خان صاحب کا اگلا قدم، اللہ خیر کرے
عمران خان صاحب ماضی قریب میں عوامی مقبولیت کے زعم میں مبتلا رہتے آئے ہیں۔ اب جبکہ پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کروانے کا فیصلہ بھی ان کے حق میں آ گیا ہے۔ ”ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا۔“ اس وقت پی ٹی آئی کے رہنما اور ورکرز اسے اپنی اور آئین کی فتح قرار دے کر جشن منا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے خان صاحب کی عوامی مقبولیت کے غبارے میں مزید ہوا بھر گئی ہے۔
آپ کو یاد ہو گا کہ بھٹو صاحب کو اڈیالہ جیل میں آخری وقت تک یقین نہیں آیا تھا کہ ضیاء الحق ان کے خلاف عدالتی قتل کے فیصلے پر عمل درآمد کروانے کی ہمت کر سکیں گے۔ بھٹو صاحب کو 4 اپریل کو پھانسی دی گئی تھی، آپ اسے حسن اتفاق سمجھیں یا کچھ اور سمجھیں مگر سپریم کورٹ نے (عمران خان کی منشا کے مطابق) یہ فیصلہ بھی 4 اپریل کو دیا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ خان صاحب عوام کے لئے بھٹو مرحوم سے زیادہ محبوب لیڈر ہیں۔ شاید بھٹو کی طرح عمران خان صاحب کو بھی یہ بات سمجھ نہ آئے کہ اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی حقیقت ہے۔
عدالت میں وزارت دفاع کی جانب سے ظاہر کیے گئے موقف سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ فوج اس تاریخ پر پنجاب میں الیکشن کروانے کے حق میں نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومتی ارکان کا بھی اس فیصلے کو ناقابل عمل بنانے کا سخت موقف سامنے آ گیا ہے۔ بھٹو صاحب کو پھانسی ہو گئی، ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو جلا وطن رہی، ان کو اقتدار بھی مل گیا مگر ان کے بھائی میر مرتضی بھٹو کو کراچی میں بیچ چوراہے اس وقت بے دردی سے قتل کیا گیا جب بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں۔
اس سے قبل ضیا الحق بہاولپور میں ایک ہوائی حادثے میں مارے گئے تو بے نظیر بھٹو کو بھی لیاقت باغ میں عین اسی جگہ پر قتل کیا گیا جہاں اس سے پہلے عوام کے مقبول اور مخلص ترین وزیراعظم لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا تھا۔ یہ عوام سے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ لیاقت علی خان کے قاتل کی بیوہ کو ایبٹ آباد میں ایک عالیشان سرکاری گھر، وظائف اور سیکورٹی گارڈز دیے گئے اور اس کے بیٹوں کو امریکہ سیٹل کروایا گیا تھا، جبکہ لیاقت علی خان کی بیوہ رعنا لیاقت علی خان کو جو عزت ملی تھی وہ بھی عوام اچھی طرح جانتی ہے۔
عمران خان صاحب اپنے قتل کیے جانے کے منصوبوں کو بار بار دہراتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ زمان پارک میں انہوں نے کہا تھا کہ ”وہ مجھے مرتضی بھٹو کی طرح قتل کرنا چاہتے ہیں۔“ خان صاحب کو یہ سمجھ جانا چاہیے کہ وہ اپنے بارے میں ان منفی خیالات کا اظہار کر کے عوام کے ذہن میں کیا جذبات بٹھانا چاہتے تھے یا اس سے ان کا، درحقیقت کیا ”مقصود“ تھا؟ خان صاحب کو کم از کم اپنے سیاسی بیانات کا تو مکمل ادراک ہونا چاہیے کہ وہ کیا کہتے ہیں اور اس کے کیا ممکنہ نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
قبل از وقت ایسی غیر مثبت افواہیں پھیلانا سیاسی پختگی کی علامت نہیں ہے۔ جہاں عوام سقوط ڈھاکہ جیسے پر آشوب سانحات کو فراموش کر چکی ہے اسی طرح وقت آنے پر عوام عمران خان کو بھی بھلانے میں دیر نہیں لگائے گی۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں الیکشن کے حوالے سے خان صاحب کی مرضی کے مطابق فیصلہ دیا ہے تو خان صاحب کو چاہیے کہ وہ حکومت (اور فوج) سے مزید سیاسی محاذ آرائی کی بجائے افہام و تفہیم سے کام لیں۔
شاید خان صاحب، کو اپنی عوامی مقبولیت کی وجہ سے یہ مغالطہ لاحق ہو کہ عوام ایمرجنسی کے خلاف مزاحمت کرے گی یا ترکی کی طرح ٹینکوں کے آگے لیٹ جائے گی تو خان صاحب یہ پاکستان ہے، ترکی نہیں ہے۔ ہماری فوج چار مارشل لاء ہضم کر چکی ہے۔ عوام پانچویں مارشل لاء کا خیر مقدم کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہے!
کیا کسی جمہوری و سیاسی حکمران نے ان مارشل لاؤں پر کوئی تحقیق کروائی، کبھی کوئی کمیشن بنا یا کسی فوجی حکمران کا کوئی کورٹ مارشل ہوا یا آج تک اس بات کا پتہ چلا ہے کہ ان قومی شخصیات کو قتل کرنے جیسے اندوہناک سانحات کے پیچھے کون ملک دشمن عناصر شامل تھے؟ ایک ایسا ملک جہاں فوج جیسا ملک کا طاقتور ترین ادارہ بھی ایسے واقعات کو روکنے میں ناکام رہے یا ایسے واقعات کے رونما ہونے سے قبل از وقت بے خبر ہو، اس ملک میں فوج کی حمایت حاصل کیے بغیر یا اس پر الزام در الزام لگا کر کامیاب سیاست کرنا کتنا مشکل ہے، یہ انہی شہیدوں کی روحوں کو معلوم ہے جنہوں نے اس ملک کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔
ممکن ہے عمران خان صاحب فوج اور حکومت کے خلاف محاذ آرائی جاری رکھنے کے باوجود محض عوامی طاقت کے زور پر اپنی مرضی کی تاریخوں پر انتخابات کروانے میں کامیاب ہو جائیں اور دوبارہ اقتدار بھی حاصل کر لیں مگر پاکستان کی موجودہ سیاسی و آئینی حالات کی روشنی میں فوج اور حکومت سے ٹکر لے کر کوئی نئی قابل فخر تاریخ رقم کرنا یا پاکستان میں ایسا کوئی فوری ”انقلاب“ برپا کرنا، دو الگ الگ اور متضاد حقیقتیں ہیں بلکہ یہ اتنا ہی مشکل کام ہے جتنا سو اونٹوں کی قطار کو سوئی کے ایک باریک سوراخ سے گزارنا مشکل ہے۔
ایسا نہیں کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ محب وطن نہیں یا وہ ساری خرابی کی جڑ ہے اور بار بار ملک کو ایسے افسوسناک واقعات سے دوچار کرنے میں اس کا کوئی ہاتھ ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ آصف علی زرداری ہوں، میاں نواز شریف ہوں یا پھر عمران خان ہو، یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے مسلسل تصادم بھی کرتے رہیں اور پھر کامیاب بھی ہو جائیں۔
میاں نواز شریف تین بار اقتدار سے رخصت ہوئے اور تینوں بار فوج سے مخاصمت وجہ بنی مگر میاں صاحب نے بھی اس لڑائی کو کبھی فوج سے جنگ میں تبدیل نہیں کیا تھا جس طرح اندرون و بیرون ملک یہ فریضہ عمران خان صاحب مسلسل انجام دیتے آئے ہیں! میاں نواز شریف کی جنرل آصف نواز جنجوعہ سے ان بن تھی لیکن ان کے تعلقات جنرل عبدالوحید کاکڑ کے ساتھ ٹھیک تھے، جنرل پرویز مشرف سے ان کا کچھ زیادہ ہی پھڈا ہوا جس کے نتائج میاں نواز شریف لندن میں جلا وطنی کی شکل میں تاحال بھگت رہے ہیں مگر انھوں نے جنرل کیانی کے ساتھ بہترین تعلقات استوار رکھے تھے جبکہ جنرل راحیل شریف اور جنرل باجوہ کے ساتھ ان کے فاصلے تھے۔
اس کے باوجود کہ شریف فیملی کے تعلقات موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ ٹھیک ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ میاں نواز شریف کے بھائی شہباز شریف وزیراعظم بھی ہیں، اور اس کے باوجود میاں نواز شریف پاکستان آنے کے حوالے سے ابھی تک تذبذب کا شکار ہیں، حالانکہ وہ عدالت سے سیاست میں آنے کے لئے پہلے ہی تاحیات نااہل ہیں؟
عمران خان کی 27 سالہ سیاسی جدوجہد اور اقتدار میں آنے سے قبل عوام کو عمران خان سے جو توقعات تھیں اور جو آج ہیں ان دونوں کے درمیان جذباتی نوعیت کی ایک معمولی لکیر کا فرق ہے۔ عمران خان صاحب تقریباً چار سال تک حکومت میں رہنے کے باوجود اپنے بنیادی منشور اور انتخابی وعدوں کے مطابق ”تبدیلی“ نہ لا سکے، زرداری اور نواز شریف سے کوئی ”ریکوری“ نہ کی اور نہ ہی وہ ملک کی بیوروکریسی اور مختلف محکمہ جات میں رتی برابر بھی کرپشن میں کمی لا سکے، بلکہ ان کے اقتدار میں آنے سے ”کرپشن“ کئی گنا بڑھ گئی تھی۔
باوجودیکہ خان صاحب کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور وہ اتحادیوں سے بلیک میل ہو رہے تھے تو انہوں نے امریکہ اور فوج سے ٹکراؤ کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا تھا؟ لیکن آج خان صاحب حکومت میں نہیں ہیں اور انہیں اپنی جماعت پر پابندی لگنے کے بھی واضح آثار نظر آ رہے تھے تو انہوں نے کیا سوچ کر ایک بار پھر ”یو ٹرن“ لے لیا تھا؟ اس سے عمران خان عوام کو چاہے جتنا مرضی ”جذباتی“ کر لیں اور ان کی عوامی مقبولیت بے شک آسمان کو چھو لے مگر اس سے خان صاحب کا سیاسی مستقبل محفوظ ہو سکتا ہے اور نہ ہی ان کے اندر کسی قسم کی سیاسی پختگی اور بصیرت (Statesmanship) پیدا ہونے کا کوئی امکان ہے۔
قارئین کو یاد ہو گا کہ 27 مارچ 2022 کو اسلام آباد کی پریڈ گراؤنڈ میں عمران خان صاحب نے اپنے خطاب کے دوران اپنی حکومت کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے خط لہرا کر امریکی غلامی سے آزادی کا علم بلند کیا تھا، بعد میں ٹھیک ایک سال بعد پی ٹی آئی کے کالعدم ہونے اور اپنی نا اہلی سے بچنے کے لئے 26 مارچ 2023 کو مینار پاکستان کے سائے تلے اسی آقا کی غلامی دوبارہ قبول کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ تحریک انصاف کے رہنما و سابق اسپیکر اسد قیصر نے امریکی ایوان نمائندگان، انسانی حقوق کی تنظیموں اور یورپی یونین وغیرہ کو خطوط ارسال کر کے پی ڈی ایم (PDM) حکومت کی طرف سے انسانی اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزی کے نام پر مدد طلب کی اور پھر سینیٹرز کی ایک امریکی لابنگ فرم (جس میں پاکستان مخالف افغان نژاد امریکی شہری زلمے خلیل زاد پیش پیش تھے ) نے خان صاحب کے حق میں بیانات بھی جاری کر دیے تھے۔
ہماری سیاسی قیادتیں کتنی بے وفا اور گندی سیاست (Dirty Politics) پر ایمان رکھتی ہیں۔ خان صاحب کبھی امریکہ کی غلامی سے آزادی کے نعرے لگوا رہے تھے اور کہتے تھے ”امپورٹڈ حکومت“ نامنظور ہے۔ اب وہ امریکن کیمپ میں داخل ہونے کے لئے تڑپ رہے ہیں۔
خان صاحب! ویل ڈن!
اب سمجھ آیا کہ ”Absolutely Not“ کا کیا مطلب ہے؟ اگر اسی کا نام غیرت اور آزادی ہے تو آپ اس معصوم اور بھولی بھالی قوم کو سبق سکھانے اور ”بے وقوف“ بنانے کے لئے صحیح وقت پر نازل ہوئے ہیں۔
خان صاحب! ”دیر آید درست آید“ آپ میں جس قدر مرضی تضادات ہیں، شخصی انانیت ہے، آپ ضدی ہیں اور بار بار غلط سیاسی فیصلے کر کے پچھتاتے ہیں، مگر قوم کو آپ کی ضرورت ہے، نون لیگ اور پی پی پی کی کرپشن اور ذاتی مفادات پر مبنی سیاسی و وراثتی ”اندھیر نگری“ کے خلاف آپ ایک تیسری سیاسی قوت ہیں۔ آپ کو صبر و تحمل کرنا ہو گا، دوراندیشی سے کام لینا ہو گا اور مزید جدوجہد کرنی ہو گی۔ لہذا اپنا اگلا اہم فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔
ہماری فوج سیاست کی ”ماسٹر مائنڈ“ ضرور ہے مگر وہ محب وطن اور ”قوم پرست“ بھی ہے۔ آپ یہ بات سمجھ گئے تو وہ آپ کو پھر ایڈجسٹ کر لے گی مگر اس سے سر ٹکرانے سے آپ کا تو نقصان ہو گا مگر قوم کو ایک بار پھر مایوسی کی دلدل میں دھنسنا پڑے گا، جس کی تلافی کے لئے مزید کئی دہائیاں بھی لگ سکتی ہیں۔ یہی بہترین موقع ہے۔ آپ نے سیاسی محاذ آرائی کو کم نہ کیا تو حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی تصادم مزید گہرا ہو جائے گا جس سے خانہ جنگی جیسا کوئی سانحہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ وقت اداروں کو آپس میں لڑانے کا اور حکومت یا فوج سے ٹکر لینے کا نہیں، آپ کو اپنی عوامی مقبولیت کا ہرگز غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے ، اور نہ ہی اس سے کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
حکومت کا پارلیمانی اور الیکشن کمیشن کے الگ الگ اجلاسوں میں فیصلے کیے جا چکے ہیں کہ اس تاریخ پر الیکشن ہو گا یا نہیں، خان صاحب کو بھی چاہیے کہ وہ گہری سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کریں اور اپنا اگلا قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں۔



ایک اچھا کالم
حقائق کا مکمل احاطہ کیا گیا ہے۔