اسرائیل! ہمارے میوہ جات، کھجوریں اور مسالے جلد واپس کرو
کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر یہ خبر پھیل گئی کہ حکومت وقت اسرائیل کے ساتھ مخفی تجارتی معاملات ریاستی سطح پر شروع کر چکی ہے۔ ہمیشہ کی طرح قوم مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی نظر آئی۔ کچھ نے موجودہ حکومت کو اسرائیلی ایجنٹ قرار دیا اور کچھ نے ماضی کی حکومتوں کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی خبروں کو جھاڑ کر تازہ ترین معلومات کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا۔ بحث جاری رہی اور اصل خبر دب گئی اور یہ موضوع آئندہ کسی ’اوکھے‘ وقت میں خون گرمانے کے لیے رکھ دیا گیا۔
رواں برس جب ملکی معاشی ساکھ وینٹیلیٹر کے دہانے آن پہنچی تو اکثریت بھارت میں بنیادی ضروریات کی اشیاء کی قیمتوں کا موازنہ مملکت خداداد سے کرنے لگی۔ بھارت میں ایک روٹی کی قیمت، گیس سلنڈر، آلو پیاز جیسی بنیادی ضروریات کی اشیاء کی قیمتوں کا موازنہ وطن عزیز میں پنپتی مہنگائی سے کیا گیا۔ اس تمام تر بحث میں جس اصول کو یکسر بھلایا گیا وہ دوطرفہ ’تجارت‘ تھا۔ دو کثیر آبادی والے ممالک کے مابین نہ ہونے کے برابر تجارت کو اس بحث میں کوئی جگہ نہیں دی گئی۔
یہاں ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے یہ نہ کرنے کی حتمی رائے سے باز رہ کر محض یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا ہم عالمی تجارتی ضوابط سے میل کھاتے ہیں؟ کیا ہم دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کیے بغیر اپنی معاشی ساکھ بہتر کر سکتے ہیں؟ اس کے ساتھ ساتھ ہم مختلف ممالک کے مابین کشیدگی کے باوجود ہونے والی تجارت اور خاص طور پر مغربی ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت پر بھی سرسری نظر ڈالیں گے۔
بھارت جسے ہم انتہا پسند ریاست کے طور پر پیش کرتے ہیں نے ہندوتوا کے سخت گیر نظریہ کی حامل ریاست ہونے کے باوجود ’ڈبلیو ٹی او‘ کا حصہ بننے کے بعد ، 1996ء میں پاکستان کو ایم ایف این کا درجہ دیا تھا، جو اس کی مارکیٹ تک بلا امتیاز رسائی فراہم کرتا ہے۔ عالمی تجارت کو کنٹرول کرنے والا ادارہ ’ڈبلیو ٹی او‘ دنیا کے تمام ممالک کو آپس میں کھلے عام تجارت کرنے کے لیے سازگار ماحول کا تقاضا کرتا ہے۔ ٹیرف اور نان ٹیرف پابندیاں ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ممالک کو ایک دوسرے کو تجارتی سہولیات دینے کے لئے بھی کہا جاتا ہے۔
یہ ڈبلیو ٹی او کے تقاضے ہیں اور رکن ممالک کو عالمی تجارتی ضوابط کی پیروی کرنا ہوتی ہے۔ بھارت کے اس اقدام کے جواب میں پیپلز پارٹی کے دور میں کابینہ نے اجلاس میں ایک مرتبہ بھارت کے لئے ایسی حیثیت کا فیصلہ کر لیا تھا۔ لیکن عمل درآمد کے راستے میں اتنی رکاوٹیں تھیں کہ فیصلے کو صرف کاغذوں تک ہی محدود رکھنا بہتر سمجھا گیا۔ 2012ء میں بھارت کو ایم ایف این اسٹیٹس دیے جانے کے خلاف عوامی ردعمل اس قدر شدید تھا کہ گلی کوچوں کی دیواروں پر یہاں پیشاب کرنا منع ہے کے ساتھ ساتھ ’بھارت کے لئے پسندیدہ ریاست کا عہدہ نامنظور نامنظور‘ کی وال چاکنگ اور بینرز عام دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ دو کثیر آبادی رکھنے والے پڑوسی ممالک کے مابین سال 2019۔ 20 ء میں تجارتی حجم جو تقریباً 830 ملین ڈالرز تھا سکڑ کر موجودہ وقت میں تقریباً 400 ملین ڈالرز تک پہنچ گیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی امریکہ کے ساتھ تجارت کو دیکھا جائے تو رواں سال پاکستان اور امریکہ کا تجارتی حجم تقریباً 6.6 بلین ڈالر کا رہا۔ دو طرفہ اشیا کی تجارت میں پاکستان امریکا کا ایک بڑا گڈز ٹریڈنگ پارٹنر ہے۔ امریکہ کو تیار مال دینے کی سکت تو ہم میں نہیں ہے البتہ پاکستان خام مال اور نیم تیار شدہ اشیا (Semi Finished Goods) برآمد کرتا ہے۔ ایسی اشیا کے نرخ کم ہونے کی وجہ سے پاکستان کو تجارت میں بیشتر خسارہ ہی ہوتا ہے۔
امریکا کے پڑوسی ملک کینیڈا کے ساتھ تجارت پر نظر ڈالی جائے تو عداد و شمار چونکا دینے والے ہیں۔ گزشتہ برس کینیڈا کے ساتھ تجارت میں امریکی برآمدات تقریباً 360.4 بلین ڈالرز جبکہ درآمدات 358.0 بلین ڈالرز تک رہی۔
چین اور بھارت کے مابین سرحدی کشیدگی سے کون ناواقف ہے؟ دونوں ممالک کے مابین 1962 ء جنگ بھی ہو چکی ہے اور آئے روز دونوں اطراف سے سرحدی کشیدگی کے باعث جھڑپیں ہوتی ہیں۔ اس سب کے باوجود اگر دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو دیکھا جائے تو گزشتہ برس بھارت نے چین کو تقریباً دو ارب ڈالر مالیت کی اشیا فروخت کیں۔ گزشتہ برس جنوری سے جون کے درمیان انڈین برآمدات میں 6.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ چینی درآمدات گزشتہ برس اپریل میں 3.2 ارب ڈالر تھیں جو جولائی میں بڑھ کر 5.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔
ایران اور امریکا کے مابین تنازعات کو اگر دیکھا جائے تو دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا ہونا ایک مشکل امر معلوم ہوتا ہے مگر اس کے باوجود بین الاقوامی تجارت پر اقوام متحدہ کے COMTRADE ڈیٹا بیس کے مطابق، 2022 کے دوران ایران سے امریکہ کی درآمدات 11.23 ملین امریکی ڈالرز تک جا پہنچیں۔
سرد جنگ سے شروع ہوتی (روس اور امریکا) گرما گرمی کو تاحال معتدل موسم میسر نہیں ہوا، آئے روز دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مختلف محاذوں پر نبرد آزما نظر آتے ہیں مگر اس سب کے ساتھ ساتھ گزشتہ برس امریکا کی روس کے ساتھ تجارت میں برآمدات 10.9 بلین ڈالر تھیں جبکہ درآمدات 24.0 بلین ڈالرز تھیں۔
اس کے ساتھ ساتھ اب یہ راز کوئی راز نہیں کہ سعودی عرب اور اسرائیل کچھ سال سے ایک دوسرے سے نہ صرف روابط قائم کیے ہوئے ہیں بلکہ دونوں ممالک تجارتی تعلقات بھی بڑھا رہے ہیں۔ اور اب تو سعودی عرب نے اسرائیل میں سرمایہ کاری بھی شروع کردی ہے۔ 2019 ء میں اسرائیل کے ساتھ تجارت میں سعودی برآمدات کا حجم تقریباً $ 770 k تھا۔ گزشتہ چوبیس سالوں کے دوران سعودی برآمدات میں 3.64 فیصد سالانہ کی شرح سے اضافہ ہوا ہے جو کہ 1995 ء میں 326 k ڈالرز تھا۔
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سامان کی تجارت کو دیکھا جائے تو (سافٹ ویئر کو چھوڑ کر) سال 2021ء میں 1.22 بلین ڈالر کے مقابلے میں سال 2022 ء میں 2.56 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
اس طرح اگر یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت کو دیکھا جائے تو ہمیں تناؤ سے ’اپھارا‘ بھی ہو سکتا ہے۔ 2020 ء اور 2022 ء کے درمیان یورپی یونین رکن ممالک کی کل تجارت 3.7 سے 12.9 فیصد بڑھ کر 4.2 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
اسی طرح یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان اشیا کی تجارت (انٹرا۔ یورپی یونین تجارت) کی مالیت برآمدات کے لحاظ سے 2022 ء میں € 4227 بلین تھی۔ یہاں یہ جان لینا انتہائی ضروری ہے کہ یہ وہ خطہ ہے جس میں لڑی گئی محض دو جنگوں کا ذکر کیا جائے جس میں ’سو سالہ جنگ اور تیس سالہ جنگ‘ نے اس خطے کے بخیے ادھیڑ دیے تھے مگر جنگ کوئی حل نہیں تجارت سے آگے کا سفر کیا جا سکتا ہے کی عملی شکل ان ممالک نے دنیا کو دکھائی۔ دوسری طرف اگر اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی آپسی تجارت کا موازنہ اگر ای۔ یو رکن ممالک سے کیا جائے تو مارے لاج کے ہم انگلیاں دانتوں میں دبا کر چنری سے چہرہ چھپانا پڑے گا۔
اب آ جائیں پاکستانی میوہ جات، کھجوریں اور مسالے اسرائیل کی مارکیٹ تک پہنچنے کے بعد شروع ہونے والے قضیے پر۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا یقیناً اہم ہو گا کہ فلسطینی مارکیٹ تجارتی شراکت دار کے طور پر اسرائیل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ 2022 ء میں اسرائیل سے فلسطینیوں کی درآمدات 3.48 بلین ڈالر اور برآمدات 1.3 بلین ڈالرز رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گھر پر روزگار کے چند مواقع اور نقل و حرکت اور ترقی میں رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہوئے، بہت سے فلسطینی، اسرائیلی بستیوں میں کام کرنے کا سہارا لیتے ہیں۔ 2021 ء میں تقریباً 37,000 فلسطینی کارکنوں کو مغربی کنارے پر اسرائیلی بستیوں میں ملازمت کے مواقع میسر آئے جو کہ زیادہ تر تعمیراتی شعبے میں تھے اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ستاون اسلامی ممالک میں سے چھتیس کے اسرائیل کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ پاکستان میں اسرائیل کے خلاف پائی جانی والی رائے کے ہوتے ہوئے ہر حکومت کو اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے جیسے دباؤ کا سامنا رہتا ہے اور اگر حکمران اس حوالے سے کوئی نرمی برتیں تو انھیں سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ مگر یہاں شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارا سفر تاریک راہوں کا سفر رہا ہے۔ کیا فلسطین کی حمایت کرتے ہوئے ہم بلوچستان کے حقوق کی آواز بھی اسی طرح اٹھاتے ہیں۔ کیا ہزارہ کے قتل عام پر ہم اتنے ہی رنجیدہ ہوتے ہیں۔ کیا وزیرستان اور خیبر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بھی ہمارا خون ایسے ہی کھولتا ہے۔ کیا جیٹ طیاروں کی اپنے ہی شہریوں پر بمباری ہمیں اتنی ہی بری لگتی ہے جتنی غزہ پر گرتے ہوئے میزائل کی۔ لاکھوں کرد مسلمانوں کی شام، عراق اور ترکی کے ہاتھوں ہونے والی نسل کشی پر ہمارے جذبات اور احساسات کسی سرد خانے میں کیوں پڑے رہے ہیں؟ اسرائیل پر لعنت بھیجنے کا فیصلہ تو چلو میرٹ پر کر ہی لیا گیا ہے مگر کبھی ایغور مسلمانوں کے کنسنٹریشن کیمپس پر ہمارے ہمالہ سے اونچی اور بحیرہ عرب سے گہرے دوستی کے حوالے سے جانے جانے والے برادر ملک کے لیے کوئی حرف جفا بھی ہے یا نہیں؟ کسی نے کبھی سنا ہو؟
اگر ملکی معاشی صورت حال کو کسی طور بہتر کرنے کا ارادہ حکومت رکھتی ہے تو سب سے اہم کام پڑوسی ممالک کے ساتھ غیر معمولی تجارت کو فروغ دینا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے ساتھ بھی تجارت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ موجودہ ورلڈ آرڈر میں سارا ٹکراؤ مفادات کے تحفظ کا ہے اگر ہم کسی دوسرے کے مفاد کو اپنے ساتھ منسلک کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو دوسرا فریق بھی ہماری بات سننے پر مجبور ہو گا ورنہ تو گردشی مغالطے ہیں سب جتنے پال سکتے ہیں پالتے جائیں کوئی ہماری جائز بات بھی سننے کو اپنے کان تک ادھار نہیں دے گا۔ میری ناقص رائے میں ان دگر گوں حالات سے نکلنے کے لیے یہی عملی قدم ہے باقی آپ وقت گزارنے کے لیے جاپان کی ترقی کی مثالیں ایک دوسرے کو سر اور تال میں سناتے رہیں اگر اس سے کچھ بہتری آ جائے تو بھی کوئی اعتراض نہیں۔


