عید کارڈ تو خواب ہوئے

زمانہ ہو چلا عید کارڈ نہیں دیکھا۔ عید کارڈ خریدنے، لکھنے اور بھیجنے کا دور ختم ہوا۔ بس یادوں میں عید کارڈ کے رنگ گھلے ہیں۔
ہمارے جیون کی کونپل اپنے بچپن میں تھی اور عید کے پر مسرت موقع پر عید کارڈ بھیجنے کا رواج عالم شباب سے گزر کر پیران سالی میں داخل ہو چکا تھا۔
رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتے ہی ابو شہر سے ایک خوب صورت سا عید کارڈ خرید لاتے۔ عید کے چاند کی طرح چمکتا دمکتا عید کارڈ۔ اس پہ خوب صورت نظاروں کا عکس ہوتا تھا۔ گلاب کے پھول کھلے ہوتے۔ پھولوں کی گلابی پتیوں پہ شبنم کے قطرے مسکرا رہے ہوتے۔ ننھی ننھی تتلیاں اڑ رہی ہوتیں۔ یوں لگتا جیسے تتلیوں نے چمن چمن گھوم کر، برگ برگ منڈلا کر، رنگ رنگ کے گلوں سے طرح طرح کے رنگ چرا کر اپنے نرم ملائم پروں پہ انڈیل لیے ہوں۔
کارڈ پہ کھلے پھولوں کلیوں کی خوشبو ہمارے تخیل میں بھر جاتی۔
کارڈ کے ایک طرف نیلے پانیوں کی دل کش جھیل ہوتی جس میں سفید بطخیں تیر رہی ہوتیں۔ سورج اسی جھیل ہی میں غروب ہو رہا ہوتا۔ کشتی پہ بیٹھا ملاح ڈوبتے سورج کی سنہری دھوپ میں نہاتا سورج کی طرف کشتی لیے جا رہا ہوتا۔ جیسے سورج کو گگن سے اتار کر کشتی میں اپنے ساتھ بٹھانا چاہتا ہو۔
پل دو پل میں سورج جب جھیل میں ڈوب جائے گا۔ سنہری دھوپ سیاہ ہو جائے گی تو ملاح گھپ اندھیری رات میں اکیلا رہ جائے گا۔ بہت دور نکل گیا تھا کنارے پہ کیسے لوٹے گا۔
دور افق پہ پنچھی ہوا میں تیرتے دکھائی دے رہے ہوتے۔ کارڈ کے دونوں اطراف آگے پیچھے رنگوں کا ایک جہاں بسا ہوتا تھا۔ اس پہ دو چار جگہوں پر، الگ الگ انداز میں ’عید مبارک‘ چھپا ہوتا تھا۔
دل چاہتا تھا کہ ایسا کارڈ ہمیں مل جائے تو ہم اپنے صندوق میں رکھ لیں، صاف ستھرے کپڑے میں لپیٹ کر تا کہ اس پہ گرد نا پڑے۔ رنگ پھیکے نا ہوں اور جھیل کا پانی گدلا نا ہو۔
کارڈ کے اندر ایک سفید خالی ورق ہوتا تھا جس پہ ابو اپنے مخصوص انداز میں قلم سے عید کا پیغام خوش خط لکھا کرتے تھے۔
ابو خط بھی باقاعدگی سے لکھا کرتے تھے۔ چشتیاں منڈی میں بسی پھوپھو نجمہ عزیز، انکل عبدالعزیز خان اور ان کے بچوں کے نام۔ کسی زمانے میں دادا دادی جیون دھارے میں بہتے چشتیاں منڈی کے پاس چک علو میں چلے گئے تھے۔ وہاں پھوپھو اور انکل کے بزرگوں کے ساتھ مل کر رین بسیرا کرتے رہے۔ ابو بہت چھوٹے تھے جب ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ ماں کی گود سے محروم بچے کو جب اماں گاماں (پھوپھو نجمہ عزیز کی والدہ) نے گود میں بٹھایا، ماتھا چوما تو گویا رشتوں میں مٹھاس بھر گئی۔
انہی میٹھے لمحوں کو ابو نے عمر بھر کے لیے دل میں بسا لیا۔ روز ان لمحوں کو گود میں اٹھایا، پل پل ان ساعتوں کا ماتھا چوما۔ یوں وہ لمحے ابو کے دل کی زمیں پر ایک خوشنما پیڑ بن کر اگ گئے۔ ایسا پیڑ جس پہ سدا بہار کا ہی موسم رہتا ہے۔ اب بھی ابو جب ان بیتے لمحوں کو یاد کرتے ہیں تو اس پیڑ پہ گل کھل اٹھتے ہیں اور ہم سننے والے بھی خوشبو میں نہا جاتے ہیں۔
ابو جو الفاظ صفحے پہ لکھتے جاتے لفظ لفظ محبت اور خلوص میں ڈبکی لگا کر دو زانو بیٹھتا جاتا۔
’جان سے پیاری بہن!
سدا پھولوں کی طرح مسکراتی رہو۔ گلشن عزیز میں بہار کے سوا کوئی دوسرا موسم نا اترے۔
سب کو دلی عید مبارک ’
ابو اپنے لکھے ہوئے الفاظ کو بار بار پڑھتے، ماہر خطاط کی طرح لفظوں کی نوک پلک درست کرتے۔ پھر شہر میں جا کر ڈاک خانے کے لیٹر بکس میں ڈال آتے۔
دکانوں پر بھانت بھانت کے عید کارڈ بکتے تھے۔ جگہ جگہ سٹالز پر ڈھیر لگے ہوتے یا رسیوں پر لٹکے رہتے۔ ہر رنگ، ہر ڈیزائن، ہر عمر کے خریدار کی پسند اور مزاج کے مطابق عید کارڈ دستیاب ہوتے۔ بالی عمر کے خریداروں کے لیے شعر بھی چھپے ہوتے تھے۔
عید آئی تم نا آئے کیا مزا ہے عید کا
ارے عید تو نام ہے آپ کی دید کا
بچے اپنے ہاتھوں سے کچھ ایسے شعر لکھا کرتے
ڈبے میں ڈبا، ڈبے میں پھول
میرا عید کا تحفہ، کرنا قبول
کچھ عید کارڈز پہ سرخ رنگ کے دل بنے ہوتے تھے۔ دل میں ایک تیر بھی پیوست ہوتا، لہو کے قطرے دل سے پھوٹ رہے ہوتے۔ ایسے کارڈ بہت فروخت ہوتے تھے۔ کچھ پہ کبوتر کی تصویر ہوتی جس کی چونچ میں ایک خط ہوتا تھا۔ محبت بھرے سندیسے پہنچانے والے اس نامہ بر کے کارڈ بھی ہاتھوں ہاتھ بک جاتے۔
گاؤں میں قدرے مہنگے کارڈ کم کم خریدے جاتے۔ اسی لیے ایک روپے کا، ایک ورق کا، بالشت بھر کارڈز دکانوں پر آتے۔ ایک طرف فلمی اداکاروں، کرکٹ کے کھلاڑیوں، معصوم چہرے اور نیلی آنکھوں والے بچوں، حسین وادیوں، خون ٹپکاتے زخمی دلوں، رنگ برنگے پھولوں کی تصاویر ہوتیں اور پشت پر عید کا پیغام اور مبارک باد تحریر کرنے کی خالی جگہ ہوتی۔
ہم یہ کارڈز گلزار کی منیاری سے یا اقبال بک ڈپو سے خریدتے۔ کچھ دوستوں کو لکھ کر دیتے کچھ سکول کے بستے میں رکھ لیتے۔
اب تو یادوں سے بھی وہ کارڈ محو ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن گلزار کی دکان کے تختے پہ پڑا وہ عید کارڈ ابھی بھی میری یادوں کے سٹال میں نئے کا نیا پڑا ہے جس پر سفید نکر شرٹ پہنے، ہاتھ میں ہاکی پکڑے، بالوں کی پونی ٹیل بنائے فلمی اداکارہ کرشمہ کپور کھڑی مسکرا رہی ہے۔
کتنی چاہت تھی، کتنا خلوص تھا، کیا شوق تھا ان عید کارڈز کو خرید کر، لکھ کر، دوست احباب تک بھیجنے میں۔
ان کارڈز پر عید کے چاند طلوع ہوتے تھے۔ میٹھی سویوں اور لذیذ کھیر جیسے الفاظ لکھے جاتے تھے۔ بار بار ان کو پڑھا جاتا تھا۔ لوگ ان کو سنبھال کر رکھتے تھے۔
اب فیس بک پہ اور وٹس ایپ گروپس میں عید مبارک کے روکھے سوکھے میسیج کاپی پیسٹ اور فارورڈ ہوتے ہیں۔ بھیجنے والے کو بھی پتا نہیں چلتا کہ کس کس کو پیغام بھیجا جا چکا ہے۔
عید مبارک کے پیغامات میں اب وہ گلاب نہیں کھلتے جن کی گود میں اوس کے قطرے رات بھر سویا کرتے تھے۔ وہ جھیل جھرنے نہیں بہتے جن میں ایک من چلا ملاح سورج کو پکڑنے جایا کرتا تھا۔ ڈال ڈال منڈلاتی تتلیوں کے پر وقت نے نوچ لیے۔ خوب صورت مسکراہٹ اور روشن چہروں والے اداکاروں اور کھلاڑیوں کی عمریں اب ڈھل گئی ہیں۔
ڈاک خانے کے لیٹر بکس کو اب زنگ لگ چکا۔ ابو بھی اب منڈی چشتیاں کارڈ نہیں بھیجتے۔ فون کرتے ہیں اور بولتے ہیں ’سدا پھولوں کی طرح مسکراتے رہو‘ ۔

