شکاری کا جنم۔ 2 – احمد اقبال
ماضی کی دھند میں چھپی ہم سب کی ان گنت کہانیاں مشترک ہیں۔ اسی لیے میں نے ایک کہانی کی کہانی چھیڑی تو بہت لوگ ہمہ تن گوش ہوئے
ذکر شروع ہوا تھا ش م جمیل کا ۔ اب شکاری کی کہانی میں چھپی ایک عزم و ہمت کی حقیقی کہانی بھی سن لیں۔ میں نے بتایا کہ جمیل صاحب 1979 میں کروڑ پتی تھے لیکن یہ سب انہیں اپنے والد کی طرف سے ملا تھا
ان کے والد شیخ صاحب جب 47 میں مہاجر بن کے سکھر پہنچے تو ان کے ساتھ ”احمد فوڈ“ کے بانی بھی تھے۔ دونو خالی ہاتھ تھے احمد ایک تھال میں برفی لے کر بیٹھا۔ شیخ صاحب ساتھ ہی پکوڑے لے کر بیٹھ گئے۔ جب دونو ناکام ہوئی تو کراچی کا رخ کیا، شیخ صاحب نے کندھے پر ایک بوری ڈالی اور گلی گلی صدا لگانے لگے ”ٹین ڈبے پرانا سامان والا“ ۔ دن بھر میں جو ملتا شام کو کریم آباد پر کھوکھے والے کو دے آتے۔ سردی گرمی میں گلیوں کی خاک چھان کر رزق کمانے کا یہ سلسلہ کافی عرصہ چلا لیکن اس میں بھی ان کو بچت ہوئی۔ کچھ عرصے بعد وہ بھی ایک کھوکھے کے مالک بن گئے جہاں دوسرے اپنا مال لاتے تھے۔ اس میں پرانے زنگ خوردہ پائپ۔ ٹونٹیاں۔ ٹی اور ایل بو۔ واش بیسن وغیرہ سب ہوتے تھے۔ وہ انہیں زنگ صاف کر کے چمکاتے تھے پائپوں کو جوڑتے تھے اور یہ سینیٹری فٹنگ کم آمدنی والے غریب لوگ اپنے چھوٹے گھروں کیلے لے جاتے تھے۔
ان پڑھ شیخ صاحب نے سینیٹری فٹنگ کی سائنس اس کھوکھے پر بیٹھے بیٹھے سیکھی۔ کچھ عرصے بعد حسن سکویر پر ”حئی سنز پائپ فیکٹری“ قائم ہوئی تو انہوں نے شہر بھر میں ڈسٹری بیوشن ایجنٹ مانگے۔ اس کے لیے بیس ہزار کی سیکیورٹی جمع کرانا لازمی تھا، شیخ صاحب نے اپنا کھوکھا اور بیوی کا زیور سب بیچ دی۔ رہی سہی کسر کچھ لوگوں سے ادھار لے کر پوری کہ اور ”حئی سنز“ کے ڈسٹری بیوٹر بن گئے۔ کراچی بس رہا تھا۔ لوکل مال کوالٹی میں بہتر اور قیمت میں کم تھا۔ حئی سنز نے ترقی کی تو شیخ صاحب نے بھی کی۔ اس کاروبار میں وہ اتنا آگے گئے کہ جب میں نے انہیں دیکھا تو وہ جاپان سے انڈسٹریل پائپ کے امپورٹر تھے۔ بعد میں انہوں نے سگرٹ لائٹر بنانے بھی شروع کیے تھے۔
وہ کروڑ پتی بن گئے تھے لیکن ان کا ظاہر نہیں بدلا تھا۔ وہ شرعی اونچی شلوار پہنتے تھے اور ان کی گھنی داڑھی تھی۔ وہ کریم آباد چوک کے ساتھ مین روڈ پر پر ہزار گز والی دو منزلہ کوٹھی میں آٹھ بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ ان میں ایک ڈاکٹر دوسرا ریفریجریشن انجینئر تھا۔ جمیل صاحب اور ان سے چھوٹا باپ کے بزنس کو سنبھالتے تھے۔ دو کاریں تھیں جن میں وہ ان گلیوں سے بھی گزرتے ہوں گے تو ایک آواز کی باز گشت سنتے ہوں گے۔ ”ٹین ڈبے خالی بوتل پرانا سامان بیچ لو“ ۔ وہ وقت بھی بہت پیچھے نہیں تھا جب وہ سکھر میں پکوڑے کا تھال لے کر گاہک کا انتظار کرتے تھے
وہ ایک مثال تھے کہ محنت میں کوئی شرم نہیں اور نیت صاف ہو تو محنت میں برکت خدا دیتا ہے
————-
جب میں نے ڈائجسٹوں کی دنیا میں قدم رکھا تو سب سے جونیئر تھا۔ ابتدا میں مجھ پر کامیابی کے دروازے بند کیے گئے۔ یہ ہر شعبے میں ایک انجانے خوف کے سبب ہوتا ہے کہ کہیں یہ نو وارد ہماری روزی کے وسیلے بند نہ چھین لے حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ مقدر کی اور خدا کے رازق ہونے کی بات اپنی جگہ۔ دنیا کی آبادی کے ساتھ مواقع بڑھ رہے تھے اور ہنر مند کی ضرورت بھی زیادہ ہو رہی تھی۔ ایک بات اکثر کہی جاتی ہے
THERE IS ALWATS ROOM AT THE TOP
ہمت ہارنے والوں میں سے میں نہیں ہوں چنانچہ قسمت نے مجھے سال بھر بعد 1972 میں ”عالمی ڈائجسٹ“ پہنچا دیا۔ یہ پہلے 129 گارڈن ایسٹ سے جون ایلیا کی ادارت میں شایع ہونے والا ادبی پرچا ”انشا“ تھا، 1970 میں جون نے ایک ذہین لڑکی ”زاہدہ حنا“ سے شادی کی تو اس نے مشورہ دیا کہ ادبی پرچے کو منافع بخش بنانا ہے تو اسے ڈائجسٹ بنا دیا جائے۔ جون نے ان کی بات مان لی۔ یہ ڈائجسٹوں کے اس دور کی ابتدا تھی جس نے اگلے پچاس برسوں میں کہانی کو عوامی بنا کے ادب عالیہ کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا۔
کچھ لوگ ”سب رنگ“ کو اس ہراول دستے کا سردار کہتے ہیں جو غلط ہے۔ غلام محمد غوری کا ”شبستان“ میری یاداشت کے مطابق پہلا ڈائجسٹ تھا جو شاید 1965 سے شایع ہونے لگا تھا اس کا دفتر جیل روڈ پر تھا اور قریب ہی جمشید روڈ پر میرا دوست غوری اور پنی بیوی فہمیدہ کے ساتھ رہتا تھا آج وہ طارق روڈ پر ایک بلڈنگ کے پورے فلور کے مالک ہیں اور ”پکوان ’کے علاوہ“ کچن ”جیسے کامیاب رسالے نکالتے ہیں۔ وہ حیدر آباد دکن کے رہنے والے ہیں اور جب میری فیملی میں ایک رشتہ حیدر آباد کی ایک معزز فیملی میں طے ہوا تو انہوں نے رسوم و رواج بتانے میں ہماری بہت راہنمائی کی تھی
شکیل عادل زادہ جب عالمی سے الگ ہوئے تو ”سب رنگ“ ڈائجسٹ کا آغاز کیا۔ میری پہلی تین کہانیاں تو وہیں ”اقبال احمد خان“ کے نام سے شایع ہوئی تھیں اور مجھے اقبال احمد خان سے احمد اقبال بنانے والے بھی وہی تھے۔ در اصل اسی زمانے میں ”جنگ کے“ ایک نامور رپورٹر کا نام بھی اقبال احمد خان تھا جن کا انتقال بعد میں ضیا الحق کی پریس کانفرنس کے دوران ہارٹ اٹیک سے ہوا تھا۔ کسی صحافی کے پریس کانفرنس میں انتقال کا یہ پہلا اور آخری واقعہ ہے۔ ان کی بیگم ”کشور اقبال“ نے کچھ عرصہ ایک رسالہ ”صبح نو“ بھی نکالا تھا
ناموں کی اس یکسانیت نے کچھ کنفیوژن پیدا کیا تو شکیل صاحب نے مجھے ایک ادبی سا نام اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ انور شعور وہیں موجود تھے۔ انہوں نے ”احمد اقبال“ تجویز کیا جو مجھے بھی اچھا لگا شکیل صاحب نے اسے فوراً آفیشل کر دیا لیکن چند وجوہات ایسی تھیں کہ میں سب رنگ سے الگ ہو گیا۔ ایک دو رسالوں میں بھی حوصلہ شکن رویہ دیکھنے کے بعد جب میں ”عالمی ڈائجسٹ“ کے دفتر 129 ای گارڈن ایسٹ پہنچا جو میری پاکستان کوارٹرز گارڈن روڈ کی رہائش ”ڈی۔ 175“ سے بہت قریب تھا تو احمد اقبال ہی تھا۔ میرا اعتماد متزلزل نہیں ہوا تھا۔ ایک یقین برقرار تھا کہ یہ حوصلہ شکنی کرنے والے پیشہ ور حریف مجھے آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتے۔ ایک ضد سی سر میں سما گئی تھی کہ اب مجھے نام بنانا ہے

