بھکاری قوم، منگتے راہنما


پندرہ سے بیس افراد پاکستان کے مختلف شہروں میں مفت آتے کی قطاروں میں خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ زخمیوں کی بھی تعداد کافی ہو چکی ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اکثر ان میں سے اپنے خاندان کا واحد سہارا تھے۔ بد انتظامی اور کرپشن کی شکایات بے تحاشا ہیں۔ انتظامیہ اس پورے معاملے کو کسی بھی حوالے سے نا صرف موثر بنانے میں ناکام رہی بلکہ کرپشن کے ناسور نے بھی اس پوری ایکسرسائز کی افادیت قائم نہیں ہونے دی۔ بد انتظامیوں کے بعد موبائل ایپلیکیشن کو بہتر انداز سے استعمال کرنے کے بعد پرچی یا ٹوکن کے نظام کر بہتر کرنے کی بہرحال کوشش ضرور رہی ہے۔ لیکن بطور مجموعی اگر اس پوری مہم کا جائزہ لیا جائے تو سوائے کف افسوس ملنے کے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

وفاق و پنجاب نے اعلان کیا کہ مجموعی طور پر 53 ارب روپے کی سبسڈی مفت آٹے کی تقسیم کے لیے رکھی گئی ہے۔ ہم بطور قوم سبسڈیز کا شکار ہیں۔ ہم ہر معاملے میں سبسڈی حاصل کرنے کی تگ و دو میں رہتے ہیں۔ اور حکومتی سطح پر ہر طرح کی سبسڈی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے جہاں مفادات آ جائیں وہاں کسی بھی طرح کی سبسڈی کا حقیقی معنوں میں فائدہ عوامی سطح پر پہنچنا کم و بیش ناممکن ہی ہے۔ کہیں اس سبسڈی سے سیاسی مقاصد حاصل ہوئے اور کہیں پرانی گندم ٹھکانے لگی اور ملوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔

بطور مجموعی چار کروڑ ستر لاکھ آٹے کے تھیلے اس پوری مہم جوئی میں تقسیم کرنا مقصود ہیں اور حکومتی دعؤوں کے مطابق اس وقت تک کم و بیش تین کروڑ سے زائد تھیلے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ مفت آٹے کی تقسیم کا جو نظام بنایا گیا اس حوالے سے حد کمائی کی ماہانہ ساٹھ ہزار روپے مقرر کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ 8070 کا ایک نظام بنایا گیا اور آٹا تقسیم شروع ہونے کے بعد ایک موبائل اپلیکیشن سے بھی مدد لی گئی۔ ایس ایم ایس کا نظام تو اس سکیم کے شروع ہوتے ہی ٹھس کر گیا۔

حکومتی دعؤوں کے برعکس اس پوری سکیم کی قلعی بھگدڑ اور بد انتظامی نے کھول دی۔ اس سکیم نے نا صرف انسانی جانوں کو نگلنا شروع کر دیا بلکہ اس حوالے سے کرپشن کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ مظفر گڑھ سے غیر مصدقہ میڈیا اطلاعات کے مطابق محکمہ ریونیو کے دو پٹواری حضرات نے تیس ہزار آتے کے تھیلے غائب کر دیے اور آخری اطلاعات تک ان تھیلوں کو کچھ سراغ نہیں ملا۔ ایک صاحب نے اس سکیم کا ایسے فائدہ اٹھایا کہ پورے محلے سے کارڈ اکٹھے کیے اور سینٹر سے تین دن میں کم و بیش تیس تھیلے حاصل کیے۔

موبائل اپلیکیشن کے ساتھ نظام کے منسلک ہونے کے بعد کچھ حالات بہتر ہوئے۔ اس ایپلیکیشن پہ رات نو بجے تک تمام اہلکاروں کے موبائل پہ لاہور مرکزی ڈسٹری بیوشن مرکز سے ایک کوڈ آتا ہے جو صرف ایک دن کے لیے کار آمد ہے یہ کوڈ اگلے دن کے لیے لازماً نیا ہو جاتا ہے۔ شاید کسی کو اس سکیم کے لیے ٹیکنالوجی کا بھی خیال آیا۔ ایک حقیقت جس سے ہم نے چشم پوشی کی کہ موبائل اپلیکیشن سے درست طور پر صرف چپ والا کارڈ قابل عمل ہے۔

لیکن غریب افراد کی اکثریت کے پاس تو چپ والا کارڈ ہی سرے سے موجود نہیں۔ یہ ایک المیہ رہا غریب افراد کے لیے۔ مزید یہ کہ راقم الحروف نے صرف اس نظام کو پرکھنے کے لیے اپنا شناختی کارڈ چیک کیا تو اس پہ دو مفت آٹے کے تھیلے ملنے کی نوید مل گئی۔ اب راقم الحروف کے ذاتی خیال میں اس پہ ہمارا حق نہیں تھا۔ اسی طرح بہت سے پراپرٹی ڈیلرز حضرات کے کارڈز پہ دو سے تین آٹے کے تھیلے موجود تھے۔ لیکن ان کی کمائی تو لاکھوں میں ہے۔

تو 60 ہزار ماہانہ کی کمائی کو پرکھنے کا کیا معیار ہے؟ اس حوالے سے راوی مکمل چین کی بانسری بجا رہا ہے اور خاموش ہے۔ اکثریت ایسے افراد کی ہے جو نا صرف رمضان المبارک میں نظام خود گھر کا چلا سکتے بلکہ عام حالات میں بھی ان کا شمار با اثر افراد میں ہوتا ہے۔ تو پھر اس کی تقسیم منصفانہ کیسے ہوئی؟ غریب اگر رلتا رہا، جاں گنواتا رہا، دھکے کھاتا رہا، تو پھر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مفت آٹا حقدار تک پہنچا ہے؟

کم و بیش دو مفت آٹا سینٹرز پہ جانا ہوا۔ دونوں پہ صورتحال یہ دیکھی کہ کسی جگہ رکشے میں کئی تھیلے ٹھونسے گئے ہیں (معلوم کرنے پہ علم ہوا کہ ایک ہی شخص کے ہیں ) ۔ تو کسی جگہ جعلی پرچیوں کی بازگشت سنائی دی گئی۔ اور راولپنڈی کے اڈیالہ روڈ کے مرکز پہ تو بات ایف آئی آر تک پہنچ گئی، بمشکل معاملہ نمٹا۔ مفت آٹے کا ٹرک آتا ہے، اہلکار اپلیکیشن یا ایس ایم ایس تصدیق کے بعد پرچی جاری کرتا ہے پرچی صارف ٹرک کے پاس لے جاتا ہے اور مفت آٹے کا تھیلا وصول کرنے کے بعد واپسی کی راہ لیتا ہے۔ اس پورے عمل میں اتنی بے ضابطگیاں ہوئیں کہ الاماں۔ جعلی رسیدوں سے نمٹنے کے لیے پرنٹڈ بکس بھی حکومت نے مہیا کیں لیکن تب جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ حقیقی حقدار قطاروں میں مرتے رہے۔ زخمی ہوتے رہے۔ پولیس کے ڈنڈے کھاتے رہے۔ اور فائدہ اشرافیہ اٹھا لے گئی۔

ہم بطور قوم ایک ہیجان کا شکار ہیں۔ اور ارباب اختیار ہمارے اسی ہیجان کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہم بے عزت ہو لیں گے، ہم مر جائیں گے، لیکن مفت آٹا لینا ہے۔ ہم کسی بھی سکیم کی افادیت ختم کرنے کے لیے اس کی پہنچ ایسے لوگوں تک ممکن بنا دیتے ہیں جو حقدار نہیں ہوتے اور اصل حقدار بھیڑ میں ہی مر جاتا ہے۔ ہم نے 53 ارب کی سبسڈی فضول میں دی۔ بد انتظامی، کرپشن، غیر موثر، حقداروں کی حق تلفی، اور دیگر شکایات نے اس آٹا سکیم کو گہنا دیا۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام یا بیت المال سے صرف منسلک کر دیتے تو بھی بہتری کے لیے کافی تھا۔ آپ نے اعلان کیا کہ چار کروڑ ستر لاکھ مفت تھیلے دیں گے۔ آپ مفت نا دیتے بس اس کی قیمت آدھی کر دیتے۔ 11 اپریل کو دس کلو کے تھیلے کے نرخ 1480 روپے آٹا ڈیلر نے بتائے۔ رمضان مفت راشن کی تقسیم کرنے والے افراد اور اداروں کے ساتھ ڈیلرز کچھ اور بھی نرمی کر دیتے ہیں۔ فرض کریں تھیلا 1500 کا ہو تو آپ قیمت 750 روپے رکھ دیتے۔

وہی انسان لیتا جس کو ضرورت ہوتی۔ مفت سکیم میں پراپرٹی ڈیلرز بھی لیتے رہے، پٹواری بھی اور لاکھوں ماہانہ کمانے والے بھی۔ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یہی 53 ارب خرچ کر کے اگلے چھ ماہ آٹے کی قیمت آدھی کر دیتے تو پورا ملک اس سے فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ اس قوم کا مزاج ہے کہ مفت کی چیز سے گودام بھر لیں گے، ایک روپیہ بھی دینا پڑے تو ضرورت سے زیادہ نہیں لیتے۔ لیکن ہمارے حکمرانوں کو شاید خود نمائی کا بھی ایک موقع چاہیے تھا اور عوام کو قطاروں میں ذلیل کر کے ایسا کیا جانا تھا۔ حکمران عالمی اداروں کے آگے منگتے بنے رہتے ہیں تو عوام کو بھکاری بنانا پھر ان کے لیے کیسے اچنبھے کی بات ہوتی۔ یہ زباں اہل زمیں ہے۔

Facebook Comments HS