انا کی جنگ: میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں؟

عدلیہ انصاف کا ادارہ ہے اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ خلاصہ ہے اس اختلافی نوٹ کا جو جسٹس اطہر من اللہ نے تحریر کیا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ ان ججز میں سے ہیں جنہوں نے ہیومن رائٹس ایشوز پر ریاست یا ریاستی اداروں کے ہاتھوں شکار لوگوں کو تحفظ اور ریلیف دیا۔ جتنے ریلیف جسٹس اطہر من اللہ کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے صحافیوں ’سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور حکومتوں کے سیاسی مخالفین کو ملے‘ شاید ہی کسی اور عدالت سے ملے ہوں۔ اس لیے ان کا نام عزت سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوموٹو کے حوالے سے جو نوٹ لکھا ہے وہ پڑھنے کے قابل ہے۔ جو باتیں جسٹس اطہر من اللہ نے لکھی ہیں وہ بڑی حد تک درست ہیں خصوصاً ًعدلیہ کے ماضی میں بھٹو جیسے پھانسی کے فیصلے ہوں یا پھر بارہ اکتوبر جیسی فوجی بغاوتیں جنہیں عدالتوں نے جواز فراہم کیا۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں کے سپریم کورٹ میں لائے گئے سیاسی مقدمات نے عدالت اور ججوں کے امیج کو خراب کیا۔ اس سیاسی کھیل میں نقصان سپریم کورٹ کا ہی ہوا۔ ایسے لگتا ہے جیسے ججز کا کام ”سیاسی کھیل کھیلنا“ ہی رہ گیا ہو۔
اس بات کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ سیاستدانوں نے اپنی لڑائی میں قومی اسمبلی ’سینیٹ یا صوبائی اسمبلی کے فورمز کو سیاست دانوں نے استعمال نہیں کیا بلکہ وہ اسمبلیاں توڑ کر سپریم کورٹ پہنچتے رہے اور ججز بھی سیاست سے آلودہ ہوتے چلے گئے‘ جس کے نتیجے میں عدالت کا اتنا نقصان ہوا جس کا ازالہ شاید ہی ممکن ہو سکے۔ سیاسی مقدمات میں ایک طرف عدالت تنازعات کا شکار ہوئی اور دوسری جانب ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھا اور معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔
سیاسی مقدمات میں میڈیا یا دیگر فورمز پر ججز کو جو اہمیت اور کوریج ملتی ہے وہ دوسرے مقدمات میں نہیں ملتی، شاید عدالتیں اس لیے زیادہ سوموٹو لیتی رہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کا اعتماد عدلیہ پر کم ہوا، ججز اور ان کے فیصلوں پر انگلیاں اٹھنے کا موقع ملا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں سیاستدانوں ’فوجی حکمرانوں اور ججز کو ان حالات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جس میں اس وقت پاکستان پھنس چکا ہے اور نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔
حکمرانوں کو حکومت بنانے اور چلانے کے لئے جرنیلوں اور ججوں کی ضرورت تھی۔ ان میں سے کوئی ایک بھی نہ تھا جو اقتدار پانے کے لئے ان کے کندھے استعمال نہ کرتا۔ اب بھی وہی لڑائی چل رہی ہے کہ مقتدرہ میرے مخالف کے ساتھ ہے ’میرے ساتھ کیوں نہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے از خود نوٹس کیس کو ایک جماعت کی سیاسی حکمت عملی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے ایوان میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے بجائے سیاسی حکمت عملی کے طور پر استعفے دیے اور جب استعفے منظور ہوئے تو منظوری کے خلاف عدالتوں میں آ گئے۔ کیا سیاسی حکمت عملی کے تحت صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنا جمہوریت سے مطابقت رکھتا ہے؟ کیا سیاسی حکمت عملی کے لیے صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنا بذات خود آئین کی خلاف ورزی نہیں؟
کیا سپریم کورٹ کو اجازت دینی چاہیے کہ اسے سیاسی حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کیا جائے؟ کیا سپریم کورٹ کو غیر جمہوری طرز عمل کو فروغ دینے والا آلہ بننا چاہیے؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کسی کی سیاسی حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے لیے سپریم کورٹ کو خود کو پیش نہیں کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ سیاسی سٹیک ہولڈرز کو تنازعات کے حل کے لیے عدالتی فورم فراہم کر کے پارلیمنٹ کو کمزور کر رہی ہے۔
یقیناً عمران خان اور ان کے حامی جسٹس اطہر من اللہ کے اس نوٹ پر خوش نہیں ہوں گے کیونکہ جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی کی سیاست اور عدلیہ کے استعمال کو بڑی باریک بینی سے واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کیسے حالیہ برسوں میں عدلیہ اپنا احترام لوگوں کی نظروں میں کھو بیٹھی ہے۔ اس اختلافی نوٹ کے بعد معزز جج کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک باقاعدہ مہم کا آغاز ہو گیا، حالانکہ یہ وہی جج ہیں جن پر عمران خان صاحب اعتماد کا اظہار اور جلسوں میں ان کے کنڈکٹ کی تعریف کرتے رہے ہیں۔
کیا اطہر من اللہ کی اس رائے کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کی درخواست پر جس انداز سے کارروائی شروع کی گئی اس سے عدالت سیاسی تنازعات کا شکار ہوئی۔ سوموٹو کی کارروائی شروع کرنے سے ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کرنے والے سائلین کے حقوق متاثر ہوئے اور اگر فل کورٹ تشکیل دیا جاتا تو اس صورتحال سے بچا جا سکتا تھا۔ آرٹیکل 63۔ اے کی دوہری تشریح کے دور رس نتائج مرتب ہوئے، تحریک انصاف نے استعفوں کی منظوری کے لیے پہلے عدالتوں سے رجوع کیا اور استعفوں کی منظوری کے بعد تحریک انصاف پھر عدالت چلی گئی۔
اگرچہ کچھ لوگ اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کریں گے کہ سپریم کورٹ کو سیاسی نوعیت کے مقدمات میں نہیں پڑنا چاہیے۔ لیکن حقیقت وہی ہے جو جسٹس اطہر من اللہ نے بیان کی ہے۔
سیاستدانوں پر تنقید ہو یا ان کے خلاف ٹرینڈ چلیں یا ٹاک شوز میں کوئی انہیں سخت ترین تنقید کا نشانہ بنائے، ان کی صحت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا وہ کچھ لمحوں یا اگلے دن ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایک جج یا عدالت یہ سب کچھ افورڈ نہیں کر سکتی کہ کوئی ایک انگلی بھی ان کی طرف اٹھے۔
انصاف کے حوالے سے ایک نکتہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو ملنا چاہیے، جس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت سے ننانوے گناہگار یا مجرم چھوٹ جائیں لیکن کسی ایک بے قصور کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔ کسی بھی معاشرہ کے لوگ اپنی ریاست اور عدالتوں پر یقین رکھتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے کوئی بھی بے گناہ اگر اس نے جرم نہیں کیا تو وہ محفوظ ہے اور اسے پھانسی نہیں لگے گی۔ اس تصور کے مطابق عام لوگوں کا بھروسا یا یقین عدلیہ پر نہیں ٹوٹنا چاہیے۔
لوگ یہ تو ہضم کر لیتے ہیں کہ کوئی مجرم یا قصور وار سزا سے بچ گیا لیکن اگر انہیں پتہ چلے ایک بے قصور کو پھانسی لگا دیا گیا تو ان کا یقین ہی نہیں ٹوٹتا، سماج بھی بکھرنے لگتا ہے۔ لوگوں کا اعتماد جیتنا عدالتوں اور ججوں کے لئے اس لیے ضروری ہے کہ کوئی بندہ یہ نہ سوچ پائے کہ عدالتیں بے قصور کو بھی سزا دے سکتی ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ میں سارا فوکس اس بات پر ہے کہ سیاسی مقدمات، فیصلوں اور سیاسی اپروچ نے ججز کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ برسوں سے جاری اس کھیل میں چند لوگوں کو سیاسی مفادات کے حصول کے سوا سپریم کورٹ اور ججوں کو کیا ملا؟ آج سب انگلیاں عدالتوں کی جانب اٹھ رہی ہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ کے اس نوٹ نے نظام انصاف کی شفافیت، غیر جانبداری اور ترازو کے دونوں پلڑے برابر ہونے کا بت بھی پاش پاش کر دیا۔ اس کے بعد یہ بحث بھی ختم ہو گئی کہ فیصلہ چار تین سے نہیں تھا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال اگر توہین عدالت نہ سمجھیں تو انہیں اپنے ساتھی کے ان سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ حالات جس سمت جا رہے ہیں اس کے پیچھے باقاعدہ پلاننگ نظر آتی ہے۔ ملک کا عدم استحکام کو مزید بڑھتا نظر آتا ہے، کیونکہ اناؤں کی تسکین ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ خاکم بدہن آنے والے دنوں میں مزید بگاڑ پیدا ہوئے کے آثار نمایاں ہیں، یہ سطور تحریر کرتے وقت سپریم کورٹ کے جاری کردہ نوٹسز اور آٹھ رکنی بینچ کی تشکیل نے انا کی جنگ کی آگ کو الاؤ میں بدل دیا ہے۔ وکلاء اور بارز نے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے خدا کرے کہ ان کا یہ اقدام ملک و قوم کو آنے والے بحران سے بچائے، بہر حال اس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ دوسرے اداروں کی طرح عدلیہ کے بڑوں نے بھی ماضی سے سبق نہیں سیکھا، ہر محب وطن اس صورتحال پر دل گرفتہ ہے اور یہ سوچ رہا ہے کہ:
میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں

