اخلاقی پستی اور ہمارے تعلیمی ادارے


سماجی و انفرادی اخلاق ایک دوسرے سے جنم لیتے ہیں۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ہم زندگی کے بیشتر معاملات کو اخلاقی و مذہبی اقدار سے سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ معاشرے جہاں ریاستی بندوبست قدرے سست یا ناپید ہو وہاں معاشرتی استحکام کو مذہبی، ثقافتی و اخلاقی اقدار سے کنٹرول کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے جہاں ایک طرف ریاستی رٹ ناپید ہو اور دوسری طرف مذہبی، اخلاقی اور ثقافتی اقدار بھی چھین جائیں وہاں سماجی استحکام ناپید ہوجاتا ہے۔

اور جب یہ سب ہوتا ہے تو وہاں مہذب معاشرے کا قیام تو درکنار بہت ساری سماجی برائیاں جنم لیتی ہیں اور اس طرح معاشرہ اپنا تاریخی وجود کھو بیٹھتا ہے۔ ایسا نہ ہونے کے لیے صحت مند معاشرے ادارتی نظام متعارف کرواتے ہیں تاکہ معاشرہ اپنا تاریخی تشخص برقرار رکھ سکے۔ بدقسمتی سے وہ ادارتی بندوبست ہمارے ہاں نہیں ہے جس سے ہمارا معاشرہ اپنا تاریخی ثقافتی ڈھانچہ برقرار رکھ سکے۔

جیسا کہ ہر معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے مختلف سماجی ادارے سرگرم عمل ہوتے ہیں مثلاً خاندانی نظام، صحت کا نظام، تعلیمی نظام وغیرہ۔ ان میں سب سے اہم کردار تعلیمی نظام کا رہا ہے۔ ایک بچہ ماں کی گود کے بعد سیکھنے کے لئے سب سے پہلے سماج کی طرف سے مہیا کی کئی تعلیمی نظام کی سہولت کی طرف راغب ہوتا ہے۔ وہاں وہ سب سکھایا جاتا ہے جس سے ایک انسان آگے ساری زندگی مروجہ ڈھانچے کے مطابق گزارتا ہے۔ اس میں سب سے اہم ایک انسان کے اخلاقی اقدار کو اجاگر کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو ہر طرح کی سماجی برائی سے دور رکھ سکے۔ تعلیمی نظام ہی کسی معاشرے کو معاشرتی اصولوں کی ڈگر پر ڈال سکتی ہے۔ تخلیق، تحقیق یا کوئی فن حتیٰ ہمارے معاشرتی اصولوں کو واضح کرتی ہیں۔ اور یہ سب تب ممکن ہوتا ہے جب معاشرہ اپنے وضع کردہ اصولوں کا واضح سمت میں تعین کرے۔ کوئی بھی معاشرہ صحیح سمت کا تعین اخلاقی، مذہبی و ثقافتی معیار پر کرتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اپر بیاں کیے گئے سب اقدار اور معیار زوال پذیر ہیں۔ دیگر سماجی اداروں سمیت خاندان اور تعلیمی نظام بھی اس پستی کی طرف گامزن ہے جہاں سے واپسی شاید ممکن نہ ہو۔

ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں اخلاقی پستی اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں یہ دیگر سماجی برائیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ ہم ان اداروں پر سماجی اعتبار کھو جانے کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ استادوں پر سے اعتبار ختم ہونے جا رہا ہے۔ استاد کا فرض منصبی یہی ہے کہ وہ اپنے شاگرد کی ایسی اخلاقی رہنمائی کریں کہ وہ آنے والے نسل کے لئے مشعل راہ ہو اور اس طرح معاشرہ اپنا تہذیبی وجود قائم رکھ پاتا ہے۔ استاد اگر اپنی اس ذمہ داری میں ناکام ہوجاتا ہے تو اس کو اس منصب پر رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہتا۔ کیوں کہ ایک استاد ہی کسی معاشرے کے مہذب ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ یہ تاریخی سماجی قدر کھو جانے کے بہت قریب ہے۔ دینی مدارس سے لے کر مساجد، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آئے روز رونما ہونے والے جنسی واقعات سے ہمارے اخلاقی اقدار اور تاریخی تہذیب پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ اور ان سب واقعات میں وہاں کا استاد ہی مورد الزام ٹھہرتا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت، مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ مل کر ایسے واقعات کا روک تھام کو ممکن بنا کر معاشرتی اصولوں اور اپنے تاریخی تہذیب کا تحفظ کریں۔

Facebook Comments HS