تھائی لینڈ: مسکراہٹوں کا دیس


تھائی لینڈ کے لوگ مسکرانے کے عادی ہیں۔ بات بات پر مسکراتے ہیں۔ بلکہ بات بے بات ہنستے رہتے ہیں۔ آپ سڑک چلتے کسی تھائی باشندے سے کسی جگہ کا پتا پوچھیں تو وہ جواباً مسکرا دے گا۔ خواہ اس کو آپ کی بات سمجھ میں آئی ہو یا نہ آئی ہو۔ بنکاک میں سڑک کنارے لگے سٹالز پر سیلز مین سے کسی چیز کی قیمت پوچھیں تو فوراً اپنے دانت آپ کو دکھائے گا بعد میں قیمت بتا کر آپ کی مسکراہٹ کا گلا دبا دے گا۔

ہم نے بنکاک کی ایک مشہور شاہراہ سخومت روڈ  کے کنارے پر کھڑے ایک ٹک ٹک ( بنکاک میں رکشہ نما گاڑی کو ٹک ٹک کہا جاتا ہے ) والے سے سیام مارکیٹ تک جانے کا کرایہ اور فاصلہ پوچھا تو اس نے جواباً اپنی بتیسی دکھا دی۔ ہم سمجھے شاید مارکیٹ بتیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ صاحب کو ہماری بات کی سمجھ نہیں آئی۔ سچ پوچھیے تو ہم نے جس ٹھوس پنجابی انداز میں انگریزی کا فقرہ بولا تھا اس کی سمجھ ہمیں خود بھی نہیں آئی تھی۔

فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے آپ کو جا بجا، بلاوجہ خواتین کی حسین مسکراہٹیں اور مردوں کی رنگ دار بتیسیاں نظر آئیں گی اور آپ کی باچھیں خود بخود کھل جائیں گی۔ یوں لگتا ہے کہ ہر بندہ مسکرا رہا ہے دکاندار، راہ گیر، مسافر، ڈرائیور، ہوٹل کے بیرے سب ہنستے پھرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے سب غیر سنجیدہ لوگ ہیں۔ غیرسنجیدگی کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ میاں بیوی شاپنگ کرنے جا رہے ہوں تو بھی مسکرا رہے ہوتے ہیں۔ بیوی کی مسکراہٹ تو سمجھ میں آتی ہے۔ میاں صاحب کس بات پر خوش ہوتے جاتے ہیں یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔

تھائی لوگ ایک بات پر ضرور سنجیدہ ہو جاتے ہیں جب آپ ان کو کوئی لطیفہ سناتے ہیں۔ ہم نے اس کا عملی مظاہرہ دیکھا۔ میں نے ایک تھائی ٹیوٹر کو لطیفہ سنایا تو وہ ہنسنے کی بجائے گہری سوچ میں گم ہو گیا۔ لطیفہ لوڈ شیڈنگ کے عنوان پر تھا اور شاید اس نے اس معاملے کو لطیف خیال کی بجائے ایک گمبھیر مسئلہ سمجھا اور سوچنے لگا۔ لطیفہ اگر پنجابی میں سناتے تو وہ یقیناً ہنستا۔ انگریزی زبان میں سنانے کی کوشش کی تھی جو لطیفے کی بجائے المناک کہانی محسوس ہونے لگا تھا۔

ہمارے دوست مسٹر پیٹر (جب زیادہ پیار آتا تھا تو ہم اس کو پیٹر انجن بھی کہہ لیتے تھے ) نے ان کو ایک لطیفہ سنایا تو ہمارے تھائی دوست دل کھول کر ہنسے۔ ہمیں فوراً پتا چل گیا کہ لطیفہ ان کی سمجھ میں نہیں آیا۔

تھائی لوگوں کی ہنسنے کی عادت کہ وجہ سے تھائی لینڈ کو لینڈ آف سمائل بھی کہا جاتا ہے۔ مجھے بھی ان کی یہ عادت بہت بھلی لگی۔ شاعری کی الف ب جانتا ہوتا تو ان کی مسکراہٹ پر ایک نظم ضرور لکھتا۔ جیسے ورڈز ورتھ نے آبی نرگس کے پھولوں کو دیکھنے کے بعد ان پر نظم لکھی تھی۔

بنکاک کی سڑکوں پر ٹریفک کا بہت رش ہوتا ہے لیکن ٹریفک بے ہنگم نہیں ہوتی۔ کہتے ہیں کہ اگر کسی قوم کی اخلاقی حالت کا اندازہ لگانا ہو توان کی ٹریفک کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ تھائی لوگ ایک دوسرے کا خیال کرنے والے لوگ نظر آتے ہیں۔

بنکاک میں مختلف رنگوں کی ٹیکسی کاریں سڑکوں پر دوڑتی نظر آتی ہیں۔ یوں لگتا ہے کسی چنچل بچے نے رنگ برنگی ٹافیوں کا پیکٹ پھینک دیا ہو اور ٹافیاں جابجا بکھر گئی ہوں۔ ہمارے ہاں سڑک پر ہارن کے علاوہ کچھ اور سنائی نہیں دیتا مگر تھائی لینڈ میں ہارن بہت ہی کم سنائی دیتا ہے۔ گاڑیوں والے پیدل چلنے والوں کا بے حد خیال کرتے ہیں اور ان کو سڑک پار کرنے کا موقع دیتے ہیں اور پیدل چلنے والے بھی بغیر دیکھے سڑک پر چلتے نظر نہیں آتے۔ موٹر سائیکل بے شمار نظر آتے ہیں جو مرد و خواتین ہیلمٹ پہن کر چلاتے ہیں۔

ہمیں بنکاک سے باہر کچھ فاصلے پر موجود ایک سکول کا دورہ کروایا گیا تھا۔ بنکاک سے ذرا دور کسی گاؤں کے، پہاڑیوں کے دامن میں خوب صورت دیومالائی سکول کو جاتے راستے میں ایک چھوٹے سے ریستوران پر ہم نے کھانا کھایا۔ ریستوران میں دیوار پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔ ریستوران میاں بیوی مل کر چلاتے تھے جو کہ مسلمان تھے۔ یہ جان کر بہت اپنائیت سی محسوس ہوئی اور کھانے میں شامل چاول اور مچھلی پہلے سے زیادہ مزے دار لگنے لگے۔

تھائی لینڈ میں تقریباً ساڑھے چار فی صد لوگ مسلمان ہیں۔ اذان کی آواز کانوں میں پڑی تو سب نے نماز ادا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اپنے وطن سے دور جا کر ہر وہ چیز اچھی لگنے لگتی ہے جو اپنے دیس سے جڑی ہوئی ہو۔ سڑک کو پار کر کے دوسری جانب مسجد میں جانا تھا۔ گاڑیوں کو دور پا کر ہم کچھ دوست جلدی جلدی سڑک پار کر گئے۔ ہمارے ساتھ مامور تھائی خاتون نے ہمیں خبر دار کیا کہ تھائی لینڈ میں ڈرائیور اس طرح کے رویے کے عادی نہیں ہیں۔ ہمیں شرمندگی ضرور محسوس ہوئی تھی مگر اپنے ملک کی سڑکوں پر احمقانہ حرکتیں کرتے ہوئے کبھی شرمندگی قریب بھی نہیں آئی۔

مسٹر پیٹر نے میڈم کو بتایا کہ میڈم جتنی دور گاڑیاں آ رہی ہیں اتنی دیر میں تو ہم پانچ بار سڑک پار کر سکتے ہیں۔ میڈم مسکرانے لگی۔ ہم نے پیٹر کو بتایا کہ وہ آپ کی بات کو سمجھ نہیں سکیں۔ (جاری)

Facebook Comments HS

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 81 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti