خوب تماشہ لگا رکھا ہے


سیاست بڑی عجیب اور غلیظ چیز ہے۔ یہ پہلے لمحے میں محرم ہوتی ہے اور اگلے لمحے میں مجرم۔ ہمارے ملک میں بہت ساری مقدس چیزیں ہیں جن میں

مختلف ادارے بھی شامل ہیں۔ اسی طرح کچھ سیاسی لوگ بھی مقدس ہیں جو کسی زمانے میں چور ڈاکو ہوتے ہیں وہ مقدس ہو کر وزیر اعلی بھی بن جاتے ہیں۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں کچھ معتبر ہے یا پھر کوئی اخلاقیات ہے تو معذرت کے ساتھ آپ بے وقوف ہے۔

سیاست دان ہو یا سیاسی پارٹیاں، اداروں میں تعینات سیاست دان افسر ہوں یا پھر ادارے میں موجود سیاسی گروپس ان سب کے اپنے معاملات ہے فقط اپنے مفادات تک محیط ہے۔ اب دیکھے گزشتہ سال ایک پارٹی ایک اداروں کو لتاڑتی ہے اور رات 12 بجے کا الزام لگا کر ٹویٹر ٹرینڈنگ پر اسے گالیاں دی جاتی تھی اور اب سب سے زیادہ احترام اسی کا ہے اور یہ ہی سب سے مقدس ہو گئی ہے۔ اسی طرح کسی ادارے کا ایک افسر جو کسی زمانے میں قوم کا باپ ہوتا تھا وہ اب اس کے دشمن بن بیٹھے ہیں۔ گویا مطلب کے وقت ڈاکو چور شخص پارٹی کا صدر بھی بن سکتا ہے اور وقت ختم ہونے پر قوم کا باپ سب سے بڑا سازشی۔

سچ بتاؤں تو پاکستانی عوام کو نہ جمہوریت سے محبت ہے اور نہ آمریت سے نفرت۔ انھیں بھی دنیا کے تمام انسانوں کی طرح سکون کی تلاش ہے۔ یہ سکون اگر انھیں جمہوریت میں مل گیا تو وہ اس سے محبت کر لیں گے اور یہ سکون اگر انھیں آمریت میں مل گیا تو پھر انھیں اس سے محبت ہوجائیں گی۔ یہ جمہوریت اور آمریت کے چونچلے صرف پیٹ بھروں کے ہیں اور کچھ نہیں۔ خالی پیٹ والے کو بس بھوک محسوس ہوتی ہے ان کو نہ آئین کی خبر ہے اور نہ جمہوریت کی۔

ملک ہمیشہ کی طرح مشکل میں ہے اور اس بار کی مشکل گزشتہ مشکلوں سے زیادہ مشکل نظر آتی ہے۔ لیکن اس بار مشکل سے نکلنا آسان نہیں ہے۔ مشکل آنا کوئی بڑی بات نہیں یہ تو ہر ملک کے ساتھ پیش آتی رہتی ہے۔ لیکن اس مشکل سے لڑنا کیسے ہیں اس بارے میں ہمارے بڑے سوچنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ اپنی انا کی لڑائیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔

ملک میں طرح طرح کے بحران ہیں اور اب تو بات بحران سے بھی آگے کی ہے۔ عدالتی بحران ہو، الیکشن بحران ہو، معاشی بحران ہو یا پھر اخلاقی بحران یہ سب بحران اپنی جگہ مگر حقیقی بحران تو یہ ہے کہ فیصلہ ساز اپنی انا میں گرفتار ہے ملک و قوم کے لئے آگے نہیں بڑھ رہے۔

جس طاقت ور کا جہاں زور چل رہا ہے وہ لگا رہا ہے اداروں کے اندر گھمسان کا رن پڑا ہے۔ جو پہلے چھپ کر لڑتے تھے اب سامنے آ کر لڑ رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنے آپ کو فیصلہ ساز سمجھ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ میرا ہی فیصلہ مانا جائے کیونکہ ان کو طاقت کا ذائقہ لگا ہے اور اس طاقت کی لذت میں سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اپنے نقصان کی خبر بھی نہیں پہنچتی۔ بہرحال یہ تمام لاپرواہی اپنی جگہ لیکن اس کا نقصان ملک کو بھی پہنچ رہا ہے اور مشکل میں ڈوبے وطن کی سانسیں مزید دشوار ہو رہی ہے مگر بڑوں کا شور شرابا تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ دیکھتے ہیں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے بس ڈر ہے کہ اونٹ اب گر نہ جائے۔

Facebook Comments HS