آصف عمران کے افسانے: اہرام آرزو

میں خود کو خوش قسمت اس لحاظ سے سمجھتا ہوں کہ میں نے ڈیجیٹل ایج اور سوشل میڈیا کے دور میں تخلیقی اور ادبی ہوش سنبھالا ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت ہی کئی نامور لکھاریوں سے واقفیت ہوئی، پھر سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا سے حقیقی دنیا میں ملاقات ہوئی تو ایک نیا تعلق قائم ہوا۔ گزشتہ دنوں میں لاہور میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لئے موجود تھا۔ میرے دوست یوحنا جان نے ہماری ایک ملاقات کی پوسٹ اپنی فیس بک وال پر لگائی تو انہیں نامور افسانہ نگار اور ادیب جناب آصف عمران کی جانب سے کال آئی کہ وہ مجھے سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
میں نے بات کی تو آصف عمران صاحب نے فوراً مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ اتفاق سے شام کو مجھے ان کے گھر والٹن روڈ سے گزر کر لمز یونیورسٹی جانا تھا تو میں ان کے ہاں آنے کی ہامی بھر لی۔ ہم 30 مارچ کو ان کے گھر پہنچ تو لاہور میں شدید بارش ہو رہی تھی۔ آصف عمران صاحب نے بڑے پر جوش انداز میں مجھے اور یوحنا جان کو خوش آمدید کیا اور لاہوری انداز میں مہمان نوازی کی۔ مجھے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ”ہم سب“ میرا آرٹیکل ”کتابی سلسلہ ادبیت“ پڑھا تھا۔
جس میں میں نے ان کا ذکر نہیں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید مجھے ان کا افسانہ پسند نہیں آیا۔ میں نے بڑی بے تکلفی سے کہا کہ جناب میں نے ابھی تک آپ کا کوئی بھی افسانہ نہیں پڑھا ہے۔ جس پر وہ کہنے لگے کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کسی بھی ادیب کے لئے اپنے تخلیقی فن پارہ کے بارے میں قارئین کی رائے جاننا کتنا اہم ہوتا ہے۔ میں نے معذرت کی کہ میری بدقسمتی کہیں یا نالائقی میں اب تک آپ کوئی تحریر نہیں پڑھ سکا البتہ آپ کا ذکر کئی حوالوں سے سن چکا ہوں۔
ہماری اس گفتگو کے دوران ان کی اہلیہ نے گرم گرم پکوڑے اور چائے پیش کی جس کے بعد ہماری گفتگو کا رخ بدل گیا۔ ادب، نئے خیالات، معاشرتی تبدیلی اور جدید میڈیا کے حوالے سے ہماری گفتگو جاری رہی۔ اس دوران انہوں نے اپنے افسانوں کی دو کتابیں ”سائے کے ناخن“ اور ”اہرام آرزو“ پیش کیں اور کہا کہ میں چاہوں گا کہ آپ ان کا مطالعہ کریں اور اپنی رائے کا اظہار کریں۔
میں نے وعدہ کیا اور اہرام آرزو کا مطالعہ مکمل کر کے اپنی رائے ہم سب کے قارئین کی نذر کر رہا ہوں۔
ہمارے ایک استاد کہا کرتے تھے کہ کوشش کرو کہ جو ادیب اور لکھاری حیات ہوتے ہیں ان سے مل لیا کرو، ان کے ساتھ وقت گزرو، ان سے بات کرو، کھانا کھاؤ اور سفر کرو۔ جس سے ان کے، فلسفہ حیات، زندگی اور رویوں سے آپ کو ان کی تحریروں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
آصف عمران سے مل کر میری روح خوشی ہوئی ہے۔ میں نے انہیں ایک دو رویش صف، آزاد منش، مٹی سے جڑا، علم اور انسان دوست شخص پایا ہے۔
اس آرٹیکل میں ان کی کتاب اہرام آرزو کا مختصر تعارف اور اپنی رائے پیش کروں گا۔ 168 صفحات پر مشتمل کتاب میں 13 افسانے ہیں۔ جسے 2022 میں بک ہوم لاہور نے شائع کیا ہے۔ کتاب پر ڈاکٹر ضیا ء الحسن، حسین مجروح، ڈاکٹر پریا تابیتا نے اظہار خیال کیا ہے جبکہ بیک کور پر غلام حسین ساجد اور نامور ادیبہ طاہرہ اقبال نے آصف عمران کے فن اور شخصیت کے بارے میں اپنے خیالات لکھے ہیں۔
طاہرہ اقبال لکھتی ہیں۔ ”آصف عمران اپنی شناخت، اپنی علمیت اور آگاہیت سے کرواتے ہیں۔ یعنی تاریخی شعور، مبادیات زمانہ کی آگاہی، بے شمار معلومات اور علوم کو وہ اپنے افسانوں اسلوب میں یوں کھرل کر دیتے ہیں کہ تحریر کمپلیٹ میتھڈ والے کولرج کے اصول کی عملی تفسیر بن جاتی ہے۔“
غلام حسین ساجد کہتے ہیں۔ ”آصف عمران باغ جنت سے نکالا ہوا شخص ضرور ہے مگر وہ اپنے ایثار اپنے وجود میں سمیٹ کر نکلا ہے۔ اور جہاں چاہتا ہے، ان کی پرورش کرتا کر کے اس عہد کی آسائش اور جمال کو زندہ کر دیتا ہے۔ اس کا مشاہدہ الہام میں گندھا ہوا اور اس کا اظہار کنائے میں بندھا ہوا ہے۔ اس لئے اس کی لسانیات اور افسانوی شعریات میں تازگی اور ماحول کو اجالا کردینے کی شکتی ہے۔“
حسین مجروح لکھتے ہیں
”اسلوبیاتی سطح پر ، آصف عمران کسی ایک پیرائیہ اظہار کا پابند نہیں کہ اس کا بیانیہ بھید بھاؤ سے اور اس کی حقیقت نگاری، دروں بینی کے اسرار سے خالی نہیں۔ وہ گیلی مٹی سے اپنی مرضی کے برتن بناتا اور ان پر من چاہیے نقش و نگار مرتسم کرتا ہے۔ لیکن اس ساری کدو کاوش میں وہ اس بدیہی امر سے غافل نہیں رہتا کہ افسانہ حقیقت سے نہیں حقیقت کے فن کارانہ اظہار سے نمو پاتا ہے۔“
ڈاکٹر پریا تابیتا لکھتی ہیں۔
”آصف عمران صاحب کے افسانوں کا مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ محض قلبی واردات ہی کو موضوع نہیں بناتے بلکہ امکانی صداقتوں کے بھی عکاس ہیں۔ امید واثق ہے کہ آصف عمران صاحب کا افسانوی مجموعہ“ اہرام آرزو ”قارئین کے لئے فنی اور فکری ہر سطح پر گزشتہ سے پیوستہ تخلیقی سفر کا بہترین ترجمان ہو گا۔“
آصف عمران کی تحریریں پر میرا پہلا تاثر مختصر اور جامع الفاظ میں یوں ہو گا۔ ”لاجواب، قابل رشک، پرکشش اور پر اثر۔“
ان کی تحریروں میں الہٰیاتی گہرائی اور انسانی سچائی کا گہرا ربط ہے۔ وہ اپنی تحریروں سے الہٰی پیغام کو انسانی فہم میں نہایت عمدگی سے بیان کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں وکھرا پن، صاف و شفاف سچائی، غیر جانبدار تجزیہ اور براہ راست زندگی کے تجربات نمایاں ہیں۔ وہ اپنی عملی زندگی میں ایک نرم مزاج، شفق اور متحمل طبیعت کے انسان لگتے ہیں لیکن ان کی تحریروں میں ایک شدید طوفان، احتجاجی پن اور باغیانہ پن کا جھلک نظر آتی ہے۔
ان کی تحریروں پر بائبل مقدس کی تعلیمات اور مسیحی روحانیت کا عکس بہت گہرا ہے۔ وہ سماج کے بدلتے ہوئے چہرے پر پڑی دھول کو دھرتی کی خوشبو اور محبت کی بارش سے دھونے کا عزم رکھتے ہیں۔ اپنے افسانوں میں بڑی دلیری سے مذہبی اقلیتوں کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ آصف عمران کا اسلوب اور تخیل عام ادیبوں سے بہت مختلف ہے، جو اردو ادب میں انوکھا اضافہ ہے۔ جس کی مقدر مزید بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ آصف عمران کے جملوں میں سچائی اور زندگی کے مشکل اور مبہم فلسفوں کو چند لفظوں میں سمیٹنے کی صلاحیت ہے۔ جس ایک جھلک دیکھیں۔
”میں جانتا ہوں کہ مجھے خواب دیکھنے کی اجازت ہے۔ لیکن ان کی تکمیل کی سرحدوں میں داخل ہونا دوسری بات ہے۔“ (صفحہ 20 )
”دراصل ہمارا اندر بہت زوردار ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ ہمارے باہر کو قابو میں لے لیتا ہے۔“ (صفحہ 21 )
”دراصل میں عشق سے زیادہ عشق کی شکار ہو گئی ہوں۔ “ (صفحہ 40 )
”جب تک آپ اپنے ذہن کا دروازہ نہیں کھولیں گے میرا علم باہر ہی کھڑا رہے گا۔“ (صفحہ 49 )
اس کتاب میں موجود افسانوں میں مجھے سب سے زیادہ ”ہم سخن ہوئے خوب“ اور جدائی کی شام ”نے بہت متاثر کیا۔ ان دونوں میں انسانی ہمدردی، نفسیات، سماجی و معاشرتی مسائل اور محبت کے جذبات کو بڑے دلکش انداز میں بیان کیا ہے جس پر بہترین ڈرامہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔
مجھے امید ہے کہ آصف عمران اب زندگی کے اس اسٹیج پر پہنچ چکے ہیں جہاں وہ اپنی ادبی صلاحیتوں کے اظہار کے لئے مختلف میڈیمز کا استعمال کریں گے۔ وہ اپنی ذات سے ہٹ کر اپنے قارئین کے لئے اپنی قدرتی اور تخلیقی خوبیوں کا تحفہ پیش کریں گے۔ وہ اس جدید میڈیا کے دور میں اپنی آواز نوجوان نسل اور عالم گیر سطح تک پہنچائیں گے۔ وہ اپنی گھریلو اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے پیش نظر ادب سے دوری کے غم کا ازالہ اب ادب کی جدید طرز پر خدمت کر کے ادا کریں گے۔ کیونکہ قدرت نے انہیں یہ صلاحیت اور نعمت انسانی معاشرے کی تعمیر اور سماجی رویوں کی آبیاری کے لئے عطا کی تھی جس کا حق وہ اس حق کے مستحق لوگوں تک پہنچا کر کریں گے۔ جس کی بدولت ان کا نام ادبی اور سماجی حلقوں میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا اور وہ اپنے خالق کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ہو سکیں گے۔


