غزالی ٹرسٹ

بدھ کی شب ہمیں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کی جانب سے ایک پرتکلف افطار ڈنر پر مدعو کیا گیا۔ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کا نام شاید آپ نے سن رکھا ہو۔ میں نے بھی نام سنا ہوا تھا۔ مختصراً یہ معلوم تھا کہ تعلیم کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔
لیکن اس افطار ڈنر پر ان کی ٹیم سے مل کر اور ان کی ملک بھر کے بچوں کے لیے تعلیم کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں کا سن کر خوشگوار حیرت نے گھیر لیا۔
اس افطار ڈنر میں ہمیں کراچی کی اہم ادبی اور صحافتی شخصیات نے جوائن کیا۔ انور سن رائے، نور الہدی شاہ، تنویر انجم، افضال سید، عذرا عباس، عقیل عباس جعفری اقبال خورشید، فیض اللہ خان، سدرہ سحر عمران دیگر بہت سے احباب اس ڈنر کا حصہ تھے۔
سید عامر محمود (ایگزیکٹو ڈائریکٹر غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ) اس ڈنر میں ہمارے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے ہمیں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے اس سفر ( جسے تین دہائیاں ہونے کو ہیں ) کے بارے میں مختصر معلومات فراہم کیں۔
سید عامر محمود صاحب کا کہنا تھا کہ ہمارا ایک ہی مقصد ہے ”تعلیم“ ۔ ہماری کوشش ہے پاکستان میں 100 % لٹریسی ریٹ ہو۔
حیرت ہوئی کہ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے حوالے سے میڈیا یا سوشل میڈیا کبھی بھی فعال نظر نہیں آیا۔ لیکن ان کا کام قابل تعریف بلکہ قابل رشک ہے۔
ان کا ٹارگٹ گاؤں اور چھوٹے چھوٹے قصبوں کے وہ بچے ہیں جو کسی بھی وجہ سے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ان بچوں کو مفت تعلیم دینے کی بھر پور سعی کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ وہ علاقہ جات جہاں بچیوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں کہ تعلیم مخلوط ہے ان کے لیے پرائمری کے بعد بچیوں کے الگ اسکول قائم کیے گئے ہیں۔
اسپیشل بچوں کے لیے بھی غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے قائم کردہ تعلیمی اداروں کے دروازے کھلے ہیں اور وہاں تربیت یافتہ اساتذہ موجود ہیں۔
اسی طرح ہندو کمیونٹی کے لیے بھی اسکول قائم کیے گئے ہیں۔ والدین کے تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے وہاں ہندو اساتذہ ہی بھرتی کیے گئے ہیں۔
سید عامر محمود کا کہنا تھا کہ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے قائم کردہ اسکول کوئی بہت شاندار عمارتوں میں نہیں بنائے گئے۔ گاؤں میں چند کمروں پر محیط یہ اسکول صرف اس لیے قائم ہیں کہ ہمارا بچہ پاکستان میں جہاں بھی رہے تعلیم حاصل کر سکے۔
انہوں نے بے حد فخر سے بتایا کہ ہمارے اسکول سے پڑھ کر بچے مختلف نامور اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مختلف ممالک میں اسکالر شپ پر پڑھ رہے ہیں۔
آخر میں انہوں نے ہم سبھی سے غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے حوالے سے مثبت آئیڈیاز شیئر کرنے کی درخواست کی۔
پاکستان کے معاشی حالات، گرتا ہوا لٹریسی ریٹ اور ہنر مند افراد کی بڑھتی ہوئی کمی کو پورا کرنے کے لیے غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کی کاوشیں متاثر کن ہیں۔ ہر پاکستانی کا فرض بنتا ہے کہ جس پیمانے پر ہو سکے ان کی مدد کی جائے۔
یہ مختصر ملاقات مجھے پاکستان کے لیے ایک بار پھر پر امید کر گئی۔ حوصلہ ملا۔ ہمت ہوئی اور احساس ہوا کہ
چلے چلو کہ منزل ابھی نہیں آئی۔


