سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ


کشمیر ہائی کورٹ کے ایک وزیراعظم کو بغیر کوئی کیس چلائے پہلی پیشی پر ہی نا اہل کر دینا اور پھر سپریم کورٹ کا اس کی اپیل فوری خارج کر دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام کے ووٹوں اور بھاری الیکشن اخراجات سے منتخب شدہ عوامی نمائندوں کی کیا حیثیت ہے۔ پھر قوم جمہوریت کے لئے کیوں جدوجہد کرے اور الیکشن کے لئے اپنے خون پسینے کی کمائی کیوں حرام کرے۔ عدالتوں کی عزت ہے اور پارلیمان کی کوئی عزت نہیں۔

عدالتوں کی ڈومین میں کوئی جائے تو گردن زدنی اور عدالتیں پارلیمان سے قانون سازی کا حق تک چھین لیں۔ ایگزیکٹو کو اپنی ہدایات کی روشنی میں چلنے پر مجبور کریں۔ آئینی طور پر آزاد اور خود مختار اداروں کے اختیارات سلب کر کے خود استعمال کرنا شروع کر دے۔ خود بینچ فکسنگ میں ملوث ہوں۔ ڈیم بنانے بیٹھ جائیں ہسپتالوں میں چھاپے ماریں۔ من پسند فیصلہ دینے اور وزیراعظم کو ساری زندگی کے لئے نا صرف نااہل بلکہ پارٹی صدارت سے بے دخل کرنے کے لئے نام نہاد کالی پیلی لغات سے اپنی مرضی کے مفہوم اخذ کرے اور لوگوں سے زبردستی فنڈز وصول کریں۔ ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کریں اپنے فوٹو سیشن کروائے۔ خالصتا سرکاری تقریبات میں شریک ہوں یا حکمرانوں کو سپریم کورٹ اپنی کاسہ لیسی کے لئے بلوا لیں۔

سپریم کورٹ جو پارلیمنٹ کے بطن ہی سے جنم لیتی ہے پارلیمان کے خلاف سازشیں شروع کر دے اور منتخب قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور شدہ قانون کو اپنے من پسند بینچ میں فکس کر کے چٹکیوں میں مسل دے۔ اور یہ بھول جائے کہ پارلیمان نہ صرف آئین ساز بلکہ ادارہ ساز ہے۔ آئین بھی پارلیمان ہی بنا سکتی ہے اور آئین کی کسی شق میں تبدیلی بھی صرف پارلیمان کا ہی حق ہے عدالت کو یہ اختیارات حاصل نہیں کہ وہ پارلیمنٹ کو ہدایات دے اور اسے اپنے زیر اثر رکھے۔

موجودہ صورتحال میں چیف جسٹس عدالتی مارشل لا اپنے چند ریفرنس زدہ اور آڈیو زدہ ججز کے ذریعے لگا کے بیٹھے ہیں۔ اور ملک کی سیاست اور معیشت کے پہیے کے ساتھ سازشوں کا بھاری پتھر باندھ رکھا ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ پارلیمان میں موجودہ تمام۔ سیاسی جماعتوں کو زیادہ طاقت اور واضح انداز سے اس عدالتی مارشل لاء کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ عدالت کی تاریخ کا دامن آئینی کم اور آئین شکن اقدامات کے داغوں سے زیادہ لتھڑا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ کے مارشل لائی مزاج کے ہاتھوں اور کتنی حکومتوں کی بلی دینا پڑے گی۔ اور کتنے سیاستدانوں کو پھانسی کے پھندوں پر جھولنا ہو گا۔ کتنوں کو جیل کے تنگ و تاریک کمروں میں وطن اور آئین سے محبت کی قیمت ادا کرنا ہوگی کتنوں کو جلاوطنی کاٹنی پڑے گی۔ اور کب تک؟ وہ عوام کہاں جائیں جو موسموں کی سرد و گرم برداشت کرتے لمبی قطاروں میں اپنی آنکھوں میں مستقبل کے خواب سجائے ووٹ دیتے ہیں اور ان کے منتخب نمایندوں کو یک جنبش قلم آسمان سے زمین پر پٹخ دیا جاتا ہے۔ عدالتوں کی مسلسل آئین شکنی کب تک برداشت کی جا سکتی ہے۔

سیاسی جماعتوں کی طرف سے فوجی آمروں کے خلاف ہمیشہ جدوجہد کی جاتی رہی ہے۔ لیکن افسوس سیاستدان عدل کی بجائے عدالتوں کے احترام جیسے اصولوں میں چھپے دست قاتل اور زہر میں بجھے اقدامات کو پہچان کر بھی ان سے بچ نہیں پاتے۔ عدالتوں کے فیصلوں پر رائے زنی یا تحفظات کا اظہار اور پارلیمان کی بالادستی کا اظہار ایسا کون سا بڑا جرم ہے کہ وہ عوام کے دیے اقتدار سے ہی محروم کر دیے جائیں۔

ایسا شاید پہلی بار ایسا موقع آیا ہے کہ چیف جسٹس کے آمرانہ روئیے اور ریاست کش اقدامات کے خلاف خود سپریم کورٹ کے ججوں کی اکثریت میں بے چینی اور عدم اعتماد پایا جاتا ہے اور بار کونسلوں کی طرف سے بھی احتجاج دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پارلیمان کو اپنی پوری قوت سے سپریم کورٹ کو اس کے اپنے ڈومین اور حدود میں دھکیلنا ضروری ہے تاکہ پارلیمان سمیت دیگر خود مختار آئینی ادارے سپریم کورٹ کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رہ سکیں۔

Facebook Comments HS