میری بیٹی عائشہ عروج کا آج پہلا پیپر ہے


میری بیٹی عائشہ جو کہ نویں جماعت کی اسٹوڈنٹ ہے، کائنات کے رازوں پر غور کرنے کے لئے اس نے اپنی مرضی سے آرٹس کی بجائے سائنس پڑھنے کو ترجیح دی، مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ گزشتہ سال جب اس نے آٹھویں کا امتحان پاس کیا تھا تو وہ دوڑتے ہوئے میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ

”پلیز پاپا جی مجھے مشورہ دیجئے کہ مجھے نائنتھ کلاس میں آرٹس کے مضامین پڑھنے چاہئیں یا سائنس کے“ ؟

میں نے کہا ”اوہ میری پیاری گڑیا رانی دنیا کے تمام علوم کائنات کو جاننے کی ایک طرح سے سعی ہے اور جاننے کی اسی جستجو کی وجہ سے ہی تو مختلف علوم معرض وجود میں آئے ہیں، اب تم نے خود سوچنا ہے کہ تمہیں جوابات کے انبار اچھے لگتے ہیں یا روز بروز نت نئے سوال پوچھنا، جاننا، کھوجنا اور سوالات کی گتھیاں سلجھانے میں مستغرق رہنا اچھا لگتا ہے؟ باقی تمہارا ذہن ایک تخلیقی لیبارٹری کی طرح سے ہے اور تصورات کی جنم گاہ ہے، اس لیبارٹری کی لائبریری کو مختلف علوم سے مزین کرنے کے لیے سب مضامین ہی جچیں گے مگر بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے تمہیں ایک ایسی فیلڈ کو اختیار کرنا چاہیے جس میں تم آگے بڑھ کر نا صرف خاطر خواہ نتائج حاصل کرو بلکہ خود سے سوچنا بھی سیکھ جاؤ۔

پیاری گڑیا ہم ایک ایسے استحصالی معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں ہر طرف ذہنی معذور بستے ہیں جو ”رہنمائی“ کے نام پر بہت بھاری قیمت وصولتے ہیں، اس قسم کے معاشرے میں ”انحصاری“ کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ خاص طور پر بچیوں کی عزتیں تک داؤ پر لگ جاتی ہیں، اس لئے دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے خود انحصاری پر اکتفا کرنا سیکھو۔ اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونے کی کوشش کرنا اور ایک بات آج ہی ذہن کے نہاں خانے میں محفوظ کر لو کہ ”تمہارے اوپر کوئی نگران یا داروغہ بالکل نہیں ہے بلکہ تم خود ہی خود کی نگران اور سربراہ ہوگی“

میری گفتگو سننے کے بعد میری بیٹی مجھ سے مخاطب ہوئی کہ پاپا جی میں سائنس مضامین پڑھنا چاہوں گی، کیا آپ میرے اس فیصلے میں میرے ساتھ ہیں؟

میں نے بغیر کچھ سوچے جھٹ سے کہہ دیا کہ ” میں تمہارے ہر اس فیصلے کا احترام کروں گا جو تم مکمل خودمختاری اور اپنی ذاتی فہم و فراست کی روشنی میں لو گی بلکہ یوں سمجھ لو کہ سیلیبریٹ کروں گا کہ میری بیٹی اپنے فیصلے خود لینے لگی ہے“

آج وہ دن آ گیا ہے، میری بیٹی نویں جماعت کا پہلا پیپر جو کہ انگریزی کا ہے، مکمل اعتماد کے ساتھ دینے جا رہی ہے، جانے سے پہلے مجھ سے مخاطب ہو کر کے کہنے لگی کہ ”پاپا جی امتحانی سنٹر میں جانے سے پہلے آپ مجھ سے کچھ بھی کہنا چاہیں گے“ ؟

میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ میری بیٹی مجھ سے زیادہ جانتی ہے، میری خوش نصیبی ہے کہ میں ایک ایسی بیٹی کا باپ ہوں جو اپنے سپنے اپنے حساب سے دیکھنا اور انہیں پورا کرنا خوب جانتی ہے، ایسی سیانی بیٹیوں کو کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوتا ہے۔

میری جذباتی سی گفتگو سن کر وہ خوب ہنسی اور کہنے لگی کہ ” اگر آپ کی گڑیا کی بھی یہی خواہش ہو کہ میرے پاپا جی مجھے آج کچھ تو ایسا بتائیں جو میری زندگی کے ذخیرے میں مزید اضافہ کرسکے کیا آپ پھر بھی کچھ نہیں کہیں گے“ ؟

میں نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے کہا تو پھر سنو بیٹا جی ”امتحانی سینٹر میں داخل ہونے سے پہلے تمام اضافی بوجھ اپنے ذہن پر سے اتار پھینکو، صرف ایک ہی بات ذہن میں رکھنا کہ تم نے دنیا کے کسی بھی شخص کی چاہے وہ کوئی بھی ہو، کی توقعات پر پورا نہیں اترنا بلکہ خود کی توقعات کو مدنظر رکھنا ہے، مجھے بطور والد تمہارے امتحانی مارکس سے کوئی غرض نہیں ہے اور جو مارکس کی صورت میں خواہ مخواہ کا بوجھ ہم اپنے ذہن پر طاری کر لیتے ہیں یہ سب فضول باتیں ہیں، کیونکہ ہمارا امتحانی نظام انتہائی بوسیدہ ہے اور بالکل بھی درست پیمانہ نہیں ہے کسی بھی ذہین طالب علم کی ذہنی صلاحیتوں کی جانچ کرنے کا، یہ تو ایک طرح سے آپ کی یادداشت کا امتحان ہوتا ہے جس کا ڈائریکٹ تعلق آپ کے رٹا لگانے کی صلاحیت سے ہوتا ہے، جس کا رٹا جتنا اچھا ہو گا وہ اتنے ہی زیادہ امتحانی مارکس اینٹھ لے گا“

اس لیے مارکس کا تعلق آپ کی ذہانت یا حقیقی پوٹینشل سے نہیں ہوتا بلکہ چیزوں کو رٹنے کی صلاحیت سے ہوتا ہے، اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ جو ”رٹو توتے“ ہوتے ہیں ان کے کانسیپٹ زیادہ مضبوط نہیں ہوتے اور ان کا مطالعہ بھی سطحی سا ہوتا ہے۔

اس لیے میری گڑیا رانی امتحانی سنٹر جانے سے پہلے مارکس والا خواہ مخواہ کا بوجھ اپنے ذہن سے اتار کر پیپر میں بیٹھو، جو بھی لکھنا اپنی ذہنی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھنا، نقل کی بجائے خود کی صلاحیت پر بھروسا رکھنا اور وہی لکھنا جسے تمہارا ذہن تسلیم کرتا ہو۔

میری پیاری سویٹ سی گڑیا ہمیں تمہارے مارکس سے زیادہ اس بات کی زیادہ خوشی ہوگی کہ تم حالات و واقعات، حقائق اور بدلتے تقاضوں کو کس نظر سے دیکھتے ہو اور انہیں اپنی ذہنی چھلنی میں سے چھان کر ان کا تجزیہ کیسے کرتی ہو؟ تمہاری منفرد اور چوکس سوچ ہماری زندگیوں کو خوشی سے بھر دے گی اور تمہارے ماما پاپا فخر سے اپنا سینہ تان کے کہیں گے کہ

” ہماری گڑیا بغیر کسی سہارے کے صرف اپنی پرواز کی مدد سے خود اڑنا سیکھ چکی ہے اور اب وہ زندگی میں بغیر کسی سہارے یا وقتی بیساکھی کے خود اپنے پورے وجود و قد کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر خود اور صرف خود بلا خوف و خطر فیصلے لیا کرے گی“ میری سویٹ ہارٹ آخر میں، میں بس اتنا کہوں گا کہ پرواز ہمیشہ اپنی رکھنا، اس میں کسی بھی ایرے غیرے کے سہارے کی صورت میں کبھی ملاوٹ مت کرنا۔

یقین مانیں بیٹا جی میں تمہیں بہت اچھے سے جانتا ہوں چونکہ میں تمہارے بچپن کے ایک ایک لمحے کا چشم دید گواہ ہوں، تمہاری کلکاریاں، بھوک سے نڈھال ہو کر رونا، بات بات پہ روٹھ جانا، غصے کی حالت میں تمہارا بڑبڑانا اور خوشی کے وقت تمہارے چہرے کا لال ہو جانا جیسے پیارے سے اور کیوٹ لمحات کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے۔

اور یہ بات میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری گڑیا رانی میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جن کی مدد سے تم اپنے حصے کی خوشیاں اپنے خود کے بل بوتے پر بغیر کسی سہارے کے حاصل سکتی ہو۔

میری پیاری بیٹی خود پر کبھی بھی کسی کو بھی حکمران مت بننے دینا، اپنی ذہنی صلاحیتوں کو محض عزت و احترام کے عوض کسی کے آگے بھی سرنڈر مت کرنا ورنہ تم اپنا اعتماد کھو دو گی۔

تم منفرد ہو ہمیشہ منفرد ہی رہنا، ہمیشہ اپنے من کی پگڈنڈی پر چلنا اور روایت شکنی کو اپنا شعار بنائے رکھنا۔

میری فلسفیانہ سی باتیں سن کے کہنے لگی
” بس کریں پاپا جانی اب رلاؤ گے کیا“

آنکھوں میں پیار بھری نمی کے ساتھ میں نے عائشہ کو گلے سے لگایا اور جاتے جاتے کہا کہ بیٹا ہماری بہترین توقعات تو ہمیشہ سے آپ کے ساتھ رہیں گی مگر دعاؤں کے سہارے مت جینا، اپنی خود کی محنت و ریاضت پر زیادہ انحصار رکھنا بلکہ میں تو کہوں گا پورا انحصار رکھنا۔ اور وہ ہنستے ہوئے روانہ ہو گئی۔

Facebook Comments HS