آئمہ بیگ کو ڈیٹ آفر اور دھندا


گلوکارہ آئمہ بیگ ابھرتی ہوئی خوبصورت آواز ہے جس نے بہت کم عرصہ میں کافی شہرت پائی ہے، ساحر علی بگا کے ساتھ ان کے گانوں نے دھوم مچا دی ہے، گلوکارہ نے کم عمری میں ہی کام شروع کر دیا تھا، ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سولہ، سترہ سال کی عمر میں وہ لاہور کے ٹی آر جی کال سنٹر میں کام کرتی تھیں، (اسکی بہن نادیہ بیگ بھی اسی کال سنٹر میں کام کرتی تھی) عوام کے لئے یہ نئی بات ہوگی مجھے اس کا علم پانچ، چھ سال پہلے سے تھا کہ آئمہ بیگ نے زندگی کی ابتداء ایک کال سنٹر سے کی تھی کیونکہ ان کے ساتھ ایک لڑکا بھی اسی کال سنٹر میں کام کرتا تھا جو فخریہ انداز میں بتاتا تھا کہ ہم دونوں ایک کال سنٹر میں کام کرتے تھے

چند سال قبل ایک تقریب میں گیا تو وہ لڑکا بھی وہاں موجود تھا، اس تقریب میں آئمہ بیگ بھی شرکت کر رہی تھیں، کچھ دیر بعد آئمہ بیگ بھی آ گئیں، بہت پروٹوکول تھا، کسی کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا جا رہا ہے، سیکورٹی ایسی تھی جیسے عدالت میں پیشی کے موقع پر عمران خان کی ہوتی ہے، کچھ دیر بعد سب مہمان اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے، ابھی تقریب شروع نہیں ہوئی تھی وہ دوست مجھے کہہ کر گیا کہ وہ آئمہ بیگ کو ملنے جا رہا ہے، اس کو یقین تھا کہ وہ جب آئمہ بیگ اس کو دیکھے گی تو پہچان جائے گی اور کم ازکم اپنی نشست سے کھڑی ہو کر ہیلو ہائے ضروری کرے گی

خیر دوست آئمہ بیگ کے سامنے جاکر کھڑا ہو گیا، کافی دیر کھڑا رہا، آئمہ بیگ نے اس کی طرف دو بار دیکھا مگر کوئی نوٹس نہ لیا اور انجان بن کر بیٹھی رہیں جس پر دوست دلبرداشتہ ہو کر واپس آ گیا اور غصہ میں بولا ”شاہ جی“ کتنا دماغ خراب ہو گیا ہے، کال سنٹر میں کافی عرصہ تک اکٹھے کام کیا، کھانا وغیرہ بھی سب اکٹھے ہی کھاتے تھے، آج دیکھیں پہچان ہی نہیں رہی ”، میں نے دوست کو حوصلہ دیا اور کہا کہ یہ تمھارے لئے نئی بات یا نیا تجربہ ہو گا مگر ازل سے ایسا ہی ہوتا ہے، بہتر یہ ہے کہ جو دوست یا ساتھی زندگی کی دوڑ میں زیادہ آگے نکل جائے اس کے پیچھے کبھی نہ بھاگو اور اگر کبھی زندگی میں اچانک ملاقات ہو جائے تو اس سے کبھی خود نہ ملو اگر اس میں ظرف ہو گا تو خود چل کر آپ کو ملنے آئے گا

دوست غصہ میں تھا اور غصہ میں اس نے بہت کچھ بتایا، بہرحال مجھے اس میں دلچسپی نہیں تھی کیونکہ وہ غصہ میں تھا، غصہ میں بدلا لینے کے لئے کبھی کسی کا راز نہیں کھولنا چاہیے، جس کا ٹارگٹ ہی شہرت حاصل کرنا ہو اس کے بارے میں کچھ بھی جان کر حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ کامیابی کے راستے بہت کٹھن ہوتے ہیں

آئمہ بیگ کے گانوں کا خود بھی فین ہوں، وہ ایک ٹی وی شو کی کو ہوسٹ بھی تھیں، کیوٹ سی ہیں، ”مست ملنگ چا کیتا ای“ خراب موڈ کو اچھا کرنے کے لئے بہترین گانا ہے، عمر کا ایک حصہ شوبز میں گزارا، اکثر فنکاروں کا سٹارٹ جانتا ہوں اور پھر جب ان کو شہرت ملی تو پلٹ کر کبھی ان کو نہیں دیکھا، چند ایک ہیں جو سٹیج سے ہی دیکھ کر ہاتھ ہلا کر سلام کر دیتے تھے، کامیابی کے بعد وہ عوام کے سامنے خود کو ایسے پیش کرتے ہیں جیسے سات پشتوں سے خاندانی نواب ہیں

ایک واقعہ پڑھتے جائیں، 2001 ء میں اداکارہ عجب گل کی بطور ڈائریکٹر پہلی فلم ریلیز ہوئی تھی ”کھوئے ہو تم کہاں“ ، نوجوان گلوکار زین اور عاصمہ لتا نے اس فلم کے گانے گائے جو سپرہٹ ہوئے، ایک دوست کے ساتھ زین کو ملنے ڈیفنس موڑ اس کے آفس گیا، بہت محبت سے ملا، پھر گلوکاری پر بات شروع ہو گئی تو فخریہ بتانے لگا کہ اللہ نے کرم کیا ہے، مزنگ تھڑوں پر سوتا تھا، کھانے کو پیسے نہیں ہوتے تھے، کپڑے بھی پھٹے ہوتے تھے جن کو دیکھ کر کوئی کھانا کھلا دیتا تو کوئی پیسے دیتا مگر اپنے اللہ اور اپنے ٹیلنٹ پر پورا بھروسا تھا اس لئے کامیاب ہو گیا

دو گھنٹے کی گپ شپ کے بعد کسی ڈائریکٹر کا فون آ گیا، زین صاحب کا انداز گفتگو ہی بدل گیا، فون پر دوسری طرف ڈائریکٹر نے اداکار شان کی ڈیٹس کے بارے میں بتایا کہ وہ ان ڈیٹس میں دستیاب ہیں جس پر زین نے کہا کہ ان ڈیٹس میں میں دستیاب نہیں، ڈائریکٹر نے منت کی کہ شان بڑا اداکار ہے، آپ ایڈجسٹ کر لیں جس پر زین نے فقرہ کہا، اگر ادھر شان ہے تو ادھر میں بھی زین ہے، پھر سب نے دیکھا زین رفتہ رفتہ انڈسٹری سے غائب ہو گیا اور اس کا آج تک کسی علم نہیں کہ وہ کس حال میں ہے

چند روز قبل آئمہ بیگ نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ وہ سولہ، سترہ برس کی عمر میں ایک کال سنٹر میں کام کرتی تھیں، جہاں امریکہ کے ایک 72 سالہ بوڑھے سے کیبل کنکشن خریدنے کے لئے رابطہ کیا پھر اس نے ڈیٹ آفر کردی، آئمہ بیگ نے ڈیٹ آفر کی بات سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کی، صرف ایک جملہ کہہ دیا کہ ڈیٹ آفر کی، یہ اب سن کر ہر کوئی بوڑھے کو ہی برا بھلا کہے گا مگر بات اتنی سادہ بھی نہیں ہوتی

بات طویل ہو جائے گی، مختصر انگلش میں sugar dady اس بوڑھے کو کہتے ہیں جو نوجوان لڑکیوں کو تحائف دیتا ہو، یورپ تو کیا اب پاکستان میں بھی بہت شوگر ڈیڈی پائے جاتے ہیں، اس میں دونوں پارٹیوں کا بھلا ہوتا ہے، بوڑھے کو گھر والے اکیلا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ بچوں کی اپنی زندگی شروع ہو چکی ہوتی ہے، اب وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوچکے ہوتے ہیں اس لئے ان کو بوڑھے والد کی ضرورت نہیں رہتی، کچھ لوگ سیانے ہوتے ہیں اس لئے وہ بڑھاپے کے لئے کچھ بچا کر رکھتے ہیں تاکہ کل کو بچے بوجھ نہ سمجھیں، عمر کے اس حصے میں تنہائی بہت اذیت ناک ہوتی ہے، بیوی فوت ہو چکی ہوتی ہے، دوست یار بھی مر جاتے ہیں یا پھر بچوں کے ساتھ دوسرے شہروں یا ممالک میں منتقل ہوچکے ہوتے ہیں اس لئے وہ sugar dadyبن جاتے ہیں کیونکہ ان کو ایک ساتھی ضرورت ہوتی جو ان سے باتیں کرے یا اس کے ساتھ وقت بتائے

دوسری طرف نوجوان لڑکیاں ہوتی ہیں، یہ وہ لڑکیاں ہوتی ہیں جو دنوں میں ترقی کا خواب لے کر میدان میں نکلتی ہیں، ان کا آسان ہدف بوڑھے ہوتے ہیں، بیگو ایپ پرایک لڑکی کی براڈ دیکھ رہا تھا، لڑکی بہت بن سنور پر اپنی براڈ پرایک بوڑھے سے لائیو گپ شپ کر رہی تھی، کسی نوجوان نے کمنٹ کیا کہ بوڑھے سے گپیں لگا رہی ہو جس پر ہوسٹ نے جواب دیا کہ پیسے بوڑھوں کے پاس ہی ہوتے ہیں تم جیسے نوجوان کے پاس تو دو سو روپے کا بیلنس بھی نہیں ہوتا

ترقی کا مشن لئے یہ لڑکیاں بوڑھوں کا شکار کرتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ بوڑھا کسی قسم کے جنسی تعلق کو قائم کرنے کے قابل تو رہا نہیں، اس کا مسئلہ صرف کمپنی کے لئے ساتھی ڈھونڈنا ہے اس لئے وہ پہلی کال پر ہی بولڈ گفتگو شروع کر دیتی ہیں جس سے بوڑھے خوش ہو کر اندھا دھند پیسا لٹانا شروع کر دیتے وہ بھی کسی ملاقات سے پہلے، بوڑھے جب انویسٹمنٹ کرچکے ہوتے ہیں تو پھر جاکر ڈیٹ کی پرکشش آفر کرتے ہیں

اس طرح نوجوان لڑکیاں بوڑھوں کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اپنا ”دھندا“ کرتی ہیں اور خوب پیسے اکٹھا کر کے اپنی مرضی کی فیلڈ چن کر ترقی کا سفر دنوں میں طے کر لیتی ہیں، تنہائی جس کو پنجابی میں ”اکلاپا“ کہا جاتا ہے بہت اذیت ناک چیز ہے، ممکن ہے 72 سالہ بوڑھے کا مسئلہ بھی اکلاپا ہی ہو۔

Facebook Comments HS