اٹھارویں ترمیم ، سندھ اور باقی صوبے


اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب ملک بھر کے صوبوں میں سماجی بہتری کے تقریباً معاملات کا دار و مدار صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر ہے۔

اس سلسلے کی ایک مثال صوبہ سندھ سے ہے جہاں صوبائی حکومت نے صحت کارڈ جیسے منصوبوں کے ذریعے نجی اسپتالوں کو فنڈز کی منتقلی کے بجائے صوبہ بھر میں جدید سرکاری اسپتالوں کا نظام قائم کیا جہاں نا صرف صوبے کے عوام کا علاج مفت ہوتا ہے بلکہ دوسرے صوبوں سے بھی لوگ مفت علاج کی سہولت حاصل کرنے آتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اچھی شہرت کے حامل سماجی تنظیموں اور افراد کی طرف سے بنائے گئے مفت اسپتالوں کو بھی گرانٹس دے کر ان کی استعداد و صلاحیتوں میں اضافہ کیا۔

اسی طرح توانائی کے شعبے میں بھی ادارے قائم کیے اور سرمایہ کاری کی، جس کے بعد کوئلے، شمسی توانائی اور ہوائی چکیوں کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں صوبائی ضروریات سے زیادہ بجلی حاصل کر کے نیشنل گرڈ کو بھی سپلائی جا رہی ہے۔

ان دونوں شعبوں میں باقی تینوں صوبوں نے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا۔

اسی طرح وفاق سے صوبوں کو منتقل ہونے ”سروسز پر سیلز ٹیکس“ پر بھی صوبہ سندھ کی کلیکشنز صوبہ پنجاب سے تناسب میں کہیں زیادہ رہیں جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اس پر بھی سنجیدگی سے کام ہی نہیں کیا گیا۔

پیپلز پارٹی نے صرف یہ کیا کہ بطور جماعت صوبائی سطح پر یہ پالیسیز بنائیں اور اپنی صوبائی حکومت کے ذریعے اس پر عمل کروایا اور اس پورے عمل کے درمیان جہاں جہاں سیاسی مشکلات حائل ہوئیں وہاں پیپلز پارٹی نے اپنی صوبائی حکومت کو تقویت دے کر اس کے راستے کی رکاوٹیں خود دور کیں اور اپنے صوبے کے مفادات کو تحفظ دیا، اس کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ کے اعلیٰ ترین دانشوروں، سماجی کارکنوں اور پروفیشنلز سے بھی ان منصوبوں کی طویل المیعاد عوامی افادے اور دوررس سیاسی نتائج کے بارے میں رائے اور مشورے لئے اور ان کی خدمات سے استفادہ حاصل کیا اور ان کی تجاویز کو اہمیت دی۔

باقی تینوں صوبوں میں ان مخصوص شعبوں میں یا دیگر شعبہ جات میں مجھے ایسی سنجیدہ، مربوط، حال سے متعلق اور مستقبل پر نظر رکھنے والی کوئی سنجیدہ سرگرمی نظر نہیں آتی۔

انہی سماجی اقدامات کو زیادہ نچلی سطح تک لانے کے لئے میری تجویز ہے کہ ”بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام“ کو بھی وفاق سے لے کر چاروں صوبوں کو منتقل کیا جائے اور اس کے فنڈز بھی نیشنل فنانس کمیشن کے فارمولے کے مطابق آبادی کے تناسب صوبوں میں تقسیم کر دیے جائیں اور چاروں صوبے اپنے اپنے صوبوں میں بہت نچلی سطح پر سماجی مدد کے اس عظیم الشان منصوبے کو اپنی اپنی صوابدید کے مطابق خود چلا سکیں اور خود ہی اس کے ذریعے مستفید ہونے والوں کی ترجیحات طے کر سکیں۔

مجھے اندازہ ہے کچھ دوستوں کو اس مشورے سے موجودہ اعداد و شمار کے تناظر میں اختلاف ہو گا لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ طریقہ زیادہ سود مند ثابت ہو گا۔

اور سب سے آخر میں اس سب کی اہم وجہ، جو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ میں متواتر پچھلے پندرہ سال سے حکومت ہے اور اس حکومت نے کسی بھی سیاسی عدم استحکام کے خطرے سے محفوظ ہو کر پراعتماد طریقے سے کام کیا ہے۔ اسی وجہ سے ان منصوبوں کا شروع ہونا، فنڈز کی تسلسل سے فراہمی اور پھر پایہ تکمیل تک پہنچ کر فنکشنل ہونا ممکن ہو پایا۔

ایسا ہی استحکام گو کہ پچھلے نو سال تک خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو بھی حاصل رہا لیکن اس کے باوجود وہ سماجی خدمت کے کسی ایک بھی شعبے میں قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکے۔

جب کہ پنجاب اور بلوچستان اس حوالے سے بدقسمت رہے کہ وہاں پر مخصوص گرفت برقرار رکھنے کی کوششوں، اقتدار کی کشمکش اور سیاسی عدم استحکام نے پچھلے دس سال سے سماجی بہتری کی کسی مربوط اور دوررس منصوبہ بندی کی کسی کوشش کو نا شروع ہونے دیا اور نا ہی کچھ ثمر آور ہو سکا اور وہاں کی حکومتوں کی توانائی خود کو برقرار رکھنے، روزمرہ کے معمولات اور فوری کے مظاہر چھوٹے چھوٹے بے فیض منصوبوں پر خرچ ہوتی رہی۔

صاف نظر آتا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد دستیاب اختیارات اور وسائل کو لے کر پیپلز پارٹی اپنے جس سیاسی ایجنڈے پر گامزن ہے اٹھارہویں ترمیم کرتے ہوئے اس کی قیادت کے پیش نظر بھی یہ سب امکانات موجود تھے جبکہ باقی تینوں صوبوں کی آتی جاتی حکومتیں بغیر کسی سیاسی پروگرام، ایجنڈے یا وژن کے اپنے لیل و نہار میں میں مشغول ہیں۔

اٹھارہویں ترمیم کرتے وقت کسی کی نظر آنے والے اختیارات اور فنڈز پر رہی ہو گی اور کسی کی اپنے لوگوں کی بہتری پر۔

نیت نظر آئے یا نا آئے صلاحیت ضرور نظر آتی ہے۔

 

Facebook Comments HS