آئین کی گولڈن جوبلی اور ”لے پالک اشرافیہ“ یعنی پراپرٹی مافیا
ہم ریاستی آئین کی گولڈن جوبلی منانے جا رہے ہیں، ایک ایسے آئین کی جسے دو بار بوٹوں تلے روندا گیا۔ 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے پیپلز پارٹی کے بانی چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک پر مارشل لاء مسلط کرتے ہوئے نظام حکومت اپنے ہاتھوں میں لیا۔ اسی طرح 1999 میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کی منتخب حکومت کو چلتا کرتے ہوئے خود اقتدار پر قبضہ جما لیا۔
مذکورہ دونوں فوجی ڈکٹیٹروں کی طرف سے نہ صرف ماورائے آئین اقدام اٹھانے کی جسارت کی گئی بلکہ آئین کا حلیہ بھی بگاڑا گیا جبکہ ڈکٹیٹروں کے اس ماورائے آئین اور غیر جمہوری اقدامات کو معزز عدلیہ کی جانب سے نظریہ ضرورت کی بنیاد پر جائز قرار دیا گیا۔ 1973 کے آئین کی تشکیل اور نفاذ کے بعد ملک میں دو مرتبہ فوجی حکومتیں قائم ہو چکی ہیں، ان دونوں فوجی حکومتوں کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات میں جہاں بہت سی چیزیں قدر مشترک ہیں وہاں بہت سے معاملات میں مماثلت بھی پائی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغانستان میں روس (سابقہ سویت یونین ) کے خلاف امریکہ کی جنگ میں پاکستان کا شامل ہونا، اسی طرح ضیاء دور میں ہی ملک میں منشیات اور کلاشنکوف کلچر عام ہوا۔ افغان جنگ نے ریاست کو سیاسی و معاشی اعتبار سے کس قدر مضبوط کیا، یہ ایک الگ سوال ہے لیکن اس جنگ کے نتیجے میں افغان مہاجرین کے ساتھ ساتھ پاکستان میں منشیات کا سیلاب بھی امڈ آیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک میں منشیات جیسے گھناؤنے کاروبار سے جڑے افراد راتوں رات دولت مند ہوتے چلے گئے اور اس طرح ملک میں دیکھتے ہی دیکھتے ایک نئی ”اشرافیہ“ وجود میں آ گئی۔
ہم دیکھتے ہیں کہ یہ نام نہاد اشرافیہ نہ صرف ریاست کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے بلکہ نوجوانوں کو بھی نگلتی آ رہی ہے۔ اس نام نہاد اشرافیہ کی وجہ سے دوسرا سب سے بڑا نقصان ملکی معیشت کو بھی اٹھانا پڑا ہے کیونکہ اس گھناؤنے کاروبار سے دولت محض ایک مخصوص طبقہ تک منتقل اور محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس جنگ میں ملک میں کس قدر امریکی ڈالر آئے اس کا حساب بھی آج تک ہونا باقی ہے اور یہ ڈالرز کہاں خرچ ہوئے، کیسے خرچ ہوئے، یا پھر کس کی جیب میں گئے، کچھ معلوم نہیں۔
اسی طرح سابق ڈکٹیٹر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں افغانستان میں امریکہ نے ایک نئی جنگ لڑی اور اس بار بھی فوجی حکومت کی طرف سے جنگ میں امریکی اتحادی بننے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس بار بھی ملک میں امریکی ڈالروں کی بارش ہوئی لیکن یہ بارش کس آنگن میں برسی اور اس سے کون کون لطف اندوز ہوئے، سب کچھ معلوم ہوتے ہوئے بھی کچھ معلوم نہیں۔ بہر کیف بھاڑے کی اس جنگ میں بھی ملک میں بہت پیسہ آیا جس میں امریکی ڈالرز ہی نہیں بلکہ وہ ”کالا دھن“ بھی شامل ہے جو ملک کے اندر اور باہر موجود تھا اور یہی پیسہ بڑے پیمانے پر ”رئیل اسٹیٹ“ یعنی پراپرٹی کے کاروبار میں کھپایا گیا۔
ڈکٹیٹر مشرف کے دور حکومت کو پراپرٹی بزنس کے حوالے سے گولڈن پریڈ کہا جاتا ہے کیونکہ اس دور میں جس طرح جنرل ضیاء الحق کے دور میں منشیات فروش راتوں رات دولت مند ہو گئے تھے اسی طرح مشرف دور میں پراپرٹی بزنس سے وابستہ لوگ بھی دیکھتے ہی دیکھتے دولت مند ہوتے چلے گئے۔ اس طرح ملک میں ایک اور نئی ”اشرافیہ“ کا ظہور عمل میں آیا۔ لیکن مشرف دور میں وجود میں آنے والی اشرافیہ اور ضیاء دور میں جنم لینے والی اشرافیہ میں فرق یہ تھا کہ مشرف دور کی اشرافیہ کے کاروبار کو قانونی طور پر کسی قدغن کا سامنا نہیں تھا، حالانکہ اس کاروبار میں اس قدر کالا دھن کھپایا گیا کہ ملک میں رئیل اسٹیٹ بزنس ایک صنعت کی شکل اختیار کر گیا۔
مذکورہ دونوں فوجی ادوار میں جنم لینی والی نام نہاد اشرافیہ کے لیے ”لے پالک اشرافیہ“ کی اصطلاح استعمال کی جا سکتی ہے جو کہ خالصتاً میری ذہنی اختراع ہے۔ بہر کیف ملک میں یہ لے پالک اشرافیہ اس قدر مضبوط ہوتی جا رہی ہے کہ وہ اپنی دولت کے بل بوتے پر ”اثر و رسوخ“ کی خریدو فروخت کرتے ہیں، سیاسی و غیر سیاسی قوتوں کو فنڈنگ کرتے ہیں تاکہ ان کے کاروبار کو تحفظ فراہم کرنے میں شامل دھونس اور دھمکی جیسے دیگر عوامل کی پشت پناہی ہو سکے۔
پراپرٹی بزنس سے وابستہ لے پالک اشرافیہ کی جانب سے جو بھی نئی ہاؤسنگ اسکیمیں یا رہائشی پراجیکٹس متعارف کرائے جاتے ہیں ان کے لیے نہ صرف زمینیں سستے داموں خریدی جاتی ہیں بلکہ اس کے لیے خصوصی طور پر ماحول کو ساز گار بھی بنا یا جاتا جس کے لیے اس بات خیال بھی نہیں رکھا جاتا کہ یہ زمین ”زراعت“ کے لیے استعمال ہوتی ہے یا نہیں۔ آج یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں زرعی زمینوں پر بے دریغ ہاؤسنگ اسکیموں کے قیام سے ملک میں ”غذائی اجناس“ کا بحران آئے روز سر اٹھاتا ہے۔
اسی طرح ان ہاؤسنگ اسکیموں میں سے بیشتر ہاؤسنگ اسکیموں کی طرف سے پلاٹس اور رہائشی پراجیکٹس کی بکنگ سے لے کر ماہانہ اقساط تک کے معاملات میں مالی لین دین ”بینکوں“ کی بجائے خود سے براہ راست کیا جاتا ہے جبکہ الاٹیز کو الاٹمنٹ یا رجسٹری کے لیے الگ سے بھاری فیس دینے پر بھی مجبور کیا جاتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ بزنس میں مالی لین دین کے لیے جو طریقہ کار رائج ہے اس سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے جبکہ اسی مروجہ طریقہ کار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ پراپرٹی ٹائیکون دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں خریدتے ہیں اور پر آسائش زندگی کے مزے لوٹتے ہیں۔ کیا یہ نہیں دیکھا جاتا کہ ملک بھر میں یہ ”لے پالک اشرافیہ یعنی پراپرٹی مافیا“ اپنی قیمتی گاڑیوں کے ساتھ نجی گارڈوں کے ساتھ دندناتے پھرتے ہیں جبکہ یہ لے پالک اشرافیہ اپنے ساتھ یہ گارڈز وہ اپنی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ عام آدمی پر دھونس جمانے اور خوف دلانے کے لیے رکھتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ریاستی آئین کی گولڈن جوبلی مناتے ہوئے ایسے عوامل کی نشاندہی بھی کریں جو ملک و قوم کی سیاسی و معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے اس میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں جن میں سے ایک یہ ”لے پالک اشرافیہ“ ہے جن کے کاروبار کو۔ ”دستاویزی معیشت“ کا حصہ بنائے جانا ضروری ہے، بصورت دیگر ملک میں غریب کے لیے اپنا گھر بنائے جانا محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا، ایسے میں یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت شہریوں کو اپنا گھر فراہم کرنے کے لیے نئے قصبات، گاؤں، ٹاؤنز اور شہر آباد کرے جبکہ زرعی زمینوں کے تحفظ کے لیے بھی آئینی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔


