بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ 34۔

ان دوروں پر نوجوانوں کے مقابلے میں بزرگ مرد و زن زیادہ تعداد میں آتے تھے۔ بس سے اترتے ہی وہ بستی میں بکھر جاتے اور پھر ان نیم تباہ شدہ مکانوں کا رخ کرتے جو کبھی گھر تھے، ان کے اپنے گھر۔ اس کے بعد وہ سب مل کر قبرستان جاتے، وہاں قبروں پر اگی ہوئی گھاس کو ہاتھوں سے اکھیڑ کر مٹی کو آراستہ کرتے اور قبروں کے سرہانے پھولوں کے دستے سجاتے۔ ایسے ہی ایک دورے کے دوران تارکین یہ سب کچھ کرتے رہے۔ جب کہ ایک ادھیڑ عمر شخص اس پورے وقت میں بالکل الگ تھلگ ایک بڑے پتھر پر بیٹھا رہا۔
اس کی نظریں ایک کھیت پر جمی ہوئی تھیں۔ دورہ ختم ہونے کو تھا لیکن وہ شخص ابھی تک اسی جگہ بیٹھا ہوا تھا۔ میں اس شخص کے قریب چلا گیا اور السلام علیکم کہا۔ اس نے میری طرف رخ کرتے ہوئے سلام کا جواب دیا پھر انگریزی میں پوچھا کہ میرا نام کیا ہے اور تعلق کس ملک سے ہے۔ انگریزی میں اس کا سوال سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی کیوں کہ مجھے اب اس سے بات کرنے میں ترجمان کی مدد درکار نہ تھی۔ میں نے اسے اپنا اور ملک کا نام بتایا۔
پاکستان کا نام سنتے ہی اس کی آنکھوں میں اپنائیت کی چمک ابھری۔ اس نے مجھے پاس بیٹھنے کے لیے کہا۔ میں اس کے پاس بیٹھ گیا اور پوچھا کہ آپ کافی دیر سے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ نہ تو اپنا گھر دیکھنے گئے ہیں اور نہ ہی قبرستان کا رخ کیا ہے۔ بوڑھا شخص کچھ دیر چپ رہا، پھر بولا۔ میں یہاں نہ تو گھر دیکھنے آیا ہوں اور نہ ہی قبرستان۔ بلکہ اس درخت کو دیکھنے آیا ہوں جو سامنے کھیت میں کھڑا نظر آ رہا ہے۔ اس گاؤں میں میری ہم عمر ایک سرب لڑکی رہتی تھی جس کا نام نادہ تھا۔
میں اسے چاہتا تھا لیکن وہ جو اباً کچھ ایسی سنجیدہ نہ تھی۔ اس کا پسندیدہ مشغلہ گاؤں کے درختوں پر چڑھ کر ارد گرد گزرنے والوں کو تنگ کرنا ہوتا تھا۔ اس درخت پر اس کے سوا کوئی بھی لڑکا یا لڑکی نہیں چڑھ سکتے تھے۔ میں بعد میں روزگار کی تلاش میں ملک سے باہر چلا گیا۔ اب بہت عرصہ بعد اس وقت واپس لوٹا ہوں جب جنگ نے اس ملک کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا ہے۔ مجھے پتہ چلا کہ وہ لڑکی میرے گاؤں چھوڑنے کے کچھ ہی عرصہ بعد اس درخت سے گر کر مر گئی تھی۔ سو میں آج یہاں اس درخت کو دیکھنے آیا ہوں جو میرا دشمن بھی ہے اور میرا دوست بھی۔ یہ درخت میرا دشمن میری محبت کے قاتل کے طور پر ہے اور اپنی مشترکہ تہذیب کے گواہ کے طور پر میں سے اپنا دوست بھی سمجھتا ہوں۔
اسی دوران بقیہ لوگ واپسی کی خاطر بس کے پاس جمع ہو گئے۔ یہ بوڑھا شخص اپنی بات ختم کرنے کے بعد کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا، پھر بس کی طرف بڑھ گیا۔ قافلے کے ساتھ یو این کی گاڑی میں واپس لوٹتے ہوئے میں نے سوچا۔ بوسنیا کی مشترکہ تہذیب کی تباہی کی داستان بھی کیا داستان ہے کہ جس میں کوئی رنگ ایسا نہیں جو خون دل سے کشید نہ ہوا ہو۔ اسے جو رقم کرے گا اسے اپنے ساتھ نوحہ گر رکھے بغیر اس کا بیان ممکن نہ ہو گا۔
اب سردی کا آغاز ہو چلا تھا لیکن موسم میں ابھی شدت نہیں آئی تھی۔ یورپ میں اگرچہ ستمبر کے بعد موسم سیاحت اختتام پذیر سمجھا جاتا ہے لیکن چو نکہ اپنے پاس دنیائے رنگ و بو کو دیکھنے کا وقت محدود تھا اور اگلے موسم سیاحت تک یاروں نے ایک بار پھر بہت دور اپنی پرانی بستیوں کو لوٹ جانا تھا اس لیے سلسلہ سیاحت اکتوبر کے بعد نومبر میں بھی جاری رکھا گیا۔ اس دفعہ جرمنی اور ہالینڈ سیاحت کی منزلوں کے طور پر منتخب ہوئے۔ پہلی منزل میونخ تھی۔ میں نے زغرب سے رات کی ریل گاڑی پکڑی اور علی الصبح میونخ پہنچ گیا۔
میونخ یا منچن کا مطلب راہب ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ وہ راہب ہیں جو اب سے کوئی بارہ سو سال قبل دریائے اثار کے کنارے آباد ہوئے۔ آج یہ تقریباً 13 لاکھ کی آبادی کا شہر ہے اور اسے صنعتی دیوؤں بی ایم ڈبلیو اور سیمنز کا گھر سمجھا جاتا ہے۔ جرمنی کی نازی پارٹی کی بنیاد بھی اسی شہر میں رکھی گئی تھی۔ یہ شہر دوسری جنگ عظیم کے دوران بری طرح متاثر ہوا۔ اس کا تقریباً چالیس فی صد حصہ تباہی کا شکار ہوا۔ لیکن اس سے عہد وفا استوار رکھنے والوں نے علاج گردش لیل و نہار کا کچھ ایسا سامان کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ شہر تاریخ کے کسی ایسے دور سے کبھی گزرا ہی نہیں۔ اس شہر کی عالمی شہرت کا باعث 1972 ء میں یہاں منعقد ہونے والے اولمپک مقابلے تھے۔ اس مقصد کے لیے شہر سے باہر ایک اور شہر بسایا گیا جس کا نام اولمپک سٹی رکھا گیا۔ یہ شہر 1972 ء کے بعد اس رنگ میں پھر کبھی بھی آباد نہ ہوا لیکن میونخ کو وہ شہرت دے گیا جو اسے اس سے پہلے کبھی حاصل نہ ہوئی تھی۔
میونخ کا موسم ابر آلود تھا۔ خنکی بھی اچھی خاصی تھی۔ میرا یہاں ایک دن کا قیام تھا۔ اسٹیشن پر موجود ٹورسٹ دفتر سے جو نقشہ اور کتابچے حاصل کیے، ان کے مطالعہ سے یہاں شہر اولمپک کے علاوہ کسی قابل دید مقام کا پتہ نہ ملا۔ میں نے اپنا سامان اسٹیشن پر موجود محافظ خانے میں جمع کروایا۔ چیز برگر اور کافی کا ناشتہ کیا۔ اسٹیشن پر تو چہل پہل موجود تھی لیکن باہر بازار ابھی نہیں کھلے تھے۔ میں نے اسٹیشن کے باہر آثار زندگی پیدا ہونے کا انتظار کیا، پھر شہر اولمپک کی راہ لی۔ آج یہ شہر وہی نقشہ پیش کر رہا تھا جو دلی نادر شاہ کے حملے کے بعد پیش کرتی ہو گی۔ مجھ جیسے ہنگامہ پسند شخص کے لیے یہاں دلچسپی کا کوئی سامان نہ تھا۔ میں شہر واپس لوٹ آیا اور مختلف سڑکوں اور بازاروں میں پیادہ گشت کرنے لگا۔
میونخ میں غیر ملکیوں کی تعداد تو اچھی خاصی ہے لیکن یہاں ایشیائی باشندے خال خال پائے جاتے ہیں۔ مرکز میں ایک ایرانی نوجوان عبداللہ سے ملاقات ہوئی۔ وہ انقلاب ایران کے بعد سیاسی پناہ گزین کے طور پر یہاں آیا تھا اور ایک سٹور میں کام کرتا تھا۔ اسے یہاں کی شہریت بھی مل چکی تھی لیکن اس کی طبیعت یہاں کے طرز زندگی سے موافقت پیدا نہ کر سکی تھی۔ ہم ایک درخت کے ارد گرد دائرے کی شکل میں بنے ہوئے بنچ پر بیٹھے بہت دیر تک باتیں کرتے رہے۔
اس دوران وہ سامنے کے کیفے بار سے چائے کے دو بڑے بڑے کاغذی پیالے لے آیا۔ پاکستان کے بارے میں اس کی معلومات برائے نام تھیں۔ ایسے ناواقفوں سے بات کرتے ہوئے میں ہمیشہ بہت خوش رہتا تھا کیوں کہ ایسی صورت میں، میں لیلائے وطن کی وہ تصویر پیش کرنے میں آزاد ہوتا تھا جس کے سارے رنگ میری خواہشوں کے ہوتے تھے اور اس سے اس کا اصل روپ جھلکنے نہیں پاتا تھا۔
دھرتی کے اس سپوت کی زندگی میں یہی مواقع ایسے ہوتے تھے جب جھوٹ بولنے پر نہ تو شرمندگی ہوتی تھی اور نہ ندامت۔

