”خواب سراب کے بھید“ :چند تاثرات
کسی نہ کسی توسل سے روزانہ کئی کتابیں موصول ہوتی ہیں۔ کچھ کتابوں کی طباعت بڑی دلکش اور دیدہ زیب ہوتی ہے لیکن وہ مواد کے اعتبار سے ایسی نہیں ہوتیں کہ انھیں زیادہ دیر زیر مطالعہ رکھا جا سکے۔ انھیں صرف دیکھا جاتا ہے اور دیکھ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ کچھ کتابیں پڑھنے والی ہوتی ہیں، انھیں پڑھا جاتا ہے، یاد رکھا جاتا ہے، ان میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ بار بار پڑھنے کو من کرتا ہے۔ وہ من میں اتر جاتی ہیں ان کا لفظ لفظ قلب و ذہن میں سما جاتا ہے۔
مبشر سعید کی کتاب ”خواب سراب کے بھید“ خوشبو کے جھونکے کی طرح بہار کے آغاز میں میرے دفتر تک پہنچی اور پھر قلب و ذہن کو تسخیر کرتی چلی گئی۔ میں نے اسے بار بار پڑھا اور ہر بار اس کی شاعرانہ تازگی کو محسوس کیا۔ شاعر سے میری ملاقات بس کتاب کے توسط سے ہی ہوئی، ان سے چہرہ بہ چہرہ، رو بہ رو ملاقات کا شرف تو حاصل نہیں ہوا لیکن اتنا ضرور محسوس ہوا کہ کومل جذبے رکھنے والا شاعر یقیناً خود کتنی دلپذیر اور فرحت افزا ہستی ہو گا۔ اس کی شخصیت، رواداری اور انسان دوستی کی آئینہ دار ہوگی۔ کتاب کے ورق ورق میں اس کی شخصیت کی جھلک یوں محسوس ہوئی جیسے وہ خود لفظوں کے درمیاں مجھ سے ہم کلام ہو۔
غزلوں کے مضامین، اسلوب اور منفرد لب و لہجے کی کشش نے مجبور کیا کہ ”خواب سراب کے بھید“ کو نہ صرف مکمل پڑھا جائے بلکہ اس پر کچھ تحریر بھی کیا جائے۔ جیسے جیسے لفظ قلب و ذہن پر اترے نئے سے نئے بھید کھلتے گئے۔ مبشر سعید کی شاعری نے عجب سحر طاری کر دیا۔ قاری اگر سخن شناس، ادب پرور اور تخلیقی رجحان کا حامل ہو تو یہ سحر اور بھید بھری دنیا اسے کسی ایسے عالم میں پہنچا دیتی ہے جہاں شعریت، معنویت، فن اور زندگی ایک نئی قدر میں ڈھل جاتے ہیں۔
مبشر سعید کا شعر ایک طرف نظریۂ زندگی کا احاطہ کرتا ہے تو دوسری جانب حسن بیان قاری کی حس جمال کی تہذیب کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ مبشر ایک صاحب اسلوب شاعر ہے۔ اس کے اشعار آمد اور آورد کے مرکب ہیں۔ اس نے فنی ریاضت کے کسی لمحے اس نکتے کو پا لیا ہے کہ شعر کا اولین مقصد شعریت ہے۔ شعر وہ آواز ہے جو دل کے نہاں خانوں سے نکلتی ہے اور قاری کے دل میں اتر کر اس پر معنی کے بھید کھولتی چلی جاتی ہے اور وہ بھید اس کی یاداشت کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔
ان کی شاعری نے مجھے اس لیے بھی متاثر کیا کہ وہ ایک ہی وقت میں روح اور دل کو روحانی اور رومانی کیفیت سے دو چار کر کے پر کیف اور مسرت افزا منطقوں میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا شعر جب سماعتوں کے پردے سے متصادم ہوتا ہے تو روح سرشاری اور مستی کی کیفیت سے رقص کناں ہوجاتی ہے۔ ان کے تخیل میں خیال خوب صورت اور دلپذیر پیکروں میں ڈھل کر تازہ اور نئی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ مبشر کی شاعری چیخ چیخ کر چہار سو منادی کرتی محسوس ہوتی ہے کہ ان کی نظر کائنات میں جمال کی تلاشی ہے۔ ان کی کائنات ان کا تخیل اور خواب ہیں۔ وہ اپنی مرضی کی دنیا تخلیق کرنے کے لیے تخیل کے پروں پر مسند نشیں ہو کر سات آسمانوں اور سات زمینوں کی خوبصورتیاں اکٹھی کرتا ہے اور کبھی اس دنیا کے خواب دیکھتا ہے جہاں چہار سو محبت ہی محبت اور خلوص ہی خلوص ہو :
ہو وقت کے بہتے دھارے میں اغیار کی خیر احباب کی خیر
اس آگ اگلتی دنیا میں دل مانگے سب اسباب کی خیر
اک پھول کنار شاخ انا دلدار مبشر کھلتا ہے
بستان محبت کے دل بستہ ہر اک خار، گلاب کی خیر
۔
خود سے مل کر کبھی فراغت میں
اپنی تنہائی کو سنا کیجیے
موت کی آخری حدوں پر بھی
بات جینے کی بر ملا کیجیے
مبشر سعید امید اور رجا کا شاعر ہے جو ہمہ وقت زندگی سے حسن کشید کر نے کی تاک میں رہتا ہے اور زندگی کے مختلف مظاہر کو نئے معنی اور مفاہیم عطا کر کے ایسے امکانات کو روشن کر دیتا ہے جس سے زندگی میں مزید حسن اور دلکشی پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ ہجر، جبر، دکھ اور طویل راتوں کا ذکر اپنی شاعری میں ضرور کرتا ہے لیکن ظلمت شب کے سینے کو سحر خورشید سے چاک کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔ اس کی شاعری میں نازک خیالی لطیف لفظوں میں یوں ڈھلی ہے کہ صاف پتا چلتا ہے، اسے کسی سے محبت ہے۔
محبت میں اس کی پرواز افقی نہیں عمودی ہوجاتی ہے۔ ہوا، خوش بو، روح، آواز، بادل، پانی، دریا، خواب، دھوپ، چھاؤں اور صحرا اس کی شاعری کی علامتیں بن جاتے ہیں۔ جن میں پہلو داری بھی ہے اس کے زرخیز تخیل کی آزادی بھی۔ سبھی شعرا اپنی شاعری کا آغاز ذات کے دکھ سے شروع کرتے ہیں اور پھر انسانیت کے دکھ میں پناہ لیتے ہیں۔ مبشر انسانیت کے دکھ کی آنچ پہلے محسوس کرتا ہے اور پھر کا تجربہ اوڑھے اپنی ذات کے گھر میں داخل ہوتا ہے۔ اس منفرد تجربے کے کارن اس کے ہاں محبت کے اظہار میں اوچھا پن نہیں بلکہ ٹھہراؤ پیدا ہوا ہے۔
دل آنگن کو کھول دیا، چپ رہ کر ہی سب بول دیا
مدت بعد کسی کو ہم نے خود سے ملوایا تھا
لوگ جہاں پر موت کے نغمے گاتے اور سناتے تھے
ہم نے اپنے شعر میں واں پر زیست کا نام اٹھایا تھا
۔
آتش عشق فسوں ساز چمکدار ہوئی
گال جو میں نے لگایا ترے رخسار کے ساتھ
میں محبت میں تغافل کا سزا وار نہیں
زندگی! دیکھ لگا مت مجھے دیوار کے ساتھ
شاعری کبھی بھی کسی پر اپنا بھید نہیں کھولتی اور نہ دامن وا کرتی ہے۔ مبشر سعید نے اس بھید کو پانے اور اس کے دامن سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے اسے اس پردے کے عقب میں محبت، امید، خلوص اور پر مسرت جذبات و احساسات کے خواب موجود ہیں۔ خواب اس مجموعے کا مرکزی استعارہ بن کر سامنے آیا ہے۔ راشد کے ”اندھا کباڑی“ کے خواب تو بے توقیر ہوئے تھے لیکن مبشر سعید کے یہ خواب بے توقیر اور بے تعبیر نہیں ہوں گے۔ اس نے بے حس معاشرے میں محبت، امن اور انسان دوستی کے خواب دیکھے ہیں جو تجرید سے تجسیم کا سفر ضرور طے کریں گے :
سبز پیڑوں سے رابطہ کیجیے
حال صحرا سے مت کہا کیجیے
۔
شعر سنا کر لوگوں کے
ذہنوں پر گل کاری کی
۔
نیند نہیں ہے، پر آنکھوں میں
خوابوں کا انبار لگا ہے
۔
جو شخص محبتی نہیں ہے
وہ تو انسان ہی نہیں ہے
یوں مبشر سعید اس شعری مجموعے میں ایک مستحکم اور توانا شاعر بن کر سامنے آئے ہیں جن کے تخلیقی عمل کا دار و مدار خوابوں کی دنیا ہے۔ ان کے خوابوں کی دنیا میں محبت، خلوص اور انسان دوستی کا جذبہ تخلیقی استعارے کا روپ دھار کر سامنے آیا ہے۔ اس خوبی کے کارن ان کی شعری جمالیات میں ایک نیا منظر نامہ تخلیق ہوا ہے جو فکری رجائیت کے احساس سے مزین ہے۔ دیکھا جائے تو اس کائنات کی بقا اور ارتقا بھی اسی جذبے کی رہین منت ہے جس کو مبشر سعید نے مرکزی نکتہ بنایا ہے۔


