنا تھا کہ عورتوں کی ایسی تربیت کی جاتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی بجائے اپنے شوہروں اور بچوں کی نگہداشت میں اپنی زندگیاں قربان کر دیتی ہیں۔ وہ ماں۔ بہن۔ بیوی۔ بیٹی کے کرداروں میں اپنی ذات کو بھول جاتی ہیں اور جب ان کے بچے جوان ہو کر گھروں سے چلے جاتے ہیں تو کچھ عورتیں حیران و پریشان ہو جاتی ہیں اور کچھ غمزدہ اور اداس ہو جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تکلیف دہ سفر میں عورتوں کی اپنی مائیں اور بہنیں اور نندیں اور ساسیں بھی ان کی حوصلہ افزائی نہیں کرتیں۔

سیمون دی بوا کے مقابلے میں بے ٹی فریڈین کا موقف تھا کہ ہمیں عورتوں کے ماں بننے کے کردار کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان کی تنخواہ مقرر کریں اور انہیں تعلیم اور صحت کی انشورنس اور ریٹائرمنٹ کی سہولتیں مہیا کریں۔

سیمون دی بوا اور بے ٹی فریڈین کے مکالمے سے مجھے اندازہ ہوا کہ فیمنسٹوں کے بھی کئی گروہ ہیں۔ ان کے بھی کئی مکاتب فکر ہیں اور ان گروہوں کے موقف ایک دوسرے سے جدا ہی نہیں متضاد بھی ہیں۔

عورتوں کے عورتوں سے نظریاتی اختلافات اور سماجی تضادات سے تیسری بار میرا تعارف امریکی شاعر اور دانشور اورڈی لورڈی نے کروایا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ جب سیاہ فام ’مزدور اور لیسبین عورتیں اپنے حقوق کے لیے جنگ لڑ رہی ہوتی ہیں تو سفید فام اور سرمایہ دار عورتیں بھی ان کی مدد کے لیے نہیں آتیں کیونکہ وہ اپنے جابر و ظالم سرمایہ دار شوہروں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔ ان کے لیے کسی سرمایہ دار مرد کی بیوی ہونا مرکزی اور عورت ہونا ثانوی ہو جاتا ہے۔

اوڈری لورڈی نے اپنی کتاب
AGE, RACE, CLASS AND SEX…WOMEN REDEFINING DIFFERENCE

میں ’جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا تھا‘ ہمیں بتایا کہ عورتوں کو اپنے حقوق کے لیے کن کن محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے

عورت ہونے کے ناتے وہ صنف کے ایک محاذ پر جنگ لڑتی ہیں
مزدور عورت ہونے کے ناتے وہ صنف اور افلاس دو محاذوں پر جنگ لڑتی ہیں
مزدور سیاہ فام عورت ہونے کی وجہ سے وہ صنف افلاس اور رنگ و نسل کے تین محاذوں پر جنگ لڑتی ہیں اور
مزدور سیاہ فام لیسبین عورت کے ناتے وہ صنف افلاس رنگ اور جنسی ترجیحات کے چار محاذوں پر جنگ لڑتی ہیں۔

اوڈری لورڈی نے سفید فام سرمایہ دار عورتوں پر اعتراض کیا کہ وہ اپنی کانفرنس میں سیاہ فام ’مزدور اور لیسبین عورتوں کو کیوں نہیں بلاتیں۔

اوڈری لورڈی نے روایتی فیمنزم پر تنقید کی۔ انہوں نے پہلے BLACK FEMINISM اور پھر ایلس واکر کے ساتھ مل کر WOMANISM کی تحریک چلائی اور ساری دنیا کو بتایا کہ فیمنزم کا مقصد مردوں سے دشمنی نہیں بلکہ عورتوں کے حقوق کی جدوجہد ہے۔ ان کے حقوق کو نہ ماننے والوں میں مردوں کے ساتھ سفید فام سرمایہ دار عورتیں بھی شامل ہیں۔

اوڈری لورڈی کا موقف تھا کہ جب تک ہم انسانوں کی نفسیات اور سماجیات سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے ہم ان کے مسائل کی بہتر تفہیم نہیں کر پاتے اور اگر مسائل کی صحیح تفہیم نہ ہو تو ان کا حل تلاش کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عورتوں کے مسائل کی پیچیدگیوں اور باریکیوں کو سمجھنا ہو گا تا کہ ہم ایک ایسا عادلانہ اور منصفانہ نظام قائم کر سکیں جہاں سب عورتیں عزت نفس سے زندہ رہ سکیں۔

جب میرا مختلف مکاتب فکر کی فیمینسٹ دانشور عورتوں کی تخلیقات سے تعارف ہوا تو مجھے اندازہ ہوا کہ ان میں سے بہت سی سماجی اور سیاسی کارکن عورتیں بیک وقت

فیمینزم
سوشلزم
انارکزم
سیکولر ازم اور
ہیومنزم
کی تحریکوں سے وابستہ تھیں۔

ایسی عورتوں نے مزدور عورتوں سیاہ فام عورتوں اور لیسبین عورتوں کو بھی اپنے حقوق سے روشناس کروایا اور ان کے سماجی اور سیاسی شعور کو بڑھاوا دیا اور انہیں اس بات کے لیے تیار کیا کہ جب وہ اپنی آزادی و خود مختاری کی جنگ لڑیں گی تو پدرسری نظام کے پروردہ مردوں کے ساتھ ساتھ مذہبی اور روایتی عورتیں بھی ان کی مخالفت کریں گی اور انہیں ایسی مخالفت کے لیے تیار رہنا چاہیے تا کہ وہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail