ہونڈا سویک بمقابلہ سویک سینس

جب میں امریکہ Move ہوا تو اپنے ادارے سے لمبی چھٹی لے کر آیا تھا، چند سال کے بعد میں نے واپس آ کر پی ٹی وی جوائن کر لیا، انتظامیہ نے فوراً مجھے میرا پرانا کمرہ دیتے ہوئے کہا، ہم امید کرتے ہیں کہ تم اب کچھ عرصہ ہمارے ساتھ کام کرو گے۔
ابھی لمبی چھٹی کی کچھ اور options موجود تھیں، سب کے اصرار پر میں نے سوچنا شروع کر دیا کہ کچھ عرصہ ادارے کے لیے کام کیا جائے جو مجھے بڑی ذمہ داریاں دینے کے لئے تیار تھا، حالانکہ میں یہ سوچ کر آیا تھا کہ آتے ہی پھر لمبی چھٹی اپلائی کر دوں گا۔
جب پی ٹی وی اسپورٹس لانچ ہوا تھا تو اس کے آغاز میں کچھ عرصہ میں نے اس کے لئے بھی کام کیا تھا، انہوں نے بھی مجھے periodically اسپورٹس چینل کے لئے کام کرنے کا کہا۔
ویسے تو دنیا کا کوئی معاشرہ خامیوں سے پاک نہیں، یورپ ہو یا امریکا یا برصغیر، ہر معاشرہ بیش بہا خوبیوں کے ساتھ کچھ خامیاں بھی رکھتا ہے،
اس سب کے باوجود پاکستان کی خاص کشش ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے، اپنی دھرتی، ثقافت سے لگاؤ اور محبت انمول ہوتی ہے، یاد رکھئے یہ جو ہم مٹی سے محبت کی بات کرتے ہیں نا یہ دراصل وہاں موجود انسانوں سے لگاؤ ہوتا ہے، جن میں آپ کے دوست احباب، رشتہ دار اور چاہنے والے شامل ہوتے ہیں۔
خیر قصہ مختصر میرا plan چینج ہو رہا تھا اور میں نے practically اس پر سوچنا شروع کر دیا، اب مجھے شدت سے احساس ہونا شروع ہوا کہ پردیس میں چند سال گزارنے کے بعد مجھے ایڈجسٹ کرنے میں کافی پرابلم ہو رہا تھا، مثلاً سڑکوں، بازاروں میں کوئی smile پاس نہیں کر رہا اور نہ ہی کوئی کسی کے لیے دروازہ کھول کر یہ کہہ رہا تھا کہ پہلے آپ گزر جائیں، کوئی کسی کو ہیلو ہائے نہیں کہہ رہا۔
امریکا کے Flow میں مال آف لاہور میں ایک عورت سے میری نظریں چار ہوئیں، میں نے اسے ہائے بول دیا، وہ دیر تک مجھے عجیب نظروں سے دیکھتی گئی جیسے کہہ رہی ہو کہ ”اے حرامدا کون سی“ ؟ مجھے غلطی کا احساس ہوا کہ میں لاہور میں ہوں۔
لوگ ریڈ لائٹ پر نہیں رک رہے تھے، اگر کہیں لائن میں کھڑا ہونا پڑے تو لوگ لائن کراس کر رہے تھے اور مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے کہ پیچھے کوئی آدم زاد کھڑا ہے، سڑکوں پر بے صبری کی انتہا تھی، لوگ ہارن بجا بجا کر راستہ مانگ رہے تھے، حالانکہ میں انہی سڑکوں پر اسی قماش کی ڈرائیونگ کرتا رہا ہوں، لیکن اب یہ مشکل لگ رہا تھا۔
امریکہ میں آتے ہی سب سے پہلا shock تب لگا جب ایک چوراہے پر میری گاڑی سمیت چار گاڑیوں کا کھڑا ہونا اور سب کا ہاتھ کے اشارے سے ایک دوسرے کو پہلے گزر جانے کے لیے کہنا تھا، of course میں نے باقی تینوں ڈرائیوروں کا شکریہ ادا کیا اور گزر گیا۔
خیر لاہور میں مجھے شروع میں اتنی مشکل ہوئی کہ ایک دو ہفتوں کے لئے ڈرائیور رکھنا پڑ گیا، اس کے بعد میں اس قابل ہوا کہ خود ڈرائیو کر سکوں۔
ابھی میں شش و پنج میں تھا کہ فوراً واپس جایا جائے یا کچھ عرصہ کام کیا جائے کہ ایک ایسا واقعہ ہوا جو میرے لئے casting vote ثابت ہوا، ہوا یوں کہ پی ٹی وی نے جگہ کم ہونے کی وجہ سے بلڈنگ کے پہلو میں ایک خالی لاٹ میں ایکسٹرا پارکنگ بنائی، یہ دراصل پبلک پارکنگ تھی جس میں پی ٹی وی کی گاڑیوں کے لیے جگہ مختص تھی، اس میں داخلے اور اخراج کے لیے ایک ہی سڑک تھی جس میں سے بیک وقت دو گاڑیوں کا گزرنا مشکل تھا، میں ایک دن گاڑی park کر کے جب وہاں سے نکل رہا تھا تو ہونڈا سویک میں ایک نوجوان کو سڑک کے بیچوں بیچ گاڑی لگا کر فون پر باتیں کرتے دیکھا، میں نے رک کر انتہائی نرم انداز میں چہرے پر مسکراہٹ سجا کر اسے درخواست کی کہ یہاں سے گاڑیاں داخل ہوتی اور نکلتی ہیں آپ گاڑی آگے کر لیں،
میں اپنی طرف سے اس کی مدد کر رہا تھا،
وہ بولا : تینوں کنی جگہ چائی دی لنگن لئی، پیدل تے تو ہیں، (تمہیں کتنی جگہ چاہیے گزرنے کے لیے؟ پیدل تو تم ہو)
میں : بھائی میں اپنے لیے نہیں کہہ رہا، اور گاڑیاں بھی آ رہی ہیں اور کوئی آپ کی گاڑی کو بھی hit کر سکتا ہے۔
وہ : تو ماما لگدا ایں باقی گڈیاں دا، یا تو ٹھیکا لیا ہویا ساریاں دا، ( تم کیا باقی گاڑیوں کے ماموں جان لگتے ہو؟ یا تم نے ان کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے ) ۔
میں : یار آپ ایسے تو نہ کہو۔
وہ: کھلو تیری بہن نوں *** تیری ماں نوں *** تیری ****
میں سکتے میں کھڑا یہ سب مغلظات سن رہا تھا، شکر خدا کا پی ٹی وی کے گارڈز وہاں آ گئے اور بولے سر کیا ہوا؟
یہ سننا تھا کہ وہ شیر کا بچہ منہ بھر بھر کر مختلف انسانی اعضاء کی تعریف پر مشتمل اپنی گالیاں منہ میں ہی دبائے وہاں سے بھاگ نکلا، میرا دل چاہا میں اسے کہوں۔ کھلو تیری****۔
اگلے دن 2014 کے عمران خان کے دھرنے کا پہلا دن تھا اور راستے بند تھے ”ہونڈا سویک والے کی گالیوں کے طفیل“ میں پھر بھی اسلام آباد پہنچ گیا اور صبح دس بجے پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں ڈائریکٹر پروگرامز کے سامنے اپنی چھٹی کی درخواست رکھی جو وہ یقیناً Expect نہیں کر رہے تھے، درخواست پڑھ کر جب انہوں نے نظریں اٹھا کر خاموشی سے میری طرف دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ بھی ہونڈا سویک پہ سوار ہیں۔
(نوٹ۔ یہاں میں یہ بھی واضح کرتا چلوں یہ ضروری نہیں کہ امریکہ یا یورپ میں آپ کو گالیاں نہیں پڑ سکتیں۔)

