ہائے! وہ انصاف پسند بادشاہ (مختصر افسانہ)
بادشاہ بنتے ہی اس نے طے کیا کہ وہ ایسے کام کرے گا، جن کی وجہ سے اسے ایک انصاف پسند بادشاہ کے طور پر یاد رکھا جائے۔ رعایا سے اس کی محبت کی کہانیاں سنائی جائیں۔ اسی لئے وہ راتوں کو بھیس بدل کر شہر کے حالات معلوم کرنے نکل جاتا اور ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتا۔
باتیں ایک کان سے دوسرے تک پھیلتی گئیں۔ سارا شہر اس گمان کا شکار ہو گیا کہ جونہی انہیں کوئی مسئلہ درپیش ہو گا تو کہیں نہ کہیں سے یہ راتوں کو وارد ہونے والا مسیحا آ کر ان کی مدد کر دے گا۔ چنانچہ شہر کے باسیوں نے اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوشش ہی چھوڑ دی۔ وہ سارا دن اس مسیحا کی آمد کی دعائیں کرتے اور اپنی راتیں اس کے انتظار میں گزار دیتے۔
بادشاہ کے محل کا یہ حال تھا کہ اس کی جوان بیوی (ملکہ) ساری رات بستر پر کروٹیں بدلتی اور بادشاہ کو کوستی رہتی۔ بادشاہ رات کو دیر گئے تھکا ہارا واپس آتا اور آتے ہی گہری نیند سو جاتا۔
دوسرے دن صبح، دربار کے وقت اسے مشکل سے جگایا جاتا تو وہ آنکھیں ملتا ملتا آ کر دربار میں بیٹھ جاتا۔ اکثر فیصلے کرتے وقت بھی وہ غنودگی کے عالم میں ہوتا۔ دور دور سے آئے ہوئے گورنروں کے نمائندے اپنے معاملات کے کاغذات اسی طرح واپس لے جانے پر مجبور ہوتے، جیسے وہ لے کر آئے ہوتے تھے۔
اس کا سارا دن ایسی ہی بے دلی اور افراتفری میں گزرتا لیکن رات کو وہ چاق و چوبند ہو کر پھر سے بھیس بدل، رعایا کا حال معلوم کرنے اور ان کی مدد کرنے نکل جاتا۔ اس کا سب سے بڑا مقصد ہی یہی تھا کہ انصاف پسند بادشاہ کی حیثیت سے، اس کی شہرت دور دور تک پھیل جائے۔ اس نے اپنے کچھ کارندوں کی ڈیوٹی بھی لگا رکھی تھی، جو دن کے وقت ان لوگوں کے پاس جاتے، رات کو بادشاہ نے جن کی مدد کی ہوتی۔ وہ ان لوگوں کو بتاتے کہ ان کی مدد کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کا بادشاہ تھا۔
بادشاہ کی شہرت بھی پھیل رہی تھی اور دربار کے کام بھی خراب ہوتے چلے جا رہے تھے۔ رعایا کا ہر ایک ضرورت مند فرد اب بادشاہ کا انتظار کرنے لگا اور ملک کے انتظامی معاملات ابتری کی گہرائیوں میں گرنے لگے۔ وزیروں، امیروں نے سوچا کہ پوری تباہی سے پہلے کچھ نہ کچھ بچانے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے بغاوت کر کے سارے دربار پر قبضہ کر لیا اور بادشاہ کو معزول کر دیا۔
بہت سوچ بچار کی گئی کہ اب بادشاہ کسے بنایا جائے؟ بادشاہ تو ابھی تک بے اولاد تھا اس لئے سپہ سالار کو بادشاہ بنا دیا گیا۔ معزول بادشاہ کے چاہنے والے تو بہت تھے مگر سب کے سب ایسے کہ انہیں کام کرنے کی عادت ہی نہیں رہ گئی تھی۔ وہ اپنے گھروں میں دبکے بادشاہ کے معزول ہونے کا ماتم کرتے رہے۔ ان میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ سڑکوں پر نکل کر اپنا احتجاج ہی ریکارڈ کرا دیتے۔
امیروں وزیروں نے نئے بادشاہ کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا اور معزول بادشاہ کو جیل کی کال کوٹھری میں ڈال دیا۔ معزول بادشاہ کی ملکہ نے نئے بادشاہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے نتیجے میں وہ نئے بادشاہ کی ملکہ بن گئی۔


